شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 396
395 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية الضرير ثنا الأعمش عن المنهال بن عمرو عن زاذان أبي عمر عن البراء بن عازب قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل من الأنصار فانتهينا إلى القبر و لما يلحد قال : فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم و جلسنا حوله كان على رؤوسنا الطير و في يده عود ينكت به قال : فرفع رأسه و قال : استعيذوا بالله من عذاب القبر فإن الرجل المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا و إقبال من الآخرة نزل إليه ملائكة من السماء بيض الوجوه و كأن وجوههم الشمس معهم حنوط من حنوط الجنة و كفن من كفن الجنة حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول : أيتها النفس الطيبة ! اخرجي إلى مغفرة من الله و رضوان قال فتخرج نفسه فتسيل كما تسيل القطرة من فم السقاء فيأخذها فإذا أخذها لم يدعها في يده طرفة عين حتى يأخذها فيجعلها في ذلك الكفن و في ذلك الحنوط و تخرج منها كأطيب نفحة ريح مسك وجدت على ظهر الأرض فلا يمرون بملأ من الملائكة إلا قالوا : ما هذه الريح الطيبة ! فيقولون فلان بن فلان ! بأحسن أسمائه الذي كان يسمى بها في الدنيا حتى ينتهي بها إلى السماء الدنيا فيفتح له فيشيعه من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها حتى ينتهي بها إلى السماء السابعة فيقول الله عز و جل اكتبوا عبدي في عليين في السماء السابعة و أعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم و فيها أعيدهم و منها أخرجهم تارة أخرى فتعاد روحه في جسده فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان : من ربك ؟ فيقول : ربي الله فيقولان : و ما دينك ؟ فيقول : ديني الإسلام فيقولان : ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ؟ فيقول هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فيقولان و ما يدريك فيقول : قرأت كتاب الله عز و جل فآمنت به و صدقت قال : فينادي مناد من السماء أن صدق عبدي فافرشوه من الجنة و البسوه من الجنة و افتحوا له بابا من الجنة فيأتيه من روحها و طيبها و يفسح له في قبره مد بصره و يأتيه رجل حسن الوجه طيب الريح فيقول له أبشر بالذي يسرك فهذا يومك الذي كنت توعد فيقول من أنت ؟ فوجهك الوجه الذي يأتي بالخير فيقول : أنا عملك الصالح فيقول : رب أقم الساعة ! رب أقم الساعة ! حتى أرجع إلى أهلي و مالي و أما العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا و إقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يأتيه ملك الموت فيجلس عند رأسه فيقول أيتها النفس الخبيثة اخرجي إلى سخط الله و غضبه قال : فتفرق في جسده فينتزعها و معها العصب و العروق كما ينتزع السفود من الصوف المبلول فيأخذونها فيجعلونها في تلك المسوح قال : و يخرج منها أنتن من جيفة وجدت على وجه الأرض فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا ما هذه الروح الخبيثة ! فيقولون فلان بن فلان بأقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا حتى ينتهى بها إلى السماء الدنيا فيستفتح له فلا يفتح له ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم { لا تفتح لهم أبواب السماء } إلى آخر الآية قال : فيقول الله تبارك و تعالى : اكتبوا كتابه في سجين في الأرض السابعة السفلى و أعيدوا إلى الأرض فإنا منها خلقناهم و فيها نعيدهم و منها نخرجهم تارة أخرى قال : فتطرح روحه طرحا ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم : { و من يشرك بالله فكأنما خر من السماء } الآية ثم تعاد روحه في جسده فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له من ربك ؟ فيقول هاه هاه لا أدري ! فيقولان له : ما دينك ؟ فيقول هاه هاه لا أدري فيقولان : له ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ؟ فيقول هاه هاه لا أدري ! فينادي مناد من السماء إن كذب فافرشوه من النار و ألبسوه من النار و افتحوا له بابا من النار فيأتيه من حرها و سمومها و يضيق عليه قبره حتى تختلف فيه أضلاعه قال : و يأتيه رجل قبيح الوجه منتن الريح فيقول : أبشر بالذي يسوءك هذا يومك الذي كنت توعد قال : فيقول من أنت ؟ فوجهك الوجه الذي يجيء بالشر فيقول : أنا عملك الخبيث فيقول : رب لا تقم الساعة رب لا تقم الساعة قال البيهقي رحمه الله : هذا حديث صحيح الإسناد و قد ذكرنا سوى هذا من حديث أبي هريرة و أبي سعيد الخدري و أنس بن مالك و أسماء بنت أبي بكر و غيرهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و رواه عيسى بن المسيب عن عدي بن ثابت عن البراء عن النبي صلى الله عليه و سلم و ذكر فيه اسم الملكين فقال في ذكر المؤمن فيرد إلى مضجعه فيأتيه منكر و نكير يثيران الأرض بأنيابهم و يلحفان الأرض بأشفاههما أصواتهما كالرعد القاصف و أبصارهما كالبرق الخاطف فيجلسانه ثم يقال له : يا هذا من ربك فذكره و قال : في ذكر الكافر : فيأتيه منكر و نكير يثيران الأرض بأنيابهما و يلحقان الأرض بأشفاههما و أصواتهما كالرعد القاصف و أبصارهما كالبرق الخاطف فيجلسانه ثم يقولان له : يا هذا من ربك ؟ فيقول : لا أدري فينادي من كل جانب القبر لا دريت و يضربانه بمرزبة من حديد لو اجتمع عليها من بين الخافقين لم يقلوها يشتعل منها قبره نارا و يضيق عليه قبره حتى تختلف أضلاعه
ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے، ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں، انکو سعد ان بن نصر نے، ان کو ابو معاویہ ضریر نے ان کو اعمش نے ان کو منہال بن عمرو نے، ان کو زاذان ابو عمر نے ان کو براء بن عازب نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک آدمی کے جنازے میں نکلے۔ ہم لوگ قبر تک پہنچے، ابھی تک لحد نہیں بنی تھی۔ حضرت براءفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے، ہم لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد بیٹھ گئے (سناٹا چھا گیا) گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی جس کے ساتھ زمین پر آپ ہلکے ہلکے سے مار رہے تھے۔ براء فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا اللہ کی پناہ مانگو عذاب قبر سے، بے شک مومن آدمی جب دنیا سے ناطہ توڑ نے اور آخرت میں قدم رکھنے میں ہوتا ہے تو آسمان سے اس کی طرف سفید روشن چہروں والے فرشتے اس کی طر ف اترتے ہیں ، گویا کہ ان کےچہرے (چمکتے ہیں) سورج کی طرح ہیں ، ان کے پاس جنت کی خوشبوؤں میں سے ایک (حنوط) اور خوشبو ہوتی ہے اور جنت کے کفن میں سے ایک کفن ہوتا ہے۔۔ یہاں تک کہ (مرنے والے) کے پاس تا حد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت (موت کا فرشتہ) آتا ہے۔ وہ آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے اے پاکیزہ روح تو باہر آ جا اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی کی طرف جانے کے لئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس کی روح بہتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے قطرہ بہتا ہے۔ پس (ملک الموت) اسے لے لیتا ہے۔ جب اسے لیتا ہے تو اسے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی اپنے ہاتھ میں نہیں چھوڑتا (بلکہ فورا اسے) اس کفن میں لپیٹ دیتا ہے اور اسی خوشبو میں بسا دیتا ہے اور اس روح سے کستوری کی پاکیزہ ترین خوشبوجیسی خوشبو جو روئے زمین پر ہو سکتی ہے وہ مہکتی ہے (اور اس روح کو اوپر لے جاتے وقت) جب فرشتوں میں سے کسی فرشتے کے ساتھ گذر ہوتاتو وہ کہتے ہیں یہ کس چیز کی اتنی پاکیزہ خوشبو ہے (لہذا روح کو لے جانے والے فرشتے) کہتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے اور اسے خوبصورت ترین نام سے موسوم کرتے ہیں، جس کے ساتھ وہ دنیا میں موسوم کیا جاتا تھا۔حتی کہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور اس روح کےلئے وہ آسمان کھولا جاتا ہے ، پھر خوش آمدید کہی جاتی ہے ہر آسمان سے، ایک آسمان سے دوسرے کو قریب کرتے ہوئے ، حتیٰ کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا یا جاتا ہے ۔ پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو علیین میں ساتویں آسمان میں لکھ لیں اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو۔ بے شک میں نےانہیں اسی سے پیدا کیا تھا اور اسی میں ان کو لوٹاؤں گا۔ اور دوسری باری میں ان کو اسی سے نکالوں گا۔ پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں ، پھر وہ کہتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ و ہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ وہ دونوں پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔وہ دونوں پوچھتے ہیں یہ وہ آدمی جو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا اس کا مقام کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔وہ دونوں پوچھتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا ( کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟) وہ جواب دیتا ہے میں نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) پڑھی تھی۔ لہذا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایمان لے آیا تھا اور اس کی تصدیق کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر آسمان سے منادی کرنے والا منادی کرتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کو جنت کا بستر دے دو یا بچھا دو اور جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت میں دروازہ کھول دو۔ پھر اس کی خوشبو اور خوشبو دار ہوا س کے پاس آتی رہتی ہے اور اس کی حد نگاہ تک اس کی قبر اس کےلئے کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس کے پاس خوبصورت چہرے والا آدمی پاکیزہ خوشبو والا آتا ہے اورا س سے کہتا ہے کہ توا س چیز کے ساتھ خوش ہو جا جو تجھے خوش کر دے گی۔ یہ وہی دن ہے جس کاتجھے وعدہ دیا گیا تھا۔ پھر انسان پوچھتا ہے کہ تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو وہ چہرہ ہے جو خیر لے آتا ہے۔ وہ کہتا ہے میرا تیرا نیک عمل ہوں۔ پھر وہ انسان کہتا ہے اے میرے رب قیامت قائم فرما دے، اے میرے رب قیامت قائم فرماتا کہ میں اپنے اہل اور اپنے مال میں لوٹ جاؤں۔ بہر حال بندہ کافر جب دنیا سے کوچ کرنے اور آخرت کی طرف آنے کی حالت میں ہوتا ہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اترتے ہیں اس کی طرف ۔ ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ان کے پاس ملک الموت آتا ہے۔ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث روح اللہ کی ناراضگی اور اللہ کے غضب کی طرف (چلنے کے لئے) باہر آ جا۔ لہذا اس کے جسم میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ملک الموت (اس روح خبیثہ کو) کھینچتا ہےجس کے ساتھ تمام رگ و پٹھے کھنچ جاتے ہیں ۔ جیسے خاردار جھاڑی گیلی اون میں سے کھینچی جائے، فرشتے یوں کھینچ کر اسے لے لیتے ہیں۔ لہذا اسے اس بد بو دار کفن میں لپیٹتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس روح سے مری ہوئی اور سڑی لاش سے زیادہ بدبو نکلتی ہے جوروئے زمین پر سب سے بری بد بو ہو سکتی ہے۔ توفرشتوں میں سے جس فرشتے کے پاس سے اسے لے کر گزرتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں یہ کیسی یا کس کی بدبودار خبیث روح ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں بن فلاں کی روح ہے اور دنیا میں جس بدترین نام سے اسے پکارا جاتا تھا اس قبیح ترین نام سے اسے موسوم کرتے ہیں ۔ اسی طرح اسے آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے لئے دروازہ نہیں کھولا جاتا ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےیہ آیت پڑھی: " لا تفتح لھم ابواب السمآء (اعراف 40 –آخر تک) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کی تحریر لکھ دو سجین میں سب سے نچلی ساتویں زمین میں اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو، بے شک ہم نے ان کو اسی سے پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف ہم ان کو لوٹائیںگے۔پھر اس سے ہم ان کو ایک اور بار نکالیں گے۔ فرمایا کہ پھر اس کی روح کو پھینک دی جاتی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "ومن یشرک باللہ فکا انما خر من السماء (الحج 31) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے کہ وہ اسمان سے گرے اور اسے پرندے اچک لیں۔ (اور پھاڑ ڈالیں) یاہوا اسے گہرائی میں کہیں پہنچادے۔ فرمایا اس کے بعد اس کی روح اس کے جسم کے اندر لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اسکے پاس آتے ہیں ،اسے بیٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تیرا ر ب کون ہے؟ وہ حیران و پریشان ہو کر کہتاہے کہ میں نہیں جانتا۔ وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟پھر وہ حیران و پریشان ہو کر کہتا ہے میں نہیں جانتا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ وہ آدمی کون ہے جو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا؟ وہ حیران و پریشان ہو کر کہتا ہے ، میں نہیں جانتا ۔ اتنےمیں آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے، اس کو جہنم کا بستر یعنی آگ لگا دو اور اس کا آگ کا لباس پہنا دو اور جہنم کی طرف اس کے لئے دروازہ کھول دو تاکہ اس کی طرف اس کی تپش اور گرم ہوا آتی رہے اور اس پر اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی (دائیں بائیں) پسلیاں باہم مل جاتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس کے پاس ایک بد صورت بد بو دار ادمی آتا ہے اور وہ کہتا ہے تو خوش ہو جاؤ اس عذاب کے ساتھ جو تجھے برا لگے گا۔ یہ وہی دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے تو کون ہے؟ تیرا تو چہرہ بھی شر پیش کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ چنانچہ اسے دیکھ کر یہ بندہ کہتا ہے اے رب قیامت قائم نہ کر ، اے رب قیامت قائم نہ کر۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ہم نے اس حدیث کے سوا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی ہیں اور اس کو عیسیٰ بن مسیب نے عدی بن ثابت سے ، براء سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس نے اس میں دو فرشتوں کا ذکر کیا ہے اور مومن کے تذکرہ میں فرمایا کہ اسے پھر اس کے لپیٹنے کی جگہ کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے پاس منکر اور نکیر آتے ہیں جو کہ اپنے دانتوں سے زمین کو چیرتے ہیں ، ان کے ہونٹ زمین سے لگتے ہیں (اور زمین کو لگاتے ہیں۔) ان کی آوازیں ایسے جیسے بجلی کڑکتی ہے۔ ان کی آنکھیں جیسے آنکھوں کو اچک لینے والی بجلی، اسے بیٹھاتے ہیں ، پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ اے فلانے تیرا رب کون ہے؟ پھر پورا ذکر کیا۔ اور کافر کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس کےپاس منکر نکیر آتے ہیں جو کہ اپنے دانتوں سے زمین کو چیرتے ہیں اور اپنے ہونٹوں کو زمین سے لگاتے ہیں (یعنی ہونٹ زمین تک پہنچتے ہیں) ان کی آوازیں ایسی جیسے بجلی کڑکتی ہے ، آنکھیں ایسی جیسے آنکھ کو اچک لینے والی بجلی، اسے بیٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ، اے فلانے تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا۔ پھر قبر کی طرف سے آواز آتی ہے تو نے نہیں جانا پھر اس کو لوہے کے ہتھوڑے مارتے ہیں۔ اگر اس پر مشرق و مغرب جمع ہو جائیں اسے کم نہ سمجھیں اس ضرب سے اس کی قبر آگ سے روشن ہو جاتی ہے اور شعلے مارنے لگتی ہے اور اس کی قبر اس پر تنگ ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے کی جگہ آ جاتی ہیں۔ دائیں بسلیاں بائیں جانب اور بائیں پسلیاں دائیں جانب۔
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 396
