Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 124

124 - أخبرناه أبو الحسين بن بشران أخبرنا أبو جعفر الرزاز ثنا عيسى بن عبد الله الطيالسي ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ ثنا كهمس بن الحسن قال سمعت عبد الله بن بريدة يحدث عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر عن عمر رضي الله عنهما : بذلك أخرجه مسلم في الصحيح من حديث كهمس

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی جعفر رزاز نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عیسیٰ بن عبداللہ طیالسی نے انہوں نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمن مقری نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے گھمس بن حسن نے کہ میں نے سنا عبداللہ بن بریدہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے یحییٰ بن یعمر سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث انہوں نے بیان فرمائی ۔ اسی حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں گھمس کی روایت سے نقل کیا ہے ۔

عمر بذلك أخرجه مسلم في الصحيح من حديث كهمس ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 124

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 125

125 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله و يؤمنوا بي و بما جئت به فإن فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم و أموالهم إلا بحقها و حسابهم على الله عز و جل رواه مسلم في الصحيح عن أمية بن بسطام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زکریا یحییٰ بن محمد عنبری نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابراہیم بو شنجی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے امیہ بن امام نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن زریع نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے روح بن قاسم نے علاء بن عبدالرحمن سے انہوںنے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللہ و یومنوبی و بماجئت بہ فاذ فعلوا ذلک عصموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحقھا ، و حسابھم علی اللہ ) میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت دیں ور مجھ پر ایمان لائیں اور جو چیز میں لایا ہوں ( قرآن ) اس پر ایمان لائیں وہ جب یہ کام کر لیں وہ بچا لیں گے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔ امام مسلم نے اس روایت کو اپنی صحیح میں امیہ بن بسطام سے روایت کیا ہے ۔

أُمِرْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 125

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 126

126 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا عبد الله بن محمد بن الليث ثنا إسحاق بن منصور ثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن أنس بن مالك رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه و سلم ـ و معاذ بن جبل رديفه على الرحل ـ فقال : يا معاذ قال : لبيك يا رسول الله و سعديك ! قال : ما من عبد يشهد أن لا إله إلا الله و إن محمدا عبده و رسوله إلا حرمه الله على النار قال : يا رسول الله ! أفلا أخبر بها الناس فيستبشروا ؟ قال : إذا يتكلوا قال فأخبر بها معاذ عند موته تأثما رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن منصور

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بن لیث نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن منصور نے انہوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ہے معاذ بن ہشام نے انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے قتادہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے آپ نے فرمایا : اے معاذ ۔ انہون نے جواب دیا لبیک یا سعدیک یعنی حاضر ہوں یا رسول اللہ اور سعادت حاصل کر رہا ہوں آپ نے فرمایا کوئی بندہ ایسا نہیں جو لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی عبدیت و رسالت کی بھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا ہے ۔ حضرت معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ۔ کیا میں اس بات کی لوگوں کو اطلاع کر نہ دوں تاکہ لوگ خوش ہو جائیں گے ۔ آپ نے جواب دیا ایسا کرنے سے لوگ اسی کا آسرا کر لیں گے ( عمل کرنے سے سستی کریں گے ) حضرت معاذ نے یہ حدیث اپنی موت کے وقت بتا دی تھی تانکہ حدیث چھپانے اور کتمان حق کرنے کے ) گنہگار نہ ہو جائیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عبد الله بن محمد بن الليث ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 126

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 127

127 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي ببغداد ثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ثنا عبد الله بن روح المدائني ثنا عثمان بن عمر بن فارس ثنا شعبة عن قتادة قال : سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه يحدث عن معاذ بن جبل رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من شهد أن لا إله إلا الله مخلصا من قلبه و أن محمدا رسول الله دخل الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے بغداد میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عمرو عثمان بن احمد بن سماک نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن روح مدائنی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن عمر بن فارس نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے قتادہ سے انہوں نے کہا میں نے سنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے تھے حضرت معاذ بن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( من شھدان لا الہ الا اللہ مخلصا من قلبہ و ان محمدا رسول اللہ دخل الجنۃ ) جو شخص اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں سچے دل سے اور یہ شہادت کہ محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کے رسول ہیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 127

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 128

128 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا أبو قلابة ح ـ و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي ثنا عبد الملك بن محمد ـ يعني أبا قلابة ـ ثنا قريش بن أنس ثنا حبيب بن الشهيد عن حميد بن هلال عن هصان بن كاهل عن عبد الرحمن بن سمرة عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات يشهد أن لا إله إلا الله و أني رسول الله يرجع ذلك إلى قلب موقن دخل الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر احمد بن کامل بن خلف قاضی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالملک بن محمد نے یعنی ابو قلابہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے قریش بن انس نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حبیب بن شہید نے حمید بن ہلال سے انہوں نے ھصان کاہل سے انہوں نے عبدالرحمن بن سمرہ سے انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا : ( من مات یشھد ان لا الہ الا اللہ و انی رسول اللہ یرجع ذالک الی قلب موقن دخل الجنۃ ) جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں ( محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ) اللہ کا رسول ہوں یہ بات یقین کرنے والے کے دل سے ہو۔ وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← هِصَّانَ بْنِ كَاهِلٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ← عبد الملك بن محمد يعني أبا قلابة ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 128

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 129

129 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي ثنا قريش بن أنس : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال عن عبد الرحمن بن سمرة عن معاذ بن جبل رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قریش بن انس نے پھر اس نے مذکورہ حدیث اپنی اسناد کے ساتھ اسی کے مثل ذکر کی ہے سوا اس کے کہ انہوں نے کہا عبدالرحمن بن سمرۃ سے معاذ بن جبل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← قريش بن أنس فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 129

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 130

130 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا وكيع عن المسعودي قال أنبأني أبو عمر الدمشقي عن عبيد بن الخشخاش عن أبي ذر : قال : قلت يا رسول الله ! كم المرسلون ؟ قال : ثلاثمائة و بضع عشر جما غفيرا قال : قلت آدم نبي كان ؟ قال : نعم نبي مكلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ احمد بن عبدالجبار نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع نے مسعودی سے اس نے کہا مجھے خبر دی ہے ابو عمرو دمشقی نے عبید بن خشخاش سے انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی ۔ ( یا رسول اللہ کم المرسلون ؟ رسول کتنے ہیں ؟ ( قال ثلاث مائۃ و بضعۃ عشر جما غفیرا قال قلت ادم نبی کان ؟ قال نعم بنی متکلم ؟ ) تین سو دس سے اوپر تھے بڑی جماعت تھی میں نے کہا کیا آدم علیہ السلام بھی نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں نبی تھے اللہ نے اس کے ساتھ کلام کی تھی ۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ← أبو عمر الدمشقي ← الْمَسْعُودِيِّ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 130

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 131

131 - قال و حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن محمد بن ثابت عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلوا على أنبياء الله و رسله فإن الله بعثهم كما بعثني و روى يحيى بن سعيد البصري ـ و هو ضعيف ـ عن ابن جريج عن عطاء عن عبيد بن عمير الليثي عن أبي ذر رضي الله عنه : قال : قلت : يا رسول الله ! كم النبيون ؟ قال : مائة ألف نبي و أربعة و عشرون ألف نبي قال : قلت : كم المرسلون منهم ؟ قال : ثلاثمائة و ثلاثة عشر

وہ فرماتے ہیں اور ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع نے موسیٰ بن عبیدہ سے انہوں نے محمد بن ثابت سے انہوں نے ابو ہریرہ سے ہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( صلوا علی انبیاء اللہ و رسلہ فان اللہ بعثھم کما بعثنیٰ ) اللہ کے سارے نبیوں پر درود بھیجو اور سارے رسولوں پر بیشک اللہ نے ان کو بھی ایسے بھیجا تھا جیسے مجھے بھیجا ہے ۔ اور یحییٰ بن سعید سعدی بصری نے روایت کیا اور وہ ضعیف ہے اس نے روایت کیا ابن جریج سے انہوں نے عطاء سے انہوں عبید بن عمر لیثی سے انہوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو ذر کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ : ( کم النبیون ؟ ) نبی کتنے تھے ۔ قال مائۃ الف نبی و اربعۃ و عشرون الف نبی ) ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے ۔ میں نے کہا کم المرسلون منھم ؟ ان میں رسول کتنے تھے ؟ ( قال ثلاث مائۃ و ثلاثۃ عشر ) تین سو تیرہ تھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← موسى بن عبيدة ← وَكِيعٌ، ← و،

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 131

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 132

132 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن علي بن الفضل السامري ببغداد ثنا الحسن بن عرفة ثنا يحيى بن سعيد البصري : فذكره و روي ذلك من وجه آخر غير قوي عن أبي ذر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن فضل ساصری نے بغداد میں انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن عرفہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن سعید سعدی بصری نے پھر وہی مذکورہ حدیث ذکر کی ہے ۔ یہی روایت ایک دوسرے طریقہ سے حضرت ابوذر سے مروی ہے جو کہ غیر قوی ہے ۔

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 132

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 133

133 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو زكريا العنبري ثنا محمد بن عبد السلام ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ عمرو بن محمد ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس : في قوله عز و جل : { و اذكر في الكتاب إبراهيم إنه كان صديقا نبيا } قال : كان الأنبياء من بني إسرائيل إلا عشرة : نوح و صالح و هود و لوط و شعيب و إبراهيم و إسماعيل و إسحاق و يعقوب و محمد صلى الله عليه و سلم و لم يكن من الأنبياء من له اسمان إلا إسرائيل و عيسى فإسرائيل يعقوب و عيسى : المسيح قال البيهقي ـ رحمه الله ـ و الإيمان برسول الله صلى الله عليه و سلم يتضمن الإيمان له و هو قبول ما جاء به من عند الله عنه و العزم على العمل به لأن تصديقه في أنه رسول الله إلزام لطاعته و هو راجع إلى الإيمان بالله و الإيمان له لأنه من تصديق الرسل و في طاعة الرسول طاعة المرسل لأنه بأمره أطاعه قال الله تعالى : { من يطع الرسول فقد أطاع الله } قال : و النبوة اسم مشتق من النبأ و هو الخبر إلا أن المراد به في هذا الموضع خبر خاص و هو الذي يكرم الله عز و جل به أحدا من عباده فيميزه عن غيره بإلقائه إليه و يوقفه به على شريعته بما فيها من أمر و نهي و وعظ و إرشاد و وعد و وعيد فتكون النبوة على هذا الخبر و المعرفة بالمخبرات الموصوفة فالنبي صلى الله عليه و سلم هو المخبر بها فإن انضاف إلى هذا التوقيف أمر بتبليغه الناس و دعائهم إليه كان نبيا و رسولا و إن ألقي إليه ليعمل به في خاصته و لم يؤمر بتبليغه و الدعاء إليه كان نبيا و لم يكن رسولا فكل رسول نبي و ليس كل نبي رسولا قال : و قد أرشد الله تعالى إلى أعلام النبوة في القرآن كما أرشد إلى آيات الحدث الدالة على الخالق و الخلق فقال عز اسمه : { لقد أرسلنا رسلنا بالبينات وأنزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط } و قال : { رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل } و قال : { ولو أنا أهلكناهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لولا أرسلت إلينا رسولا فنتبع آياتك من قبل أن نذل ونخزى } فأخبر تعالى أنه بعث الرسل لقطع حجة العباد و قيل في ذلك وجوه : أحدها : أن الحجة التي قطعت على العباد هي أن يقولوا أن الله جل ثناؤه إن كان خلقنا لنعبده فقد كان ينبغي أن يبين لنا العبادة التي يريدها منا و يرضاها لنا ما هي ؟ و كيف هي فإنه و إن كان في عقولنا الاستجداء له و الشكر على نعمه التي أنعمها علينا فلم يكن فيها أن التذلل و العبودية منا بماذا ينبغي أن تكون و على أي وجه ينبغي أن تظهر فقطعت حجتهم بأن أمروا و نهوا و شرعت لهم الشرائع و نهجت لهم المناهج فعرفوا ما يراد منهم و زالت الشبهة عنهم و الآخر : أن الحجة التي قطعت هي ألا يقولوا إنا ركبنا تركيب شهوة و غفلة و سلط علينا الهوى و وضعت فينا الشهوات فلو أمددنا بمن إذا سهونا نبهنا و إذا مال بنا الهوى إلى وجه قومنا لما كان منا إلا الطاعة و لكن لما خلينا و نفوسنا و وكلنا إليها و كانت أحوالنا ما ذكرنا غلبت الأهواء علينا و لم نملك قهرها و كانت المعاصي منا لذلك و الثالث : أن الحجة التي قطعت هي أن لا يقولوا قد كان في عقولنا حسن الإيمان و الصدق و العدل و شكر المنعم و قبح الكذب و الكفر و الظلم و لكن لم يكن فيها أن من ترك الحسن إلى القبيح عذب بالنار خالدا مخلدا فيها و أن من ترك القبيح إلى الحسن أثيب بالجنة خالدا مخلدا فيها لأنه إذا كان لا يدرك بالعقل أن لله جل جلاله خلقا هو الجنة أو خلقا هو النار الغائبة فكيف يدرك أن أحدهما معد للعصاة و الآخر لأهل طاعته و لو علمنا أنا نعذب على معاص و ذنوب متناهية عذابا متناهيا أو غير متناه أو نثاب بالطاعات المتناهية ثوابا غير متناه لما كان منا إلا الطاعة فقطع الله تبارك و تعالى هذه الحجج كلها ببعثة الرسل و بالله التوفيق ثم إن الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ احتج في صحة بعث الرسل بما عرف من بروج الكواكب و عددها و سيرها ثم بما في الأرض مما يكون قوتا و ما يكون دواء لداء بعينه و ما يكون سما و ما يختص بدفع ضرر السم و ما يختص بجبر الكسر و غير ذلك من المنافع و المضار التي لا تدرك إلا بخير ثم بوجود الكلام من الناس فإن من ولد أصم لم ينطق أبدا و من سمع لغة و نشأ عليها تكلم بها فبان بهذا أن أصل الكلام سمع و أن أول من تكلم من البشر تكلم عن تعليم و وحي كما قال الله عز و جل : { وعلم آدم الأسماء كلها } و قال تعالى : { خلق الإنسان * علمه البيان } ثم إن كل رسول أرسله الله تعالى إلى قوم فلم يخله من آية أيده بها و حجة آتاها إياه و جعل تلك الآية مخالفة للعادات إذ كان ما يريد الرسول إثباته بها من رسالة الله عز و جل أمرا خارجا عن العادات ليستدل باقتران تلك الآية بدعواه أنه رسول الله و بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في ذلك إلى أن قال : و الكذب على الله تعالى و الافتراء عليه بدعوى الرسالة من عنده من أعظم الجنايات فلا يليق بحكمة الله تعالى أن يظهر على من تعاطى ذلك آية ناقضة للعادات فيفتتن العباد به و قد تبرأ الله عز و جل من هذا الصنيع نصا في كتابه فقال يعني نبيه صلى الله عليه و سلم : { ولو تقول علينا بعض الأقاويل * لأخذنا منه باليمين * ثم لقطعنا منه الوتين } قال : و كل آية آتاها الله رسولا فإنه يقرر بها عند الرسول أولا أنه رسوله حقا ثم عند غيره و قد يجوز أن يخصه بآية يعلم بها نبوة نفسه ثم يجعل له على قومه دلالة سواها و معجزات الرسل كانت أصنافا كثيرة و قد أخبر الله عز و جل أنه أعطى موسى عليه أفضل الصلاة و السلام تسع آيات بينات : العصا و اليد و الدم و الطوفان و الجراد و القمل و الضفادع و الطمس و البحر فأما العصا فكانت حجته على الملحدين و السحرة جميعا و كان السحر في ذلك الوقت فاشيا فلما انقلبت عصاه حية تسعى و تلقفت حبال السحرة و عصيهم علموا أن حركتها عن حياة حادثة فيها بالحقيقة و ليست من جنس ما يتخيل بالحيل فجمع ذلك الدلالة على الصانع و على نبوته جميعا و أما سائر الآيات التي لم يحتج إليها مع السحرة فكانت دلالات على فرعون و قومه القائلين بالدهر فأظهر الله تعالى صحة ما أخبرهم به موسى عليه أفضل الصلاة و السلام من أن له و لهم ربا و خالقا و ألان الله عز و جل الحديد لداود و سخر له الجبال و الطير و كانت تسبح معه بالعشي و الإشراق و أقدر عيسى بن مريم عليه أفضل الصلاة و السلام على الكلام في المهد و كان يتكلم فيه كلام الحكماء و كان يحيي له الموتى و يبرئ ـ بدعائه أو بيده إذا مسح الأكمه و الأبرص و جعل له أن يخرج من الطين كهيئة الطير فينفخ فيه فيكون طيرا بإذن الله ثم أنه رفعه من بين اليهود لما أن أرادوا قتله و صلبه فعصمه الله تعالى بذلك من أن يخلص ألم القتل و الصلب إلى بدنه و كان الطب عاما غالبا في زمانه فأظهر الله تعالى بما أجراه على يديه و عجز الحذاق من الأطباء عما هو أقل من ذلك بدرجات كثيرة أن التعويل على الطبائع و إمكان ما خرج عنها باطل بأن للعالم خالقا و مدبرا و دل بإظهاره ذلك له و بدعائه على صدقه و بالله التوفيق و أما المصطفى نبينا صلى الله عليه و سلم خاتم النبيين صلوات الله عليهم و عليه و على آله الطيبين و صحبه أجمعين فإنه أكثر الرسل آيات بينات و ذكر بعض أهل العلم أن أعلام نبوته تبلغ ألفا فأما العلم الذي اقترن بدعوته و لم يزل يتزايد أيام حياته و دام في أمته بعد وفاته فهو القرآن المعجز المبين و حبل الله المتين الذي كما وصفه به من أنزله فقال : { وإنه لكتاب عزيز * لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد } و قال تعالى : { إنه لقرآن كريم * في كتاب مكنون * لا يمسه إلا المطهرون * تنزيل من رب العالمين } و قال : { بل هو قرآن مجيد * في لوح محفوظ } و قال : { إن هذا لهو القصص الحق } و قال : { وهذا كتاب أنزلناه مبارك فاتبعوه واتقوا لعلكم ترحمون } و قال : { كلا إنها تذكرة * فمن شاء ذكره * في صحف مكرمة * مرفوعة مطهرة * بأيدي سفرة * كرام بررة } و قال : { قل لئن اجتمعت الإنس والجن على أن يأتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا } فأبان ـ جل ثناؤه ـ أنه أنزله على وصف مباين لأوصاف كلام البشر لأنه منظوم و ليس بمنثور و نظمه ليس نظم الرسائل و لا نظم الخطب و لا نظم الأشعار و لا هو كأسجاع الكهان و أعلمه أن أحدا لا يستطيع أن يأتي بمثله ثم أمره أن يتحداهم على الإتيان بمثله إن ادعوا أنهم يقدرون عليه أو ظنوه فقال تعالى : { قل فاتوا بعشر سور مثله مفتريات } ثم نقصهم تسعا فقال : { فاتوا بسورة من مثله } فكان من الأمر ما نصفه غير أن من قبل ذلك دلالة : و هي أن النبي صلى الله عليه و سلم كان غير مدفوع عند الموافق و المخالف عن الحصافة و المتانة و قوة العقل و الرأي و من كان بهذه المنزلة و كان مع ذلك قد انتصب لدعوة الناس إلى دينه لم يجز بوجه من الوجوه أن يقول للناس : أن ائتوا بسورة من مثل ما جئتكم به من القرآن و لن تستطيعوه إن أتيتم به فأنا كاذب و هو يعلم من نفسه أن القرآن لم ينزل عليه و لا يأمن أن يكون في قومه من يعارضه و إن ذلك إن كان بطلت دعواه فهذا إلى أن يذكر ما بعده دليل قاطع على أنه لم يقل للعرب : أن ائتوا بمثله إن استطعتموه و لن تستطيعوه إلا و هو واثق متحقق أنهم لا يستطيعونه و لا يجوز أن يكون هذا اليقين وقع له إلا من قبل ربه الذي أوحى إليه به فوثق بخبره ـ و بالله التوفيق و أما ما بعد هذا فهو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لهم ائتوا بسورة من مثله إن كنتم صادقين فطالت المهلة و النظرة لهم في ذلك و تواترت الوقائع و الحروب بينه و بينهم فقتلت صناديدهم و سيبت ذراريهم و نساؤهم و انتهبت أموالهم و لم يتعرض أحد لمعارضته فلو قدروا عليها لافتدوا بها أنفسهم و أولادهم و أهاليهم و أموالهم و لكان الأمر في ذلك قريبا سهلا عليهم إذ كانوا أهل لسان و فصاحة و شعر و خطابة فلما لم يأتوا بذلك و لا ادعوا صح أنهم كانوا عاجزين عنه و في ظهور عجزهم بيان أنه في العجز مثلهم إذ كان بشرا مثلهم لسانه لسانهم و عادته عادتهم و طباعه طباعهم و زمانه زمانهم و إذا كان كذلك و قد جاء القرآن فوجب القطع بأنه من عند الله تعالى جده لا من عنده و بالله التوفيق فإن ذكروا سجع مسيلمة فكل ما جاء به مسيلمة لا يعدو أن يكون بعضه محاكاة و سرقة و بعضه كأساجيع الكهان و أراجيز العرب و قد كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول ما هو أحسن لفظا و أقوم معنى و أبين فائدة ثم لم تقل له العرب ها أنت تتحدانا على الإتيان بمثل القرآن و تزعم أن الإنس و الجن لو اجتمعوا على أن يأتوا بمثله لم يقدروا عليه ثم قد جئت يمثله مفترى بأنه ليس من عند الله و ذلك قوله : ( أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب ) و قوله : ( تالله لولا الله ما اهتدينا و لا تصدقنا و لا صلينا ) ( فأنزلن سكينة علينا و ثبت الأقدام إن لاقينا ) و قوله : ( إن العيش عيش الآخره فارحم الأنصار و المهاجره ) و قوله : تعس عبد الدينار و الدرهم و عبد الخميصة إن أعطي منها رضي و إن لم يعط سخط تعس و انتكس و إن شيك فلا انتقش فلم يدع أحد من العرب أن شيئا من هذا يشبه القرآن و أن فيه كثيرا كقوله و حكى الأستاذ أبو منصور الأشعري ـ رحمه الله ـ فيما كتب إلي عن بعض أصحابنا أنه قال : يجوز أن يكون هذا النظم قد كان فيما بينهم فعجزوا عنه عند التحدي فصار معجزة لأن إخراج ما في العادة عن العادة نقض للعادة كما أن إدخال ما ليس في العادة في الفعل نقض للعادة و بسط الكلام في شرحه و أيهما كان فقد ظهرت بذلك معجزته و اعترفت العرب بقصورهم عنه و عجزهم عن الإتيان بمثله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زکریا عنبری نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالسلام سے انہوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے انہوں نے کہا خبر دی ہے عمرو بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل سے انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نےابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں : ( و اذ کر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقا نبیا) ( مریم ۴۱) اے پیغمبر قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ پڑھئے بیشک وہ سچا نبی تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ سارے انبیاء اکرام بنی اسرائیل میں سے تھےمگر دس۔ 1۔ حضرت نوح علیہ السلام ، 2۔ حضرت صالح علیہ السلام ، 3۔ حضرت ہود علیہ السلام ، 4۔ حضرت لوط علیہ السلام ، 5۔ حضرت شعیب علیہ السلام ، 6۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام ، 7۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ، 8۔ حضرت اسحٰق علیہ السلام ، 9۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ، 10۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، انبیاء میں سے صرف دو ایسے تھے جن کے دو نام تھے : ( 1۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرا نامسیح ہے ۔ 2۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ان کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ امام بیہقی کا فرمان : ( ایمان با لرسول ، ایمان با للہ ) کو بھی متضمن ہے ۔ ایمان بالرسول اور درحقیقت اس کتاب کو بھی قبول کرنا ہے جو وہ اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا عزم ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اس بات کی تصدیق کرنا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں درحقیقت ان کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرنا ہے ۔ اور یہی چیز ایمان با للہ اور ایمان بالرسول کے طرف راجع ہوتی ہے اس لئے کہ وہ رسل کی تصدیق اور اطاعت رسول میں درحقیقت اطاعت مرسل ( یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ) ہے ۔ اس لئے کہ اسی کے حکم سے ہی تو اس کی اطاعت اس نے کی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ( من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ) ( النساء ۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی ۔ امام بیہقی نے فرمایا : نبوۃ اسم ہے نباء سے مشتق ہے اور نباء خبر کو کہتے ہیں ۔ مگر اس موقع پر خبر سے مراد خاص خبر ہے اور نبی وہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں سے کسی ایک بندے کو یہ عزت و اکرم عطا کرتے ہیں اور اس کو باقی لوگوں سے ممتاز بنا دیں گے اس کی طرف وحی بھیج کر ۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسے اپنی شریعت پر مطلع کرتے ہیں امر نہی و عظ ۔ ارشاد و عد ، وعید وغیرہ امور سے لہذا نبوت اس طرح کی خبر اور ایسی ہی اطلاعات جو ان مذکورہ صفات سے متصف ہو کانام ہے ۔ ۔ تو بنی وہ ذات مقدس ہوتی ہے جس کو ان امور کی خبر دی جاتی ہے ۔ ان اطلاعات کے ساتھ اگر ان امور کو لوگوں تک پہچانے اور تبلیغ کرنے اور لوگوں کو اس کی دعوت دینے کا حکم دینے کا حکم بھی ہوتا ہے تو وہی انسان نبی اور رسول ہوتا ہے ۔ اور اگر اس کی طرف وحی اس لئے القا کی جاتی ہے تانک وہ خود بذاتہ اس پر عمل کرے اور اس کو ا سکی تبلیغ اور اس کی دعوت کا حکم نہیں دیا جاتا تو تو وہ نبی ہوتا ہے رسول نہیں ہوتا لہذا ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے تخلیق کائنات کے بارے میں واضح آیات کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے اور مخلوق کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور کائنات کے حادث ہونے پر دلالت کرتے ہیں اطلاع اور رہنمائی فرمائی ہے بلکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبوت کے اظہار و اعلان کے لئے بھی رہنمائی فرمائی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( لقد ارسلنا رسلنا بالبیت و انزلنا معھم الکتاب و المیزن لیقوم الناس بالقسط ) ( الحدید ۲۵) البتہ تحقیق بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان عمل تانکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔ ( رسلا مبشرین و منذرین لئلایکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسول ) ( النساء ۱۶۵) بہت سے رسول بھیجے ہم نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تانکہ نہ رہ جائے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت رسولوں کے بعد ۔ ( ولوانا اھلکنا ھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا ، فنتبع ایاتک من قبل ان نذل و نخری ) ( طہ ۱۳۴) اگر ہم ان لوگوں کو رسول کے آنے قبل عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو وہ قیامت میں یہ کہتے اے ہمارے رب ہماری طرف آپ نے کوئی رسول کیوں نہ بھیجا ( اگر آپ رسول بھیجتے ) تو ہم تیری آیات کی اتباع کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے رسولوں کو اپنے بندوں پر تمام حجت کرنے کے لئے بھیجا اور اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر الزام ختم کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس میں کئی وجوہات ہیں : پہلی وجہ : (بسلسلہ رسل جاری فرما کر ) اللہ تعالیٰ نے جس الزام اور جس حجت کو کاٹ دیا اور ختم کر دیا وہ یہ ہو سکتی تھی کہ لوگ قیامت میں یہ کہتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ہم اس کی عبادت کریں تو چاہیئے تھا کہ ہمارے لئے اس عبادت کو بھی بیان کر دیا جاتا جو ہم سے مطلوب تھی اور جس عبادت کو ہمارے لئے پسند کیا تھا ۔ یہ بیان کیا جاتا کہ وہ عبادت کیا ہے ؟ اور کیسی ہے ؟ اگرچہ ہماری عقلوں میں اس سے فائدے کا حاصل کرنا اور اس کا شکر کرنا ان نعمتتوں پر جن کا ہمارے اوپر اس نے انعام فرمایا ہے تو تھا لیکن یہ ہماری عقلوں میں نہیں آتا تھا کہ اطہار عجر و ذلت اس کے آگے کیسے کریں ؟ اور اظہار عبدیات ہماری طرف سے کس طرح ہونا چاہیے اور کس طور پر مناسب ہے کہ اس کا اظہار ہو لہذا یہ ان کی حجت اور ان کا یہ اعتراض اس طرح ختم کر دیا گیا کہ انہیں حکم دئیے گئے ۔ انہیں کہی گئی اور ان کے لئے احکامات جاری کئے گئے ۔ ان کے لئے راستے اور مناہج متعین کئے گئے لہذا وہ اچھی طرح جان گئے کہ ان سے کیا کچھ مطلوب ہے اور اور ان کے سارے شبہات دور ہو گئے ۔ دوسری وجہ : ( بے شک وہ حجت جو کاٹ دی گئی یہ تھی کہ لوگ یہ کہتے ہم لوگ شہوت و غفلت سے مرکب بنائے گئے تھے ہمارے اوپر حرص و ہوا مسلط کئی تئی تھی ۔ ہمارے اندر شہوات و لذات رکھی گئی تھیں ۔ اگر ہماری کسی ایسی انسان کو بھیج مدد کر دی جاتی کہ جب ہم بھول چوک اور سہو غلطی کا شکار ہوتے تو وہ ہمیں تنبیہ کر دیتا اور جب ہمیں ہو اوخواہش اس طرف مائل کرتی تو وہ ہمیں سیدھا چلاتا کیونکہ ہم سے مطلوب تو صرف اطاعت ہی تھی ۔ لیکن ہمارے ساتھ ایسا نہ کیا گیا بلکہ ہمارے درمیان اور ہمارے نفسوں کے درمیان تخلیہ چھوڑ دیا گیا ۔ اور ہمیں مکمل طورپر اپنے نفوس کے حوالے کر دیا گیا خصوصا اس وقت جب ہماری کیفیات وہ تھی جو ہم نے بتلائی ہیں تو بلا محالہ ہمارے اوپر ہماری خواہشات غالب آ گئیں ۔ ہم ان پر جبر کرنے پر قادر نہ رہ سکے تھے لہذا اسی واسطے ہم سے نافرمانیاں اور معاصی ہو گئے تھے ۔ تیسری وجہ : رسولوں کو بھیج کر جو الزم ختم کر دیا گیا اور جو حجت کاٹ دی گئی یہ تھی کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ہمارے عقلوں میں آتی تھی ۔ لیکن ہماری عقلوں میں از خود یہ بات آتی تھی کہ جو شخص اچھائی کو ترک کر کے برائی کی طرف چلا جائے حسن کو چھوڑ کر قبیح کا ارتکاب کرے وہ آگ کے عذاب میں ڈال دیا جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہے گا ۔ اور جو شخص قبیح کو چھوڑ کر حسن کا ارتکاب کرے گا برے کام چھوڑ کر اچھے کام کرے گا وہ جنت کا ثواب اور بدلہ دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہے گا یہ بات ہماری عقل میں نہیں آ سکتی تھی ۔ کیونکہ یہ بات عقل سے معلوم نہیں ہو سکتی تھی اور عقل کے ساتھ نہیں سمجھا سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق ایسی بنائی ہے جس کو جنت کہتے ہیں اور ایک مخلوق وہ بنائی ہے جس کو جہنم کہتے ہیں اور وہ آگ سے ہے اور وہ دونوں مخفی اور غائب تھیں لہذا اس بات کا ادراک کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک گنہگاروں کے لئے بنائی گئی ہو اور دوسری اہل اطاعت کے لئے اگر ہم جان لیتے کہ ہم گناہ کرنے پر عذاب دیئے جائیں گے اور محدود گناہوں پر محدود عذاب اور غیر محدود گناہ کرنے پر عذاب بھی غیر محدود دیئے جائیں گے اور محدود اطاعات پر غیر محدود ثواب دیئے جائیں گے اس لئے کہ ہم سے مطلوب صرف اطاعت تھی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر یہ تمام حجتیں کاٹ دیں اور یہ سارے الزام ختم کر دیئے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے رسولوں کی بعث کی صحت و ضرورت پر حجت پکڑی ہے اور دلیل دی ہے ۔ ان امور کے ساتھ جو مشہور و معروف ہیں ستاروں کے برج ان کی تعداد۔ اور ان کی رفتار کے ساتھ پھر ان چیزوں کے ساتھ جو زمین میں غذا کی بابت نہیں ان کے ساتھ ۔ اور ان چیزوں کے ساتھ جو دور میں کسی خاص بیماری کے لئے اور ان چیزوں کے ساتھ جو زہر ہیں ۔ اور ان کے ساتھ جو زہر کے نقصان کو دور کرنے کے ساتھ مختص ہیں اور انکے ساتھ جو کسر اور ٹوٹنے کو درست کرنے کے لئے مخصوص ہیں ۔ اور علاوہ اس کے منافع اور نقصانات کے ساتھ جن کا ادراک بجز وحی کے نہیں ہو سکتا۔ پھر لوگوں کے کلام کے وجود سے بیشک وہ انسان جو بہرہ پیدا ہوتا ہے وہ کبھی بھی نہیں بول سکتا۔ اور جو بچہ کسی بھی لغت سنتا ہے اور اسی پر پرورش پاتا ہے اسی لغت کے ساتھ کلام بھی کرتا ہے ۔ اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ کلام کی اصل سننا ہے اور بے شک وہ پہلا انسان جس نے کلام کیا تھا اس نے تعلیم سے اور وحی سے تکلم کیا تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ۔ ( و علم ادم الا سماء کلھا ) ( البقرۃ ۳۱) اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھلائے ۔ اور ارشاد فرمایا : ( خلق الانسان ۔ علمہ البیان ) ( الرحمن ۴۰۳) انسان کو پیدا کیا ۔ اس کوبیان کرنا سکھلایا۔ پر ہر رسول جسے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی قوم کی طرف بھیجا اسی کوئی نہ کوئی معجزہ اور نشانی ضرور عطا کی جس کے ساتھ اس کو تائید دی۔ اور ضرور اے کوئی نہ کوئی حجت و دلیل بھی ساتھ دی اور رسول کو دی جانے والی آیت یا نشانی یا معجزہ کو عادات کے خلاف بنا دیا۔ اس لئے کہ رسول جس چیز کا اس معجزے یا نشانی کے ساتھ اثبات چاہتا تھا یعنی اللہ کی عطا کردہ رسالت وہ خود ایسا امر تھا جو خارج تھا عادات سے تاکہ اس معجزے یا نشانی کے ساتھ اثبات چاہتا تھا یعنی اللہ کی عطا کردہ رسالت وہ خود ایسا امر تھا جو خارج تھا عادات سے تاکہ اس معجزے یا نشانی کے اپنے دعوے کے ساتھ ملنے سے اس بات پر استدلال کر سکے کہ وہ رسول ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بارے میں تفصیلی کلام کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسالت کا چھوٹا دعویٰ کر کے اللہ پر افتراء اور جھوٹ بولنا سب سے بڑا جرم ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت و فراست کے لائق نہیں ہے کہ وہ ہر کسی و ناکس کے ہاتھ پر ایسی امور کو ظاہر کر دے جو عادات کے خلاف ہوں اور پھر وہ اس کے ذریعے بندوں کو فتنے میں واقع کرتا پھرے اور اللہ تعالیٰ نے اس فعل سے برأت و بیزاری کرتے ہوئے اپنی کتاب میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے اور اپنے نبی کا ارادہ فرماتے ہوئے فرمایا : ( ولو تقول علینا بعض الا قاویل ،لا خذنا منہ بالیمین، ثم لقطعنا منہ الوتین ) ( الحاقہ ۴۴-۴۶) اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ۔ ہر وہ نشانی جو اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو عطا فرمائی پہلے تو وہ اس سے یہ ثابت فرماتا ہے رسول کے متعلق کہ وہ اللہ کا سچا رسول ہے ۔ پھر دوسرے لوگوں کے سامنے یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ سچا رسول ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی نشانی صرف اور صرف رسول کے لئے مخصوص کر کے اس کو اس کی اپنی نبوت کا علم دے پھر اس کی قوم کے لئے اس کے علاوہ کوئی ثبوت عطا کرے ۔ رسولوں کے معجزات کی اقسام بہت ساری تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اطلاع فرمائی ہے کہ اس ے موسیٰ رحمتہ اللہ علیہ کو نو آیت بینات عطا فرمائی تھیں ۔ 1۔ عصا کا معجزہ ، 2 ۔ یدبیضء کا معجزہ ، 3۔ خون ، 4،۔طوفان ، 5۔ ٹڈیوں کا ، 6۔ چچڑیاں ، 7۔ مینڈک ، 8۔ چہروں کا مٹانا، 9۔ دریا چیرنا ۔ عصاءکا معجزہ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا یہ تمام ملحدوں اور جادو گروں کے خلاف حجت تھی ۔ اس وقت جادو زوروں پر تھا ۔ جب موسیٰ علیہ السلام کا عصاء دوڑتا ہوا سابپ بن گیا اور جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا تو انہیں یقین آ گیا کہ اس کی حرکت نو پیدا حیات اور زندگی کی وجہ سے ہے جو کہ حقیقی زندگی ہے یہ اس طرح کی اور اس جنس کی نہیں ہے جو مختلف حیلوں اور تدبیروں سے جادوگروں نے وہم و خیال پیدا کر دیا ہے ۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ ایک طرف تو حقیقی صانع کی صنعت پر یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کر رہا تھا اور دوسری طرف موسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر اکٹھے دو چیزوں کا ثبوت پیش کر رہا تھا۔ ہر حال باقی تمام نشانیاں جن کا تعلق ساحروں وغیرہ سے نہیں تھا وہ نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کے خلاف تھیں جو اس بات کے قائل تھے کہ زمانہ ہی خالق ہے دھریت کا نظریہ رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے وہ نشانیاں موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرما کر ان کے ذریعے یہ ظاہر فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جو کچھ خبر دی ہے وہ صحیح ہے اور جو پیغام دیا ہے وہ سچا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا اور ان سب کا ایک رب ہے اور ان کا خالق ہے ۔ داؤد علیہ السلام کے معجزے : 1۔ اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم فرما دیا تھا۔ 2۔ اسی طرح ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا۔3۔ اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو کہ شام کو بھی اور صبح کو بھی ان کے ساتھ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے تھے ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ، 1۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو جھولے میں کلام کرنے پر قادر بنا دیا تھا کہ وہ جھولے میں حکماء اور داناؤں کی طرح کلام کرتے تھے ۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے مردوں کو زندہ کرتا تھا۔ 3۔ اور ان کی دعا سے اور ان کے ہاتھ کے ساتھ جب وہ ہاتھ لگاتے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اللہ تعالیٰ ٹھیک کر دیتے تھے ۔ 4۔ اور انہیں یہ قدرت کہ وہ مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتے اور وہ اللہ کے حکم کے ساتھ پرندہ بن جاتا۔ 5۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہودیوں کے بیچوں سے اس وقت اوپر اٹھا لیا جب وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور ضلیب پر لٹکا نا چاہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر اٹھا کر ان کے جسم کو قتل اور پھانسی کی اذیت و تکلیف سے نجات دے دی۔ اس دور میں طب عام تھی اور عروج پر تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے جو معجزات ان کے ہاتھ پر جاری کئے ان کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ حاذق طیب اور حکما ان نشانیوں اور معجزات سے کئی گناہ کم درجات کے کارناموں سے بھی عاجزت تھے ۔ اور اسی زمانہ میں طبائع کی کیفیت ایسی تھی کہ ان کے آگے چیخ چیخ کر یہ بتانا بلکہ اس کا امکان ظاہر کرنا کہ عالم کا خالق ہے اور کوئی مدبر ہے سب کچھ بے کار تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مذکورہ معجزات اور نشانیوں کے اظہار سے اس پر دلیل قائم کر دی اور ان کی دعوت کے ساتھ ان کے صدق پر حجت قائم کر دی ۔ بہر حال ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم النبین اللہ کی رحمتیں ہوں ان سب پر اور حضور پر اور آپ کی آل پاک پر اور سب کے سب صحابہ پر۔ آپ کے معجزات تمام رسولوں سے زیادہ ہیں ۔ بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ آپ کی نبوت کے نشانات و معجزات ایک ہزار تک پہنچتے ہیں ۔ مگر ان تمام نشانیوں میں سے وہ نشانی معجزات میں سے وہ معجزہ جو آپ کی دعوت سے مقترن ہے اور ملا ہوا ہے ۔جو آپ کی زندگی کے ایام میں برابر بڑھتا گیا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت میں ہمیشہ سے ہے وہ قرآن مجید ہے جو واضح طور پر معجز ہے ۔ جو اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ وہ بالکل اسی کا مصداق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی خود تعریف بیان فرمائی ہے ۔ ارشاد فرمایا : ( و انہ لکتاب عزیز لا یا تیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ) ( حم سجدہ ۴۱-۴۲) بے شک وہ قرآن مضبوط کتا ایسی ہے کہ باطل اس کے قریب بھی نہیں آ سکتا نہ اس کے آگے نہ اس کے پیچھے حکمت والی اور محمود ذات نے اسے نازل فرمایا ہے ۔ اور ارشاد فرمایا ہے : ( انہ لقران کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون ) (12) تنزیل من رب العالمین ) ( واقعہ ۷۷-۸۰) بے شک یہ قرآن ہے عزت والا ، جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہے پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔ (۳) بل ھوقرآن مجید فی لوح محفوط ) ( بروخ ۲۱-۲۲) ( یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں ) بلکہ یہ عظیم الشان قرآن ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ ( 4) ان ھذا لھوا لقصص الحق ) ( آل عمران ۶۲) بے شک یہ قرآن سچے واقعات ہیں ۔ ( ۵) و ھذا کتاب انزلناہ مبارک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون ) ( انعام ۱۵۵) یہ وہ کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے ۔ برکت والی ہے اسی کی اتباع کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ (۶) انھا تذکرہ فمن شا ذکرہ فی صحف مکرمہ ، مرفوعۃ مطھرۃ ، بایدی سفرۃ کرام بررۃ ) ( عبس ۱-۱۶) دیکھو یہ قرآن نصیحت ہے ۔ جو چاہے اسے یاد رکھے ۔ قابل ادب ورقوں میں لکھا ہوا ہے جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں ۔ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سردار اور نیکوکار ہیں ۔ (۷ ) قل لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان یاتو ابمثل ھذا القران لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) ( اسراء ۸۸) کہہ دیجئے اگر تمام انسان اور جن اکٹھے ہو جائیں اس بات پر کہ اس قرآن کی مثل بنا کر لے آئیں تو اس کی مثل نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ب ایک دوسرے کے معاون بن جائیں ۔ ان آیات میں اللہ جل شانہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے قرآن مجید کو ایک ایسی صفت پر اتارا ہے جو بشر کے کلام کے مبائن ہے یعنی اس سے جدا ہے اور مختلف ہے ۔ اس لئے کہ یہ نہ تو نظم ہے اور نہ ہی نثر ہے ۔ ( نظم ہے مگر ) اس کی نظم خطوط و رسائل والی نظم نہیں ہے و عظ و تقریر والی نظم نہیں ہے ۔ اشعاروں والی نظم نہیں ہے ۔ کاھنوں کے سجعوں جیسانہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی اس کی مثل لانے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کو چیلنج کر دیں کہ وہ اس کی مثل بنا کر لائیں اگر انہیں اس بات کا ادعاء ہو یا وہم گمان ہو کہ وہ اس پر قادر ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہوا : ( قل فاتوا بعشر سور مفتریات ) ( ھود ۱۳) فرما دیجیے کہ لے آؤ تم دس سورتیں افترا کی ہوئی ۔ پھر انکے لئے نو سورتیں کم کرنے فرمایا : ( فاتوا بسورۃ من مثلہ) ( بقرہ ۲۳) لاؤ تم کوئی ایک سورۃ اس جیسی۔ قرآن مجید کی حقانیت کی ایک فطری اور عقلی دلیل یہ ہے کہ خود حاصل قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مخالف و موافق کی نظر میں اور اپنے اوپرائے کی نظر میں ہر الزام اور ہر اعتراض سے پاک تھے سب کی نظروں میں مقبول تھے عمدہ دائرے اور پختہ سمجھ رکھنے والے تھے متناسب اور سنجیدگی کے مالک تھے قوت عقل اور اصابت رائے سے آراستہ تھے ۔ ظاہر ہے جو انسان شرافت ومتانت و سنجیدگی کے اس مرتبہ و مقام پر فائز ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دینے کے لئے کھڑا ہو عقل نہیں مان سکتی اور کسی بھی اعتبار سے ممکن بھی نہیں کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم کوئی ایک سورۃ اس جیسی لے آؤ جو تمہارے پاس لے کر آیا ہوں یعنی قرآن اور تم ہر گز اس کو نہیں لا سکو گے ۔ اور اگر تم اس کو لے آؤ گے تو میں اپنے اس دعوے میں کاذب ہوں گا کہ میں اس کو اللہ کی طرف سے لے آیا ہوں ، یہ میرا اپنا کلام نہیں میری اختراع ایجاد نہیں ہے نہ ہی کسی اور بندے کی ہے ۔ خصوصاً اس صورت میں تو آپ کبھی یہ چیلنج نہیں کر سکتے تھے جب اپنے دل میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ قرآن ان پر نہیں اترا ( اگر واقعتہ نہ اترا ہوتا تو وہ کبھی یہ چیلنج نہ کرتے ) جب کہ انہیں یہ بھی خطرہ تھا کہ ان کی قوم میں فصحیوں بلیغوں اور ادیبون کی کمی نہیں ہے کوئی ایک بھی میری قوم میں سے میرے مقابلے کے لئے کھڑا ہو جائے گا۔ اگر آپ کا دعویٰ باطل ہوتا تو آپ کبھی یہ چیلنج نہ کرتے ۔ جب آپ نے یہ چیلنج کیا تو یہ قطعی دلیل ہے اس بات کی کہ آپ نے پورے عرب کو ایسے نہیں کہہ دیا تھا کہ اس کی مثل پیش کرو اگر کر سکتے ہو تو لیکن میں کہتا ہوں تم ہر گز ایسا نہیں ک سکو گے ۔ آپ اسے نہیں کہہ سکتے تھے مگر اس وقت جب آپ کو یقین محکم ہو کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے اور بالکل نہیں کر سکتے ۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ آپ نے محض اپنے اندازے سے یہ یقین بنا لیا ہو جب تک کہ یہ یقین ان کو انکے رب کی طرف سے نہ دلایا گیا ہو جن کی طرف سے اپ کے پاس وحی آ رہی تھی لہذا آپ نے اس رب کی خبر پر یقین کرتے ہوئے اتنا بڑا چیلنج انتہائی وثوق و اعتماد کے ساتھ کر دیا تو یہ فطری اور عقلی اور حسی دلیل ہے اس بات کی قرآن اللہ کا بے مثل کالم ہے کسی بندے کی اختراع و ایجاد نہیں ہے ۔ پس منظر سے پیش منظر کی طرف آئیے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ چیلنج دے دیا کہ اگر تم لوگ میری مخالفت اور قرآن کی مخالفت میں سچے ہو یہ کہنے میں اگر سچے ہو کہ یہ اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ کسی بندے کی اختراع ہے ایجاد ہے تو تم بھی بندے ہو صاحب زبان ہو ادیب ہو تمہارے اندر بھی فصحاء کی کمی نہیں ہے زبان کا ماہرین کا قحط الرجال نہیں ہے اس پورے قران کا مقابلہ نہ کرو صرف ایک سورت اس جیسی بنا کر لے آؤ اگر تم سچے ہو ۔ دنیا گواہ ہے آسمان شاہد ہے ۔ مہلت لمبی ہوتی چلی گئی اس بارے میں ان کو پوری پوری مدت مہلت اور ڈھیل دی گئی ، یہاں تک کہ اس چیلنج کے بعد مسلسل حوادث و مصائب پیش آتے رہے اسی چیلنج کرنے والے عظیم انسان کے چیلنج کے ہوتے ہوئے دونوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں ۔ اہل عرب کے سردار اور صنادیدمکہ قتل ہوتے رہے ۔ ان کی اولادیں قید ہوتی رہیں عورتیں لونڈیاں بنتی رہیں ۔ ان کے مالٹتے رہے لیکن چشم فلک نے پہلی بار یہ منظر دیکھا کہ ان مصائب سے دو چار ہونے والی قوم میں سے کوئی مائی کا لال یہ جرات نہ کر سکا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قرآن کا مقابلہ کرتا ہوں اور پورے عرب کو اس مصیبت سے نجات دلاتا ہوں ۔ عقل پکار پکار کر کہتے ہے کہ اگر وہ لوگ اس پر قادر ہوتے تو وہ ضرور اس کے ساتھ اپنے نفسوں کا فدیہ دیتے اپنی اولادوں کو بچاتے اپنے مالوں کو بچاتے اپنی عورتوں کو بچاتے تو معاملہ اس طرح ان پر آسان ہو جاتا خصوصا جب کہ وہ اہل زبان تھے اہل فصاحت تھے شعرو خطابت کے ماہر تھے۔ جب وہ قرآن کی ایک بھی سورۃ کی مثال بنا کر نہ لا سکے نہ ہی وہ اس بات کا ادعا کر سکے تو یہ حقیقت مسلم ہو گئی کہ وہ اس بات سے عاجز تھے ۔ اور ان کے عجر کے ظاہر ہونے میں اس بات کا بیان بھی ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کام سے عاجز ہونے میں انہیں کی مثل تھے ۔ اس لئے کہ انہیں کی مثل بشر تھے ۔ ان کی زبان انہیں کی زبان تھی ، ان کی عادت انہیں عالی عادت تھی ۔ ان کی طبیعت انہیں والی طبیعت تھی ۔ ان کا زمانہ انہیں والا زمانہ تھا جب یہ سب باتیں ویدی ہی تھیں مگر اس کے باوجود قران مجید جیسی بے مثل و بے معارضہ کتاب آ گئی تو پھر واجب ہے کہ یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے ۔ اگر مسیلمہ کے سجعوں کا ذکر کریں تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا سارا کلام اس سے تجاوز نہیں کرتا اس کا کچھ حصہ ایک دوسرے کی حکایت گوئی سے ہے اور سرقہ یعنی چرایا ہوا کلام ہے ، کچھ حصہ کاہنوں کے سجع ہیں اور عرب کے رجز ہیں ۔ اس سے تو خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام احسن ہوتا تھا اعتماد سے اور معنوی اعتبار سے زیادہ درست تھا۔ اور فائدہ کے اعتبار سے زیادہ واضح تھا ۔پھر اس کے باوجود اہل عرب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ الزام نہیں دیا اور ان پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ ہمیں تو قرآن کی مثل لے آنے کا چیلنج کرتے ہیں اور دیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام انسان اور تمام جن مل کر اگر قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے نہیں ہے بلکہ آپ کا اپنا کلام ہے ۔ یہ آپ کا قول تھا۔ ( انا النبی لا کذب ۔ انا ابن عبدالمطلب ) میں نبی ہوں جھوٹ نہیں ۔ میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں ۔ ( تاللہ لو لا اللہ ما ھتدینا۔ ولا تصدقنا ولا صلینا) قسم بخدا اگر اللہ پاک نہ ہوتا ہمیں راستہ نہ ملتا ۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ ہم نماز پڑھتے ۔ ( ان العیش عیش الا خرۃ۔ فارحم الا نصار و المھاجرۃ ) بے شک اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ۔ اللہ تو مہاجرین و انصارپر رحم فرما۔ ( تعیس عبدالدینار و الدرھم ، و عبدالخمیصیۃ ان اعطی منھا رضی و ان لم یعط سخط، تعیس و انتکس ( ون شیک ) فلا انتفش ) دوہم و دینار کا بندہ ہلاک ہو جائے کپڑے لٹے کا بندہ تو اگر اس یں سے کچھ مل جائے خوش ہو جائے اگر نہ ملے تو ناراض ہو جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کلام اور اس جیسا اور بہت سارا کلام جو الفاظ کی دنیا میں حسین ترین کلام ہے اور معنی اور مطلب کی دنیا میں سب سے زیادہ فٹ اور درست ہے ۔ تکلف و تضع سے پاک ہے ۔ عرب میں سے کسی اک نے بھی اس بات کا دعویٰ نہ کیا کہ اس کے کلام میں سے کوئی شے قرآن کے مشابہ ہے ۔ استاذ ابو منصور اشعری رحمتہ اللہ علیہ نے میری طرف ہمارے بعض اصحاب کی طرف سے لکھا کہ انہوں نے کہا عین ممکن ہے کہ یہ نظم بھی اہل عرب کے درمیان زیر بحث آئی ہو اور چیلنج کے وقت وہ اس سے بھی عاجز ہو گئے ہوں لہذا یہ بھی معجزہ بن گیا ہو اس لئے کہ جو چیز عادت میں شمار ہوتی ہو اس کو عادت سے نکال دینا عادت کو توڑ دینا ہوتا ہو بالکل اسی طرح جیے اس چیز کو عادت میں داخل کرنا جو عادت میں نہیں ہے عادت کو توڑ دیتا ہے ۔ شیخ نے اس کی شر ح میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔ دونوں میں سے جو بھی بات ہو اس کے ساتھ آپ کا معجزہ ظاہر ہو گیا اور عرب نے اپنے عجز کا اعتراف کر لیا اور اس کی مثل لانے سے عاجز ہونے کا اقرار کر لیا۔

ابن عباس في قوله عز و جل ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ عمرو بن محمد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 133

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 134

134 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن أيوب السختياني عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما : أن الوليد بن المغيرة جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقرأ عليه القرآن فكأن رق له فبلغ ذلك أبا جهل ـ فذكر ما جرى بينهما ـ إلى أن قال الوليد : و الله ما فيكم رجل أعلم بالأشعار مني و لا أعلم برجزه و لا بقصيدته مني و لا بأشعار الجن و الله ما يشبه الذي يقول شيئا من هذا و الله إن لقوله الذي يقول حلاوة و إن عليه لطلاوة و إنه لمثمر أعلاه مغدق أسفله و إنه ليعلو و ما يعلى و إنه ليحطم ما تحته و ذكر الحديث قال البيهقي ـ رحمه الله ـ هكذا حدثناه موصولا و رواه حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة مرسلا و ذكر الآية التي قرأها : { إن الله يأمر بالعدل و الإحسان } و روينا من وجه آخر عن ابن عباس أتم من ذلك حين اجتمع الوليد بن المغيرة و نفر من قريش و قد حضر الموسم ليجتمعوا على رأي واحد فيما يقولون في محمد صلى الله عليه و سلم لوفود العرب فقالوا : فأنت يا أبا عبد شمس ! فقل و أقم رأيا نقوم به فقال : بل أنتم فقولوا أسمع فقالوا : نقول كاهن فقال : ما هو بكاهن لقد رأيت الكهان فما هو بزمزمة الكاهن و سحره فقالوا : نقول : هو مجنون فقال : ما هو بمجنون و لقد رأينا الجنون و عرفناه فما هو بخنقه و لا تخالجه و لا وسوسته فقالوا : نقول : شاعر قال : ما هو بشاعر و لقد عرفنا الشعر برجزه و هزجه و قريضه و مقبوضه و مبسوطه فما هو بالشعر قالوا : فنقول : هو ساحر قال : فما هو ساحر لقد رأينا السحار و سحرهم فما هو بنفثه و لا عقده فقالوا : فما نقول يا أبا عبد شمس ؟ قال : و الله إن لقوله لحلاوة و إن أصله لمغدق و إن فرعه لجنى فما أنتم بقائلين من هذا شيئا إلا عرف أنه باطل و إن أقرب القول أن تقولوا : ساحر يفرق بين المرء و أبيه و بين المرء و بين أخيه و بين المرء و بين زوجه و بين المرء و بين عشيرته فتفرقوا عنه بذلك فأنزل الله عز و جل في الوليد بن المغيرة : { ذرني ومن خلقت وحيدا } إلى قوله { سأصليه سقر }

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے مکہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے کہ خبر دی ہے عبدالرزاق نے معمر سے انہون نے ایوب سختیانی سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ ولید بن مغیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ نے اس کے آگے قرآن کی تلاوت کی جس سے اس کا دل بڑا نرم ہوا، یہ خبر ابو جہل کو پہنچی ولید نے پورا ماجرا سنایا اسی اثناء میں ولید نے کہا قسم بخدا تمہارے اندر اشعار کو جاننے والا مجھے سے بڑ ا کوئی نہیں اور نہ مجھ سے زیادہ کوئی رجزو قصیدہ پڑھنے اور جاننے والا ہے ۔ اور نہ ہی جنوں کے اشعار میں اللہ کی قسم محمد جو کہتا ہے اس میں سے کوئی شئی بھی اس کی مثل نہیں ہے اللہ کی قسم اس کے قول میں جو وہ کہتا ہے ایک حلاوت ہے مٹھاس ہے اور اس کلام پر تازگی ہے ۔ وہ کلام ہے جس کا اوپر پھل دار ہے جس نچلا حصہ چشمہ آب شیریں ہے ۔ وہ برتر ہے غالب ہے مغلوب نہیں ہے ۔ وہ کاٹنا ہے جو اس کے تحت ہے ۔ امام بیہقی نے فرمایا : ہمیں انہوں نے اسی طرح موصول حدیث بیان فرمائی ۔ اس روایت کو حماد بن زید نے ایوب سے عکرمہ سے مرسلاروایت کیا ہے اس نے وہ آیت بھی ذکر کی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تلاوت کی تھی ۔ وہ تھی : ( ان اللہ یا مر بالعدل و الاحسان ) ( النحل ۹۰) بے شک اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے ۔ ہم نے اس کو ایک دوسرے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے جو کہ اس بھی زیادہ اتم ہے ۔ جب ولید بن مغیرہ اور قریش کا وفد اکٹھے ہوئے تاکہ وہ اس موسم میں حج میں کسی ایک بات اور کسی ایک رائے پر متفق ہو سکیں جس کے بعد عرب کے وفود سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں جو کچھ بات چیت کیا کریں گے ۔ ایک متفق علیہ بات ہو گی۔ چنانچہ قریش نے ولید بن مغیرہ سے کہا اے عبد شمس آ پ بات کریں اور اپنی رائے قائم کریں ( محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بارے میں ) ہم بھی اپنے رائے دیں گے ۔ ولید بن مغیرہ نے کہا نہیں آپ لوگ ( محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں ) بات کریں میں سنوں گا۔ قریش نے کہا ۔ ہم تو کہتے ہیں کہ یہ کاھن ہے ( غیب کی خبریں ہانکنے والا ) ولید بن مغیرہ نے کہا ۔ نہیں وہ کاہن نہیں ہے ۔میں بہت سارے کاہن دیکھ چکا ہوں ( اس کاکلام ) کاہن کی بھنبھناہٹ نہیں ہے نہ ہی کاہن کا سحر ہے ۔ قریش نے کہا ۔ ہم تو کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہے ۔ ( دیوانہ ہے ) ۔ ولید بن مغیرہ تے جواب دیا۔ نہیں وہ مجنون اور دیوانہ نہیں ہے ہم نے جنون دیکھا ہے ہم اس کو پہچانتے ہیں اس کو مجنوں کا خنقہ ( یعنی گلا گھٹنا ) نہیں ہے اور مجنوں کا اس کے ساتھ مخالجہ اور فکر و ترددنہیں ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ پاگل کا وسواس ہے قریش نے کہا ۔ پھر تو ہم کہتے ہیں شاعر ہے ۔ ولید نے جواب دیا ۔ وہ شاعر بھی نہیں ہے قسم بخدا ہم شعر کو اس کی اس کی ان اقسام کے ساتھ پہچانتے ہیں ۔ شعر پر جز ہوتا ہے ھزج ہوتا قریضہ ہوتا ہے ۔ مقبوضہ ہوتا ہے ۔ مبسوط ہوتا ہے ۔مگر اس کا کلام تو شعر بھی نہیں ہے قریش نے کہا ہم کہیں کہ وہ ساحر ہے ( جادوگر ) ۔ ولید نے کہا ۔ وہ جادوگر بھی نہیں ہے ۔ ہم نے بڑے بڑے جادوگر دیکھے ہیں اورانکا جادو بھی دیکھا ہے نہ ہی یہ کلام جادو گر کی پھنکار اور چھچھکار ہے نہ ہی جادوگر کا گنڈا اور گرہ ہے قریش نے کہا ۔ اے عبدشمس پھر ہم اس کو کیا کہیں ؟ ولید نے کہا اللہ کی قسم بیشک اس کی بات میں بڑی حلاوت اور مٹھاس ہے ۔ اس کا کلام ( ایسا درخت ہے ) جس جڑ میں سے آب شیریں کے چشمے پھوٹنے ہیں اور جس کی ٹہنی میوے اور پھل سے لدی ہوئی ہے ۔ تم اس میں کسی شئی کو ماننے والا نہیں ہو مگر یہی کہ سب غلط اور باطل ہے ۔ ( تمہاری عقلوں کے ) قریب قریب بات یہ ہے کہ وہ ایسا جادو گر ہے جو آدمی کے اور باپ درمیان فاسلہ پیدا کر دیتا ہے آدمی کے اور اس کے بھائی کے درمیان آدمی کے اور اس کی بیوی کے درمیان ۔ آدمی کے اور اس کے قبیلے و خاندان کے درمیان اسی گفتگو کے ساتھ قریش ولید سے اٹھ کر چلے گئے اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ۔ ( ذرنی و من خلقت و حیدا، وجعلت لہ مالا ممدودا، و بنین شھودا و مھدت لہ تمھیدا ۔ ثم یطمع ان ازیدکلا ، انہ کان لا یا تنا عنیدا سارھقہ صعودا، انہ فکرو قدر فقتل کیف قدر ثم نظر ثم عبس و بصرثم ادبرو استکبر، فقال ان ھذا الا سحر یؤثران ھذا الا قول البشر ، ساصلیہ سقر) ( المدثر ۱-۲۶) ۔ چھوڑ دیجئے مجھے اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا تنہا، اور بنایا میں نے اس کے لئے بہت سارا مال ، اور ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے اور تیار کر دیا میں نے اس کے لئے ہر طرح کا سامان تیار کر دیا ۔ پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ اس کو دوں ، ہر گز نہیں ۔ بلاشبہ وہ ہماری آیات کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب چڑاؤں گا میں اس کو اونچی گھاٹی پر ۔ بلاشبہ اس نے سوچا اور اندازہ لگایا۔ پھر اسے خدا کی مار اس نے کیسا انداز لگایا۔ پھر اس نے نگاہ کی۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور برا ھند بنایا۔ پھر بیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔ پھر کہنے لگا یہ قرآن تو کچھ نہیں مگر جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے ۔ یہ اور کچھ نہیں ہے مگر بندے کا قول ہے عنقریب میں اس کو دوزخ میں ڈالوں گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 134

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 135

135 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن ابن إسحاق حدثني محمد بن أبي محمد عن سعيد بن جبير أو عكرمة عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما ـ : أن الوليد بن المغيرة اجتمع و نفر من قريش فذكره و قد ذكرناه في كتاب دلائل النبوة في الجزء الثامن منه مع سائر ما ورد عن النضر بن الحارث و عتبة بن ربيعة و غيرهما فيما قالوا عند سماع القرآن و اعترفوا به من أنهم لم يسمعوا بمثله و في القرآن وجهان من الإعجاز : أحدهما : ما فيه من الخبر عن الغيب أبو جعفر الرزاز ذلك في قوله عز و جل : { ليظهره على الدين كله و لو كره المشركون } و قوله : { ليستخلفنهم في الأرض } و قوله في الروم : { وهم من بعد غلبهم سيغلبون * في بضع سنين } و غير ذلك من وعده إياه بالفتوح في زمانه و بعده ثم كان كما أخبر و معلوم أنه صلى الله عليه و سلم كان لا يعلم النجوم و لا الكهانة و لا يجالس أهلها و الآخر : ما فيه من الخبر عن قصص الأولين من غير خلاف ادعى عليه فيها فيما وقع الخبر عنه ممن كان من أهل تلك الكتب و معلوم أنه صلى الله عليه و سلم كان أميا لا يقرأ كتابا و لا يخطه و لا يجالس أهل الكتاب للأخذ عنهم و حين زعم بعضهم أنه يعلمه بشر رد الله تعالى ذلك عليه فقال : { لسان الذي يلحدون إليه أعجمي و هذا لسان عربي مبين }

ہمیں اسی کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان بتائی ہے احمد بن عبدالجبار نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی محمد نے سعید بن جبیر سے یا عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کہ ولید بن مغیرہ اور قریش کا ایک وفد اکٹھے ہوئے پھر آ کے مذکورہ عبارت ذکر کی ہے ۔ ہم نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ کی آٹھویں جلد میں مذکورہ روایت کو ذکر کیا ہے ۔ اور دیگر ان تمام روایات کو بھی ذکر کیا ہے ۔ جو نضر بن حارث سے عتبہ بن ربیعہ وغیرہ سے وارد ہوئی ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید کے سماع کے وقت کیا کچھ کہا اور انہوں نے جو اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے اس کی مثل کبھی نہیں سنا۔ پہلی وجہ وہ ہے جس میں غیب کی خبر ہے ۔ اس کا بیان اس ارشاد باری میں ہے ۔ ( لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ) ( توبہ ۳۳، الصف ۹) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا ہدایت و دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرک اس کو ناپسند کریں ۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : ( ( لیستخلفنھم فی الارض ) ( النور ۵۵) اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ضرور دھرتی پر خلافت عطا کرے گا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ صورۃ الرو میں : ( و ھم من بعد غلبھم سیغلبونفی بضع سنین ) آیت ۴۰۳) ( رومی مغلوب ہو گئے ہیں قریب ملک میں) اور وہ اپنے مغلوب ہو جانے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے صرف چند سالوں کے اندر اندر ۔ علاوہ ازیں اس مذکور کے اللہ تعالیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے فتوحات کے وعدے آپ کے زمانے میں اور آپ کے بعد پھر ایسے ہی ہوا جیسے قرآن نے خبر دی ہے ۔ اور یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ نجوم کے علوم سے واقف تھے نہ ہی کہانت کو جانتے تھے اور نہ ہی نجومیوں کے پاس بیٹھتے تھے اور نہ ہی کاہنوں کے پاس بیٹھتے تھے ۔ دوسری وجہ اعجاز قرآنی کی دوسری صورت وہ پہلے لوگوں کے قصے اور خبریں ہیں جو سچ سچ بیان ہوئے ہیں بغیر کسی مخالفت کے ادعاء کیا ہے اس کے خلاف اس میں ایسی چیزیں جس سے خبر واقع ہوئی ہے ان لوگوں کے بارے میں جو اہل کتاب تھے ان کتب کے ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امی تھے کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اسے لکھ سکتے تھے اور نہ ہی اہل کتاب سے سیکھنے کے لئے ان کے پاس بیٹھتے تھے اور جس وقت بعض لوگوں نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی بشر یا فلاں بشر سکھلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کو رد کر دیا۔ اور ارشاد ہوا۔ ( لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین ) ( نحل ۱۰۳) اس انسان کی زبان جس کی طرف منسوب کرتے ہیں اس قرآن کو عجمی ہے اور یہ قرآن خالص عربی زبان ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ عِكْرِمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 135

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood