شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأعراف و التوبة و النور · حديث 2436
2436 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا الحسن بن الفرج ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيعة حدثني أبو صخر عن نافع عن ابن عمر : أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر يقول : لمن الملك اليوم ؟ فيقول لله الواحد القهار فيرمي بالسموات و الأرض ثم يرد فيها حتى لقد رأيت المنبر يهتز فأين الجبارون و أين المتكبرون فنادوه من ناحية { آذناك ما منا من شهيد } و لم يكن يدع قراءة آخر سورة الأعراف في كل جمعة
ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو حسن بن فرج نے ان کو عمرو بن خالد حرانی نے ان کو اب لھیعہ نے ان کو ابو صخر نے نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے دیکھا۔ "لمن الملک الیوم؟ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ فرمائے گا۔ للّٰلہ الواحد القھار۔ اللہ واحت زبردست کی ہے پھر آسمان و زمین پھینک دیے جائیں گے پھر لوٹا ئے جائیں گے البتہ تحقیق میں نے دیکھا تو منبر ہل رہا تھا۔ فرمایا " راین الجبارون این المتکبرون۔ اعلان ہو گا کہاں ہیں ظالم و جابر لوگ؟ کہا ں ہیں مغرور متکبر لوگ؟ پکار اس کو ایک کونے سے(اذناک مامنا من شھید ۔ ہم نے آپ سے عرض کر دیا کہ نہیں تھا ہم میں سے کوئی گواہ ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمع سورۃ اعراف کی آخری آیت کی قرأت ترک نہیں کرتے تھے۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← الحسن بن الفرج ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-A'raf, Repentance and Light · Hadith 2436
