Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 409

408 - أخبرنا أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان ثنا أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار ثنا يحيى بن معين ثنا هشام بن يوسف عن عبد الله بن سليمان النوفلي عن محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و عن أبيه عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا الله لما يغذوكم به من النعمة و أحبوني لحب الله و احبوا أهل بيتي لحبي قال الحليمي : رحمه الله : و هذا يحتمل أن يكون عامة أنعمه كلها و أن يكون اسم الغذاء في الطعام و الشارب حقيقة و لما عداهما من التوفيق و الهداية و نصب أعلام هذه المعرفة و خلو الحواس و العقل مجازا أو يكون جميع ذلك بالاسم مرادا فقد جاء عنه صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه فقد وجد حلاوة الإيمان و في بعض الروايات طعم الإيمان و إنما يكون الطعم للأغذية و ما يجري مجراها فإذا جاز وصف الإيمان بالطعم جازت تسميته غذاء فيدخل الإيمان في جميع نعم الله عز و جل في هذا الحديث و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جعفر بن محمد بن حسن ابھری صوفی نے ہمدان میں ان کو ابو الحسن علی بن عمر بن محمد بن حسن بن شاذان صوفی نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ہشام بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن سلیمان نوفلی نے ان کو محمد بن علی یعنی ابن عبداللہ بن عباس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کہ تم اللہ سے محبت کرو اس لئے کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں کا (رزق دیتا ہے) اپنی نعمتیں کھلاتا ہے اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے لئے اور میرے گھر والوں سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔ شیخ حلیمی کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث احتمال رکھتی ہے کہ تمام نعمتوں کے لئے عام ہو اور اس حدیث میں مذکور لفظ غذا حقیقۃ طعام اور پہننے کی چیز کا نام ہو اور یہی مراد ہو۔ اور ان کے علاوہ توفیق عطا ہونا، ہدایت ملنا۔ اور اس معرفت کے اسباب میسر ہونا اور عقل و حواس کا صحیح و سالم ہونا یہ سب چیزیں مجاز الفظ عذا سے مراد ہوں۔ یا یہ تمام مذکورہ چیزیں اور امور لفظ اور غذا کے نام سے یہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث آئی ہے کہ تین باتیں جس انسان میں آ جائیں وہ ایمان کی حلاوت کو پا لیتا ہے اور بعض روایات میں حلاوت کی جگہ طعم و الایمان آ یا ہے یعنی ایمان کا ذائقہ اور مزہ پا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذائقہ اور مزہ غذاؤں کا ہوتا ہے یا ان چیزوں کا جو غذاؤں کا قائم مقام ہو تی ہیں۔ جب یہ جائز ہے کہ ایمان کی وصف طعم اور ذائقہ کے ساتھ لائی جائے تو یہ بھی جائز ہے کہ ایمان کو غذا کے نام سے موسوم کیا جائے (جب ایمان غذا قرار پا جائے تو پھر) یہ ایمان اللہ تعالیٰ کی دیگر ان تمام نعمتوں میں داخل ہو جائے گا جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ← أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 409

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 410

409 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن ابن عجلان عن واقد بن سلامة عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : ألا أخبركم عن أقوام ليسوا بأنبياء و لا شهداء يغبطهم يوم القيامة الأنبياء و الشهداء بمنازلهم من الله عز و جل على منابر من نور يكونون عليها قالوا من هم ؟ قال : الذين يحببون عباد الله إلى الله و يحببون الله إلى عباده و هم يمشون على الأرض نصحاء قال قلنا : يحببون الله إلى عباد الله فكيف يحببون عباد الله إلى الله ؟ قال : يأمرونهم بحب الله و ينهونهم يعني عما كره الله فإذا أطاعوهم أحبهم الله قال البيهقي رحمه الله : و جاء عنه صلى الله عليه و سلم قال : علامة حب الله حب ذكر الله علامة بغض الله بغض ذكره و هذا إنما بلغنا بإسناد فيه ضعف

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کولیث نے ان کو بن عجلان نے ان کو واقد بن سلامہ نے یزید رقاشی سے انہوںنے حضرت انس بن مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا ، کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ان لوگوں کے بارے میں جو نہ تو انبیاء ہیں اور ہی شہداء ہیں مگر قیامت کے دن انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گےان کی منازل کو دیکھ کر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مراتب کو دیکھ کر وہ نور کے مبروں پر براجمان ہو ں گے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا جو اللہ کے بندوں کو محبوب رکھتے ہیں اللہ تک اور اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اس کے بندوں تک اور وہ زمین پ رچلتے تو محض خیر خواہی ہوتے ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے عرض کی کہ اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اس کے بندوں تک تو سمجھ آتا ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ بنددوں کو محبوب رکھتے اللہ تک ،وہ کیسے؟ آپ نے جواب دیا وہ اس طرح کہ وہ لوگوں کو اللہ کی محبت کی تلقین کرتے ہیں۔ اور انہیں روکتے ہیں یعنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے جب لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو محبوب بنا لیتا ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ کی محبت کی علامت اللہ کے ذکر سے محبت ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے بغض کی علامت اللہ کے ذکر سے بغض ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← واقد بن سلامة ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 410

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 411

410 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أبو بكر عمر بن جعفر المعلى النرسي ثنا المعلي بن مهدي ثنا يوسف بن ميمون عن أنس بن مالك قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : علامة حب الله حب ذكر الله و علامة بض الله بغض ذكر الله قال البيهقي رحمه الله : و روي عن وجه آخر عن زياد بن ميمون و زياد منكر الحديث و روي من وجه آخر ضعيف عن أنس بن مالك ـ و الله أعلم ـ و روينا بمثلها عن السلف و الصالحين

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی ابن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو بکر عمر بن جعفر معلیٰ نرسی نے ان کو معلیٰ بن مہدی نے ان کو یوسف بن میمون نے ان کو انس بن مالک نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنا تھا وہ فرماتے تھے کہ : اللہ سے محبت کی نشانی اللہ کے ذکر سے محبت کرنا ہے اور اللہ سے بغض کی علامت اللہ کے ذکر سے بغض رکھنا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دوسرے طریق سے روایت کیا گیا ہے زیاد بن میمون سے جب کہ زیاد منکر ہے (غیر معروف ہے) اور ایک دوسرے ضعیف طریقہ سے حضرت انس بن مالک سے بھی مروی ہے (واللہ اعلم) اور ہم نے اسی کی مثل سلف صالحین سے (روایت کیا ہے )

السلف و الصالحين ← أنس بن مالك و الله أعلم و روينا بمثلها ← زياد بن ميمون و زياد منكر الحديث و روي من وجه آخر ضعيف ← وَجْهٍ آخَرَ، ← البيهقي و روي ← الله و علامة بض الله بغض ← عَلامَةُ حُبِّ اللهِ (حُبُّ) ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يوسف بن ميمون ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← أبو بكر عمر بن جعفر المعلى النرسي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 411

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 412

411 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الله بن عثمان أنا عبد الله بن المبارك أنا أبو بكر بن أبي مريم عن خالد بن محمد الثقفي عن بلال بن أبي الدرداء عبد أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حبك الشيء يعمي و يصم قال البيهقي رحمه الله : و قد روي هذا موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابو بکر بن مریم نے ان کو خالد بن محمد ثقفی نے ان کو بلال بن ابو درداء نے ان کو ابو درداء نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کسی شے سے محبت کرنا اندھا کر دیتا ہے اور بہرا کر دیتا ہے (یعنی محبت اندھا اور بہرہ کردیتی ہے۔ ) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ روایت موقوف ہے۔

البيهقي و قد روي هذا موقوفا ← حبك الشيء يعمي و يصم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بلال بن أبي الدرداء عبد أبي الدرداء ← خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 412

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 413

412 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون أنا حريز بن عثمان عن بلال بن أبي الدرداء عن أبيه قال : حبك الشيء يعمي و يصم قال البيهقي رحمه الله : و كذلك رواه سعيد بن أبي أيوب عن حميد بن مسلم الدمشقي عن بلال بن أبي الدرداء عن أبيه موقوفا و هو في تاريخ البخاري قال الحليمي رحمه الله : قد يفهم من هذا أن من أحب الله تعالى لم يعد المصائب التي يقضيها عليه إساءة منه إليه و لم يستثقل وظائف عبادته و تكاليفه المكتوبة عليه كما أن من أحب أحدا من جنسه لم يكد يبصر منه إلا ما يستحسنه و يزيده إعجابا به و لا يصدق من خبر المخبرين عنه إلا ما يتخذه سببا للولوع به و الغلو في محبته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو حریز بن عثمان نے ان کو بلال بن ابو درداء نے اپنے والد سے انہوں نے کہا۔ حبک الشیئی یعمی ویصم۔ تیرا کسی شے سے محبت کرنا اندھا ور بہرا کر دیتا ہے۔ (یعنی محبت کسی بھی شے کی ہوا ندھا کر دیتی ہے)۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اس روایت کو سعید بن ایوب نے محمد بن مسلم دمشقی سے انہوں نے بلال بن ابو درداء سے انہوں نے اپنے والد موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور یہ تاریخ بخاری میں ہے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: ان روایات سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے وہ ان مصائب کو جن کا اللہ تعالیٰ اس پر فیصلہ فرماتا ان کو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے خلاف برائی نہیں سمجھتا ۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وظیفے کو بوجھ سمجھتا ہے اور نہ ہی ان تکالیف کو بو جھ سمجھتا ہے جو اس پر فرض ہیں جیسے وہ انسا ن جو انسان کے ساتھ محبت کرتا ہے وہ محبوب سے کچھ نہیں دیکھتا مگر جس کو وہ اچھا سمجھتا ہے یعنی اس کو محبوب کی ہر بات اور ہر ادا محبوب لگتی ہے اور اس کی پسند میں اضافہ کرتی ہے اور محبوب کے بارے میں خبر دینے والوں کو سچا نہیں مانتا مگر صرف اسی بات میں جس میں اس کی محبت میں غلو ہو یا جو بات اس کی محبت میں اسے مجبور کر دے۔

أبيه موقوفا و هو في تاريخ البخاري ← بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← حميد بن مسلم الدمشقي ← البيهقي و كذلك رواه سعيد بن أبي أيوب ← حبك الشيء يعمي و يصم ← أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 413

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 414

413 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين قال حدثني هشام بن عبيد الله حدثني ابن لهيعة ثنا عبد الحميد بن عبد الله بن إبراهيم القرشي عن أبيه قال : لما نزل بالعباس بن عبد المطلب الموت قال لابنه : يا عبد الله إني موصيك بحب الله عز و جل و حب طاعته و خوف الله و خوف معصيته فإنك كنت كذلك لم تكره الموت متى أتاك و أني استوصيك الله يا بني ثم استقبل القبلة فقال لا إله إلا الله ثم شخص بصره فمات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو ا لدنیا نے انکو محمد بن حسین نے ان کو ہشام بن عبید اللہ نے ان کو ابن لمھیعہ نے ان کو عبدالحمید بن عبداللہ بن ابراہیم قریشی نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ جب عباس بن عبدالمطلب پر موت آئی تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا اے عبداللہ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرنا اور اللہ کی اطاعت سے محبت کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اور اللہ کی نافرمانی کرنے سے ڈرنا جب تم ایسے ہو جاؤ گے تو تم موت کو ناپسند نہیں کرو گے جب بھی آ جائے اور میں تیری وصیت اللہ کو کرتا ہوں (یعنی تجھے اللہ کی امان میں دیتا ہوں) اے بیٹے ، اس کے بعد قبلہ کی طرف منہ کیا اور لا الہ الا اللہ ، اس کے بعد اس کی نظر اوپر کو اٹھ گئی اور فوت ہو گئے۔

لما نزل بالعباس بن عبد المطلب الموت ← أَبِيهِ ← عبد الحميد بن عبد الله بن إبراهيم القرشي ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 414

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 415

414 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر ثنا مالك بن دينار قال : بلغنا أن داود نبي الله كان يقول في دعائه : اللهم اجعل حبك أحب إلي من سمعي و بصري و من الماء البارد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک بن دینار نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنی دعا میں یہ کہتے تھے۔ "اللھم اجعل حبک احب الی من سمعی و بصری ومن الماء البارد " اے اللہ تو اپنی محبت کو میرے لئے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور ٹھنڈے پانی سے بھی۔

بلغنا أن داود نبي الله كان ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 415

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 416

415 - و بإسناده قال : سمعت مالكا قال : أوحى الله عز و جل إلى بني إسرائيل إني لا أقبل قولكم و لكن أقبل همكم و هواكم من كان همه و هواه في محبتي كان صمته عندي تقديسا و تسبيحا و وقارا

مذکورہ اسناد کے ساتھ جعفر نے فرمایا کہ میں نے مالک بن دینار سے سنا انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف وحی کی تھی کہ میں تمہارا قول قبول نہیں کروں گا لیکن تمہاری فکر اور تمہاری سوچ کو قبول کروں گا جس شخص کی سوچ اور فکر جس کا فکر و غم میری محبت کے دائرے میں گھومے گا اس کا چپ رہنا بھی میرے نزدیک تسبیح و تقدیس اور توقیر و عزت شمار ہو گا۔

مَالِکًا ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 416

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 417

416 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أخبرني الحسن بن رشيق إجازة حدثنا علي بن يعقوب بن سويد الوراق ثنا محمد بن إبراهيم البغدادي ثنا محمد بن سعيد الخوارزمي قال : سمعت ذا النون المصري و سئل عن المحبة قال : أن تحب ما أحب الله و تبغض ما أبغض الله و تفعل الخير لله و ترفض كل ما يشغل عن الله و أن لا تخاف في الله لومة لائم مع العطف للمؤمنين الغلظة على الكافرين و اتباع سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم في الدين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو خبر دی ہے حسن بن رشیق نے بطور اجازت کے ان کو حدیث تبائی علی بن یعقوب بن سوید وراق نے ان کو محمد بن ابراہیم بغدادی نے ان کو محمد بن سعید خوارزمی نے انہوں نے کہا کہ میں نے ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا (جب کہ ) ان سے محبت کے بارے میں پوچھا گیا تھا انہوں نے جواب دیا کہ آپ اسی چیز کو محبوب رکھیں جس چیز کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے۔ اور آپ اس چیز کو برا سمجھیں جس چیز کو اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے، اور ہر خیر و نیکی محض اللہ کےو اسطے کریں، اور ہر وہ کام چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ سے غافل کرے اور اللہ کے دین کے بارے میں آپ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خوف نہ کریں اس کے ساتھ ساتھ مومنوں پر شفقت کریں۔ اور کافروں کے معاملے میں سکتی کریں اور دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتے رہیں۔

المحبة ← ذا النون المصري و سئل ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغْدَادِيُّ، ← علي بن يعقوب بن سويد الوراق ← الحسن بن رشيق ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 417

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 418

417 - حدثنا أبو سعيد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد رحمه الله ثنا علي بن الحسن الفقيه ثنا أبي قال : سمعت المعروف بعمي البسطامي يقول : سمعت أبي يقول : سئل أبو يزيد عن علامة من يحب الله و علامة من يحبه الله قال : من يحب الله فهو مشغول بعبادته ساجدا و راكعا فإن عجز عن ذلك استروح إلى ذكر اللسان و الثناء و إن عجز استروح إلى ذكر القلب و التفكير فأما من يحبه الله أعطاه سخاوة كسخاوة البحر و شفقة كشفقة الشمس و تواضعا كتواضع الأرض

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعید عبدالمالک ن ابو عثمان زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو علی بن حسین فقیہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ سنا معروف سے میرے چچا بسطامی کے ساتھ وہ کہتے تھے میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے ابو یزید سے پوچھا گیا تھا کہ اس بات کی کیا علامت ہے کہ فلاں شخص اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے۔ فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ اس کی عبادت میں مشغول رہتا ہے ، کبھی رکوع میں تو کبھی سجدے میں جب اس سے تھکتا ہے تو زبان سے اللہ کا ذکر اور حمد و ثنا کرتے ہوئے آرام کرتا ہے۔ اگر اس سے بھی تھک جاتا ہے تو پھر دل ہی دل میں ذکر نے اور غور فکر کرنے میں آرام و استراحت پاتا ہے اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے ۔ اسے سخاوت عطا کرتاہے سمندر و دریا کی سخاوت کی طرح۔ اور اسے شفقت عطا کرتاہے سورج کی شفقت جیسی اور اسے عجز و تواضع عطا کرتاہے زمین کی عاجزی جیسی۔

اللسان و الثناء و إن عجز استروح إلى ← ذلك استروح إلى ← من يحب الله فهو مشغول بعبادته ساجدا و راكعا فإن عجز ← علامة من يحب الله و علامة من يحبه الله ← سئل أبو يزيد ← أَبِي ← المعروف بعمي البسطامي ← أَبِي ← علي بن الحسن الفقيه ← أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 418

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 419

418 - أخبرنا سعيد بن محمد الشعيبي قال : سمعت علي بن الحسن بن المثنى الصوفي يقول سمعت الحسن بن علوية يقول سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : المحبة لا تصح إلا من جهة المحبوب و ليس من أحبه كمن يحبه

ہمیں خبر دی ہے سعید بن شعیبی نے اس نے کہا کہ میں نے سنا تھا علی بن حسن بن مثنیٰ صوفی سے وہ کہتے تھے میں نے سنا حسن بن علویہ کہتے ہیں میں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ فرماتے تھے کہ محبت صحیح نہیں ہوتی مگر محبوب کی جانب جو شخص محبوب کو پسند کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے وہ اس جیسا نہیں ہو سکتا جس کو محبوب پسند کرے اور اس سے محبت کرے۔

يحيى بن معاذ الرازي ← الْحَسَنُ بْنُ عُلُّوِيَةَ، ← علي بن الحسن بن المثنى الصوفي ← سعيد بن محمد الشعيبي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 419

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 420

419 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي نا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ثنا أبو الفضل العباس بن حمزة ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : علامة حب الله حب طاعة الله ـ و قيل حب ذكر الله ـ فإذا أحب الله العبد أحبه و لا يستطيع العبد أن يحب الله حتى يكون الابتداء من الله بالحب له و ذلك حين عرف منه الاجتهاد في مرضاته

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو جعفر محمد بن سعید رازی نے ان کو ابو الفضل عباس بن حمزہ نے ان کو احمد بن ابوالحواری نے انہوں نے فرمایا اللہ کی محبت کی علامت اللہ کی اطاعت سے محبت ہونا ہے اور کہا گیا ہے اللہ کی محبت کی علامت اللہ کے ذکر سے محبت کرنا ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ بندے کو محبوب رکھتا ہے تو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب رکھتا ہے اور بندہ اللہ کو محبوب رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا حتیٰ کہ بندے کو (محبوب بنانے کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، اور یہ بات اس وقت ہوتی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ یہ سمجھ لیتے ہیں اس کا بندہ اس کی رضا جوئی کے لئے سخت جدو جہد کرتا ہے۔

علامة حب الله حب طاعة الله و قيل حب ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبو الفضل العباس بن حمزة ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 420

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood