شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 18
18 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ الإسفراييني بها أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا عمرو بن مرزوق ثنا شعبة عن أبي جمرة عن ابن عباس رضي الله عنه : أن وفد عبد القيس لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من القوم ؟ قالوا : ربيعة قال : مرحبا بالوفد غير الخزايا و لا النادمين قالوا : يا رسول الله : إنا حي من ربيعة و إنا نأتيك من شقة بعيدة و إنه يحول بيننا و بينك هذا الحي من كفار مضر و إنا لا نصل إلا في شهر حرام فمرنا بأمر فصل ندعو إليه من وراءنا و ندخل به الجنة قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آمركم بأربع و أنهاكم عن أربع : آمركم بالإيمان بالله وحده أتدرون ما الإيمان بالله وحده ؟ شهادة ان لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و أن تعطوا من المغانم الخمس و أنهاكم عن أربع : عن الدباء و الحنتم و النقير و المزفت ـ قال و ربما قال : المقير ـ احفظوهن و ادعوا إليهن من وراءكم أخرجه البخاري و مسلم فقال الصحيح من حديث شعبة و غيره فسمى رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمة الشهادة في هذا الحديث إيمانا و سماها في حديث آخر إسلاما
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقری اسفرائینی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب قاضی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عمروبن مرزق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے ابو حمزہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت آیا تو آپ نے دریافت فرمایا ۔ من القوم تم کون لوگ ہو انہوں نے جواب دیا قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ نے خوش آمدید کہا ( اور دعا دی ) نہ تم کبھی رسوا ہو اور نہ ہی شرمندہ ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم قبیلہ ربیعہ کے لوگ دور دراز کی آبادی سے آپ کی خدمت میں آتے ہیں آپ کے اور ہمارے درمیان یہ کفار قبیلہ مضر کے لوگ حائل ہیں لہذا ہم لوگ آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں لہذا ہمیں کوئی ایسی پکی بات بتا دیجیئے جس کی طرف ہم پیچھے رہ جانے والے دوسرے لوگوں کوبھی دعوت دیں اور ہم سب جنت میں داخل ہو سکیں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( امر کم باربع و انھا کم باربع ) میں آپ لوگوں کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ۔ اللہ وحدہ لا شریک کے ساتھ ایمان کا حکم دیتا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کیا چیز ہے ۔ وہ یہ ہے اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا رسول ہے ۔ اور نماز قائم کرنا ۔ زکوٰۃ دینا ۔ اور تم لوگ غنیمت کے مالوں میں سے پانچواں حصہ بھی بیت المال میں دینا ۔ اور جن چیزوں سے تمہیں روکتا ہوں یہ ہے ۔ ( یعنی چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے ان کو منع کیا ) 1۔ حنتم یعنی سبز ٹھلی ۔ 2۔ الدبآء یعنی کدو کے تونبے سے ۔ 3۔ النقیر یعنی درختوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے بنائے ہوئے مرتبان ( برتن ) سے ۔ مزفت تار کول ملے ہو برتن ( مرتبان ) سے ۔ اور راوی نے کبھی نقیر کی جگہ المقیر کہا ان امور کو یا درکھو اور جو لوگ تمہارے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو ان باتوں کی دعوت دو ۔ بخاری مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں درج کیا ہے شعبہ کی روایت سے دیکھے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کلمہ شہادت کو ایمان کا نام دیا ہے اور اسی طرح دوسری حدیث میں اسی کا نام اسلام رکھا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي
Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 18
