شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 360
360 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا أبو غسان حدثني أبو حازم ثنا سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني فرطكم على الحوض من مر علي شرب و من شرب لم يظمأ أبدا و ذكر الحديث أخرجاه في الصحيح قال البيهقي رحمه الله : و يشبه أن يكون عطش المتقين لكي إذا سقوا من حوض المصطفى صلى الله عليه و سلم وجدوا لذة الماء إذ الريان لا يستلذ الماء كما يستلذه العطشان و الله أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خبر دی ہے ابو نضر فقیہ نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے، ان کو سعید بن ابی مریم نے، ان کو ابو غسان نے، ان کو ابو حازم نے ، ان کو سہل بن سعد نے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "انی فرطکم علی الحوض من مر علی شرب ومن شرب لم یظما ابدا" بے شک میں حوض پر تم سب سے آگے جانے والا اور پیش رد ہوں جو شخص بھی میرے پاس آئے گا وہ پیئے گا اورجس نے پی لیا ہو کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا۔ او ر پوری حدیث کو ذکر کیا۔ بخاری و مسلم نے اس کو صحیحین میں نقل کیا ہے۔ قول بیہقی رحمۃ اللہ علیہ : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مناسب ہے کہ متقین بھی پیاسے ہوں تانکہ جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض سے پلائے جائیں تو حوض کوثر کے پانی کی لذت حاصل کر سکیں۔ اس لیے کہ سیر شدہ انسان اس قدر لذت نہیں پا سکتا جس قدر پیاسا انسان شدید پیاس کے بعد پانی پی کر لذت حاصل کرتا ہے۔ فصل : ۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کی کیا کیا ہولناکیاں بیان کی ہیں : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے کہ جو کچھ دھرتی پر ہو گا: (1)۔۔۔زمین کا ہلایا جانا ۔ (2)۔۔۔ زمین کا تبدیل ہو نا۔ (3)۔۔۔ زمین کی ہیئت و صورت کا بدلنا۔ (4)۔۔۔ زمین کا کھینچنا اور دراز ہونا اور پہاڑوں میں جو کچھ ہو گا۔ (5)۔۔ پہاڑوں کا چلنا۔ (6) ۔۔ اڑ کر بکھرنا۔ (7) ۔۔ھباء ً منشوراً۔ یعنی اڑتا ہوا غبار بنا دینا۔ (8)۔۔ دھنی ہوئی اون کی طرح کر دینا ۔ اور دریاؤں اور سمندروں میں جو کچھ ہو گا: (9)۔۔ دریاؤں اور سمندروں کا ابل پڑنا۔ (10)۔۔ دریاؤں کا جھونکا جانا۔ (11)۔۔ قبروں کا اکھڑ جانا۔ (12) ۔۔ زمین کا اپنے اثقال اور بوجھ سے باہر نکال پھینکنا۔ (13) ۔۔ زمین کاا پنے اوپر ہونے والے جرائم و واقعات کی خبریں بیان کرنا۔ (14)۔۔ زمین سے دلۃ الارض کا نکلنا۔ (15)۔۔ دس ماہ گابھن اونٹنیاں معطل اور بے کار ہونا۔ (16)۔۔ وحشی اور جنگلی جانوروں کا جمع ہوجانا۔ (17)۔۔ زندہ دفن کی ہوئی سے سوال ہونا کہ کس جرم میں قتل کی گئی تھی۔ (18)۔۔ جسموں اور روحوں کاجوڑا جانا۔ (19)۔۔ آسمانوں کا پھٹ جانا۔ (20)۔۔ آسمانوں کو لپیٹا جانا۔ (21)۔۔ سورج لپیٹ دینا یعنی اس کی دھوپ تہ بہ تہ ہونا۔ (22)۔۔ چاند کا بے نور ہونا۔ (23)۔۔ ستاروں کا گدلا اور میلا ہونا۔ (24)۔۔ ستاروں کا بکھر جانا۔ (25)۔۔ ماں کا اپنے بچوں کو بھول جانا۔ (26)۔۔ حاملہ عورتوں یا جانداروں کا اپنے حمل کو ضائع کر بیٹھنا۔ (27)۔۔ صحیفوں کا پھیلا یا جانا۔ (28) ۔۔ آسمان کو چمڑا چھلنا۔ (29)۔۔ جہنم کا دہکا یا جانا۔ (30)۔۔ جنت کا قریب لایا جانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ بہت سے امو ر وقوع پذیر ہونا۔ ان تمام امور کا ذکر کتا ب اللہ میں موجود ہے۔ مذکورہ امور کے وقوع کے بارے میں اہل علم کا اختلاف: اہل علم نے ان تمام حوادث کے وقوع کے وقت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ یہ واقعات پہلی بار صور پھونکنے کے بعد ہوں گے اور دوسری بار پھونکنے سے پہلے ہوں گے اور وہ حدیث روایت کی گئ ہے جسے ہم نے اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے محمد بن کعب سے، اس نے ایک انصار ی آدمی سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صور کے بارے میں۔ اور اکثر اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ یہ واقعات دوسری بار پھونک مارنے کے بعد ہوں گے۔ لوگوں کا اپنی قبروں سے نکلنا اور قیامت کے دن ان کا کھڑا ہونا اس سے پہلے ہو گا اور وہ دیکھیں گے تاکہ یہ مناظر دیکھ کر ان کے پیش ہونے کا رعب اور ڈر ہو اور ان کے احوال کے لئے زیادہ سخت ہو۔ اکثر آیات جو ان حوادث کے بارے میں آئی ہیں ان کا سیاق اسی پر دلالت کرتا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے اس حدیث میں جس کی اسناد ہم نے قیامت کی کیفیت کے بیان میں ذکر کی ہے اور دو میں سے ایک حدیث ہم نے کتاب البعث والنشور میں بھی ذکر کیا ہے۔ اسی کی مثل پر اکثر احادیث دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے اور دیگر کی بھی ہے آگ بھیجنے کے بارے میں۔
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← أبو غسان، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 360
