صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1866
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِيُ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:181] أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَحَدُ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ أَبُوهُ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَأَرِنَا، قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ «فَبَدَأَ يُكَبِّرُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ غَيْرَ مُقَنِّعٍ وَلَا مُصَوِّبٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ، فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَجَلَسَ، وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ الْأُخْرَى، فَكَبَّرَ، فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى، وَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأَخِيرَتَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» [ص:182] قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ فِي التَّشَهُّدِ: «أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ». [5: 4] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ»
حضرت عباس بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک محفل میں موجود تھے وہاں ان کے والد بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اس محفل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے جن کا تعلق انصار سے تھا۔ ان حضرات نے نماز کا تذکرہ کیا، تو حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: پھر آپ ہمیں دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ نماز ادا کرنے کیلئے کھڑے ہوئے۔ دیگر حضرات دیکھ رہے تھے انہوں نے شروع میں تکبیر کہی۔ دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے پھر انہوں نے رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے۔ اپنے سر کو بالکل جھکایا بھی نہیں اور اوپر بھی نہیں کیا پھر انہوں نے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اپنے دونوں پاؤں کے کنارے زمین پر رکھے وہ سجدے کی حالت میں تھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو تو رک کے طور پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر انہوں نے تکبیر کہتے ہوئے دوسر ا سجدہ کیا تکبیر کہی اور کھڑے ہوگئے لیکن انہوں نے تو رک نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور دوسری رکعت ادا کی۔ پھر انہوں نے آخری دو رکعات بھی اسی طرح ادا کی، پھر جب انہوں نے سلام پھیرا تو پہلے دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔ حسن بن حرنامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ عیسیٰ نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، اس حدیث میں تشہد کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں: انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانوں پر رکھا اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھا اور پھر انہوں نے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: محمد بن عمرو نے یہ روایت حضرت ابو حمیدساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے۔ا نہوں نے یہ روایت عباس بن سہل کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ ان کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔
عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ ← عِيسَى بن عبد الله بن مَالك ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبِي ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1866
