Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 257

257 - حدثنا أبو الحسن العلوي أخبرنا أبو حامد هو ابن الشرقي ثنا محمد بن يحيى الذهلي حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح بن كيسان ثنا نافع أن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقوم الناس يوم القيامة لرب العالمين حتى يغيب أحدهم في رشحه إلى أنصاف أذنيه أخرجه مسلم في الصحيح من حديث يعقوب

ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ حسن علوی نے خبر دی ہے ہمیں ابو حامد نے اور وہ ابن شرقی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ ذھلی نے۔ انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ میرے والد نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ نافع نے یہ کہ عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: '' یقوم الناس یوم القیمۃ لرب العالمین حتی یغیب احدھم فی شحہ الی انصاف اذنیہ " قیامت کے دن لوگ رب العالمین کےسامنے کھڑے ہوں گے۔ یہاں تک کہ انسان اپنے کانوں کے نصف تک اپنے پسینے میں ڈوب جائے گا۔ امام مسلم نے صحیح میں حدیث یعقوب سے اس کو روایت کیا ہے۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو حامد هو ابن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 257

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 258

258 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أخبرنا الحسن بن سفيان ثنا الحكم بن موسى ثنا يحيى بن حمزة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال حدثني سليم بن عامر حدثني المقداد بن الأسود قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : تدنى الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل قال سليم بن عامر فو الله ما أدري ما عنى بالميل أمسافة الأرض أم الميل الذي يكحل به العين ؟ قال : فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق فمنهم من يكون إلى كعبيه و منهم من يكون إلى ركبته و منهم من يكون إلى حقويه و منهم من يلجه إلجاما قال و أومأ رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى فيه رواه مسلم في الصحيح عن الحكم بن موسى و قد ذكرنا سائر الأحاديث فيه في كتاب البعث قال الله عز و جل : { وكل إنسان ألزمناه طائره في عنقه ونخرج له يوم القيامة كتابا يلقاه منشورا * اقرأ كتابك كفى بنفسك اليوم عليك حسيبا } و قال عز و جل : { وإن عليكم لحافظين * كراما كاتبين * يعلمون ما تفعلون } و قال تعالى : { عن اليمين وعن الشمال قعيد * ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد } و قال { هذا كتابنا ينطق عليكم بالحق إنا كنا نستنسخ ما كنتم تعملون } و أخبر أن الذين يقرأون كتبهم يقولون : { مال هذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة إلا أحصاها } و أن من أوتي كتابه بيمينه فيقول : { هاؤم اقرؤوا كتابيه * إني ظننت أني ملاق حسابيه * فهو في عيشة راضية * في جنة عالية } { وأما من أوتي كتابه بشماله فيقول يا ليتني لم أوت كتابيه * ولم أدر ما حسابيه * يا ليتها كانت القاضية } { فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا * وينقلب إلى أهله مسرورا * وأما من أوتي كتابه وراء ظهره * فسوف يدعو ثبورا * ويصلى سعيرا } و إذا وقف الناس على أعمالهم من الصحف التي يؤتونها حوسبوا بها و لعل ذلك ـ و الله أعلم ـ لأن الناس إذا بعثوا لا يكونون ذاكرين لأعمالهم فإن الله عز و جل قال : { يوم يبعثهم الله جميعا فينبئهم بما عملوا أحصاه الله ونسوه } فإذا ذكروها و وقفوا عليها حوسبوا عليها و قد جاء في كيفية المحاسبة أخبار ذكرناها في كتاب البعث و النشور منها ما :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو بکر بن عبداللہ نے کہ ہمیں خبر دی ہے حسن بن سفیان نے۔ ہمیں حدیث بیان کی ہے حکم بن موسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن حمزہ نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، اس نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے سلیم بن عامر نے، انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے مقداد بن اسود نے، انہوں نےکہا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ، فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے قریب کر دیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے قریب ہو گا جیسے ایک تہائی فرسنگ یا جیسےسرمہ کی سلائی۔سلیم بن عامر نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ آپ نے میل سے کیا چیز مراد لی ہے لیکن زمین کی مسافت یا سرمہ کی سلائی جسسے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ فرمایا کہ لوگ اپنے پسینے میں اپنے اپنے اعمال کے حساب سے غرق ہوں گے۔ بعض ان میں سے اپنے ٹخنوں تک،بعض گھٹنوں تک ، بعض اپنی کمر تک اور بعض لگام لگائے جائیں گے پسینے کی یعنی منہ تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔ مقداد نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمنہ تک پسینے کااشارہ کیا ، اس کومسلم نےصحیح میں حکم بن موسیٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہم نے اس سلسلے میں تمام احادیث کتاب البعث میں ذکر کر دی ہیں۔ اعمالنامہ سب کےگلے میں لٹکا ہوا ہے: اللہ تعالیٰ کاارشادہے: " وکل انسان الزمنہ طائرہ فی عنقہ ونخرج لہ یوم القیمۃ کتابا یلقہ منشوراً اقراکتابک کفا بنفسک الیوم علیک حسیبا ً " (سورۃ اسرائیل ، 13-14) ہر انسان کے اعمال کا پرچہ (بصورت کتاب) ہم نے اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے۔ ہم اس کے لئے قیامت کے دن ایک تحریر (وہ کتاب) نکالیں گے، جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا۔ کہا جائے گا پڑھ لے تو اپنی کتاب تیرے نفس کے ساتھ تو ہی آج حساب کرنے والا کافی ہے۔ اعمال لکھنے کے لئے فرشتے مقرر ہیں: ایک اور ارشاد ہے: ”ان علیکم لحافظین کراما ً کاتبین یعلمون ماتفعلون " (انفطار، 10) بےشک تمہارے اوپر محافظ مقررہیں جو عزت والے منشی ہیں، وہ جانتے ہیں تم جو کچھ کر رہے ہو۔ ہر بات کو فرشتے لکھتے ہیں: اور ارشاد ہے: "عن الیمین وعن الشمال قیدً ، مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (ق، 17-ٍ18)دائیں اور بائیں جانب بیٹھتے ہیں لکھ رہے ہیں۔ انسان کسی بھی بات کا تلفظ نہیں کرتا مگر اس کے پاس نگران تیار بیٹھا ہے۔ اعمال نامے میں ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہے۔ اور ارشاد ہے: "ھذا کتابنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون "(الجاثیہ-29)یہ (کتاب)ہماری تحریر ہے جو تمہارے اوپر سچ سچ بولتی ہے۔ بے شک ہم لکھ لیا کرتے تھے جو کچھ تم عمل کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بھی خبر دی ہے کہ جو لوگ اپنے اعمال نامے پڑھیں گے تو وہ یہ کہیں گے: " ماھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا" (الکہف 49) کیا ہوا اس کتا ب کو نہ کسی چھوٹی کو چھوڑتی ہے نہ کسی بڑی بات کو بلکہ سب کو اس نے محفوظ کر رکھا ہے۔ اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں ملا تو حساب آسان ہو گا ورنہ مشکل ہو گا۔جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا وہ کہے گا: "ھاوا قروا کتابیہ انی ظننت انی ملاق حسابیہ فھو فی عیشۃ راضیۃ فی جنۃ عالیہ (الحاقہ 19-23) آؤ میرا اعمال نامہ پڑھو میں یقین رکھتا ہوں کہ میں اپنے حساب کوملنے والا ہوں۔ پس وہ شخص خوشی کی زندگی میں بہشت بریں میں ہو گا۔ "واما من اوتی کتابہ بشمالہ فیقول یالیتنی لم اوت کتابیہ ولم ادر ماحسابیہ یالیتھا کانت القاضیۃ(الحاقہ 25-27) بہر حال جس شخص کو کتاب (اعمال نامہ) بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا ہائے افسوس کہ میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور میں یہ بھی نہ جان سکتا ہے کہ میرا حساب کیا ہے؟ اے کاش وہی موت ہی مجھ سے نمٹ لیتی۔ (یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مر چکا ہوتا)۔ " فاما من اوتی کتابہ بیمنہ فسوف یحاسب حسابایسیرا وینقلب الی اھلہ مسرورا واما من اوتی کتابہ وراء ظھرہ فسوف یدعو اثبورا ، ویصلی سعیرا (سورۃ انشقاق 7-12) بہر حال جو شخص کہ اپنا اعمال نامہ اس کو سیدھے ہاتھ میں دیا گیا عنقریب آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوش خوش لوٹے گا۔ بہر حال جس شخص کو اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا وہ عنقریب ہلاکت (موت) کو پکارے گا اور وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ لوگ جب ان صحیفوں کے ذریعے اپنے اپنے اعمال پر مطلع ہوجائیں گے تو انہیں کے ذریعے سے حساب لئے جائیں گے۔ یہ شاید اس لئے ہو گا کہ لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے تو انہیں اپنے اپنے اعمال یاد نہیں ہوں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "یوم یبعثھم اللہ جمیعا فینبئھم بما عملو ا احصاہ اللہ ونسوہ (مجادلہ6) جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو قبروں سے اٹھائے گا پس خبر دے گا ان کو اس کی جو کچھ انہوں نے اعمال کئے تھے۔ اللہ نے ان کو یاد اور محفوظ کر رکھا تھا۔ اور وہ اس کو بھول چکے تھے۔ لہذا جب و ہ ان اعمال کو یاد کر کے ان سے واقف ہو جائیں گے ، ان کے بارے میں حساب لئے جائیں گے۔ اور محاسبہ کی کیفیت کے بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں، جنہیں ہم نے اپنی کتا ب البعث والنشور میں ذکر کر دیا ہے۔ بعض ان میں سے یہ ہیں۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 258

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 259

259 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا عبد الله بن محمد بن شاكر ثنا أبو أسامة ثنا الأعمش عن خيثمة بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن عن عدي بن حاتم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما منكم من أحمد إلا سيكلمه ربه ليس بينه و بينه حجاب و لا ترجمان فينظر أيمن منه فلا يرى شيئا إلا شيئا قدمه و ينظر أشأم منه فلا يرى إلا شيئا قدمه و ينظر أمامه فلا يرى إلا النار فاتقوا النار و لو بشق تمرة رواه البخاري في الصحيح عن يوسف بن موسى عن أبي أسامة و في هذا دليل على أنه يحاسب المكلفين بنفسه و أنه يخاطبهم معا و لا يخاطبهم واحدا بعد واحدا و على هذا تدل سائر الأحاديث عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أن تكليمه أهل رحمته مما يزيدهم بشارة و كرامة و تكليمه أهل عقوبته مما يزيدهم خسارة و حسرة قال الله تعالى : { ألم أعهد إليكم يا بني آدم أن لا تعبدوا الشيطان إنه لكم عدو مبين } مع سائر ما ورد فيه من الكتاب و السنة و قد قيل إنه يأمر ملائكته بمحاسبة الخلق بأمره و قد قيل إنه يتولى حساب المؤمنين بنفسه و يأمر الملائكة بمحاسبة الكفار و ما دل عليه ظاهر ما ذكرناه من السنة الصحيحة و أشرنا إليه أصح الأقاويل في ذلك و الله أعلم و إذا انتهى الحساب كان بعده وزن الأعمال لأن الوزن للجزاء

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے کہ انہیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بن شاکر نے، انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو اسامہ نے ، انہوں نے کہاہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے چشمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عدی بن حاتم سے، انہوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام فرمائیں گے۔اللہ کے اور بندے کے درمیان نہ کوئی پردہ حائل ہو گا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہو گا۔ چنانچہ انسان اپنے دائیں طرف دیکھے گا مگر کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ سوائے اس عمل کے جو آگے بھیجا تھا۔ پھر بائیں جانب دیکھے گا مگر کچھ بھی نظر نہیں آئے گا سوائے اس عمل کے جو آگے بھیجا تھا۔ آگے دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی۔ لوگو آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے آدھے دانے کے ساتھ ہی سہی۔ اس کو بخاری نے صحیح میں۔ یوسف بن ابی موسیٰ بن ابی اسامہ نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مکلفین کا حساب خود لے گا اور اسب کو ایک ساتھ مخاطب کرے گا۔ایک کے بعد ایک اور باری باری خطاب نہیں کرے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ ہاں اہل رحمت کے ساتھ اس کی ہمکلامی ان کی بشارت و کرامت میں اضافہ کرے گا اور اہل عذاب کے ساتھ ہمکلامی ان کی حسرت اور ان کے خسارے میں اضافہ کرے گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "الم اعھد الیکم یابنی ادم الا تعبدو االشیطان انہ لکم عدو مبین (یس 60) اے اولاد آدم کیامیں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا واضح دشمن ہے۔ علاوہ اس کے جتنے کتاب و سنت میں ارشادات آئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو مخلوق کے محاسبہ کرنے کا حکم دیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ حساب لیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہل ایمان کے حساب کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ لیں گے اور کفار کا حساب فرشتوں کے ذمہ لگائیں گے۔ اور ظاہر کتاب و سنت جس چیز پر دلالت کرتے ہیں وہ وہی ہے جو ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس بارے میں تمام اقوام میں سے صحیح ترین قول کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ جب حساب و کتا ب مکمل ہو جائے گا تو پھر اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ اس لئے کہ وزن کرنا جزا عطا کرنے کے لئے ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 259

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 260

260 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول سمعت أبا عبد الله محمد بن إبراهيم العبدوي يقول سمعت إبراهيم بن أبي طالب يقول : سمعت إسحاق بن إبراهيم بن مخلد الحنظلي يقول سمعت أبي يقول سمعت أبا سيف الزاهد يقول : ما أحب أن يلي حسابنا غير الله عز و جل لأن الكريم يتجاوز

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ میں نے سنا ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ سعد بن ابراہیم عبدوی سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن ابی طالب سے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا اسحاق بن ابراہیم بن مخلد حنظلی سے ، وہ کہتے تھے میں نے سنا اپنے والد سے ، وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو سفیان زاہد سے: وہ کہتے تھے میں یہ پسند نہیں کروں گا ہمارے حساب کی ذمہ داری غیر اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لئے کہ کریم ذات ہی در گذر کرے گی۔

أَبَا سَيْفٍ الزَّاهِدَ ← أَبِي ← إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْلَدٍ الْحَنْظَلِيَّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدَوِيَّ ← أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 260

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 261

261 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا حدثني الحسين بن عمرو عن يحيى بن يمان قال : قال سفيان الثوري : ما أحب أن حسابي جعل إلى والدي ربي خير لي من والدي قال البيهقي رحمه الله و قد روي معناه في حديث مسند لكنه يشبه أن يكون موضوعا فلم أجسر على نقله ثم إني نقلته لشهرته بين المذكرين و أنا ابرأ من عهده

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے کہ ہمیں خبر دی حسین بن صفوان نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بتائی ہے، اس نے کہا مجھے حدیث بتائی ہے حسین بن عمرو نے یحیی بن ہمان سے، انہوں نے کہا سفیان ثوری نے کہا : میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ میرا حساب میرے والد کے سپرد ہو، اس لئے کہ میرا رب میرے لئے میرے والد سے بہتر ہے۔ امام بیہقی کا قول : امام بیہقی فرماتے ہیں: مذکورہ مفہوم ایک مسند حدیث میں مروی ہے ۔ لیکن قوی خیال ہے کہ وہ موضوع روایت ہے۔ میں نے اس کے نقل کرنے کی جسارت نہیں کی تھی۔ پھر میں نے اسے مذکورہ حضرات کے ہاں شہرت کی بنا ء پر نقل کیا ہے۔ میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔

سفيان الثوري ما أحب ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← الحسين بن عمرو ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 261

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 262

262 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ حدثنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الزهري ثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا عبيد الله بن محمد التيمي ثنا أبي عن عمه عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال أعرابي يا رسول الله من يحاسب الخلق يوم القيامة ؟ قال : الله قال : الله ؟ قال : الله قال نجونا و رب الكعبة ! قال : و كيف يا أعرابي ؟ قال : لأن الكريم إذا قدر عفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے "التاریخ"میں کہ ہمیں بات بیان کی ہے ابو محمد حسن بن محمد بن اسحٰق کے زھری نے، اس نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے محمد ذکریا غلابی نے، اس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد عیمی نے، انہوں نے کہا ہمیں بات بتائی ہے میرے والد نے اپنے چچا سے ، انہوں نے ربیعہ بن ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ انہوں نے کہا کہ ایک اعرابی نے کہا یا رسول اللہ مخلوق کا حساب کون لے گا قیامت کے دن؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے خوب جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ حساب لے گا ۔ اعرابی نے سوال کیا واقعی اللہ تعالیٰ حساب لے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا ،ہاں اللہ تعالیٰ حساب لے گا۔ تو اعرابی نے کہا، رب کعبہ کی قسم پھر ہم نجات پا جائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا ، اعرابی سے وہ کیسے؟ اعرابی نے جواب دیا، اس لئے کریم جب قادر ہے تو وہ معاف کردے گا۔

أَعْرَابِيٌّ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← عَمِّہٖ ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، ← محمد بن زكريا الغلابي ← أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الزهري ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 262

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 263

263 - أخبرنا أبو الحسن بن علي بن محمد المقرئ الإسفرايني بها ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق : فذكره بإسناده نحوه تفرد به محمد بن زكريا الغلابي عن عبيد الله بن محمد بن عائشة و الغلابي متروك و قد أخبر الله عز و جل ثناؤه أن المحاسبة تكون بشهادة النبيين و الشهداء و قال تعالى : { وجيء بالنبيين والشهداء وقضي بينهم بالحق وهم لا يظلمون } و قال : { فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا } فالشهيد في هذه الآية النبي صلى الله عليه و سلم و شهيد كل أمة نبيها و أما الشهداء في الآية قبلها فالأظهر أنهم كتبة الأعمال تحضر الأمة و رسولها فيقال للقوم ماذا أجبتم المرسلين ؟ و يقال للرسل ماذا أجبتم ؟ فقال الرسل لله : { لا علم لنا إنك أنت علام الغيوب } و كأنهم نسوا ما أجيبوا به و تأخذ الهيبة بمجامع قلوبهم فيذهلون في تلك الساعة عن الجواب ثم يثبتهم الله و يحدث لهم ذكرى فيشهدون بما أجابتهم به أممهم قال البيهقي رحمه الله فإن كذبت أمة رسولها و قالت ما أتانا من نذير

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن علی بن علی بن محمد مقری اسفرائنی نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے، پھر اس نے اپنی اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل بات ذکر کی ہے۔ اس میں محمد بن زکریا غلابی کا تفرد ہے۔ عبید اللہ بن محمد بن عائشہ سے اور غلابی خود بھی متروک الحدیث ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ محاسبہ انبیاء اور شہداء کی شہادت کے ساتھ ہو گا۔ ارشاد فرمایا: 1۔۔۔ وجئ بالبیین والشھداء وقضی بینھم بالحق وھم لا یظلمون " (الزمر 69) انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا اور لوگوں کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا ۔ ان پر ظلم نہیں ہو گا۔ قیامت میں رسولوں اور امتیوں سے ایک دوسرے کی بابت سوال ہونا ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: 2۔۔۔ فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجعنا بک علی ھؤلاء شھیدا (النساء41) اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ کو ان پر بطور گواہ لائیں گے۔ اس دوسری آیت میں لفظ شہید یعنی گواہ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس لئے کہ ہر امت کا گواہ اس امت کا اپنا نبی ہو گا اور پہلی آیت میں شہداء یعنی گواہوں سے مراد ظاہر یہی ہے کہ اعمال کے لکھنے والے فرشتے و کاتب مراد ہیں۔ ہر امت اور اس کا رسول حاضر کیا جائے گا اور قوم سے سوال کیا جائے گا کہ : ماذا احبتم المرسلین؟ تم لوگوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟ اور رسولوں سے پوچھا جائے گا کہ : "ماذا اجبتم؟ تمہیں امتیوں سے کیا جواب ملا تھا۔ اللہ کے رسول جواب دیں گے: "لاعلم لنا انک انت علام الغیوب "(مائدہ 109) ہمیں کوئی علم نہیں، بے شک تو ہی غیب کو جاننے والا ہے۔ (اس آیت کا مطلب ہے کہ ) گویا کہ انبیاء و رسول بھول چکے ہوں گے کہ لوگوں نے ان کو کیا کیا جواب دئیے تھے اور ان کے دلوں کی گہرائیوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت بیٹھ چکی ہو گی۔ لہذا اسی ساعت میں وہ جواب بھول جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کو مضبوط اور ثابت قدم بنائیں گے اور ان کے لئے یادداشت بیان فرمائیں گے، لہذا پھر وہ اس بات کی شہادت دیں گے جو ان کی امتوں نے ان کو جواب دئیے تھے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں: بے شک بعض امت اپنے رسول کو جھٹلا دے گی اور کہے گی ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 263

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 264

264 - فقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يدعى نوح عليه السلام يوم القيامة فيقال : هل بلغت فيقول نعم ! فتدعى أمته فيقال : هل بلغكم ؟ فيقولون ما أتانا من نذير و ما أتانا من أحد قال : فيقال : من شهودك ؟ قال : فيقول : محمد و أمته قال فيؤتى بكم فتشهدون أنه قد بلع و ذلكم قول الله عز و جل : { وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا } رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن منصور عن جعفر بن عون و بمعناه رواه أبو أسامة عن الأعمش و رواه أبو معاوية عن الأعمش فقال في الحديث : يجيء النبي يوم القيامة و معه الثلاثة و الأربعة و الرجلان حتى يجيء النبي و ليس معه أحد قال : فيقال لهم : هل بلغتم ؟ فيقولون : نعم قال : فيدعي قومهم فيقال لهم : هل بلغوكم ؟ فيقولون : لا قال فيقال : للنبيين : من يشهد لكم أنكم قد بلغتم ؟ قال : فيقولون أمة محمد صلى الله عليه و سلم قال : فتدعى أمة محمد فيشهدون أنهم قد بلغوا قال : فيقال : و ما علمكم بهم أنهم قد بلغوا ؟ قال : فيقولون : جاءنا رسولنا بكتاب أخبرنا أنهم قد بلغوا فصدقناه قال : فيقال : صدقتم قال : و ذلك قول الله عز و جل في كتابه : { وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے محمد بن عبدالوھاب فرّا ء نے ، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے جعفر بن عون نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ حضرت نوح علیہ السلام قیامت کے دن بلائے جائیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ نے اللہ کا پیغام لوگوں کے پاس پہنچا دیا تھا۔ وہ عرض کریں گے ، جی ہاں، میں نے پہنچا دیا تھا۔ لہذا آپ کی امت کو طلب کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا نوح علیہ السلام نے تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس نہ ہی کوئی ڈرانے والا ایا تھا اور نہ ہی کوئی ہمارے پاس آیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام سے سوال ہو گا کہ آپ کے گواہ کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نوح علیہ السلام جواب دیں گے کہ میرے گواہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ان کی امت ہے۔ پھر (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ) کہ تم لوگوں کو (اے امت محمدیہ) لایا جائےگا اور تم لوگ یہ گواہی دو گے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچایا تھا ، یہی بات مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے اندر: "وکذالک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونو ا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیداً (البقرۃ 183) اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا ہے تاآنکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تمہارے اوپر گواہ ہو جائے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اسحاق بن منصور سے، جعفر بن عون سے۔ اور اسی مفہوم کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے ابو اسامہ نے اعمش سے اور روایت کیا ہے اس کو ابو معاویہ نے اعمش سے۔ انہوں نے حدیث میں فرمایا: کوئی نبی قیامت کے دن ایسا بھی آئے گا کہ اس کے ساتھ صرف تین امتی ہوں گے اور بعض کے ساتھ چار امتی ہوں گے۔ بعض کے ساتھ صرف دو امتی ہوں گے۔ یہاں تک کہ کوئی نبی ایسا بھی آئے گا جس کے ساتھ ایک بھی امتی نہیں ہو گا۔ ان نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ لوگوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہیں گے ، جی ہاں، ہم نے پیغام پہنچایا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا ، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا ان نبیوں نے تمہیں اللہ کا پیغام دیا تھا۔ وہ منع کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر نبیوں سے پوچھا جائے گا کون تمہارے بارے میں گواہی دیتا ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ نبی جواب دیں گے کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہی دے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلائی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امتی گواہی دین ے کہ ان نبیوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا ( اس لئے کہ یہ امت قرآن مجید میں تمام نبیوں کے تبلیغ کرنے وضاحت پڑھ چکے تھے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس امت کے لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں اس بات کا کیسے علم ہے کہ نبیوں نے اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ لہذا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتاب لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہمیں یہ خبر دی تھی کہ نبیوں نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں کو دیا تھا۔ لہذا ہم نے اس کی تصدیق کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے سچ کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی بات اللہ کی کتاب میں اس آیت میں ہے: "وکذالک جعلنا کم امۃ وسلطا لتکونو ا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقر ہ 143) اسی طرح ہم نے تمہیں امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر آخر الزمان تم پر گواہ بنیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← فَقَدْ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 264

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 265

265 - أخبرناه محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية : فذكره فهذا فيما بين كل نبي و قومه فأما كل واحد من القوم على الانفراد فالشاهد على صحيفة عمله و كاتباها فإنه قد أخبر في الدنيا بأن عليه ملكين موكلين يحفظان أعماله و ينسخانها فأما إخبار الله عز و جل عن شهادة الجوارح على أهلها بقوله تعالى : { يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون } و قوله : { وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم ولكن ظننتم أن الله لا يعلم كثيرا مما تعملون } { وقالوا لجلودهم لم شهدتم علينا قالوا أنطقنا الله الذي أنطق كل شيء } { اليوم نختم على أفواههم وتكلمنا أيديهم وتشهد أرجلهم بما كانوا يكسبون } و روينا في الحديث الثابت عن أنس بن مالك قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فضحك فقال : أتدرون مم أضحك ؟ قال قلنا الله و رسوله أعلم قال : ما مخاطبة العبد ربه يقول : يا رب ألم تجرني من الظلم ؟ قال فيقول بلى قال فيقول فإني لا أجيز على نفسي إلا شاهد مني قال فيقول : كفى بنفسك اليوم عليك شهيدا و بالكرام الكاتبين شهودا قال فيختم على فيه و يقال لأركانه : انطقي قال : فتنطق بأعماله قال : ثم يخلى بينه و بين الكلام فيقول بعدا لكن و سحقا ! فعنكن كنت أناضل

ہمیں اس کی خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ابو العباس محمد بن یعقوب نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے احم بن عبدالجبار نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے، پھر اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ اعمال کے صحیفے اور فرشتے گواہ ہوں گے۔ یہ تو وہ تفصیل تھی جو نبیوں اور ان کی امتوں کے مابین سوال و جواب اور شہادت اور گواہوں کے بارے میں تھے ۔ باقی رہا ہر قوم کا انفرادی طور پر معاملہ تو ہر امت اور ہر قوم پر انفرادی طور پر گواہ ان کے اعمال کا صحیفہ ہو گا اور اس کے کاتب فرشتے یعنی اعمال لکھنے والے گواہ ہوں گے۔ اس لئے کہ ہر شخص کو دنیا میں یہ بتا دیا گیا تھا کہ اس پر دو فرشتے مقرر ہیں۔ جو اس اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو لکھ لیتے ہیں۔ (لہذا وہ فرشتے گواہی دیں گے اور ان کی وہ تحریر اور اعمال نامے کے صحیفے شہادت دیں گے) ۔ اس کے علاوہ انسانی اعضاء و جوارح بھی اپنے خلاف گواہی دیں گے۔ اپنے اعضاء کے انسان کے خلاف شہادت دینے کی خبر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ انسان کے خلاف اس کے اپنے اعضاء گواہی دیں گے۔ ارشاد ہوا: 1۔۔ یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم بما کانو ا یعملون (النور 24) (قیامت کا دن وہ ہو گا) جس دن (لوگوں کے خلاف) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر گواہی دیں گے۔ جو کچھ وہ عمل کر رہے تھے۔ نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: 2۔۔ وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلو دکم ولکن ظننتم ان اللہ لا یعلم کثیرا مما تعملون (فصلت 22) اور تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہارے آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے، بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ اللہ کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر نہیں ہے۔ 3۔۔ وقالو الجلودھم لم شھدتم علینا قالو ق انطقنا اللہ الذی انطلق کل شئی (فصلت 21) وہ اپنے چمڑوں (یعنی اپنے اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی ہے؟ وہ کہیں گے کہ جس اللہ نے سب چیزوں کو گویا ئی بخشی ہے ، اسی نے ہم کو بھی گویائی دی (اور گواہی دینے کا حکم دیا)۔ 4۔۔۔ الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانو یکسبون (یٰس 65) آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگاکر بند کر دیں گے اور ہم ان کے ہاتھوں کو بلوائیں گے اور ان کے پیر گواہی دیں گے اس کی جو کچھ وہ عمل کرتے تھے۔ ہم نے حضرت ثابت ک روایت میں حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ ہنس پڑے ۔ پھر خود فرمایا ، تمہیں معلوم ہے کہ میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا کہ بندے کے اپنے رب سے مخاطب ہونے سے، بندہ کہے گا کہ اے میرے رب کیا آپ مجھے ظلم سے پناہ دیں گے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جی ہاں ضرور۔ بند ہ کہے گا میں اپنے نفس پر بخششیں نہیں کرتا مگر گواہ کے ساتھ جو مجھ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: " کفی بنفسک الیوم علیک شھیدا وبالکرام االکاتبین شھوداً " تو آج اپنا آپ ہی کافی ہے گواہ اور کراما ً کاتبین فرشتے گواہ ہیں۔ پھر اس کے مکنہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا کہ تم بولو ، سو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بولیں گے۔ پھر بندے اور کلام کے مابین تخلیہ کر دیا جائے گا۔ پھر بندہ کہے گا دوری ہو، دوری ہو، میں تمہارا ہی تو دفاع کرتا تھا۔

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 265

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 266

266 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني حدثني أبو بكر بن أبي النضر ثنا أبو النضر عن الأشجعي عن سفيان عن عبيد المكتب عن فضيل بن عمرو عن الشعبي عن أنس بن مالك : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي النضر و روينا في حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم حديث الرؤية قال : فيلقى العبد فيقول أي فل ألم أكرمك و أسودك و أزوجك و أسخر لك الخيل و الإبل و أدرك ترأس و تربع ؟ قال فيقول : بلى أي رب قال فيقول أظننت إنك ملاقي ؟ فيقول : لا فيقول إني اليوم أنساك كما نسيتني ثم يلقى الثاني فيقول : أي فل ! فذكر في السؤال و الجواب مثل الأول ثم يلقى الثالث فيقول مثل ذلك فيقول : آمنت بك و بكتابك و برسولك و صليت و صمت و تصدقت فيقال : الآن نبعث شاهدنا عليك فيكفر في نفسه من الذي يشهد عليه فيختم على فيه و يقال لفخذه انطقي ! فتنطق فخذه و لحمه و عظمه بعمله ما كان ذلك ليعذر من نفسه و ذلك المنافق و ذلك الذي سخط الله عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحٰق صنعانی نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن ابو نضر نے اشجعی سے، انہوں نے سفیان سے ، انہوں نے عبید بن مکتب سے، انہوں نے فضیل بن عمرو سے ، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے انس بن مالک سے ، پھر اس نے مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ امام مسلم نے اس کو صحیح مسلم میں ابو بکر بن نضر سے روایت کیا ہے۔ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث رؤیت میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بندے سے ملیں گے اور فرمائیں گے کہ اے فلاں بن فلاں، کیا میں نے تجھے عزت نہیں بخشی؟ اور تجھے سرداری دی، تجھے جوڑا بنایا، تیرے اونٹ اور گھوڑے تابع فرماں کر دیئے، جن کی گردن جھکا کر تم ان پر سوار ہوتے ہو اور اس سے اپنی حفاظت کا سامان کرتے ہو۔ بندہ جواب دے گا ، جی ہاں یا رب۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرا کیا یہ یقین تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرے گا؟ بندہ عرض کرے گا کہ نہیں۔ میرا یہ خیال نہیں تھا۔ لہذا اللہ تعالی فرمائیں گے کہ آج میں تجھے اس طرح بھلا دیتا ہوں جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر دوسرے بندے سے ملیں گے، اس سے بھی پہلے جیسے سوال و جواب کریں گے۔ وہ بھی اسی طرح جواب دے گا۔ پھر تیسرےشخص سے ملاقات کریں گے اور اس کے ساتھ بھی پہلے دو کی طرح سوال و جواب کریں گے ، مگر وہ جواب میں یہ کہے گا کہ اے اللہ میں تیرے ساتھ ایمان لایا اور تیری کتاب کے ساتھ اور تیرے رسول کے ساتھ اور میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے ، صدقے کئے۔ اس سے کہا جائے گا کہ اب ہم تیرے اوپر اپنا گواہ اٹھائیں گے۔ وہ انسا ن دل ہی دل میں سوچے گا کہ کون میرے اوپر کوئی شہادت دے گا۔ پھر اس کے منہ پر مہر کر دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا تو بول۔ لہذا اس کی ران بولے گی اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈی اس کے عمل کے بارے میں کہ اس نے کیا کیا۔ یہ اس لئے کہ وہ اپنے نفس سے مجبو ر ہو جائے اور یہ وہی منافق ہو گا اور یہ وہی شخص ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا۔

أبي بكر بن أبي النضر و روينا في حديث أبي هريرة ← أنس بن مالك فذكره رواه مسلم في الصحيح ← الشَّعْبِيِّ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 266

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 267

267 - أخبرناه محمد بن عبد الله ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم بهذا الحديث و هو مخرج في كتاب مسلم و فيه دلالة على أن بغضهم تشهد عليهم ألسنتهم و بعضهم ينكر فيختم على أفواهم و تشهد عليهم سائر جوارحهم و يشبه أن يكون هذا الإنكار من المنافقين كما في خبر أبي هريرة و يشبه أن يكون منهم و ممن شاء الله و من سائر الكافر حين رأوا يوم القيامة فيغفر الله لأهل الإخلاص ذنوبهم لا يتعاظم عليه ذنب أن يغفره و لا يغفر الشرك قالوا : إن ربنا يغفر الذنوب و لا يغفر الشرك فتعالوا حتى نقول إنا كنا أهل ذنوب و لم نكن مشركين فقال الله عز و جل أما إذ كتموا الشرك فاختموا على أفواههم فيختم على أفواههم فتنطق أيديهم و تشهد أرجلهم ما كانوا يكسبون فعند ذلك عرف المشركون أن الله لا يكتم حديثا فذلك قوله : { يومئذ يود الذين كفروا وعصوا الرسول لو تسوى بهم الأرض ولا يكتمون الله حديثا } و هذا فيما روينا عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أنه سئل عن ذلك فذكره و قد قال الله عز و جل في سورة زلزلت : { يومئذ تحدث أخبارها } و روينا عن أبي هريرة مرفوعا أنه سئل عمن البيهقي الآية فقال أن تشهد على كل عبد و أمة بما عملوا على ظهرها فتقول : عما كذا و كذا في يوم كذا و كذا فذلك أخبارها و دلت الأخبار عن سيدنا المصطفى صلى الله عليه و سلم على أن كثيرا من المؤمنين يدخلون الجنة بغير حساب و كثيرا منهم يحاسبون حسابا يسيرا و كثيرا منهم يحاسبون حسابا شديدا

ہمیں اس کی خبر دی ہے محمد بن عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے بشر بن موسیٰ نے ، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سہیل بن ابی صالح نے اپنے باپ سے ، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہی مذکورہ حدیث۔ اور یہی حدیث مسلم میں بھی ہے۔ اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ قیامت میں بعض لوگوں کے خلاف ان کی زبانیں شہادت دیں گی (اور بعض لوگ اپنے غلط اعمال سے) انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر کر دی جائے گی اور ان کے خلاف ان کے اعضاء و جوارح گواہی دیں گے۔ عین ممکن ہے کہ یہ انکار منافقین کی طرف سے ہو اور جیسے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ منافقوں کی طرف ہو اور تمام کافروں کی طرف ہو جن کی بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ کہ جب وہ دیکھیں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل اخلاص کے گناہوں کو معاف فر ما رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی گناہ بڑا نہیں ہے جس کی وہ نہ بخشیں ، سوائے شرک کے تو یہ لوگ آپس میں کہیں گے کہ ہمارا رب گناہوں کو معاف فرما رہا ہے۔ لیکن شرک معاف نہیں کر رہا ، لہذا سب آ جاؤ ہم مل کر کہیں گے کہ ہم لوگ گناہگار تھے، لیکن مشرک نہیں تھے۔ جب وہ شرک کو چھپائیں گے تو اللہ تعالیٰ حکم دیں گے ہ ان کے منہ پر مہر کر دو، لہذا ان کے منہ سیل بمہر کر دئیے جائیں گے ۔ پھر ان کے ہاتھ بولیں گے اورا ن کے پیر شہادت دیں گے کہ وہ شرک کرتے تھے اور فلاں فلاں عمل کرتے تھے۔اب مشرکین سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپ نہیں سکتی ، یہی ارشاد باری تعالیٰ ہے اس آیت میں: "یومئذ رودالذین کفرو اوعصوالرسول لوتسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا" (النساء 42) قیامت کے دن کافر اور رسول کے نافرمان چاہیں گے کہ کاش کہ ان پر زمین برابر کر دی جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے۔ اور یہی مفہوم ہے اس حدیث کا جسے ہم نے روایت کیا ہے سعید بن حبیب سے ابن عباس سے کہ وہ اس بارے می سوال کئے گئے تھے تو انہوں نے یہی ذکر فرمایا: ۔ گناہگاروں کے گناہ کے بارے میں زمین گواہی دے گی: اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ زلزلت میں ارشاد فرمایا کہ : "یومئذ تحدث اخبارھا" (زلزلۃ 4) قیامت کے دن زمین اپنی خبریں بیان کر دے گی۔ ہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کر چکے ہیں کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر مرد اور عورت کے بارے میں زمین اس عمل کی شہادت دے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا تھا ، لہذا وہ اس طرح کہے گی کہ اس انسان نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھا۔ یہی ہیں اس کی خبریں جن کے بیان کی خبر قرآن نے دی ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت سی احادیث ایسی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اہل ایمان کی کثیر تعداد جنت میں بغیر حساب کتاب کے داخل ہوں گے اور کثیر تعداد بڑا آسان حساب لئے جائیں گے اور کثیر تعداد سخت حساب لئے جائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 267

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 268

268 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا عبد الله بن محمد بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل ثنا حصين قال سمعت سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب ثم دخل و لم يبين لهم فأفاض القوم فقالوا نحن الذين آمنا بالله و اتبعنا رسوله فنحن هم أو أولادنا الذين ولدوا على الإسلام فإنا نحن ولدنا في الجاهلية فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : هم الذين لا يكتوون و لا يسترقون و لا يتطيرون و على ربهم يوكلون فقال عكاشة بن محصن : أنا منهم يا رسول الله ؟ قال نعم ثم قال رجل آخر أنا منهم يا رسول الله ؟ قال : قد سبقك بها عكاشة رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و رواه البخاري عن عمران بن ميسرة عن ابن الفضيل و رويناه في حديث عمرو بن حزم عن النبي صلى الله عليه و سلم : إنه تغيب عنهم ثلاثا لا يخرج إلا لصلاة مكتوبة فقيل له في ذلك قال : إن ربي عز و جل وعدني أن يدخل من أمتي الجنة سبعون ألفا لا حساب عليهم و إني سألت ربي في هذه الثلاثة الأيام المزيد فوجدت ربي واجدا ماجدا كريما فأعطاني مع كل واحد من السبعين ألفا سبعين ألفا قال : قلت يا رب و تبلغ أمتي هذا ؟ قال أكمل لك العدد من الأعراب و قد ذكرناه في كتاب البعث و النشور

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو جعفر بن علی بن دحیم شیبانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن حازم بن ابی غزہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن فضیل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حصین نے کہ میں نے سنا تھا سعید بن جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے،انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا تھا: کہ میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ گھر میں چلے گئے اور ان کے بارے میں کوئی وضاحت نہ فرمائی۔ لوگوں نے اپنی اپنی قیاس آرائیاں کیں اور بولے کہ ہم لوگ اللہ پر ایما ن لائے ہیں، ہم نے اللہ کے رسول کی اتباع کی ہے، وہ لوگ ہم میں ہوں گے یاہماری وہ اولادیں ہوں گی جو اسلام میں پیدا ہوئیں ، ہم تو جاہلیت کے دورمیں پیدا ہوئے تھے۔ یہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے کبھی داغ نہیں دلوائیں ہوں گے۔ جنہوں نے کبھی جادو منتر نہیں کروائے ہوں گے جنہوں نے کبھی بد شگونی اور بد فالی نہیں پکڑی ہو گی بلکہ محض اپنے رب پر توکل کئے ہوں گے۔ (یہ سن کر) حضرت عکاشہ بن محصن نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں ان میں سے ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، جی ہاں تو ان میں سے ہو گا۔ پھر ایک اور آدمی نے کہا ،کیا میں بھی ان میں سے ہوں گا یا رسول اللہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم سے اس اعزاز کے ساتھ سبقت لے گئے ہیں۔ مسلم نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں ابو بکر بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے۔ اور بخاری نے اس حدیث کو عمران بن میسرہ سے ،انہوں نے ابن الفضیل سے روایت کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے ستر ہزار میں سے ہر ایک فرد کے ساتھ ستر ہزار کا داخلہ اور ہم نے اس حدیث کو عمرو بن حزم سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے تین دن تک نظروں سے اوجھل رہے۔ صرف نماز کے لئے باہر آتے تھے، آپ اس سے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ر ب نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کریں گے ۔ میں نے گزشتہ تین روز می مزید لوگوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخلہ کی التجا کی ہے تو میں اپنے رب کو، پالنے والا ، مجدد بزرگی والا اور کرم کرنے والا پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ستر ہزرا میں سے ہر ایک بندے کے ساتھ ستر ستر ہزار کی تعداد جنت میں بغیر حساب کے داخلہ کے لئے دئیے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عرض کی اے رب میری امت اتنی بڑی تعداد کو پہنچ جائے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیرے لئے یہ تعداد اہل دیہات سے مکمل کروں گا۔ ہم نے اس روایت کو کتاب البعث والنشور میں بھی در ج کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حُصَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 268

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood