Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2412

2412 - أخبرنا أبو حسين بن بشران ابنا أبو جعفر الرزاز ثنا سعدان بن نصر ثنا يحيى بن السكن عن أبي عوانة نصر بن طريف عن عاصم عن الشعبي عن ابن مسعود فقال : من قرأ عشر آيات من سورة البقرة أول النهار لم يقربه شيطان حتى يمس و إن قرأها حين يمس لم يقر به حتى يصبح و لا يرى شيئا يكرهه في أهله و ماله و إن قرأها على مجنون أفاق أربع آيات من أولها و آية الكرسي و اثنتين بعدها و ثلاث آيات من آخرها

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران ابنائے ابو جعفر رزاز نے ان کو سعد ان بن نصر نے ان کو یحییٰ بن سکن نے ان کو ابو عوانہ نصر بن طریف نے عاصم سے اس نےشعبی سےاس نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ جو شخص سورۃ بقرہ کی دس آیات دن کے شروع میں پڑھ لے تو شیطان اس کے قریب نہیں آئے گا حتیٰ کہ شام کرے گا اور اگر اسے شام کے وقت پڑھ لے تو صبح تک قریب نہیں آئے گا اور کوئی نا خوشگوار بات نہیں دیکھے گا نہ اپنے اہل میں اور نہ ہی اپنے مال میں اور اگر دیوانے پڑھ دے تو وہ ہوش میں آجائے گا چار آیات شروع کی اور آیت کرسی او دوآیات اس کے بعد کی اور تین آیات آخر سورۃ کی ( یہ دس ہوئیں)۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← أبي عوانة نصر بن طريف ← يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو حسين بن بشران ابنا أبو جعفر الرزاز

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2412

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2413

2413 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن سبع نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو الأحوص عن أبي سنان عن المغيرة بن سبيع قال : من قرأ عند منامه آيات من البقرة لم ينسين القرآن أربع آيات و الهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم و آية الكرسي و ثلاث آيات من آخرها

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو الا حوص نے ان کو ابو سفیان نے ان کو مغیرہ بن سبیع نے انہوں نے کہا کہ جو شخس سوتے وقت سورۃ بقرہ کی یہ آیات پڑھ لیا کرے وہ قرآن کو نہیں بھولے گا چار آیات والھکم الہ واحد لا الہ الا ھوالرحمٰن الرحیم اور آیت الکرسی اور سورۃ کی آخری تین آیات ( یہ آٹھ آیات ہیں اگر آیت کرسی کے ساتھ والے دو شامل ہوں تو دس ہیں)۔

المغيرة بن سبيع ← أَبِي سِنَانٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أحمد بن سبع نجدة ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2413

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2414

2414 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أبو العباس الحسن بن سفيان النسوي و أبو بكر بن داود السمناني و هذا لفظ حديث أحمد : ثنا عمار بن عمر بن المختار حدثني أبي عن غالب القطان و كان من خيار الناس قال : أتيت الكوفة في تجارة فنزلت قريبا من الأعمش فكنت اختلف إليه فلما كان ليله أردت أنحدر قام فتهجد من الليل فمر بهذه الآية { شهد الله أنه لا إله إلا هو والملائكة وأولو العلم قائما بالقسط لا إله إلا هو العزيز الحكيم * إن الدين عند الله الإسلام } قال الأعمش : و أنا أشهد بما شهد الله به و استودع الله هذه الشهادة و هي عند الله وديعة إن الدين عند الله الإسلام قالها مرارا قلت : قد سمع فيها شيئا فغدوت فصليت معه ثم قلت : يا أبا محمد قد سمعتك ترددها قال : و ما بلغك ما فيها قال : قلت : أنا عندك منذ سنة و لم تحدثني بها قال : و الله لا أحدثك بها سنة فكتب على باب داره ذلك فأقمت سنة فلما قمت السنة قلت : يا أبا محمد قد تمت السنة فقال حدثني أبو وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يؤتى بصاحبها يوم القيامة فيقول عبدي عهد إلي و أنا أحق من وفى بالعهد ادخلوا عبدي الجنة ـ عمار بن عمر بن المختار عن أبيه ضعيفان و هذا لم يأت به غيرهما و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابو العباس حسن بن سفیان نسوی نے اور ابو بکر احمد بن داؤد سمنانی نے اور یہ الفاظ حدیث احمد کے ہیں ۔ ہمیں حدیث بیان کی عمار بن عمر مختار نے ان کو ان کے والد نے ان کو غالب قطان نے اور وہ بہترین لوگوں میں سے تھے ۔ کہتے ہیں کہ میں کسی تجارت کے سلسلے میں کوفے میں آیا ۔ میں حضرت اعمش کی رہائش کے قریب اترا تو میں ان کے پاس آنے جانے لگ گیا۔ رات کو وہ علیحدہ ہو جاتے اور تہجد پڑھتے ایک دفہ جب وہ اس آیت سے گزرے" شھداللہ انہ لا الہ الا ھو والملائکۃ واولو العلم قائما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم ان الدین عنداللہ الا سلام" اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے بھی او اصحاب علم بھی گواہی دیتے ہیں اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہی غالب ہے حکمت والا ہے بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے ۔ تو حضرت اعمش کہنے لگے ۔ میں بھی اسی چیز کی گواہی دیتا ہوں جس کی اللہ تعالیٰ شہادت دیتے ہیں اور میں اس شہادت کو امانت رکھواتا ہوں یہ اللہ کے ہاں امانت ہے اور دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے باربار اس کو کہتے رہے ۔ میں نے کہا کہ میں نے جو کچھ سنا ہے میں پوچھوں گا لہذا میں صبح ان کے پاس گیا میں نے نماز صبح ان کے ساتھ پڑھی پھر میں نے ان سے عرض کی اے ابو محمد میں نے آپ سے سنا آپ کچھ دہراتے رہے ۔ آپ کو کیسے پتہ ہے کہ میں نے کہا کیا میں نے کہا کہ میں سال بھر سے آپ کے پاس رہتا ہوں اور آپ نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حدیث نہیں بتائی ۔ فرمانے لگے میں اللہ کی قسم مزید ایک سال تک تمہیں اس بارے میں حدیث بیان نہیں کروں گا اور یہی بات انہوں نے اپنے دروازے پر لکھ دی چنانچہ میں بھی سال بھر رکت گیا جب سال پورا ہو گیا تو میں نے حاضرہو کر کہا اے ابو محمد سال پورا ہو گیا ہے پھر انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بتائی تھی ابو وائل نے عبداللہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن ایسا عہد کرنے والے بندہ کے اللہ کی بارگاہ میں لایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا تھا اور میں ان میں سے جو عہد پورا کرے زیادہ حقدار ہوں ۔ میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو ۔ عمار بن مختار اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ دونوں ضعیف ہیں اور اس روایت کو ان دونوں کے سوا کوئی بھی نہیں لایا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2414

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2415

2415 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا إسماعيل بن جعفر ثنا عمرو بن أبي عمرو عن حبيب بن أبي هند عن عروة عن عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أخذ السبع فهو حبر يعني السبع الطول 2415 - مكرر ـ أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس حبيب ثنا أبو داود ثنا عمران عن قتادة عن أبي المليح عن واثلة بن الأسقع قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : أعطيت مكان التوراة السبع الطوال و مكان الزبور المئيين و مكان الإنجيل المثاني و فضلت بالمفصل قال البيهقي رحمه الله : و الأشبه أن يكون المراد بالسبع في هذا الحديث السبع الطول و المائين كل سورة بلغت مائة آية فصاعدا و المثاني كل سورة دون المائين و فوق المفصل و يدل عليه حديث ابن عباس : حين قال لعثمان ما حملكم علي إن عمدتم إلى سورة براءة و هي من المائين و إلى الأنفال و هي من المثاني ففرقتم بينهما و ذكر الحديث و يشبه أن يكون المراد بالمثاني فاتحة الكتاب و قد روينا قبل هذا عن النبي صلى الله عليه و سلم عن ابن عباس : ما دل على ذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو عمرو بن ابی عمرو نے ان کو حبیب بن ابو ھند نے ان کو عروۃ نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے ساتھ بڑی سورتوں کا علم حاصل کیا وہ حبر ہے یعنی عالم ہے ۔ مکرر ہے ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابگو داؤد نے ان کو عمران نے ان کو قتادہ نے ان کو ابوالملیح نے ان کو واثلہ بن اسقع نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ میں تو رات کی جگہ ساتھ بڑی سورتیں دیا گیا ہوں اور زبور کی جگہ میتین یعنی ایک سو آیات والی سورتیں دیا گیا ہوں اور انجیل کی جگہ ۔ المثانی دیا گیا ہوں اور مفصل زیادہ عطا کیا گیا ہوں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← حبيب بن أبي هند ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد بن إسحق ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2415

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2416

2416 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري ثنا محمد بن عبد السلام ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : أوتي رسول الله صلى الله عليه و سلم سبعا من المثاني و الطول و أوتي موسى عليه السلام سبعا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو اعمش نے ان کو مسلم بطین نے سعید بن جبیر نے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سبع مثانی عطا کیے گئے اور سبع طوال بھی اور موسیٰ علیہ السلام سبع دئیے گئے تھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2416

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2417

2417 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد بن مهران ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : في قوله تعالى : { و لقد آتيناك سبعا من المثاني و القرآن العظيم } قال البقرة و آل عمران و النساء و المائدة و الأنعام و الأعراف و رواه يحيى بن آدم عن إسرائيل و زاد قال إسرائيل و نسيت السابعة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن مہران نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ابو اسحاق نے ان کو مسلم بطین نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباسرضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں " ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم" کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی دی ہیں اور قرآن عظیم ۔ فرمایا کہ اس سے مراد (1) بقرہ (2) آل عمران (3) نساء (4) مائدہ (5) انعام (6) اعراف مراد ہیں اور اس کو روایت کیا ہے یحیی ٰ بن آدم نے اسرائیل سے اور اس نے زیادہ کیا ہے کہ اسرائیل نے کہا کہ ساتویں سورۃ میں بھول گیا۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2417

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2418

2418 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن جبير : في قوله تعالى : { سبعا من المثاني } قال : السبع الطول البقرة و آل عمران و النساء و المائدة و الأنعام و الأعراف و يونس قال : قلت ما قوله المثاني قال : شيء فيهن القضاء و القصص

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ھثیم نے ان کو ابو بشر نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں " سبعا من المثانی " فرمایا سبع طوال (ساتھ بڑی سورتیں ) مراد ہیں (1) بقرہ (2) آل عمران (3) نساء (4) مائدہ (5) انعام (6) اعراف(7) یونس ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اس کے قول مثانی سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ وہ شے جس میں فیصلہ ہے اور قصص۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2418

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2419

2419 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسن ثنا آدم ثنا ورقاء عن ابن جريج عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله سبعا من المثاني قال : هي السبع الطوال الأول و القرآن العظيم قال : هو سائر القرآن كذا قالوا و من ذنب إلى أنها في هذه الآية المراد بها فاتحة الكتاب فإنه يحتج بما روينا فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم في باب الفاتحة و تفسيره أولى من تفسير غيره و لأن هذه السورة مكية و السبع الطوال نزلت بعدها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ادم نے ان کو ورقاء نے نا کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں "سبعا من المثانی ۔ فرمایا کہ یہ سات لمبی لمبی سورتیں ہیں شروع کی اور القرآن العظیم سے مراد پورا قرآن مراد ہے ایسے ہی انہوں نے کہا اور جو شخص اس قول کی طرف گیا ہے کہ مذکورہ آیت میں مراد فاتحۃ الکتاب ہے اس نے دلیل پکڑی ہے اس حدیث سے جو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے فاتحہ کے باب میں اور اس کی تفسیر دوسرے کی تفسیر سے اولیٰ ہے اور دوسری وجہ اولیٰ ہونے کی یہ بھی ہے کہ یہ سورۃ مکیہ ہے اورسبع طوال اس کے بعد نازل ہوئی ہیں۔

هو سائر القرآن كذا ← هي السبع الطوال الأول و القرآن العظيم ← مجاهد في قوله سبعا من المثاني ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2419

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2420

2420 - أنبأني أبو عبد الرحمن السلمي إجازة إن أبا عمرو بن مطر حدثه ثنا إبراهيم بن إسحق الأنماطي ثنا يوسف أنبأ عبيد الله بن موسى عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية : و لقد آتيناك سبعا من المثاني قال : فاتحة الكتاب سبع آيات فقلت للربيع أنهم يقولون السبع الطول فقال : قد نزلت هذه الآية و ما نزل شيء من الطول

مجھے خبر دی ہے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے بطور اجازۃ دینے کے کہ ابو عمرو بن مطر نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن اسحٰق انماطی نے ان کو یوسف نے ہمیں خبر دی ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو ابوجعفر رازی نے ان کو ربیع بن انس رضی اللہ عنہ نے ان کو ابوالعالیہ نے "ولقد اتیناک سبعا من المثانی " انہوں نے فرمایا فاتحۃ الکتاب سات آیات ہیں میں نے ربیع سے کہا وہ کہتے ہیں کہ مراد سبع طوال ہیں انہوں نے فرمایا تحقیق یہ آیت نازل ہو چکی تھی مگر اس وقت تک طوال میں سے کوئی شے نازل نہیں ہوئی تھی۔

فاتحة الكتاب سبع آيات فقلت للربيع أنهم يقولون السبع الطول ← أبي العالية و لقد آتيناك سبعا من المثاني ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، ← يوسف أنبأ عبيد الله بن موسى ← إبراهيم بن إسحق الأنماطي ← أبو عبد الرحمن السلمي إجازة إن أبا عمرو بن مطر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2420

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2421

2421 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا عتاب بن بشير ثنا خصيف عن زياد بن أبي مريم قوله : سبعا من المثاني يقول : أعطيتك سبعة أجزاء آمر و أنهي و أبشر و أنذر و أضرب الأمثال و اعدد النعم و آتيتك نبأ القرون و هذا حسن غير أن تفسير النبي صلى الله عليه و سلم أولى من غيره و يحتمل أن يكون المراد به الجميع و الله أعلم و قد قيل أن المثاني هي جميع القرآن قال الله تعالى : { الله نزل أحسن الحديث كتابا متشابها مثاني } و إنما سمي مثاني لأن القصص و الأنباء ثنيت فيه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عتاب بن بشیر نے ان کو خصیف نے ان کو زیاد ابن ابی مریم نے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ۔" سبعا من المثانی " میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو سات اجزاء عطا کیے ہیں ۔ میں حکم کرتا ہوں ۔ میں منع کرتا ہوں ۔ میں بشارت دیتا ہوں میں ڈراتا ہوں میں مثالیں بیان کرتا ہوں اور نعمتیں گنواتا ہوں اور تمہیں زمانوں کی خبریں دیتا ہوں ۔ یہ حسن ہے مگر یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تفسیر دوسروں سے اولیٰ ہے اور اس بات کا احتمال بھی ہے کہ اس سے جمیع مراد ہوں اور یہ بھی کہا گیا ہے مثانی یہ جمیع قرآن ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ "اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا مثانی "۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے خوب صورت بات نازل کی ہے ایک جیسے مضامین والی کتاب ہے دہرائے جانے والی ہے کیونکہ قصص اور اخبار بار بار آئے ہیں مکرر آئے ہیں یا مثانی بایں معنی ہے کہ پورا قرآن فکر رسا کرو بلکہ باربار بے حدو حساب بار مکرر پڑھا جاتا ہے ۔

زياد بن أبي مريم قوله سبعا من المثاني ← خُصَيْفٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2421

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2422

2422 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ثنا مطين ثنا محمد بن العلاء ثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن عبد الله بن عثمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : المثاني قال : تثنى الأمثال و الخبر و العبر كذا قال ابن عباس وروينا معناه عن سعيد بن جبير من قوله : غير مرفوع إلى ابن عباس

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن بن اسماعیل سراج نے ان کو مطین نے ان کو محمد بن علاء نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا کہ المثانی کیا ہے فرمایا کہ امثال اخبار اور عبرتیں اور مکرر ہیں ابن عباس نے بھی ایسے ہی فرمایا ہے ۔ اور ہم نے اس کا مفہوم روایت کیا ہے سعید بن جبیر نے غیر مرفوع سے ابن عباس تک ۔

سعيد بن جبير من قوله غير مرفوع إلى ابن عباس ← ابن عباس وروينا معناه ← تثنى الأمثال و الخبر و العبر كذا ← المثاني ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مطين ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2422

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2423

2423 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل القاضي ثنا يحيى بن عبد الحميد ثنا هشيم عن الحجاج عن الوليد بن العيزار عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : السبع الطول لم يعطهن أحد إلا النبي صلى الله عليه و سلم فأعطى موسى عليه السلام منها آيتين

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل قاضی نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ان کو ھثیم نے ان کو حجاج نے ان کو ولید بن عیزار نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے کہا کہ سبع طوال یعنی سات لمبی سورتیں ایسی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی وہ عطا کیے گئے ہیں اور کسی کو عطا نہیں کی گئیں موسیٰ علیہ السلام ان میں سے دو آیات دیے گئے تھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← الْحَجَّاجِ، ← هُشَيْمٌ ← يحيى بن عبد الحميد ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2423

chevron_left Previous
1234…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood