Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1574

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا شُغِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظهر صلاهما بعد العصر1.

سیدہ ام سلمیؓ بیان کرتی ہے : جب نبی اکرم ﷺ ظہر کے بعد والی دو رکعات کسی مصروفیات کی وجہ سے ادا نہیں کر پاتے تھے، تو آپ نے انہیں عصر کے بعد ادا کر لیتے تھے ۔

الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظهر صلاهما بعد العصر1. ← لَمَّا شُغِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1574

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1575

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَسَمَهُ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَ عَائِشَةَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَالَ: "شَغَلَنِي هَذَا المال عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّھْرِ فَلَمْ اُصَلِّھَمَا حَتّٰی کان الآن۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ظہر کے بعد کچھ مال لایا گیا ۔ آپ ن ے اسے تقسیم کرنا شروع کیا ، یہاں تک آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی پھر آپ سیدہ عائشہ ؓ کے ہاں تشریف لئے گے اور آپ نے عصر کے بعد دو رکعات ادا کی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس مال نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں ، میں انہیں ادا نہیں کر پایا تھا۔ یہاں تک کہ یہ وقت ہو گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبِيهِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1575

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1576

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ». [1: 45]

کریب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عبد الرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ نے انہیں سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں بھیجا اور یہ کہا کہ تم نے انہیں ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا اور یہ بھی بتانا کہ ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے ، آپ یہ دو رکعات ادا کرتی ہیں جبکہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے منع کیا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ لوگوں کی کی ان دو رکعات ادا کرنے پر پٹائی کیا کرتا تھا ۔کریب بیان کرتے ہیں :میں سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دے کر مجھے سیدہ عائشہ ؓ کی طرف بھیجا تھا وہ ان تک پہنچا دیا تو سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: تم سیدہ ام سلمی ؓ سے (اس بارے میں ) دریافت کرو میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ ؓ کے جواب کے بارے میں بتایا تو ان حضرات نے مجھے اسی پیغام کے ہمراہ سیداُم ّ سلمہؓ کی طرف بھیج دیا جو پیغام انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ کی طرف بھیجا تھا ۔ سیدہ اُمّ سلمہ ؓ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، پھر میں نے آپ کو یہ رکعات ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے آپ نے یہ رکعات جس وقت ادا کی تھیں اس وقت آپ عصر کی نماز ادا کرنے بعد (میرے ہاں) تشریف لائے تھے ۔ اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین موجود تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ دو رکعات ادا کی تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کی طرف بھیجا میں نے اسے یہ ہدایت کی کہ تم نبی اکرم ﷺ کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور آپ سے گزارش کرنا کہ سیدہ اُمّ سلمہ ؓ یہ عرض کر رہی ہیں اے اللہ کے رسول ! میں نے تو آپ کو ان دو رکعات کو ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اور اب میں دیکھ رہی ہوں ۔ آپ انہیں ادا کر رہے ہیں اگر نبی اکرم ﷺ تمہیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر دے تو تم پیچھے ہٹ جانا لڑکی نے بتا یا نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست اقدس ذریعے اشارہ کیا تھا اس لئے میں پیچھے ہٹ گی پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بتائی ۔ اے ابو امیہ کی صاحبزادی ! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا ہے ۔ میرے پاس عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اپنی قوم کی طرف سے اسلام کے حوالے سے آئے تھے ۔ انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں ۔ یہ وہی دو رکعات ہیں ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1576

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1577

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ عَنِ السَّجْدَتَیْنِ اللَّتَیْنِ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّھِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فِیْ بَیْتِھَا فَقَالَتْ کَانَ یُصَلِّیھِمَا بَعْدَ الظُّھْرِ وَاِنَّہٗ شُغِلَ عَنْھُمَا فَصَلَّاھُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ اَثْبَتَھُمَا وَکَانَ اِذَا صَلّٰی صَلَاۃً أثبتھا۔

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی ان دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا جو نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد ان کے گھر میں ادا کی تھیں تو سیدہ عائشہؓ نے بتایا نبی اکرم ﷺ ظہر کے بعد یہ رکعات ادا کیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ کسی مصروفیت کی وجہ سے آپ انہیں ادا نہیں کر سکے، تو آپ نے عصر کے بعد انہیں ادا کیا تھا ، اس کے بعد انہیں باقاعدگی سے ادا کرنے لگے۔آپ جب کوئی نماز ادا کرتے تو اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔(امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں )عبداللہ بن محمد بن ہاجک عبادت گزار لوگوں میں سے ایک تھے ۔

السَّجْدَتَیْنِ اللَّتَیْنِ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یُصَلِّھِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فِیْ بَیْتِھَا ← أَبِي سَلَمَةَ اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1577

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1578

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ2 قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وَسَلَّمَ اَدْوَمَھَا وَاِنْ قَلَّ کَانَ اِذَا صَلّٰی صَلَاۃً دَاوَمَ عَلَیْھَا یَقُوْلُ اَبُوْ سَلَمَۃَ قَالَ اللہُ :(الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاتِھِمْ دَائِمُوْنَ)( المعارج:23)

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اتنا عمل اختیار کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو ، کیو نکہ اللہ تعالی کا فضل تم سے اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا جب تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے ۔ (سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں )نبی اکرم ﷺ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ تھا جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو نبی اکرم ﷺ جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ابو سلمہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالی نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: وہ لوگ جو اپنی نمازوں کے حوالے سے باقاعدگی رکھتے ہیں ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان (بے شک اللہ تعالی تھکتا نہیں ۔یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو ) یہ ان لفاظ میں سے ہیں کہ مخاطب شخص کا علم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا جو ان الفاظ کے ذریعے مقصود ہے (یعنی اللہ تعالی کی شان کے مطابق اس صفت کیا ہے یہ آدمی نہیں جان سکتا )۔

حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1578

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1579

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ». [1: 45]

عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔لوگوں میں سے کسی نے کہا ہا رسول اللہ اگر آپ ہمیں پڑائو کی اجازت دیں (تو مہربانی ہو گی)نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:مجھے یہ اندیشہ ہے ،تم لوگ نماز کے وقت سوئے رہ جائو گے ،حضرت بلال ؓ نے عرض کی میں آپ لوگوں کو بیدار کر دوں گا پھر وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گے ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت بیدار ہوئے ،جب سورج کا کنارہ نکل چکا تھا ، آپ نے فرمایا:اے بلال ! تم نے جو کہا تھا وہ کہاں گیا؟ انہوں نے عرض کی : مجھ پر نیند طاری ہو گی تھی ، اور یہ ایسی نیند تھی کہ اس طرح کی نیند مجھے کبھی نہیں آئی ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اٹھو اور لوگوں کے درمیان نماز کا اعلان کرو جب سورج نکل آیا روشن ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1579

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1580

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ الله لو أمسسنا1 الْاَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رَکَائِبُنَا قَالَ: فَمَنْ یَّحْرُسُنَا: قَالَ قُلْتُ اَنَا فَغَلَبَتْنِیْ عَیْنِیْ فَلَمْ یُوْقِظْنِیْ اِلَّا وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَمْ بَسْتَیْقِظْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَّا بِکَلَامِنَا قَالَ فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ ثُمَّ اَقَامَ فَصَلّٰی بنا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رات کے وقت نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں زمین کے ساتھ چھونے (یعنی رک کر آرام کرنے کی اجازت دیں اور ہم سو جائیں تو ہمارے جانور بھی آرام کر لیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا :(یعنی ہمیں نماز کے لئے بیدار کون کرے گا) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی :میں ، پھر میری آنکھ لگ گی ۔ میں اس وقت بیدار ہوا جب سورج نکل چکا تھا ۔نبی اکرم ﷺ بھی ہماری بات چیت سن کر بیدار ہوئے پھر آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا ۔ انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔

سِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْنَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سِمَاكٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1580

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1581

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ طلعت الشمس فليصل إليها أخرى" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :جو شخص سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت پالے، اور پھر سورج نکل آئے ، تو اسے اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی ادا کر لینی چایے۔

نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1581

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1582

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أخبرنا معمر عن بن طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ فقد أدركها" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پالے اس نے اس نماز کو پالیا جو شخص سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت کو پالے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے، تو اس نے اس (فجر کی نماز ) کو پالیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1582

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1583

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مَالِکٍ عَن زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ بُسْرِبْنِ سَعِیْدٍ وَّعَنِ الْاَعْرَجِ یُحَدِّثُوْنَہٗ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَ الصُّبْحَ وَمَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ اَنْ تغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَ الْعَصْرَ۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص صبح کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پالے اس نے صبح کی نماز کو پالیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے ایک رکعت کو پالے اس نے عصر کی نماز کو پالیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بُسْرِبْنِ سَعِیْدٍ وَّعَنِ الْاَعْرَجِ یُحَدِّثُوْنَہٗ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1583

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1584

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حدثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنٌ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَھَا۔ وَالسجدۃ إنما ھی الرکعۃ۔

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پالے یا صبح کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پالے اس نے اس نماز کو پالیا۔

عَائِشَةَ ← بن شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1584

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا معمر عن بن1 طاوس عن أبيه عن ابن عباس عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ اَدْرَکَ مِنْ الْعَصْرِ رَکْعَۃً قَبْلَ اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَھَا وَمَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَکْعَۃً بَعْدَمَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ فقد أدرکھا۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پالے اس نے اس (نماز کو) پالیا اور جو شخص فجر کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پالے اور ایل رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے اس نے اس (فجر کی نماز ) کو پالیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1585

chevron_left Previous
1…303132…36
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr