Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1650

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَبِيعُ وَيَشْتَرِي فِي الْمَسْجِدِ فقولوا لا أربح الله تجارتك" 2.

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو : تو یہ کہو اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں فائدہ نہ دے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1650

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1651

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حدثنا أبو خيثمة قال حدثنا المقرىء1 قَالَ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لهذا" 2.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے : جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو یہ کہے اللہ تعالیٰ یہ چیز تمہیں واپس نہ کرے ، کیو نکہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گی ہیں ۔

مَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1651

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1652

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:531] فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ». [2: 28] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَضْمَرَ فِيهِ: لَا وَجَدْتَ، إِنْ عُدْتَ لِهَذَا الْفِعْلِ بَعْدَ نَهْيِي إِيَّاكَ عَنْهُ»

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی تو ایک شخص نے کہا کون شخص سرخ اونٹ کی طرف میری راہنمائی کرے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :(اللہ کرے) وہ تمہیں نہ ملے یہ مساجد اپنے مخصوص مقصد کے لئے بنائی گی ہیں ۔

رَسُولُ اللَّهِ «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ». ← رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ [ص:531] ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1652

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1653

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ شِعْرًا، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَقَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ » قَالَ: نَعَمْ. [1: 65] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِالذَّبِّ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ مَخْرَجُهُ الْخُصُوصُ قُصِدَ بِهِ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُرَادُ مِنْهُ إِيجَابُهُ عَلَى كُلِّ مَنْ فِيهِ آلَةُ الذَّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ وَالزُّورَ، وَمَا يُؤَدِّي إِلَى قِدْحِهِ، لِأَنَّ فِيهِ قِيَامُ الْإِسْلَامِ وَمَنْعَ الدِّينِ عَنِ الِانْثِلَامِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر ؓ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گزرے جب مسجد میں شعر سنا رہے تھے ۔حضرت عمر ؓ نے انہیں جھڑکا تو حضرت حسان بن ثابت ؓ نے کہا میں یہاں اس وقت شعر سنایا کرتا تھا جب یہاں وہ ہستی موجود تھیں جو آپ سے بہتر تھی ، پھر حضرت حسان ؓ حضرت ابو ہریر ہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : میں آپ کو اللہ کی قسم ! دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے (اے حسان ) تم میری طرف سے جواب دو اے اللہ ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر ۔ تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا : جی ہاں۔نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دفاع کرنے کا حکم ایک ایسا حکم ہے جس کا مخصوص پس منظر ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم تو حضرت حسان ؓ کو دیا تھا لیکن اس مراد یہ کہ ہر وہ شخص جو نبی اکرم ﷺ پر لگائے جانے والے جھوٹے الزام آپ کی طرف منسوب کیے جانے والے جھوٹ اور آپ ہونے والے اعتراضات کے حوالے سے آپ کی طرف سے دفاعط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ ایسا کرنا اس پر لازم ہے۔ ایسی صورت میں اسلام ( کے احکام ) کو قائم کرنے اور دین کو بر بادی سے روکنے کی صورت پائی جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1653

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1654

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ حِلَقًا فَقَالَ: مالی أراکم عزین۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ اس وقت مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا وجہ ہے ، میں تمہیں مختلف ٹولیوں میں دیکھ رہا ہوں ۔

مالی أراکم عزین۔ ← خَرَجَ النَّبِيُّ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ حِلَقًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1654

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1655

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَبَّارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ وَلِيدَةً كَانَتْ مِنَ الْعَرَبِ فَأَعْتَقُوهَا فَكَانَتْ مَعَهُمْ فَخَرَجَتْ صَبِيَّةٌ لَهُمْ عَلَيْهَا وشاح1 أحمر من سيور قالت: فَوَضَعَتْہُ فَمَرَّتْ بِہٖ حُدَیَّاۃٌ وَھُوَ مُلْقًی فَحَسِبَتْہُ لَحْمًا فَخَطِفَتْہُ قَالَتْ فَالْتَمَسُوہُ فَلَمْ یَجِدُوہُ قَالَتْ فَاتَّھَمُوْنِیْ بِہٖ فَقَطَعُوْا بِیْ یُفَتِّشُونِیْ فَفَتَّشُوا حَتّٰی فَتَّشُوا قُبْلَھَا قَالَتْ فَوَاللہِ اِنِّیْ لَقَائِمَۃٌ مَعَھُمْ إذا مَرَّتِالْحُدَیَّاۃٌ فَاَلْقَتْہُ فَوَقَعَ بَیْنَھُمْ قَالَتْ فَقُلْتُ ھٰذَا الَّذِیْ اتَّھَمْتُمُوْنِیْ بِہٖ زَعَمْتُمْ وَاَنَا مِنْہُ بَرِیئَۃٌ وَھُوَ ذَاھُوَ قَالَتْ فَجَاءَتْ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فأسلمت قَالَتْ عَائِشَۃُ وَکَانَ لَھَا خِبَاءٌ فِی الْمَسْجِدِ قالت فکانت تأتینی فتتحدث عندی قالت لا تَجْلِسُ عِنْدِی مَجْلِسًا اِلَّا قَالَتْ: وَیَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ اَعَاجِیْبِ رَبِّنَا اَلَا اِنَّہٗ مِنق بَلْدَۃِ الکفر أنجانی قَاَلَتْ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ لَھَا مَاشَاْنُکِ لَا تَقْعُدِیْنَ مَعِی مَقْعَدًا اِلَّا قُلْتِ ھٰذَا قَالَتْ فحدثتنی بھٰذا الحدیث۔

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :کسی عرب (قبلیے) کی ایک کنیز تھی ۔ ان لوگوں نے اسے آزاد کر دیا وہ کنیز ان لوگوں کے ساتھ ہی رہی ۔ ایک مرتبہ اس قبلیے والوں کی بچی نکلی جس نے چمڑے اور جو اہرات سے بنا ہوا سرخ ہار پہنا ہوا تھا ۔ اس لڑکی نے اس ہار کو ایک جگہ رکھا ۔ اس کے پاس سے چیل گزری وہ ہار وہاں رکھا ہو ا تھا چیل یہ سمجھی شاید یہ گوشت ہے ۔ اس نے اسے اچک لیا ۔ وہ کنیز بیان کرتی ہے ۔ لوگوں نے اس ہار کو تلاش کیا جب انہیں وہ نہیں ملا تو انہوں نے مجھ پر الزام لگایا اور انہوں نے میری پوری تلاشی لی ، یہاں تک کہ انہوں نے میری شرم گاہ کی بھی تلاشی لی وہ کنیز بیان کرتی ہے : اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس ہی کھڑی ہوئی تھی ۔ اسی دوران چیل وہاں سے گزری اس نے اس ہار کو پھینکا جو ان کے درمیان آ گرا ۔ وہ کنیز کہتی ہے میں نے کہا یہ ہے وہ جس کی وجہ سے تم نے مجھ پر الزام عائد کیا تھا ۔ تم لوگوں کا یہ گمان تھا اور میں اس سے بری تھی یہ رہا وہ ہار ، وہ کنیز بیان کرتی ہیں۔ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :اس کنیز کے لئے مسجد میں ایک خیمہ لگایا گیا تھا ۔سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : وہ کنیز میرے پاس آیا کرتی تھی ، اور میرے ساتھ بات چیت کیا کرتی تھی ۔سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں وہ جب بھی میرے پاس آکر بیٹھتی تھیں تو یہی شعر کہا کرتی تھی ۔ہار والا دن میرے پرودگار کی حیران کن نشانیوں میں سے تھا بے شک اسی نے مجھے کفر کی سر زمین سے نجات دی ہے ۔سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے اس کنیز سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے ،جب تم میرے پاس آکر بیٹھتی ہو ، تو یہ شعر کہتی ہو ،سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :پھر اس کنیز نے مجھے یہ پورا واقعہ سنایا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عبيد بن إسماعيل الهباري، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1655

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1656

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قال بن عُمَرَ كُنْتُ أَبِيتُ فِي مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا وَكَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ1.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں رات بسر کیا کرتا تھا ۔میں نوجوان کنوارہ شخص تھا کتے مسجد میں آ جایا کرتے تھے اور پیشاب کیا کرتے تھے اور ان کے پیشاب پر کوئی چیز نہیں چھڑکی جاتی تھی ،(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا یہ کہنا کہ کتے پیشاب کر دیا کرتے تھے اس سے مراد یہ ہے کہ مسجد کے باہر ایسا کرتے تھے اور پھر مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن ان کے آنے جانے کی وجہ سے مسجد میں پانی نہیں چھڑکا جاتا تھا ۔

حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1656

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1657

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ يَقُولُ كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في المسجد الخبر اللحم ثم نصلی ولا نتوضأ۔

حضرت عبداللہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں مسجد میں ہی روٹی اور گوشت کھا لیا کرتے تھے پھر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ہم از سر نو وضو نہیں کرتے تھے ۔

عبد الله بن الحارث بن جزء ← سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 1657

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1658

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِينَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا1 فَقَالَ: "ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فليؤذن أحدكم وليؤمكم أكبركم" 2.

حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے ہم نے آپ کے پاس ۲۰ دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندزاہ ہوا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے ، تو آپ نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہیں ۔ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم ﷺ بڑے مہربان اور نرم دل تھے ۔آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جائو انہیں تعلیم دو انہیں حکم دو اور تم لوگ اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جب نماز کا وقت آجائے ، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کریں ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان تم اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم مجھے ادا کرتے دیکھتے ہو ،یہ ایسے حکم کے الفاظ ہیں جو ہر اس چیز پر مشتمل ہیں جن پر نبی اکرم ﷺ نماز کے دوران عمل کیام کرتے تھے ۔ البتہ ان میں سے جن چیزوں کو اجماع یا کسی دوسری حدیث کے ذریعے نفل قرار دیا گیا ہو تو نماز کے دوران انہیں ترک کرنے والے شخص پر کوئی حرج نہیں ہو گا لیکن جس چیز کو اجماع یا حدیث نے نفل ہونے کے طور پر مخصوص نہ کیا ہو وہ تمام مخاطب افراد کو لازمی حکم ہوگا جس کو ترک کرنا کسی بھی حال میں جائز نہ ہو گا۔

وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ رَحِيمًا رَفِيقًا1 ← قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِينَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا ← أَتَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1658

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1659

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْاَوَّلِ ثُمَّ لَمْ یَجِدُوْا اِلَّا اَنْ یَّسْتَھِمُوْا عَلَیْہِ لَاسْتَھَمُوْا عَلَیْہِ وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْ الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لَاَتَوْھُمَا ولوحبوا۔

اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور پہلی صف میں (کیا اجر و ثواب ) ہے اور پھر انہیں قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا موقع ملے، تو وہ اس کے لئے قرعہ اندازی بھی کر لیں اور اگر انہیں یہ پتہ چل جائے کہ عشا اور فجر ( کی نماز باجماعت) میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور شریک ہو ۔ اگرچہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Hadith 1659

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1660

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنْمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ وَيُصَلِّي فَيَقُولُ اللَّهُ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ لِلصَّلَاةِ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الجنة" 1.

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تمارا پرودگار بکریوں کے اس چرواہے پر بہت خوش ہوتا ہے ، جو پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہوتا ہے وہ نماز کے لئے اذان دیتا ہے ،اور نماز پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو اس نے اذان بھی دی ،اور نماز بھی ادا کی یہ مجھ سے ڈرتا ہے میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ، اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا ۔

"يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنْمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ وَيُصَلِّي ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أبي عشانة ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1660

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1661

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غنمك وباديتك وأذنت في الصلاة فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى1 صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ2 إلا شهد له يوم القيامة3. قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ ن اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں :حضرت ابو سعید خدری ؓ نے ان سے فرمایا :میں نے دیکھا ہے ۔ تم بھیڑ بکریوں میں رہنے اور دیہاتی زندگی کو پسند کرتے ہو (راوی کو شک ہے یا شاید یہ مالفاظ ہے ) یا تم بھیڑ بکریوں میں اور ویرانے میں رہتے ہو، تم نماز کے اذان دو اپنی آواز کو اذان دیتے ہوئے بلند رکھو ، کیو نکہ موذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں اسے جو بھی جن، انسان اور جو بھی چیز سنتی ہے ، تو وہ قیامت کے دن اس موذن کے حق میں گواہی دے گی ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1661

chevron_left Previous
1234…36
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr