Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2424

2424 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا منصور ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا مروان بن معاوية أنا وقاء بن إياس الأسدي عن سعيد بن جبير : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه من قرأ البقرة و آل عمران و النساء كتب عند الله من الحكماء و رواه يزيد بن هارون عن وقاء و قال : كتب من القانتين

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو منصوور نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو ورقاء بن ایاس اسدی نے ان کو سعید بن جبیر نے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص سورۃ بقرہ ، آل عمران ، نساء کو پڑھ لے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ حکما میں لکھ دیا جاتا ہے ۔ ( اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ پڑھنا صرف الفاظ کو رٹنے کا نام نہیں بلکہ معنی مفہوم مطلب سمجھ کر پڑھنے کا نام ہے ورنہ خالی الفاظ پڑھنے سے کیسے حکیم و دانا کہلانے کا حقدار ہو سکتا ہے جو سرے سے مطلب ہی نہ جانتا ہو۔ فاعتبر وایااولی الابصار۔ مترجم) اس کو روایت کیا ہے یزید بن ہارون نے وقار سے اور کہا ہے کہ وہ شخص قانتین اور فرمانبردار میں لکھ دیا جاتا ہے ۔

مِنْ الْقَانِتِينَ ← وقاء و ← عند الله من الحكماء و رواه يزيد بن هارون ← عمر بن الخطاب من قرأ البقرة و آل عمران و النساء ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← وَقَاءَ بْنِ إيَاسٍ الأَسَدِيِّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2424

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2425

2425 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو البختري عبد الله بن محمد بن شاكر ثنا أبو عبد الله محمد بن بشر العبدي ثنا مسعر بن كدام عن معن بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه عن عبد الله بن مسعود قال : إن في سورة النساء لخمس آيات ما يسرني أن لي بها الدنيا و ما فيها : { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها و يؤت من لدنه أجرا عظيما } و { إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه } الآية و { إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء } { إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما } قال عبد الله ما يسرني أن لي بها الدنيا و ما فيها و ما أظن الخامسة { و من يعمل سوءا أو يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوالبختری عبداللہ بن محمد بن شاکر نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن بشر عبدی نے ان کو مسعر بن کدام نے ان کو معن بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے والد سے عبداللہ بن مسعود نے فرمایا بے شک سورۃ نساء میں پانچ آیات ہیں مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ ان کے بدلے میں میرے لیے پوری دنیا مل جائے اور جو کچھ دنیا میں ہے سارا مل جائے وہ آیات یہ ہیں۔ (1) ان اللہ لا یظلم مثقال زرۃ وان تک حسنۃ عفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما۔ (2) ان تجتنبوا کبائر ماتتھون عنہ۔ (3) ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء ۔(4) ولو انھم اذظلموا انفسھم جاء وک فاستغفرو اللہ واستغفر لھم الرسول لو جدوا اللہ توابا رحیما۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا ۔ مجھے پسند نہیں ہے کہ میرے لیے ان آیات کے بدلے میں دنیا و مافیہا ہو میرا گمان یہ ہے کہ پانچویں آیت یہ تھیں۔ (5) ومن یعمل سوء او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← أبو عبد الله محمد بن بشر العبدي ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2425

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2426

2426 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن مسعر : فذكره بإسناده قال : و قال عبد الله : أن في النساء لخمس آيات ما يسرني بهن الدنيا و ما فيها لقد علمت أن العلماء إذ ارموا بها يعرفونها ثم ذكر الآيات و قال في آخره : { و من يعمل سوءا أو يظلم نفسه } الآية

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو سفیان نے ان کو مسعر نے پھر مذکور کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ اس نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا بے شک سورۃ نساء میں پانچ آیات ہیں مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ مجھے ان کے بدلے میں دنیا مافیہا مل جائے ۔ میں جانتا ہوں کہ علماء جب ان آیات پر گزریں گے تو ان کو پہچان لیں گے اس کے بعد انہوں نے ان آیات کو ذکر کر دیا اور ان کے آخر میں یہ کہا کہ : " ومن یعمل سوء اویظلم نفسہ الخ"

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2426

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2427

2427 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو تراب أحمد بن محمد المذكر بالنوقان ثنا تميم بن محمد بن أسلم الزاهد ثنا مؤمل بن إسماعيل ثنا سليمان بن المغيرة ثنا ثابت عن أنس قال : وجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة شيئا فلما أصبح قيل : يا رسول الله إن أثر الوجع عليك لبين قال : أما أني على ما ترون بحمد الله قد قرأت بحمد الله السبع الطول

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو تراب احمد بن محمد واعظ نے نوقان میں ان کو ثمیم بن محمد اسلم زاہد نے ان کو مومل بن اسماعیل نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں ۔ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بیمار ہو گئے جب صبح ہوئی تو آپ سے کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تکلیف کا اثر آپ کے اوپر واضح ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا خبردار میں اس حالت پر ہوں جو تم دیکھ رہے ہو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اس حال میں بھی سبع طوال پڑھی ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْلَمَ الزَّاهِدُ، ← أَبُو تُرَابٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُذَكِّرُ بِالنَّوْقَانِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2427

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2428

2428 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن مجاهد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : علموا رجالكم سورة المائدة علموا نساءكم سورة النور

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عتاب بن بشیر نے ان کوخصیف نے ان کو مجاہدنے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے مردوں کو سورۃ مائدہ کی تعلیم دو اور اپنی عورتوں کو سورۃ نورکی ۔"علموارجالکم سورۃ المائدہ وعلموانساء کم سورۃ النور۔

مُجَاهِدٍ ← خُصَيْفٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2428

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2429

2429 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا ثنا يحيى بن منصور ثنا أبو المثنى ثنا محمد بن أبي بكر ثنا صالح بن سهيل ثنا عاصم الأحول حدثتنا أم عمرو عن عمها : أنه كان مع النبي صلى الله عليه و سلم في سير فأنزلت عليه سورة المائدة فاندق عنق الراحلة من ثقلها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اور ابو نصر بن قتادہ نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن منصور نے ان کو ابو المثنی نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو صالح بن سہیل نے ان کو عاصم احول نے ان کو ام عمرو نے انہوں نے اپنے چچا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کسی سفر میں لہذا ان پر سورۃ مائدہ نازل ہوئی تو اس کے بوجھ سے سواری کی گردن ٹوٹ گئی (مراد ہے ٹوٹی جا رہی تھی یعنی سواری بمشکل برداشت کر رہی تھی) (مترجم )

عاصم الأحول حدثتنا أم عمرو ← صالح بن سهيل، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2429

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر السبع الطوال · حديث 2430

2430 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو القاسم علي بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق البيهقي ثنا أحمد بن منيع ثنا إسحاق بن يوسف عن سفيان عن ليث عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : نزلت سورة المائدة على النبي صلى الله عليه و سلم حتى إن كادت أو كادت من ثقلها لتكسر عظام الناقة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو القاسم علی بن مومل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحاق بیہقی نے ان کو احمد بن منیع نے ان کو اسحاق بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو لیث نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو اسماء بنت یزید نے فرماتی ہیں سورۃ مائدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی حتیٰ کہ قریب تھی کہ اس کے بوجھ سے البتہ ٹوٹ جاتیں ہڈیاں اونٹنی کی۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أبو العباس محمد بن إسحاق البيهقي ← أبو القاسم علي بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the seven sleepless · Hadith 2430

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأنعام · حديث 2431

2431 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب و أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل قالا ثنا محمد بن عبد الوهاب العبدي أخبرنا جعفر بن عون ثنا إسماعيل بن عبد الرحمن ثنا محمد بن المنكدر عن جابر قال : لما نزلت سورة الأنعام سبح رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : لقد شيع هذه السورة من الملائكة ما سد الأفق

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے اور ابو الفضل حسن بن یعقوب عدل نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اسماعیل بن عبدالرحمٰن نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر رضی اللہ عنہ نے کہ جب سورۃ انعام نازل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبحان اللہ کہا اس کے بعد فرمایا اس سورۃ نے اس قدر تعداد میں فرشتوں کو ساتھ لیا ہے جنہوں نے آسمان کا بالائی کنارا اور افق بھر دیا ہے ۔(یعنی اس کلام مقدس کی عظمت و تقدس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اتنی کثیر تعداد کے جھرمٹ میں اسے نازل کیا ہے جو اس کی ذات رسالت تک پہنچانے کے لیے خصوصی طور پر استقبال بھیجے گئے تھے ۔ سبحان اللہ ۔ (مترجم)

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب و أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-An'am · Hadith 2431

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأنعام · حديث 2432

2432 - أخبرنا أبو محمد بن المؤمل ثنا أبو عثمان البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب ثنا جعفر بن عون أنا موسى بن عبيدة عن محمد بن المنكدر قال : لما نزلت سورة الأنعام سبح النبي صلى الله عليه و سلم و قال : لقد شيع هذه السورة من الملائكة ما سد أفق السماء

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن مومل نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو محمد بن منکدر نے فرمایا جب سورۃ انعام نازل ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ کی تسبیح بیان کی اور فرمایا یہ سورۃ فرشتوں کی اتنی بڑی تعداد ساتھ لائی ہے جس سے آسمان کا افق بھر گیا ہے ۔

لقد شيع هذه السورة من الملائكة ما سد أفق السماء ← لما نزلت سورة الأنعام سبح النبي صلى الله عليه و سلم و ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← موسى بن عبيدة ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أبو محمد بن المؤمل،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-An'am · Hadith 2432

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأنعام · حديث 2433

2433 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا أبو بكر السالمي ثنا ابن أبي فديك عن عمر بن طلحة عن نافع بن مالك أبي سهيل عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نزلت سورة الأنعام و معها موكب من الملائكة سد ما بين الخافقين لهم زجل بالتسبيح و الأرض بهم ترتج و رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سبحان الله العظيم سبحان الله العظيم ثلاث مرات

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے اور ابو بکر اھمد بن حسن قاضی نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے انکو ابو بکر سالمی نے ان کو ابن ابی فدیک نے ان کو عمرو بن طلحہ نے ان کو نافع بن مالک ابی سہیل نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ انعام نازل ہوئی تو اس کے ساتھ فرشتوں کی اتنی بڑی جماعت تھی جس نے مشرق سے مغرب تک کہ خلا کے کنارے کو بھر دیا تھا۔ ان کی تسبیح کا شور اٹھا ہوا تھا اور زمین ان کے ساتھ ہل رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ العظیم ۔ سبحان اللہ العظیم ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← نافع بن مالك أبي سهيل ← عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أبو بكر السالمي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-An'am · Hadith 2433

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأنعام · حديث 2434

2434 - و أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا إبراهيم بن درستويه الفارسي ثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن سالم : فذكره بإسناده نحوه

اور ہمیں خبر دی ہے ابو منصور اھمد بن علی دامغانی نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابراہیم بن درستویہ فارسی نے ان کو ابوبکر احمد بن محمد بن سالم نے پھر اس کو ذکر کیا اپنی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔

أبو بكر أحمد بن محمد بن سالم فذكره بإسناده نحوه ← إبراهيم بن درستويه الفارسي ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-An'am · Hadith 2434

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأنعام · حديث 2435

2435 - أخبرنا أبو حامد أحمد بن علي بن أحمد المقري الخسروجردي ثنا أبو بكر محمد بن إسماعيل الوراق ببغداد املاء حدثني أبو علي الحسن بن أحمد بن الحسن الصيدلاني حدثني أبو الفضل بزيغ بن عبيد بن بزيغ البزار المقري قال : قرأت على سليمان بن موسى فأخذ على خمسا ( ) ثم قال حسبك فقلت زدني فقال : قرأت مسيلم بن عيسى فأخذ على خمسا خمسا فقال لي حسبك فقلت زدني فقال : قرأت على حمزة بن حبيب الزيات فأخذ علي خمسا فقال لي : حسبك فقلت : زدني فقال : قرأت على سليمان الأعمش فأخذ علي خمسا فقال لي : حسبك فقال : زدني فقال : قرأت على يحيى بن و ثاب فأخذ علي خمسا ثم قال لي : حسبك فقلت : زدني فقال إني قرأت على أبي عبد الرحمن السلمي فأخذ علي خمسا ثم قال لي حسبك فقلت : زدني فقال لي : قرأت على علي بن أبي طالب أمير المؤمنين فأخذ علي خمسا ثم قال لي : حسبك فقلت يا أمير المؤمنين زدني فقال لي : حسبك هكذا انزل خمسا خمسا و من حفظ خمسا خمسا لم ينس إلا سورة الأنعام فإنها نزلت على جملة في ألف فشيعها من كل سماه سبعون ملك حتى ادوها إلى النبي صلى الله عليه و سلم ما قرئت على عليل قط إلا شفاه الله تعالى قال البيهقي رضي الله عنه : و هذا إن صح إسناده فكأنه خرج من طل سماء سبعون ملكا و الباقي من الملائكة الذين هم فوق السماوات السبع و في إسناده من لا يعرف و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو حامد احمد بن علی بن احمد مقری نے خسرو گردی نے ان کو ابو بکر محمد بن اسماعیل وراق نے بغداد میں بطور املاء کے ان کو ابوعلی حسن بن احمد بن حسن صیدلانی نے ان کو حدیث بیان کی ا بوالفضل بزیغ بن عبید بن بزیغ بزار مقری نے انہوں نے کہا کہ میں نے پڑھا سلیمان بن موسیٰ سے جس نے مجھ سے پانچ لیے ( غیر واضح ہے ) پھر کہا کہ تجھے کافی ہے (ممکن ہے پانچ وعدے لیے ہوں) میں نے کہا اور زیادہ کیجیے انہوں نے کہا کہ میں نے پڑھا تھا مسیلمہ بن عیسیٰ سے اس نے مجھ سے پانچ پانچ لیے پھر مجھ سے کہا کہ کافی ہے تجھے کو میں نے کہا کہ اور اضافہ کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پڑھا سلیمان اعمش پر اس نے مجھ سے پانچ لیے پھر کہا کافی ہے تجھے کو میں نے کہا کہ اور فرم دیجیے۔ انہوں نے کہا میں نے پھر یحییٰ بن وثاب پر اس نے مجھ پر پانچ لیے پھر مجھ سے کہا کافی ہے تیرے لیے میں نے کہا اور زیادہ کیجیے انہوں نے کہا میں نے پڑھا ابو عبدالرحمٰن سلمی پر اس نے مجھ پر پانچ لیے پھر مجھ سے کہا کافی ہے تیرے لیے میں نے کہا اور زیادہ کیجیے انہوں نے پھر مجھ سے کہا کہ میں نے پڑھا علی بن ابو طالب پر یعنی امیر المومنین پر اس نے مجھ سے کہا کافی ہے تیرے لیے میں نے کہا امیر المومنین اور زیادہ کیجیے انہوں نے فرمایا کافی ہے تجھے اسی طرح نازل کیا گیا تھا پانچ پانچ اور جو شخص یاد کرے پانچ پانچ نہیں بھولے گا ۔ مگر سورۃ انعام پانچ پانچ (آیات نہیں نازل ہوئی ) وہ نازل ہوئی تھی یکبارگی ۔ ایک ہزار فرشتوں میں پھر ہر آسمان سے ستر فرشتے ساتھ لیے گئے تھے یہاں تک کہ اس کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کیا تھا نہیں پڑھی جائے کسی علیل پر مگر اللہ تعالیٰ اس کو شفا عطا کرے گا۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا۔ یہ حدیث اگر اس کی اسناد صحیح ہو تو گویا کہ ہر آسمان سے ستر فرشتے نکلے اور باقی فرشتے وہ تھے جو ساتوں آسمانوں کے اوپر سے تھے اور اس کی اسناد میں وہ راوی ہیں جو پہچانے نہیں جاتے۔

لي حسبك فقلت يا أمير المؤمنين زدني ← على علي بن أبي طالب أمير المؤمنين فأخذ علي خمسا ثم ← لِي ← لي حسبك فقلت زدني ← على أبي عبد الرحمن السلمي فأخذ علي خمسا ثم ← إِنِّي ← لي حسبك فقلت زدني ← على يحيى بن و ثاب فأخذ علي خمسا ثم ← زدْنى، ← لي حسبك ← على سليمان الأعمش فأخذ علي خمسا ← لي حسبك فقلت زدني ← على حمزة بن حبيب الزيات فأخذ علي خمسا ← لي حسبك فقلت زدني ← مسيلم بن عيسى فأخذ على خمسا خمسا ← حسبك فقلت زدني ← على سليمان بن موسى فأخذ على خمسا ثم ← أبو الفضل بزيغ بن عبيد بن بزيغ البزار المقري ← أبو علي الحسن بن أحمد بن الحسن الصيدلاني ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَرَّاقُ، ← أبو حامد أحمد بن علي بن أحمد المقري الخسروجردي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-An'am · Hadith 2435

chevron_left Previous
1234…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood