Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1674

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى عَنِ بن عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ وَالْاِقَامَۃُ مَرَّۃً غَیْرَ اَنَّہٗ یَقُوْلُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا سَمِعْنَا الْاِقَامَۃَ تَوَضَّاْ نَا ثم جئنا إلی الصلاۃ۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں اذان کے کلمات دو مرتبہ ہوتے تھے اور اقامت ایک مرتبہ ہوتی تھی تاہم قد قامت الصلوۃ کو دو مرتبہ کہا جاتا تھا جب ہم اقامت سنتے تھے ، تو ہم وضو کر لیتے تھے اور نماز کے لئے آ جاتے تھے ۔

ثم جئنا إلی الصلاۃ۔ ← الْاِقَامَۃَ تَوَضَّاْ ← قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا ← إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللہِ مَرَّتَیْنِ وَالْاِقَامَۃُ مَرَّۃً غَیْرَ اَنَّہٗ ← بن عُمَرَ ← مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى ← أَبَا جَعْفَرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1674

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1675

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرُ الْإِقَامَةَ». [1: 94] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مَا رَوَى هَذَا عَنِ ابْنِ كَثِيرٍ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ثِقَةٌ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، وَأَبِي خَلِيفَةَ».

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں :حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت اور اقامت کے کلمات طاق اعداد میں کہے ۔(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں ) ابن کثیر کے حوالے سے شعبہ سے منقول اس روایت کو کسی بھی ثقہ راوی نے نقل نہیں کیا صرف محمد بن ایوب رازی اور ابو خلیفہ نے نقل کیا ہے ۔

أَبُو حَاتِمٍ «مَا رَوَى هَذَا ← أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1675

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ"3.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت اعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں کہیں ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 1676

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1677

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ قال سمعت أبا المثنى قال: سمعت بن عُمَرَ يَقُولُ كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى وَالْإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّتَيْنِ 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ أَبُو جَعْفَرٍ هَذَا هُوَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْأَنْصَارِ بِالْكُوفَةِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مهران بن المثنى 2، المثنی ، وأبو المثنی: اسمہ مسلم بن المثنی۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اذان دو،دو کلمات پر مبنی ہوتی تھی ، اور اقامت کے کلمے پر مبنی ہوتی تھی ،تاہم کو دو مرتبہ کہا جاتا تھا ۔(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )ابو جعفر نامی راوی کوفہ میں انصار کی مسجد کا امام تھا ، اس کا نام محمد بن مسلم بن مہران بن مثنی ہے ، جبکہ ابو مثنی نامی راوی کا نام مسلم بن مثنیٰ ہے ۔

قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ مَرَّتَيْنِ. ← كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ غَيْرَ أَنَّهُ ← بن عُمَرَ ← أَبَا الْمُثَنَّى ← أبو جعفر ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْجُعْفِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Hadith 1677

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1678

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عَلَمًا لِلصَّلَاةِ فَأُمِرَ بِلَالٌ أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة1.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے اس چیز کو تلا ش کیا جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اطلاع دیں اور وہ چیز نماز کے لئے مخصوص نشان ہو ،حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا گیا وہ اذان کے کلمات جفت اعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق اعداد میں کہیں ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدًا الْحَذَّاءُ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1678

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ لِيُضْرَبَ بِهِ، لِيَجْتَمِعَ النَّاسُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَطَافَ بِي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، وَفِي يَدَهِ نَاقُوسٌ يَحْمِلُهُ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: فَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: أَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا [ص:573] رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قُمْ فَأَلْقِ عَلَى بِلَالٍ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا» فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِي عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِذَلِكَ، فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَقَامَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، يَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحَقِّ لَأُرِيتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ». [1: 94]

حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں :جب نبی اکرم ﷺ نے ناقوس کے بارے میں حکم دیا گیا اسے بچایا جائے تاکہ لوگ نماز کے لیے اکھٹے ہو جائیں تو رات کے وقت جب میں سویا ہوا تھا میرے پاس ایک شخص آیا جس نے دو سبز چادریں پہنی ہوئی تھی ، اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس تھا جو اس نے اٹھایا ہو اتھا ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے بندے: کیا تم اس ناقوس کو فروخت کرو گے اس دریافت کیا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے جواب دیا : میں اس کے ذریعے نماز کی طرف دعوت دوں گا ۔ اس دریافت کیا : میں تماری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف نہ کروں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں: وہ بولا جب تم اعلان کرنے کا ارادہ کرو تو تم یہ کہو :پھر وہ کچھ پیچھے ہٹا اور بولا : جب تم نماز قائم کرنے لگو (یعنی اقامت کہو ) تو تم یہ کہو۔

أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1679

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1680

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ مَكْحُولًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً الْأَذَانُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". وَالْإِقَامَةُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إلا الله" 1.

عبداللہ محیر یز بیان کرتے ہیں : یہ حضرت ابو مخدورہ کے زیر پرورش تھے جب یہ شام جانے لگے تو یہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابو مخدورہ سے کہا میں شام جانے لگا ہوں مجھ سے اذان کے واقعہ کے بارے میں دریافت کیا جائے گا ۔ تو آپ مجھے اس بارے میں بتائے ، تو حضرت ابو مخد ورہ نے بتایا ہم کچھ لوگ روانہ ہوئے ہم حنین کے راستے میں کسی جگہ پر تھے اس وقت نبی اکرم ﷺحنین سے واپس تشریف لا رہے تھے نبی اکرم ﷺ کا سامنا راستے میں ہم سے ہوا اللہ کے رسول کے موذن نے نماز کے لئے نبی اکرم ﷺ کے پاس اذان دی ہم نے اس کی آواز سنی ہم راستے سے ایک طرف ہٹ چکے تھے ، تو ہم نے اس مذاق اُڑانے کے لئے ان کلمات کو بلند آواز میں دہرانا شروع کر دیا ۔نبی اکرم ﷺ نے یہ آواز سن لی ۔آپ نے دریافت کیا : تم میں سے کون اس شخص کو جانتا ہے ، جس کی آواز کو میں نے سنا ہے راوی بیان کرتے ہیں :پھر ہمیں لا کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ۔نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کس کی آواز تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں ۔ سب لوگوں نےمیری طرف اشارہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ان سب کو نبی اکرم ﷺ نے چھوڑ دیا ۔ اور مجھے اپنے پاس روک لیا ۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسنددیدہ چیز اور کوئی نہیں تھی جس کا حکم مجھے اللہ کے رسول مجھے دیں۔آپ نے مجھے اذان دینے کا حکم دیا نبی اکرم ﷺنے بذات خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے آپ نے فرمایا : تم یہ کہو۔جب وہ اذان دے کر فارغ ہوئے ،تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی آپ نے دعا کی اے اللہ اس میں برکت دیں اور اس پر برکت دے ۔ راوی کہتے ہیں مین نے عرض کی : یا رسول اللہ !آپ مجھے اذان دینے کا حکم دیجیےنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:ہم تمہیں حکم دیتے ہیں :راوی کہتے ہیں ، تو میرے دل میں نبی اکرم ﷺ کے لئے جتنی بھی ناپسند یدگی تھی وہ سب محبت میں تبدیل ہو گی پھر مین نبی اکرم ﷺ کے مقرر کردہ گورنر حضرت عتاب بن اسید کے پاس آیا تو نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت میں نے مکہ میں اذان دینا شروع کر دی ۔ ابن جریج کہتے ہیں میرے خاندان کے کئی افراد نے ابن محریز کے حوالے سے یہ روایت حضرت ابو مخدرہ کے حوالے سے مجھے سنائی ۔

أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ← عَامِرٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ مَكْحُولًا ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1680

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1681

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، أَنَّ مَكْحُولًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، وَالْإِقَامَةُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». [1: 94]

حضرت ابو محذرہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے مجھے اذان کے ۱۹ کلمات اور اقامت کے ۱۷ کلمات تعلیم دیئے تھے ۔

أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ← عَامِرٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ مَكْحُولًا ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1681

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1682

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي وَقَالَ: «تَقُولُ: اللَّهُ [ص:579] أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ»، وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ، ثُمَّ تَقُولُ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاخْفِضْ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، وَحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». [1: 94]

محمد بن عبدالملک اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (حضرت محذورہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں عرض کی یا رسول اللہ !آپ مجھے اذان کا طریقہ تعلیم دیجیے راوی بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے میرے سر کے آگے والے حصے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم یہ کہو ۔ تم اس میں اپنی آواز کو بلند کرو،پھر تم یہ کہو ، اس میں تم اپنی نماز کو پست کرو ، پھر تم شہادت کے کلمات (کہتے ہوئے ) اپنی آواز کو بلند کرو ۔اگر صبح کی اذان ہو تو تم یہ کہو۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1682

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1683

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ المؤذن قال: "وأنا وأنا" 1.

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں؛نبی اکرم ﷺ جب موذن کو (اذان) دیتے ہوئے سنتے تھے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : میں بھی (یہ اعتراف کرتا ہوں، جو تم کہ رہے ہو )

"وأنا وأنا" ← المؤذن ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1683

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1684

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ مُعَاعِیَۃَ اِذْ سَمِعَ الْمُنَادِی یَقُوْلُ اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ اللہُ اَکْبَرُ فَلَمَّا قَالَ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہ اِنَّا اللہُ قَالَ مُعَاوِیَۃُ وَاَنَا اَشْھَدُ فَلَمَّا قَالَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاَنَا اَشْھَدُ ثُمَّ مُعَاوِیَۃُ ھٰکَذَا سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ۔

عیسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ حضرت معاویہ ؓ کے پاس تھے ۔ انہوں نے موذن کو کہتے ہوئے سنا تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا جب موزن نے کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں جب موذن نے کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں پھر حضرت معاویہ ؓ میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں پھر حضرت معاویہ ؓنے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح (اذان کا جواب دیتے ہوئے )سنا ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← وَاَنَا اَشْھَدُ ثُمَّ مُعَاوِیَۃُ ھٰکَذَا ← اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← مُعَاوِیَۃُ وَاَنَا اَشْھَدُ فَلَمَّا ← اللہُ ← اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہ ← اللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ اللہُ اَکْبَرُ فَلَمَّا ← الْمُنَادِی ← کُنَّا عِنْدَ مُعَاعِیَۃَ اِذْ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1684

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1685

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بن يزيد الزرقي بِطَرَسُوسَ وَابْنُ بُجَيْرٍ1، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ: "إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَقَالَ أَحَدُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ" 2.

حفص بن عاصم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت عمر ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جب موذن کہے، تم میں سے کوئی ایک شخص بھی (یعنی اذان کو سننے والا شخص)کہے ،جب وہ کہے ،(سننے والا)کہے ، پھر وہ کہے گا،تو (سننے والا) کہے ،پھر وہ کہے گا،تو (سننے والا ) پڑھے ، پھر وہ کہے گا ،تو (سننےوالا) پڑھے ،پھر وہ کہے گا،تو (سننے والا)کہے ،پھر وہ کہے ،تو وہ (اذان کا جواب دینے والا شخص) جنت میں داخل ہو گا ۔

جَدِّهِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← مُحَمَّدُ بن يزيد الزرقي بِطَرَسُوسَ وَابْنُ بُجَيْرٍ1، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1685

chevron_left Previous
12345…36
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr