Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 18

18 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ الإسفراييني بها أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا عمرو بن مرزوق ثنا شعبة عن أبي جمرة عن ابن عباس رضي الله عنه : أن وفد عبد القيس لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من القوم ؟ قالوا : ربيعة قال : مرحبا بالوفد غير الخزايا و لا النادمين قالوا : يا رسول الله : إنا حي من ربيعة و إنا نأتيك من شقة بعيدة و إنه يحول بيننا و بينك هذا الحي من كفار مضر و إنا لا نصل إلا في شهر حرام فمرنا بأمر فصل ندعو إليه من وراءنا و ندخل به الجنة قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آمركم بأربع و أنهاكم عن أربع : آمركم بالإيمان بالله وحده أتدرون ما الإيمان بالله وحده ؟ شهادة ان لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و أن تعطوا من المغانم الخمس و أنهاكم عن أربع : عن الدباء و الحنتم و النقير و المزفت ـ قال و ربما قال : المقير ـ احفظوهن و ادعوا إليهن من وراءكم أخرجه البخاري و مسلم فقال الصحيح من حديث شعبة و غيره فسمى رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمة الشهادة في هذا الحديث إيمانا و سماها في حديث آخر إسلاما

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقری اسفرائینی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب قاضی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عمروبن مرزق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے ابو حمزہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت آیا تو آپ نے دریافت فرمایا ۔ من القوم تم کون لوگ ہو انہوں نے جواب دیا قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ نے خوش آمدید کہا ( اور دعا دی ) نہ تم کبھی رسوا ہو اور نہ ہی شرمندہ ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم قبیلہ ربیعہ کے لوگ دور دراز کی آبادی سے آپ کی خدمت میں آتے ہیں آپ کے اور ہمارے درمیان یہ کفار قبیلہ مضر کے لوگ حائل ہیں لہذا ہم لوگ آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں لہذا ہمیں کوئی ایسی پکی بات بتا دیجیئے جس کی طرف ہم پیچھے رہ جانے والے دوسرے لوگوں کوبھی دعوت دیں اور ہم سب جنت میں داخل ہو سکیں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( امر کم باربع و انھا کم باربع ) میں آپ لوگوں کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ۔ اللہ وحدہ لا شریک کے ساتھ ایمان کا حکم دیتا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کیا چیز ہے ۔ وہ یہ ہے اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا رسول ہے ۔ اور نماز قائم کرنا ۔ زکوٰۃ دینا ۔ اور تم لوگ غنیمت کے مالوں میں سے پانچواں حصہ بھی بیت المال میں دینا ۔ اور جن چیزوں سے تمہیں روکتا ہوں یہ ہے ۔ ( یعنی چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے ان کو منع کیا ) 1۔ حنتم یعنی سبز ٹھلی ۔ 2۔ الدبآء یعنی کدو کے تونبے سے ۔ 3۔ النقیر یعنی درختوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے بنائے ہوئے مرتبان ( برتن ) سے ۔ مزفت تار کول ملے ہو برتن ( مرتبان ) سے ۔ اور راوی نے کبھی نقیر کی جگہ المقیر کہا ان امور کو یا درکھو اور جو لوگ تمہارے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو ان باتوں کی دعوت دو ۔ بخاری مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں درج کیا ہے شعبہ کی روایت سے دیکھے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کلمہ شہادت کو ایمان کا نام دیا ہے اور اسی طرح دوسری حدیث میں اسی کا نام اسلام رکھا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 18

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 19

19 - و ذلك فيما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى و أبو عبد الله البوشنجي قالا : ثنا مسدد و أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة من أولاد النعمان بن بشير ثنا أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أبو الحسن مسدد بن مسرهد ثنا يحيى بن سعيد عن عثمان بن غياث حدثني عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر و حميد بن عبد الرحمن قالا : لقينا عبد الله بن عمر فذكرنا له القدر و ما يقولون فيه فقال : إذا رجعتم إليهم فقولوا لهم إن ابن عمر منكم بريء و أنتم منه برآء ثلاث مرات ثم قال : أخبرني عمر ـ أو قال : حدثني عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنهم بينا هم جلوس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء رجل حسن الوجه حسن الشعر عليه ثياب بياض فنظر القوم بعضهم إلى بعض فقالوا : ما نعرف هذا و لا هذا صاحب سفر ثم قال : يا رسول الله ! آتيك ؟ قال : نعم قال : فجاء فوضع ركبتيه عند ركبتيه و يديه على فخذيه فقال : ما الإسلام ؟ قال : الإسلام شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصوم رمضان و تحج البيت قال : فما الإيمان ؟ قال : أن تؤمن بالله و ملائكته و الجنة و النار و البعث بعد الموت و القدر كله قال : فما الإحسان ؟ قال : أن تعمل كأنك ترى فإن لم تكن ترى فإنك ترى قال : فمتى الساعة ؟ قال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل قال : فما أشراطها ؟ قال : إذا رأيت الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان و ولدت الإماء أربابهن ثم قال : علي بالرجل فطلبوه فلم يروا شيئا فلبث يومين أو ثلاثة ثم قال : يا ابن الخطاب ! أتدري من السائل عن كذا و كذا ؟ قال : الله و رسوله أعلم قال : ذاك جبريل جاءكم يعلمكم أمر دينكم قال : و سأله رجل من جهينة أو مزينة قال : يا رسول الله ! فيم نعمل ؟ أفي شيء قد خلا أو مضى ؟ أو شيء يستأنف الآن ؟ قال : في شيء قد خلا و مضى فقال رجل أو بعض القوم : فيم نعمل إذن ؟ قال : إن أهل الجنة ييسرون لعمل أهل الجنة و إن أهل النار ييسرون لعمل أهل النار رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم عن يحيى بن سعيد قال الإمام أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ و في تسمية كلمة الشهادة في هذا الحديث إسلاما و في الحديث الأول إيمانا دلالة على أنهما اسمان لمسمى واحد إلا أنه فسر في هذا الحديث الإيمان بما هو صريح فيه ـ و هو التصديق ـ و فسر الإسلام بما هو أمارة له و إن كان اسم صريحه يتناول أماراته و اسم أماراته يتناول صريحه و هذا كما فصل بينهما و بين الإحسان و إن كان الإيمان و الإسلام إحسانا و الإحسان الذي فسر بالإخلاص و اليقين يكون إيمانا و الله تعالى أعلم

یہ بھی اسی میں ہے جس کی خبر ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے دی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب رحمتہ اللہ علیہ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن محمد بن یحییٰ اور ابو عبداللہ بوشنجی نے وہ دنوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے مسدد نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو نصر عمر بن عبدالعزیز عمر بن قتادہ نے اولاد نعمان بن ابراہیم بو شنجی رحمتہ اللہ علیہ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن مسدد بن مسرھد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن سے وہ دونوں کہتے ہیں ہم حض عبداللہ بن عمر سے ملے ہم ان سے تقدیر کے مسئلہ اور اس کے بارے میں لوگ جو کچھ کہتے ہیں بات کی ۔ انہوں نے فرمایا : جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہنا کہ حضرت ابن عمر تم سے لا تعلقی ظاہر کرتا ہے اور تم لوگ بھی اس سے لا تعلق ہو تین بار یہ فرمایا پھر فرمایا مجھے خبر دی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یا یوں فرمایا تھا کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب نے حدیث بیان کی تھی کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں بیٹحے تھے ایک خوبصورت چہرے والا جو جوان آیا خوبصورت بالوں والا اس نے سفید پوشاک پہن رکھی تھی لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے ہم اس کو نہیں جانتے اور یہ مسافر بھی نہیں ہے آتے ہی اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں آپ کے پاس آؤں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ فرمایا پھر وہ آیا اور ا س نے اپنے گھٹنے رسول اللہ کے گھٹنوں کے آگے تہہ کئے اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھ کر فرمایا : ( ما الا سلام ؟ اسلام کیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرو زکوۃ ادا کر رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ پھر اس نے سوال کیا ( ما الا یمان ؟ ) ایمان کیا چیز ہے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں اور جنت اور جہنم اور موت کے بعد جی اٹھنا اور پوری پوری تقدیر پر ۔ پھر اس نے سوال کیا ( ما الا احسان ؟ احسان کیا چیز ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تو عمل اس طرح کر گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے اس نے آنے والے شخص نے سوال کیا قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا مسئول سائل سے زیادہ نہیں جانتا یعنی میں قیامت کے آنے کے بارے میں تم سے زیادہ نہیں جانتا، اس نے پوچھا قیامت کی علامات کیا کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا ، جس وقت پاؤں سے ننگے ، جسم سے ننگے تنگدست غریب بکریوں کے چرواہے ( خستہ حال امیر بن کر ) عمارتوں ( بلڈنگوں میں ) ایک دوسرے پر بڑھ جائیں سبقت لے جانے لگیں اور لونڈٰیاں اپنے مالک کو جنم دیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا وہ سائل کہاں ہے اسے بلاؤ دیکھا تو وہ غائب ہو چکا تھا کچھ بھی نظر نہ آیا۔ آپ نے دو دن یا تین یا تین دن گزارنے کے بعد فرمایا اے ابن خطاب وہ شخص کون تھا کیا تم جانتے ہو ؟ جو فلاں فلاں سوال کر رہا تھا ابن خطاب نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے تمہارے پاس تمہیں دین سیکھانے آئے تھے ، حضرت عمر فرماتے ہیں ، قبیلہ جھینہ یا مرینہ کے آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم کس چیز میں عمل کریں ؟ کیا اس چیز میں جو گزر گئی یا جو آئندہ پیش آنے والا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا جو چیز گزر گئی ۔ ایک شخص یا بعض لوگوں نے پوچھا اس وقت ہم کس چیز کا عمل کریں ( یعنی عمل نہ کریں ) آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا اہل جنت کے لئے جنت کے اعمال آسان کئے جاتے ہیں اور اہل جہنم کے لئے جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں ۔ امام مسلم نے صحیح مسلم میں اس روایت کو محمد بن حاتم سے انہوں نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے امام ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اس حدیث میں کلمہ شہادت کو اسلام کا نام دینے اور سابقہ حدیث میں اسی کو ایمان کا نام دینے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام اور ایمان دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں ۔ مگر فرق صرف اس قدر ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی وضاحت اس امر سے کی ہے جو اس بارے میں صاف اور صریح ہے اور وہ ہے تصدیق ۔ اور اسلام کی وضاحت اس چیز سے کی ہے جو اس کی نشانی ہے اور علامت ہے ، اگرچہ اس کا صریح قسم اس کی نشانیوں اور علامات کو بھی شامل تھا ۔ اور اس کی علامات کا نام اس کی صریح اور واضح کو بھی شامل ہے ۔ یہ ایسے جیسے کہ دونوں کے اور احسان کے مابین تفصیل فرق ہے اگرچہ ایمان اور اسلام احسان ہیں اور وہ احسان جس کی تفسیر اخلاص اور یقین سے کی ہے وہی ایمان ہوگا۔ واللہ اعلم ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 19

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 20

20 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران ثنا عبيد الله بن موسى أنا حنظلة بن أبي سفيان عن عكرمة بن خالد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بني الإسلام على خمس : شهادة أن لا إله إلا الله ـ أظنه قال ـ و أن محمدا رسول الله و لم يذكره بعض الرواة عن عبيد الله و لا أكثرهم عن حنظلة و أخرجه مسلم عن وجه آخر عن حنظلة فسمى هذه الأركان الخمسة في هذه الرواية إسلاما و قد سماهن في رواية أخرى إيمانا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ سفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن مہران نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے حنظلہ بن ابو سفیان نے عکرمہ بن خالد سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یبنی الا سلام علی خمس شھادۃ ان لا الہ الا اللہ اظنہ قال و ان محمدا رسول اللہ و اقام الصلوٰۃ و ایتاء الزکوۃ و الحج و صوم رمضان ) اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے لا الہ اللہ کی شہادت دینا۔ میرا خیال ہے کہ فرمایا تھا یہ بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کا رسول ہے۔ اور نماز قائم کرنا۔ زکوٰۃ ادا کرنا ، حج کرنا رمضان کے روزے رکھنا ۔ بخاری نے اس حدیث کو صحیح بخاری میں عبید اللہ بن موسیٰ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے ۔ وہ ان محمدا رسول اللہ لیکن اس جملے کو بعض راویوں نے عبید اللہ کی روایت میں ذکر نہیں کیا، اکثر راوی اس کو حنظلہ سے ذکر کرتےہیں ۔ امام مسلم نے اس کو دوسرے طریق سے بھی حنظلہ سے روایت کیا ہے ۔ اس روایت میں ان ارکان خمسہ کو اسلام کا نام دیا گیا ہے ۔ جب کہ دوسری روایت میں انہیں چیز کو ایمان کا نام دیا گیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 20

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 21

21 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا موسى بن إسحاق ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن عطية مولى بني عامر عن يزيد السكسكي قال : قدمت المدينة فدخلت على عبد الله بن عمر فأتاه رجل من أهل العراق فقال يا أبا عبد الرحمن ! مالك تحج و تعتمر و قد تركت الغزو في سبيل الله ؟ قال : ويلك ؟ إن الإيمان بني على خمس : تعبد الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تحج البيت و تصوم رمضان قال : فردها عليه فقال عبد الله : كذلك حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم الجهاد بعد ذلك حسن قال الإمام أبو بكر البيهقي رحمه الله : و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أن الجهاد من فروض الكفايات و ليس بفرض على الأعيان

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ الحافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے موسیٰ بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن عبداللہ نے منصور سے انہوں نے سالم بن ابی سعید سے انہوں نے عطیہ مولیٰ بن عامر سے انہوں نے یزید سکسکی سے اس نے کہا ۔ میں مدینے گیا اور حضرت عبداللہ بن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک آدمی بھی آ گیا ۔ اس سے پوچھا اے ابو عبدالرحمن آپ کو کیا ہوا آپ حج عمرہ تو کرتے ہیں ۔ مگر اللہ کی راہ میں جہاد کو ترک کر دیا ہے حضرت ابن عمر نے فرمایا : تیرے لئے ہلاکت ہو ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔ تم اللہ کی عبادت کرو ۔ نماز قائم کرو۔ زکٰوۃ دو ۔ بیت اللہ کا حج کرو رمضان کے روزے رکھو اس شخص کو یہی جواب دیا پھر عبداللہ بن عمر نے فرمایا اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بیان فرمایا تھا پھر اس سب کچھ کے بعد جہاد اچھا ہے ۔ امام ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں واللہ اعلم ابن عمر کی مراد شاید یہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ میں سے ہے اور فرض عین نہیں ہے ۔

يزيد السكسكي ← عَطِيَّةَ، مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 21

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 22

22 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن أيوب و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك أنا أبو صالح أنبأ الفزاري أنبأ سفيان بن سعيد عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من أهل الشام من أهل الإسلام عن أبيه قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأله عن الإسلام ـ و في رواية حماد قال : عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : أسلم تسلم قال : و ما الإسلام ؟ قال : تسلم قلبك لله و يسلم المسلمون من لسانك و يدك قال : فأي الإسلام أفضل ؟ قال : الإيمان قال : فما الإيمان ؟ قال : تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و بالبعث بعد الموت قال : فأي الإيمان أفضل قال : الهجرة قال : و ما الهجرة ؟ قال : أن تهجر السوء قال : فأي الهجرة أفضل ؟ قال : الجهاد قال : و ما الجهاد ؟ قال : أن تجاهد ـ أو قال : تقاتل ـ الكفار إذا لقيتهم ـ و في رواية سفيان قال : تقاتل العدو إذا لقيتهم و لا تغل و لا تجبن ـ و في رواية حماد ـ ثم لا تغل و لا تجبن و زاد ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثم عملان هما من أفضل الأعمال إلا من عمل عملا بمثلهما ـ و قال بإصبعيه هكذا السبابة والوسطى ـ حجة مبرورة أو عمرة مبرورة قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ فأبان هذا الحديث أن الإسلام الذي أخبر الله عز و جل أنه هو الدين عنده بقوله : { إن الدين عند الله الإسلام } و قوله : { و من يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه } و قوله : { اليوم أكملت لكم دينكم و أتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الإسلام دينا } ينظم الاعتقاد و الأعمال الظاهرة لأن قوله : الإسلام أن تسلم قلبك لله إشارة إلى تصحيح الاعتقاد و قوله : أن يسلم المسلمون من لسانك و يدك إشارة إلى تصحيح المعاملات الظاهرة ثم صرح بذلك فأخبر أن الإيمان أفضل الإسلام و فسره بأنه الإيمان بالله و ملائكته و كتبه و رسله و البعث أراد أن الإيمان بالغيب أفضل من الإيمان بما يشاهد و يرى و هذا موافق لقول الله عز و جل : { الذين يؤمنون بالغيب } مدحا لهم و ثناء عليهم ثم أبان أن الاعتقاد و عامة الأعمال إيمان فقال : أفضل الإيمان الهجرة ثم فرع الهجرة فدل ذلك على أن الطاعات كلها إيمان كما هي إسلام و أن الإسلام هو الإذعان لله عز و جل سواء وقع بأمر باطن أو بأمر ظاهر بعد أن يكون الأمران مما رضي الله تعالى لعباده أن يتقربوا به إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے ایوب سے اور خبر دی ہے ہمیں ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے احمد بن عبدالصفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے عبید بن شریک نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو صالح نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے فزاری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے سفیان بن سعید نے ایوب سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے اہل شام کے ایک آدمی سے اہل اسلام سے اس نے اپنے والد سے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جو اسلام کے بارے میں آپ سے پوچھتا تھا ۔ حماد کی ایک روایت میں ہے انہوں نے کہا اپنے والد سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا اسلام قبول کر لے بچ جا ۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دے اور مسلمان تیرے ہاتھ اور زبان ( کی اذیت سے ) محفوظ ہو جائیں ۔ اس شخص نے پوچھا کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ایمان اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں کے ساتھ اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کے ساتھ ۔ اس شخص نے پوچھا کونسا ایمان افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا کہ ہجرت اس نے پوچھا ہجرت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ تو ہر برائی کو چھوڑ دے ۔ اس نے پوچھا ہجرت کون سی افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جہاد ۔ اس نے پوچھا جہاد کیا چیز ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تو جہاد کر یا فرمایا تھا کہ تو قتال کر کفار کے ساتھ جب تو ان سے ٹکرائے اور مقابلہ کرے اور سفیان کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا دشمن سے قتال کر جب تو ان سے مقابلہ کرے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرے اور بزدل بھی نہ ہو۔ اورحماد کی ایک روایت میں ہے غنیمت میں چوری نہ کر اور بزدلی نہ کر، اس پر بھی اضافہ کیا ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد دو عمل ایسے ہیں جو افضل ہیں تمام اعمال سے مگر جو شخص ان کے مثل عمل کرے پھر آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی ملا کر اشارہ کیا کہ اس طرح حجتہ مبرورۃ اورعمرۃ مبروۃ حج مقبول یا عمرہ مقبول ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس حدیث نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام جس کی اللہ جل شانہ نے خبر دی ہے کہ وہی دین ہے اس کے نزدیک ایسے اس ارشاد میں : ( ان الدین عند اللہ الا سلام ) ( آل عمران ۱۹) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ ) ( آل عمران ۸۵) اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( الیوم اکلمت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضی تلکم الا سلام دینا ) ( المائدہ ۳) اعتقاد اور ظاہری اعمال باہم مربوط ہیں اس لئے کہ حضور کو یہ فرمان کہ اسلام یہ ہے کہ تو اپنا دل اللہ کے سپرد کر دے ۔ یہ اشارہ عقیدہ کی درستگی کی طرف اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان کہ مسلمان ترے ہاتھ اور زبان سے محفوظ اور سلامت رہیں ۔ یہ اشارہ ظاہری معاملات کی درستگی کی طرف۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس کی تصریح اور وضاحت فرما دی اور خبر دی کہ ایمان افضل اسلام ہے اور اس کی تشریح یوں فرمائی کہ اللہ کے ساتھ ایمان فرشتوں کے ساتھ ایمان ، اس کی کتابوں کے ساتھ ایمان اس کے رسولوں کے ساتھ اور دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اس میں اشارہ اور یہ ارادہ فرمایا کہ ایمان باالغیب ایمان باالمشاہدہ سے افضل ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے الذین یؤمنون باالغیب کہ متیقن وہ لوگ ہیں جو ایمان باالغیب رکھتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح و ثنا میں ارشاد فرمایا ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مذکورہ حدیث میں واضھ فرمایا کہ اعتقاد اور عام اعمال ایمان ہیں پھر فرمایا افضل ایمان ہجرت ہے پھر ہجرت کی تفریع و تشریح فرمائی جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام تر طاعات ایمان ہیں جیسے کہ یہ اسلام بھی ہیں ، اور وہ آپ کی تشریح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اسلام وہی اذعان و یقین ہے اللہ تعالیٰ کے لئے خواہ وہ یقین امر ظاہر کے ساتھ ہو یا باطنی کے ساتھ جب کہ دونوں امر ایسے ہوں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے پسند کرتے ہیں کہ بندے انہیں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ قرب حاصل کریں ۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← أبو صالح أنبأ الفزاري أنبأ سفيان بن سعيد ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ← أَيُّوبَ و ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 22

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 23

23 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا ابن نمير عن الأعمش ـ و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا معاذ بن نجدة القرشي ثنا خلاد بن يحيى ثنا سفيان عن منصور و الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود قال : قال رجل : يا رسول الله ! أيؤاخذ الله الرجل بما عمل في الجاهلية ؟ قال : من أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية و من أساء في الإسلام أخذ بالأول و الآخر لفظ حديث أبي النضر رواه البخاري في الصحيح عن خلاد بن يحيى رواه مسلم عن محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ و هذا على أن الطاعات في الإيمان إيمان و أن المعاصي في الكفر كفر فإذا أسلم الكافر أحبط إسلامه كفره فإن أحسن في الإسلام أحبطت طاعاته تلك المعاصي التي قدمها في حال كفره و إن لم يحسن في الإسلام بقيت تلك المعاصي بحالها لم يجد ما يحبطها فأخذ بإساءته في الإسلام و فيما قبله و بسط الكلام في شرح ذلك و لا يلزم على هذا إلزامه قضاء ما ترك من صوم و صلاة لأنه إذا صام و صلى بعد ما أسلم سقط عنه ما ترك في الكفر بدلالة الحديث و إن لم يصل و لم يصم أمر بهما و حمله على ذلك حمل له على ما فعله سقط عنه ما مضى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالحافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب بن نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن عفان عامری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن نمیر نے اعمش سے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے ابو نصر محمد بن محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے معاذہ بن نجدہ قرشی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے خلاد بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے منصور سے اور اعمش ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ انسان سے ان اعمال پر بھی گرفت کریں گے جو اس نے اسلام سے قبل دور جاہلیت میں کئے ہوں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا جس نے اسلام میں اچھائی کی اس سے ان اعمال کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا جو اس نے جاہلیت میں کئے تھے اور جس نے اسلام میں آ کر بھی برائی کی اس سے پہلے اور پچھلے تمام اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔ یہ الفاظ ابو نصر کی حدیث کے تھے ۔ اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح میں خلاد بن یحییٰ سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اس نے اپنے باپ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ تقریر اس بنیاد پر ہے کہ ایمان کی حالت میں طاعات عین ایمان ہیں اور کفر کی حالت میں معاصی عین کفر میں ۔ جب کافر مسلمان ہو جاتا ہے اسلام اس کے کفر کو تباہ کر دیتا ہے پھر اگر اسلام میں اچھائی اور نیکی کرے تو اس کی طاعات اور نیکیاں اس کی ان معاصی اور گناہوں کو تباہ کر دیتی ہیں جو اس نے حالت کفر میں کئے اور اگر اسلام میں اچھائی اور نیکی نہیں کرتا تو اس کے وہ گناہ باقی و بدستور رہتے ہیں انہیں تباہ کرنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی لہذا اس کی ان تمام برائیوں پر گرفت کی جائے گی جو اسلام میں کی ہوں گی یا اسلام سے قبل کی ہوں گی اور اس کی تفصیل میں حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے بڑی تفصیل سے کام لیا ہے ۔ یہاں پر مصنف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر سابقہ گناہوں پر بھی گرفت ہوگی ۔ تو اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ اسلام سے قبل صوم و صلوٰۃ کی قضاء بھی اس پر لازم ہو گی اس اعتراض ک جواب دیتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ( از مترجم ) سابقہ تقریر سے لازم نہیں آتا کہ اس شخص پر ان نمازوں اور روزوں کی قضاء لازم ہو جو اس نے ترک کئے تھے ۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد جب نماز پڑھے اور روزہ رکھے گا اس کے ذمہ سے وہ نمازیں اور روزے ساقط ہو جائی گے جو اس نے کفر کے دور میں ترک کئے تھے یہ حدیث کی دلالت سے ثابت ہے ۔ ( اسلام کے بعد ) اگر نماز نہ پڑھے اور روزے نہ رکھے تو ان کے کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اور اس کو اس حال پر محمول کیا جائے گا جیسے ان کا عمل کرنا اور اس ے گزشتہ نماز روزہ کے معاف ہو جائے ۔

رَجُلٌ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← منصور و الأعمش ← سُفْيَانَ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← معاذ بن نجدة القرشي ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← الأَعْمَشِ، وَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 23

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 24

24 - أخبرنا أبو جعفر كامل بن أحمد المستملي و أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة قالا : ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الصبغي ثنا الحسن بن علي بن زياد السري ثنا إسماعيل بن أبي أويس قال : حدثني مالك عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا سلم العبد فحسن إسلامه كفر الله عنه سيئة زلفها و كتب الله له كل حسنة كان زلفها ثم كان القصاص : الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف و السيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عز و جل أخرجه البخاري في الصحيح فقال : و قال مالك فذكره قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي رحمه الله : أسنده مالك و أرسله ابن عيينة

ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر کامل بن احمد المستملی نے اور ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن اسحاق بن ایوب صبغی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن بن زیاد سری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابی اویس نے انہوں نے مجھے حدیث بیان کی ہے مالک زید بن اسلم سے انہوں نے عطا بن یسار سے انہوں نے ابو سعید خدری سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اذا اسلم العبد و فحسن اسلامہ کفر اللہ عنہ کل سیئۃ زلفا و کتب اللہ لہ کل حسنۃ کان زلقھا ثم کان القصاص ، الحسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف و السیئۃ بمثلھا الا ان یجاوز اللہ عزوجل ) کہ جب کوئی بندہ مسلمان ہو جاتا ہے اور پنے اسلام کو اچھا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سابقہ غلطیاں مٹا دیتا ہے اور اللہ اس کی سابقہ نیکیاں لکھ دیتا ہے جو اس نے کی تھیں پھر بدلہ ہوگا ایک نیکی دس گونہ کے برابر ہو گی سات س گونہ تک اور برائی صرف ایک گونہ ہو گی مگر الہ چاہے تو اس سے بھی درگزر فرما لے ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے صحیح بخاری میں نقل کیا ہے اور یوں کہا ہے کہ مالک کہتے ہیں ۔ پھر حدیث ذکر کی ہے امام حافظ ابو بکر بیہقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مالک نے اس حدیث کو مسند بیان کیا اور ابن عیینہ نے مرسل ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الصبغي،

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 24

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 25

25 - أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر نا سفيان بن عيينة عن زيد بن أسلم سمع عطاء بن يسار يخبر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أسلم العبد فحسن إسلامه تقبل منه كل حسنة زلفها و كفر عنه كل سيئة زلفها و كان في الإسلام ما كان الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة و السيئة بمثلها أو يمحوها الله عز و جل

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے کہ ہمیں خبر دی ہے اسمعیل بن محمد بن صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعدان بن نصر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے زید بن اسلم سے انہوں نے سنی ہے عطا بن یسار سے وہ خبر دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جب بندہ اسلام قبول کرتا ہے اور اس کا اسلام اچھا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سابقہ دور کی نیکیاں بھی قبول فرما لیتا ہے اور سابقہ غلطیاں مٹا دیتا ہے اور پھر وہ نیکیاں جو اسلام میں کرتا ہے وہ ہر نیکی دس گونہ سے سات سو گونہ تک ہوتی ہے اور گناہ ایک ہی گونہ رہتا ہے یا اس ایک گونہ کو بھی اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، يُخْبِرُ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 25

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood