Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأعراف و التوبة و النور · حديث 2436

2436 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا الحسن بن الفرج ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيعة حدثني أبو صخر عن نافع عن ابن عمر : أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر يقول : لمن الملك اليوم ؟ فيقول لله الواحد القهار فيرمي بالسموات و الأرض ثم يرد فيها حتى لقد رأيت المنبر يهتز فأين الجبارون و أين المتكبرون فنادوه من ناحية { آذناك ما منا من شهيد } و لم يكن يدع قراءة آخر سورة الأعراف في كل جمعة

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو حسن بن فرج نے ان کو عمرو بن خالد حرانی نے ان کو اب لھیعہ نے ان کو ابو صخر نے نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے دیکھا۔ "لمن الملک الیوم؟ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ فرمائے گا۔ للّٰلہ الواحد القھار۔ اللہ واحت زبردست کی ہے پھر آسمان و زمین پھینک دیے جائیں گے پھر لوٹا ئے جائیں گے البتہ تحقیق میں نے دیکھا تو منبر ہل رہا تھا۔ فرمایا " راین الجبارون این المتکبرون۔ اعلان ہو گا کہاں ہیں ظالم و جابر لوگ؟ کہا ں ہیں مغرور متکبر لوگ؟ پکار اس کو ایک کونے سے(اذناک مامنا من شھید ۔ ہم نے آپ سے عرض کر دیا کہ نہیں تھا ہم میں سے کوئی گواہ ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمع سورۃ اعراف کی آخری آیت کی قرأت ترک نہیں کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← الحسن بن الفرج ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-A'raf, Repentance and Light · Hadith 2436

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 960

959 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي ثنا أبو العباس الأصم قال : سمعت العباس بن الوليد يقول : سمعت أبي يقول : سمعت الأوزاعي يقول : إذا ذكرت جهنم فليبك من كان باكيا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے، ان کو ابو العباس اصم نے، ان کو عباس بن ولید نے، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ازاعی نے، وہ کہتے تھے: جب جہنم کا تذکرہ ہو جائے تو جورونے والا ہے اسے رونا چاہئے ۔

إذا ذكرت جهنم فليبك من كان باكيا ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 960

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 961

960 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا أبو عثمان سعيد بن عثمان ثنا رباح بن الجراح الموصلي قال : كانت آمنة بنت المورع من الخائفين و كانت إذا ذكرت النار قالت : أدخلوا النار و أكلوا من النار و شربوا من النار و عاشوا في النار ثم تبكي و كان بكاؤها أطول من ذلك قال : و كانت إذا ذكرت النار و أهل النار بكت و أبكت و ما رأيت أحدا أشد خوفا منها و لا أكثر بكاء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے، ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان نے، ان کو ریاح بن جراح موصلی نے ، کہتے ہیں کہ آمنہ بنت مورع بہت ڈرنے والوں میں سے تھیں ۔ وہ ایسی تھیں کہ جب جہنم کا تذکرہ ہوتا تو وہ یہ کہتیں : وہ آگ میں داخل کئے گئے اور آگ کھائی اور آگ کو پیا اور آگ میں زندگی گذاردی ۔ اس کے بعد وہ رو پڑتیں ۔ اور اس کا رونا اس سے زیادہ طویل ہوتا۔ کہتے ہیں کہ جب آگ کا ذکر ہوتا اور اہل جہنم کا ذکر ہوتا تو وہ خود بھی روتیں اور دوسری کو بھی رولاتی۔ میں نے اس سے بڑھ کر زیادہ خوف ولا کوئی نہیں دیکھا اور نہ ہی اس سے زیادہ رونے والا کسی کو دیکھا ۔

كانت آمنة بنت المورع من الخائفين و كانت إذا ذكرت النار ← رَبَاحُ بْنُ الْجَرَّاحِ الْمَوْصِلِيُّ ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 961

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 962

961 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان قال : سمعت السري يقول : قلت لبعض العباد : ما الذي أنصب العباد و أخشاهم قال : ذكر المقام و خوف الحساب ثم قال لي : يا أبا الحسن و لم لا تذوب أبدان العباد و الزهاد و الخدام فزعا و القيامة أمامهم و لهم في يومها ما قد علموا ثم صاح صيحة أفزعتني ثم قال : يا أبا الحسن من لي في ذلك الموقف ؟ و من لتحسري تلذذي و لجوعي و لعطشي ؟ ثم قال إليك يا أبا الحسن فقد حركت مني ساكنا و أبرزت مني غما كامنا ثم صاح فقال و أطول وقفتاه ! واتحسراه واثقل ظهراه من حمل الذنوب و المظالم و الخطايا و أوساخ العيوب ! ثم قال : أوه من حملها ! أوه من ذكرها ! أوه من ثقلها ! أوه من إقراري بها على نفسي ! ثم استرجع فقال : سيدي ! فأين سترك الجميل القديم سيدي ؟ و أين حلمك سيدي ؟ فأين عفوك سيدي ؟ فأين فضلك المعتمد به لعبادك سيدي ؟ فاستنقذني و برحمتك فسلمني ثم بكى و أبكانا معه فتركته و هو باك حزين فزع القلب و إنصرفت عنه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ، ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان نے ، انہوں نے سنا سری سقطی سے، کہتےتھے کہ میں نے بعض عابدوں سے کہا ، وہ کونسی چیز ہےجس نے عابدوں کو کھڑا کیا ہے اور ان کو ڈرایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :اللہ کے آگے پیشی کےلئے کھڑے ہونے کا ذکر اور حساب کا خوف ۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا اے ابو الحسن عابدوں اور زاہدوں اور خدام کے بدن خوف او رگھبراہٹ کی وجہ سے کمزور اور مضمحل کیوں نہیں ہوتے ؟ حالانکہ قیامت ان کے آگے ہے اور ان کے لئے قیامت کے دن وہ کچھ ہے جو کچھ وہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اس کے بعد اس نے زورسے چیخ ماری جس سے میں گھبرا گیا ۔ اس کے بعد کہا کہ اے ابو الحسن اس موقف اور پیشی میں میرا کون ہوگا ؟ اور کون ہو گا میری حسرت اور میری لذت کےلئے ؟ کون ہوگا میری بھوک کے لئے اور میری پیاس کےلئے ؟ اس کے بعد کہا میں آپ کی طرف متوجہ ہوں اے ابو الحسن آپ نے مجھے ساکن اور ٹھہرے ہوئےمتحرک کر دیا ہے اور میرے چھپے ہوئے غم کو ظاہر کر دیا ہے ۔ اس کے بعد وہ چیخا اور بولا ۔ اے اس کے دو موقف ہیں ۔ اس کا تھک جانا اور پچھتانا ہے اس کی پیٹھ کو بوجھ ، خواہ گناہوں کو اٹھائے یا مظالم کو اور خطا کو یا خواہ عیبوں کےمیل اس کے بعد وہ اس کے اٹھانے ۔۔۔۔ اوہ اس کے ذکر سے ۔۔۔۔ اوہ اس کے بوجھ سے۔۔۔ اوہ اس کے ساتھ میرے نفس کےخلاف میرے اقرار سے۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے انا اللہ پڑھا اور کہا کہ اے میرے سردار کہا ہے آپ کا خوبصورت قدیم پردہ ؟ کہاں ہے تیرا حوصلہ سیدی؟ کہاں ہے تیرا درگذر کرناسیدی؟ کہاں ہے تیرا فضل جس پر تیرے بندے اعتماد کرتے ہیں سیدی؟ پس مجھے تو بچالے اور اپنی رحمت کے ساتھ مجھے سلامتی دے دے ۔ اس کے بعد رو پڑا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ رلایا ۔ میں تو اسے روتا ہوا چھوڑ کر چلا گیا ۔ حالانکہ وہ رورہا تھا ، غمگین تھا گھبرائے ہوئے دل والا تھا ،لہذا میں اس سے چلا گیا۔

المقام و خوف الحساب ثم ← قلت لبعض العباد ما الذي أنصب العباد و أخشاهم ← السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 962

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 963

962 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحجاج بن منهال ثنا مهدي بن ميمون ثنا غيلان قال : قال مطرف : لقد كاد خوف النار أن يحول بيني و بين أن أسأل الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن فقل قطان نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو حجاج بن منھال نے ، ان کو مھدی بن میمون نے ، ان کو غیلان نے ، وہ کہتے ہیں کہ مطرف نے کہا : البتہ تحقیق قریب ہے کہ جہنم کا خوف حائل ہو جائے میرے درمیان اور میرے جنت کے سوال کے درمیان ۔

غَيْلَانَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 963

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 964

963 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى سمعت أبا عبد الله بن محمد بن شاذان عبد الله يقول : سمعت علي بن سلمة اللبقي يقول سمعت سفيان بن عيينة يقول : أقلهم ذنبا أخوفهم لربه عز و جل لأنهم أصفاهم قلبا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، انہوں نے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ، انہوں نے ابو عبداللہ محمد بن شاذان عبداللہ سے ، انہوں نے علی بن سلمہ لبقی سے ، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ: لوگوں میں کمتر گناہ والے اپنے رب سے زیادہ ڈرتے ہیں ، اس لئے کہ وہ لوگ سب زیادہ صاف دل والے ہوتے ہیں ۔

أقلهم ذنبا أخوفهم لربه عز و جل لأنهم أصفاهم قلبا ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ اللَّبَقِيُّ ← أبا عبد الله بن محمد بن شاذان عبد الله ← أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 964

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 965

964 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرئ قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر قال : سمعت مالكا يقول : يا هؤلاء إنما المؤمن مثل الشاة المأبورة التي أكلت إبرة فهي تأكل و لا تقطع علتها ـ لما قد خالطه من الحزن لمن بين يديه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابی حامد مقری نے ، دونوں کو ابو العباس اصم نے، ان کو خضر بن ریان نے، ان کو یسار نے ، ان کو جعفر نے، انہوں نے سنا مالک سے ، وہ کہتے تھے : اے وہ ولوگو مومن کی مثال سوئی زدہ بکری ی جیسی ہے جو سوئی کو کھا جاتی نہ تو وہ چارا کھا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی بیماری ختم ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ مومن کو آگے کا غم لگا رہتا ہے۔

مَالِکًا ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 965

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 966

965 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم ثنا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف حدثني أحمد بن الخليل البغدادي بنيسابور حدثني يحيى بن أيوب قال : دخلت مع زافر بن سليمان على الفضيل بن عياض بالكوفة فإذا الفضيل و شيخ معه ـ قال : فدخل زافر و أقعدني على الباب ـ قال زافر و أقعدني على الباب ـ قال زافر : فجعل الفضيل ينظر إلي ثم قال : يا أبا سليمان هؤلاء أصحاب الحديث ليس شيء أحب إليهم من قرب الإسناد ألا أخبرك بإسناد لا شك فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم عن جبريل عليه السلام عن الله تعالى : { نارا وقودها الناس و الحجارة عليها ملائكة غلاظ شداد } قرأ الآية فأنا و أنت يا أبا سليمان من الناس قال : ثم غشي عليه و على و على الشيخ و جعل زافر ينظر إليهما قال : ثم تحرك الفضيل فخرج زافر و خرجت معه و الشيخ مغشي عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو علی بن عیسیٰ بن ابراہیم نے ، ان کو ابو یحییٰ زکریا بن داؤد خفاف نے ، ان کو احمد بن خلیل بغداد ی نے نیساپور میں ، ان کویحییٰ بن ایوب نے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں زافرابن سلیمان کے ساتھ کوفے میں حضرت فضیل بن عیاض کے پاس گیا ۔ وہاں فضیل اور ان کے ساتھ کوئی شیخ موجود تھے ۔ کہتے ہیں کہ زافران کے پاس اندر چلے گئے اور مجھے دروازے پر بیٹھا کر گئے ۔ زافران کہتے ہیں کہ حضرت فضیل عیاض میری طرف دیکھنے لگ گئے ، اس کے بعد کہنے لگے اے ابو سلیمان ، یہ ہیں اصحاب حدیث ، ان کے ہاں قرب اسناد سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں ہے ۔ کیا میں آپ کو ایک ایسی اسناد کے بارےمیں نہ خبر دوں جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ( آس لئے کہ اس میں کوئی رجال ہی نہیں ہے بلکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل سے اور اس نے اللہ تعالیٰ سے سنی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ناراً وقودھاالناس والحجارۃ علیھا ملائکۃ غلاظ شداد ( التحریم 6) ۔ پوری آیت پڑھی ۔ میں اور آپ اسے سلیمان ان لوگوں میں سے ہیں ۔ یہ کہا اس کے بعد ان پر بے ہو شی طاری ہو گئی اور دوسرے شیخ پر بھی ۔ اور زافردونوں کا یہ منظر دیکھنے لگا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد فضیل نے حرکت کی ، لہذا زافرباہر نکل آئے اور میں بھی چلاآیا ۔ ابھی تک شیخ بے ہوش ہی تھا۔

يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ "الْبَغْدَادِيُّ" ← أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 966

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 967

966 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عمرو بن عاصم ثنا همام عن قتادة قال : سأل عامر بن عبد الله ربه عز و جل أنه يهون عليه الطهور في الشتاء فكان يؤتى بالماء له بخار و سأل ربه أن ينزع شهوة النساء من قلبه فكان لا يبالي ذكرا لقي أو أنثى و سأل ربه أن يحول بين الشيطان و بين قلبه في الصلاة فلم يقدر على ذلك و كان إذا غزا فيقال له هذه الأجمة نخاف عليك فيها الأسد قال : إني لأستحي من ربي أن أخشى غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضیل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عمر و بن عاصم نے ، ان کو ھمام نے ان کو قتادہ نے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر بن عبداللہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ان کے لئے سر دیوں کے موسم میں وضو کرنے کو آسان بنادے ۔ ( ماشاء اللہ دعا ایسی قبول ہوئی ) کہ جب ان کے لئے وضو کا پانی لایا جاتا تو اسمیں سے گرم بخارات اڑرہے ہوتے تھے ۔ اور انہوں نے اپنے رب سے یہ دعا کی تھی کہ ان کے دل سے عورتوں کی شہوت و رغبت نکال دے ۔ ( ماشاء اللہ دعا ایسی قبول ہوئی ) انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ ان سے کوئی مرد ملا ہے کوئی عورت ملی ہے اور انہوں نے اپنے رب سے یہ دعا کی تھی کہ نماز میں اللہ تعالیٰ شیطان کے اور ان کے درمیان حائل ہو جائیں ، اس پر وہ قادرنہ وہو سکے تھے او رجب وہ جہاد کررہے ہوتے تو ان سے اگر یہ کہا جاتا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں اس گھاٹی میں آپ کے اور کوئی شیر حملہ نہ کر ے تو وہ یہ جواب دیتے کہ میں اپنے رب سے شرم کرتاہوں کہ میں اس کے سوا کسی اور سے ڈروں ۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 967

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 968

967 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو حامد أحمد بن الحسين الهمداني القاضي ببلخ إملاء ثنا أبو بكر الأنباري حدثني أبي ثنا حماد بن الحسن النهشلي الوراق ثنا محمد بن بشر المكي قال : كنا يوما ماضين مع علي بن الفضيل فمررنا بمجلس بني الحارث المخزومي و معلم يعلم الصبيان قال و يقرأ : { ليجزي الذين أساؤوا بما عملوا ويجزي الذين أحسنوا بالحسنى } فشهق ابن فضيل شهقة خر مغشيا عليه فجاء الفضيل فقال : بأبي قتيل القرآن ! ثم حمل فحدثني بعض من حمله أن الفضيل أخبره أن عليا ابنه لم يصل ذلك اليوم الظهر و لا العصر و لا المغرب و لا العشاء فلما كان في جوف الليل أفاق

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر قتادہ نے ، ان کو ابو حامد احمد بن حسین ھمدانی نے جو کہ بلخ میں قاضی تھے بطور املاکے ان کو ابو بکر انباری نے ، ان کو ان کے والد نے ، انکو حماد بن حسن مہشلی وراق نے ، ان کو محمد بن بشر مکی نے، کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن علی بن فضیل کے ساتھ گذررہے تھےلہذا ہم لوگ بنو حارث مخزومی کی مجلس کے پاس سے گذرے ۔ وہاں ایک استاد بچوں کو پڑھا رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ : لیجذی الذین اساء و ابما عملو او یجذی الذین احسنو ا بالحسنیٰ ( النجم31) تاکہ جزادے ان لوگوں کو جنہوں نے برائی کی ان کے عمل کی جزا ۔ اور تاکہ ان لوگوں کو جنت کی جزادے جنہوں نے نیکی کی۔ یہ سن کر ابن فضیل نے زور سے چیخ مار ی اور بے ہوش ہو گئے اور گر گئے۔ چنانچہ حضرت فضیل آئے اور فرمانے لگے میرے باپ قربان ، یہ قرآن کا مقتول ہے ۔ (قتیل القرآن ) اس نے اسے اٹھا یا ۔ مجھے بعض ان لوگوں نے حدیث بیان کی ہے کہ جنہوں نے اس کو اٹھا یا تھا کہ ان کو فضیل نے خبر دی ہے کہ ان کے اس بیٹے علی نے اس دن ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں نہیں پڑھی تھیں ۔ یعنی طویل بے ہوشی کے بعد رات کے دوران ہی ہوش میں آگئے تھے ۔

محمد بن بشر المكي ← حماد بن الحسن النهشلي الوراق ← أَبِي ← أَبُو بَكْرٍ الأَنْبَارِيُّ ← أبو حامد أحمد بن الحسين الهمداني القاضي ببلخ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 968

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 969

968 - أخبرنا عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد الرازي ثنا إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان الأنماطي ثنا أحمد بن أبي الحواري ثنا جعفر بن محمد قال : قيل لفضيل بن عياض ما سبب موت ابنك علي ؟ قال : بات يتلو القرآن فأصبح في محرابه ميتا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، ان کو عبداللہ بن محمد رازمی نے، ان کو اسحاق بن ابراہیم بن ابو حسان الخاطی نے، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، ان کو جعفر بن محمدنے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ آپ کے بیٹے علی کی موت کا سبب کیا ہوا ؟ بولے کہ انہوں نے اپنے حجرے میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے رات گذارتھی ، صبح کی تو اپنے حجرے میں مرے ہوئےپڑے تھے۔

بات يتلو القرآن فأصبح في محرابه ميتا ← قيل لفضيل بن عياض ما سبب موت ابنك علي ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان الأنماطي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 969

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 970

969 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن سليمان البرلسي ثنا عباد بن موسى ثنا أبو إسماعيل المؤدب عن الأعمش عن زيد بن وهب قال : غزونا فمررنا بأجمة في مكان مخوف فإذا رجل نائم عند فرسه قلنا يا عبد الله مالك ؟ قال : و مالي ؟ قلنا : في مثل هذا المكان تنام ؟ قال : إني لأستحي من ربي أن يعلم أني أخاف شيئا غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن اور ابو سعید بن ابو عمر نے ، ان سب کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے، ان کو ابراہیم بن سلیمان بر لسی نے ، ان کو عباد بن موسیٰ نے، ان کو ابو اسماعیل مؤدب نے ، ان کو اعمش نے ، ان کو زید بن وہب نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے جہاد کیا ، چنانچہ ہم کچھ گھاٹیوں کے ساتھ ایک ڈرانے مقام سے گذرے ۔ یکا یک ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے گھوڑ ے کے پاس سو رہا ہے ۔ ہم نے کہا اے اللہ کا بندے تجھے کیا ہوا؟ بولا کہ مجھے کیا ہوا؟ ہم نے کہا کہ آپ ایسی خطرناک جگہ سوئے ہوئے ہیں ؟ بولاکہ مجھے شرم آتی ہے اپنے رب سے کہ وہ یہ جان لے کہ میں اس کے سوا کسی شے سے ڈرتا ہوں ۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ← إبراهيمُ بنُ سليمانَ البُرلُّسيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 970

chevron_left Previous
1234…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood