Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1478

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ سَعْدِ1 بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أفضل؟ قال: "الصلاة لوقتها" 2.

۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرنا۔

"الصلاة لوقتها" ← سَأَلْتُ النَّبِيَّ أَيُّ الْعَمَلِ أفضل؟ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سَعْدِ1 بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← الشَّيْبَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1478

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عمرو الشيباني عن بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا" 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: "الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا" تفرد به عثمان بن عمر2.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا یہ الفاظ نقل کرنے میں عثمان بن عمر بن راوی منفرد ہیں۔

قُلْتُ ← بن مَسْعُودٍ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1479

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1480

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الَّمْضَاءِ فَلَمْ یُشْکِنَا۔

حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو معمر نامی راوی کا نام عبد اللہ بن سخبرہ ہے۔

شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَرَّ الَّمْضَاءِ فَلَمْ یُشْکِنَا۔ ← خَبَّابٍ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1480

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1481

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ. ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بعده فأتيت بن مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَيْفَ بكم إذ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا"؟ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا وَاجْعَلْ صلاتك معهم سبحة "1.

۔عمر و بن میمون اودی بیان کرتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس یمن تشریف لائے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف بھیجا تھا۔ میں نے فجر کے ہمراہ ان کی تکبیر سنی وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی آواز دھیمی تھی ان کے دل میں میری محبت گھر کر گئی میں ان سے اس وقت جدا ہوا جب میں نے انہیں شام میں دفن کر دیا۔ پھر میں نے ان کے بعد لوگوں مین سب سے بڑے عالم کا جائزہ لیا تو میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں ان کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا، جب تم پر ایسے امراء مسلط کر دئیے جائیں گے جو نماز کو اس کے مخصوص اوقات کے علاوہ ادا کریں گے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں انہیں پاؤں تو آپ اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " تم ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنالو" یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ نفل ادا کرنے والے شخص کی نماز ایسے شخص کے پیچھے جائز ہوتی ہے ، جو فرض ادا کر رہا ہو۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جس نے اس کے متضاد کا حکم دیا ہے اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جا سکتی ہے۔

عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1481

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1482

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا"؟ قَالَ: كَيْفَ أَفْعَلُ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِذَا أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي" 1.

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اس وقت تمہار کیا عالم ہوگا، جب تم ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤگے جو نمازوں کو ان کےمخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کریں گے۔ حضرت ابو ذر نے دریافت کیا: پھر میں کیا کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرلینا اور اگر تم ان لوگوں کو پاؤ اور انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی، تو تم ان کے ساتھ بھی نماز ادا کر لینا تم یہ نہ کہنا کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ اس لئے اب نماز نہیں پڑھوں گا"۔

كَيْفَ أَفْعَلُ؟ ← وَقْتِهَا» ← "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1482

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1483

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عن مالك عن بن شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أدرك الصلاة" 2.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کی ایک رکعت (اس کے مخصوص وقت میں) پالے اس نے نماز کو پالیا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1483

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1484

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ لَمْ تَفُتْهُ الصَّلَاةُ وَمَنْ صَلَّى مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ لَمْ تَفُتْهُ الصلاة" 1.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص صبح کی نماز کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے پالے اس کی نماز فوت نہیں ہوئی جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالے اس کی وہ نماز فوت نہیں ہوئی"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1484

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1485

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادٍ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حدثنا بن إِدْرِيسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أدرك الصلاة كلها" 1.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص نماز کی ایک رکعت پالے اس نے اس مکمل نماز کو پالیا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← بن إدريس، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادٍ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1485

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1486

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الْأَنْطَاكِيُّ حدثنا غصن بن إسماعيل حدثنا بن ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمَكْحُولٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ رَكْعَةٍ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَلْيُتِمَّ ما بقي" 1.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کی ایک رکعت پالے اس نے اسے پالیا وہ باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کرلے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ وَمَكْحُولٍ ← أَبِيهِ ← بن ثَوْبَانَ، ← غصن بن إسماعيل ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الْأَنْطَاكِيُّ ← مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1486

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1487

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم، قَالَ: مَنْ اَدْرَکَ مِنْ صَلَاۃٍ رَکْعَۃً فَقَدْ اَدْرَکَ قَالُوْا مِنْ ھُنَا قِیلَ وَمَنْ اَدْرَکَ من الجمعۃ رکعۃ صلی إلیھا اخری۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کی ایک رکعت کو پالے اس نے اس (نماز کو) پالیا"۔ لوگ یہ کہتے ہیں، اس بنیاد پر یہ بات کہی جاتی ہے، جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت کو پالے وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کرلے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1487

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1488

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ1 يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتِي وَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ". قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ وَلَا أَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يومئذ: "لا تصوم امرأة إلا بِاِذْنِ زَوْجِھَا ۔ قَالَ وَاَمَّا قَوْلُھَا لَا اُصَلِّی حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِنَّا اَھْلُ الشَّمْسُ فَاِنَّا اَھْلُ بَیْتٍ لَا نَکَادُ نَسْتِیْقِظُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فإذا استیقظت فصل۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے شوہر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کا یہ حال ہے) کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو وہ مجھے مارتے ہیں اور جب میں نفلی روزہ رکھتی ہوں، تو وہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں اور وہ خود فجر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کرتے جب تک سورج نکل نہیں آتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خاتون کے بیان کے بارے میں دریافت کیا، تو حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جہاں تک اس کا یہ کہنا ہے، جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو یہ مجھے مارتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے یہ دو سورتوں کی تلاوت کرتی ہے، تو میں اسے اس بات سے منع کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ایک سورت ہوتی، تو وہ بھی لوگوں کے لئے کفایت کرجاتی۔ حضرت صفوان نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں، تو یہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں، تو یہ مسلسل روزے رکھتی رہتی ہے میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: "کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے"۔ حضرت صفوان نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، میں اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک سورج نکل نہیں آتا تو ہمارے گھر میں یہ صورت حال ہے، ہم اس وقت تک بیدار نہیں ہوتے جب تک سورج نکل نہیں آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم بیدار ہوجاؤ تو نماز ادا کرلو۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَتْ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1488

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1489

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القطان عن بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّكُمْ كُلَّمَا أَصْبَحْتُمْ بِالصُّبْحِ كَانَ أَعْظَمَ لِاُجُورِ رِکُمْ اَوْلِاَجْرِھَا۔

حضرت رافع بن خدیج، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم لوگ صبح کے ہمراہ صبح کرو، کیونکہ تم لوگ جب بھی صبح کے ہمراہ صبح کرو گے تو یہ تمہارے اجر کے لئے زیادہ فضیلت رکھے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے اجر کےلئے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کو روشنی کرنے کا حکم دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکم میں علت پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب صبح اندھیرے میں ہی نماز ادا کرنا شروع کر دیتے تھے، تو چاندنی راتوں میں جب انسان صبح کی نماز صبح صادق کے وقت اندھیرے میں ادا کرنے کا ارادہ کرلے گا، تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی نماز رات میں ہی ( یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی) شروع ہوجائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی روشنی کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوجائے کہ صبح صادق طلوع ہوچکی ہے اور آپ نے ارشاد فرمایا: "تم لوگ جب صبح کرو"

"أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّكُمْ كُلَّمَا أَصْبَحْتُمْ بِالصُّبْحِ كَانَ أَعْظَمَ لِاُجُورِ رِکُمْ اَوْلِاَجْرِھَا۔ ← النَّبِيِّ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1489

chevron_left Previous
1…222324…36
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr