Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 369

369 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا سفيان : بهذا الحديث قال : البيهقي رحمه الله و هو مخرج في الصحيح و في رواية مالك عن الزهري في هذا الحديث : فتمسه النار إلا تحلة القسم و هذا يؤكد قول من قال : المراد بالورود الدخول

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو خبر دی ہے احمد بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے باپ نے ان کو سفیان اسی مذکورہ حدیث کے بارے میں۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہ روایت صحیح بخاری میں بھی نقل ہوئی ہے اورامام مالک کی ایک روایت میں ہے زہری سے اس حدیث کے بارے میں کہ اس کو آگ چھوئے گی صرف قسم پوری کرنے کے لئے اور یہ حدیث اس کے قول کی تاکید کرتی ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ وارد ہونے سے مراد داخل ہونا ہے۔

سفيان بهذا الحديث ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 369

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 370

370 - أخبرنا أبو علي بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر النحوي قال : يعقوب بن سفيان ثنا سليمان بن حرب أبو أيوب الواشحي ثنا أبو صالح غالب بن سليمان عن كثير بن زياد البرساني عن أبي سمية قال : اختلفنا في الورود بالبصرة فقال قوم : لا يدخلها مؤمن و قال آخرون : يدخلونها جميعا ثم ننجي الذين اتقوا و نذر الظالمين فيها جيثا فلقيت جابر بن عبد الله فسألته فقال : يدخلونها جميعا فقلت إنا اختلفنا فذكر اختلافهم قال : فأهوى جابر بإصبعه إلى أذنه فقال : صمت إن لم أكن سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الورود : الدخول لا يبقى بر و لا فاجر إلا دخلها فتكون على المؤمنين بردا و سلاما كما كانت على إبراهيم عليه السلام حتى أن النار ( خطأ ) أو قال لجهنم فحيحا من بردهم ثم ننجي الذين اتقوا و نذر الظالمين فيه جثيا قال : البيهقي رحمه الله هذا إسناد حسن ذكره البخاري في التاريخ و شاهده الحديث الثابت عن أبي الزبير عن جابر عن أم مبشر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله إلا أنه قال : جامدة قال أبو عبيد : و إنما أراد تأويل قوله { و إن منكم إلا واردها } فيقول وردوها و لم يصبهم من حرها شيء إلا ليبر الله قسمه

ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن احمد بن ابراہیم بن شاذان بغدادی نے اس بارے میں، ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے کہا یعقوب بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب ابو ایوب واشحی نے ان کو ابو صالح غالب بن سلیمان نے کثیر بن زیاد برسانی سے ان کو ابو سمیہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے بصرے میں جہنم پر وارد ہونے کے مسئلے میں آپس میں اختلاف کیا تھا۔ ایک گروہ نے کہا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ سب لوگ داخل ہوں گے۔ (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے) پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے (جو نافرمانی سے بچتے رہے یا کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں (یعنی کافروں و مشرکوں) کو جہنم میں اوندھے پڑے رہنے دیں گے۔ سو میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جہنم میں سب لوگ داخل ہوں گے ۔ میں نے کہا کہ ہم نے تو باہم اختلاف کیا ہے۔ پھر لوگوں کے اختلاف کا تذکرہ ہوا۔ ابو سمیہ نے کہا( اس کے بعد) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور فرمایا کہ میں بھی یہ باتیں سن کر خاموش ہی ہو جاتا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ ایود دخول ہے نہ کوئی نیک بچے گا اور نہ ہی کوئی بد بچے گا۔ مگر ہر کوئی جہنم میں داخل ہو گا۔ پھر مومنوں پر وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ جہنم کے لئے ٹھنڈی سانس لینا ہو گا ان کی ٹھنڈی سے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو ڈر گئے تھے اور ہم ظالموں کو اس میں اوندھا پڑا چھوڑ دیں گے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : یہ اسناد حسن ہے۔ بخاری نے اس کو اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے اور اس کا شاہد وہ حدیث ہے جو ثابت ہے ابو زبیر سے جابر سے، ام مبشر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کا مثل مروی ہے۔ مگر اس نے فرمایا جامدۃ کہ جامد ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ سوائے اس کے نہیں کہ انہوں نے وان منکم الا واردھا کی تاویل کا ارادہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ورود تو ہو گا مگر اس کی گرمی ان کو نہیں پہنچے گی۔ کچھ بھی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کریں گے۔

عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي بها

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 370

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 371

371 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا حجاج بن محمد قال : قال ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول أخبرتني أم مبشر : أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول عند حفصة : لا يدخل النار إن شاء الله من أصحاب الشجرة الذين بايعوا تحتها قالت بلى يا رسول الله فانتهرها فقالت حفصة ـ { و إن منكم إلا واردها } فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فقد قال الله عز و جل : { ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا } رواه مسلم في الصحيح عن هارون بن عبد الله عن حجاج بن محمد قال : البيهقي رحمه الله و هذا يحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم إنما نفى عن أصحاب الشجرة دخول النار دخول البقاء فيها أو دخولا يمسهم منها أذى لا أصل الدخول ألا تراه احتج بقوله : { ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا } و قد يكون المحفوظ في الحديث الأول رواية سفيان بن عيينة فيكون ذلك ولوجا من غير نار و إصابة أذى كما روينا عن خالد بن معدان و هو من أكابر التابعين أنه قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة قالوا يا رب ألم تعدنا أن نرد النار قال : بلى مررتم بها و هي جامدة و روينا عن مقاتل بن سليمان أنه قال : يجعل الله النار على المؤمنين يومئذ بردا و سلاما كما جعلها على إبراهيم عليه السلام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس بن یعقوب نے، ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے، ان کو حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا تھا مجھے خبر دی ہے ابو زبیر نے، اس نے سنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، فرماتے تھے : مجھے خبر دی ہے ام مبشر نے، اس نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آگے فرمایا کہ انشاء اللہ جہنم میں اصحاب شجرہ داخل نہیں ہوں گے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ ام مبشر نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھڑکا۔ اتنے میں سیدہ حفصہ نے کہا: "وان منکم الا واردھا " (مریم 71) تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے مگر سب کو اس میں داخل ہونا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حفصہ کا جواب سن کر) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : "ثم ننجی الذین اتقو ا وانذر الظالمین فیھا جثیا (مریم 72) پھر ہم ان کو جہنم سے نجات دیں گے (جو کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں کو اس میں اوندھے منہ پڑا چھوڑ دیں گے۔ اس کومسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے ہارون بن عبداللہ سے حجاج بن محمد سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی توجیہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ روایت یہ احتمال رکھتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب شجرہ سے جس دخول جہنم کی نفی فرمائی ہے وہ نفی جہنم میں بقا کی اور وہاں ٹھہرے رہنے کی وہ (مطلق داخل ہونے کی نہ ہو) یا نفی ایسے دخول کی ہو جو ان کی ہو جو ان کو تکلیف پہنچائے۔ اصل دخول کی نفی نہ ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے دلیل پکڑی تھی: "ثم ننجی الذین اتقو ا ونذر الظالمین فیھا جثیا " پھر ہم ان کو نجات دیں گے جو بچتے رہے ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی میں اوندھا پڑاہوا چھوڑ دیں گے۔ اور کبھی ہوتا ہے محفوظ حدیث اول میں یعنی سفیان بن عیینہ کی روایت میں کہ یہ محض دخول ہو گا بغیر آگ کے اور بغیر پہنچنے کی تکلیف کے۔ جیسا کہ ہم نے روایت کیا ہے حامد بن معدان سے اور وہ اکابرین تابعین میں سے ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو جنتی پوچھیں گے اے ہمارے رب، کیا آپ ہمیں وعدہ نہیں دیتے تھے کہ ہم لوگ آگ میں وارد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں ، ہاں، تم اس میں سے گذر کر آئے ہو مگر وہ (متحرک نہیں تھی) بلکہ وہ اس وقت جامد تھی (ٹھہری ہوئی اور اپنی صفت احراق اور شدت حرارت سے رکی ہوئی تھی)۔ اور ہم نے مقاتل بن سلیمان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس دن آگ کو مومنوں پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیں گے جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا تھا۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 371

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 372

372 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن علي بن محمد القاضي ثنا أحمد بن سلمة بن عبد الله البزار ثنا عمران بن موسى القزاز ثنا عبد الوراث ثنا الجريري عن أبي السليل عن عقبة بن عامر قال : تمسك النار يوم القيامة حتى تبيض كأنها متن أهالة فإذا استوت عليها أقدام الخلائق برهم و فاجرهم نادى مناد أن خذي أصحابك و دعي أصحابي قال : فلهي أعرف بهم من الرجل بولده قال : فيخسف بهم و يخرج المؤمن منها ندية ثيابهم كذا في الكتاب قال قال و لم يذكر قائله و هو معروف بكعب الأحبار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر احمد بن علی بن محمد قاضی نے، ان کو احمد بن سلمہ بن عبداللہ بزار نے، ان کو عمران بن موسیٰ قزاز نے ان کو عبدالوارث نے ان کو جریدی نے ان کو ابو سلیل نے ان کو عقبہ بن عامر نے۔ قیامت کے دن آگ تھم جائے گی۔ یہاں تک کہ سفید ہو جائے گی۔ جیسے وہ چربی کی پیٹھ ہے جب اس پر لوگوں کے قدم برابر اور درست جم جائیں گے خواہ وہ نیک ہوں یا برے ہوں اس وقت ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا اے جہنم اپنے لوگ لے لے اور میرے لوگوں کو چھوڑ دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم اپنے لوگوں کو اس سے زیادہ پہچانتی ہے جیسے کوئی انسان اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، لہذا جہنم والوں کو دھنسا دیا جائے گا اور مومن اس سے نکل آئیں گے۔ جبکہ ان کے کپڑوں پر بھی نشان نہیں ہو گا۔ درحالانکہ اور اسی طرح ہی ہے الکتاب میں۔ کہتے ہیں کہ اس نے کہا۔ مگر کہنے والے کا نام ذکر نہیں کیا جبکہ وہ کعب الاخبار کے ساتھ معروف ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي السَّلِيلِ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عبد الوراث ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← أحمد بن سلمة بن عبد الله البزار ← أبو بكر أحمد بن علي بن محمد القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 372

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 373

373 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنبا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد ثنا يزيد عن الجريري عن أبي السليل عن غينم بن قيس عن أبي العوام عن كعب قال : يجاء بجهنم يوم القيامة كأنها متن إهالة حتى إذا استوت عليك أقدام الخلائق نادى مناد خذي أصحابك و دعي أصحابي قال : فيخسف بأولئك ؟ قال أبو عبيد : الإهالة : ما أذيب من الألية و الشحم و متن الإهالة : ظهرها إذا سكر ( خطأ ) الذائب منها في الإناء فإنما شبه كعب سكون جهنم قبل أن يصير الكافر في جوفها بذلك و مما يبينه حديث خالد بن معدان قال أبو عبيد ثنا مروان بن معاوية ثنا بكار بن أبي مروان عن خالد بن معدان قال : لما أدخل أهل الجنة قالوا يا ربنا ألم تكن وعدتنا الورود قال : نعم و لكنكم مررتم بجهنم و هي جامدة قال : أبو عبيد و حدثنا الأشجعي عن سفيان عن ثور عن خالد بن معدان مثله إلا أنه قال خامدة قال أبو عبيد : و إنما أراد تأويل قوله تعالى : { و إن منكم إلا واردها } فيقول وردوها و لم يصبهم من حرها شيء إلا ليبر الله قسمه قال البيهقي رحمه الله : و قد يكون هذا الورود من وراء الصراط كما قال : أبو الأحوص عن عبد الله بن مسعود وسماه باسم النار لأنه جسر جهنم و منه يلقي فيها من يلقي و منه تخطف الكلاليب من تخطف و عليه الحسك و ألوان العذاب ما عليه إلا أن الله تعالى ينجي الذي اتقوا يعني بالجواز عنه و يذر الظالمين فيها جثيا أي في جهنم جثيا على الركب بعد ما يلقي فيها من الصراط و الله أعلم و قد روينا في الحديث الثابت عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الرؤية قال : فينصب الجسر على جهنم و يقولون اللهم سلم سلم قيل يا رسول الله و ما الجسر قال : دحض مزلة عليه خطاطيف و كلاليب و حسك ـ يكون و يسجر فيه شوك يقال له السعدان ـ فيمر المؤمن كطرف العين و كالبرق و كأجاويد الخيل و الركاب فناج مسلم و مخدوش مرسل و مكدوس في النار خطأ جهنم حتى إذا خلص المؤمنون من النار و في رواية عبد الله بن مسعود : فيمرون على قدر أعمالهم حتى يمر الذي نوره على إبهام قدمه يجر يد و تعلق يد و يجر رجل و تصيب جوانبه النار فيخلصون فإذا خلصوا قالوا : الحمد لله الذي نجانا منك بعد الذي أراناك و قد ذكرنا إسنادهما مع ما يشهد لهما في الخامس من كتاب البعث و الله أعلم و ذلك يبين ما قلناه في الورود أنه يحتمل أن يكون المراد به المرور على الصراط و الله أعلم 0

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے، ان کو ابو الحسن کارزی نے، ان کو علی بن عبدالعزیز نے ، ان کو ابو عبید نے، ان کو یزید نے ، ان کو جریری نے ان کو ابو سلیل نے، ان کو غنیم بن قیس نے، ان کو ابو العوام نے، ان کو کعب نے، انہوں نے کہا کہ قیامت میں جہنم لائی جائے گی، گویا کہ وہ چربی کی پیٹھ ہے ( یا چربی کی زمین ہے) یہاں تک کہ جس وقت تمام مخلوقات کے قدم اس پر جم جائیں گے اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ (اے جہنم) اپنے اصحاب لے لیجئے اور میرے اصحاب چھوڑ دیجئے (یعنی جہنمیوں کو پکڑ لیجئے اور جنتیوں کو چھوڑ دیجئے) کعب نے فرمایا کہ پھر ان سب کو (جہنمیوں کو) نیچے دھنسا دیا جائے گا (یعنی جہنم کی گہرائی میں گراد یا جائے گا۔ ابو عبید نے کہا : اھالہ وہ چیز ہوتی ہے جو دنبہ کی چکی سے اور چربی سے پگھلائی جائے اور متن اھالہ چربی کی پشت ہے۔ جب پگھلنے والی شے اس سے برتن میں نشہ آور ہو جائے۔ حضرت کعب نے جہنم کے سکون کو تشبیہ دی ہے اس سے قبل کہ ہو جائے کافر اس کے پیٹ میں۔ یہ چیز خالد بن معدان والی حدیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے۔ ابو عبید نے فرمایا کہ ہمیں مروان بن معاویہ نے حدیث بیان کی ہے، ان کو بکار بن ابو مروان نے ، ان کو خالد بن معدان نے، انہوں نے فرمایا جب اہل جنت ،جنت میں داخل ہو جائیں گے جی ہاں دیا تھا اور تم جہنم سے گذر بھی آئےہو ، مگر وہ جامد تھی ساکت تھی رکی ہوئی تھی۔ ابو عبید کہتے ہیں ہمیں اشجعی نے سفیان سے حدیث بیان کی ہے ۔ ان کو ثور نے، ان کو خالد بن معدان نے اسی مذکورہ حدیث کی مثل ، مگر انہوں نے جامدۃ کی بجائے خامدۃ یعنی بجھی ہوئی کہا ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ بجھی ہوئی کو وان منکم الا واردھا کی تاویل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ پس فرماتے ہیں کہ جہنم میں وارد تو ہوں گے لیکن اس کی گرمی ان کو بالکل نہیں پہنچے گی اور ورود دخول محض اس لئے ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کر لے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کبھی یہ وارد ہونا صراط کے پیچھے ہو گا۔، جیسے ابوالاحوص نے کہا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور اس کا نام آگ رکھا ہے۔ اس لئے کہ وہ جہنم کا پل ہے اور جو شخص جہنم میں ڈالا جائے گا وہیں سے ڈالا جائے گا۔ اور وہیں سے جہنم کی کھائیاں اچک لیں گی جس کو بھی اچکیں گی اور اسی پر خاردار گوکھروں ہوں گے اور گو نہ گوں قسم کے عذاب ہوں گے۔ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نجات دے گا اور لوگوں کو جو کفر و شرک سے بچتے رہے تھے (یعنی نجات دے گا پل صراط پر گذرنے کے ساتھ) اور ظالموں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا چھوڑ دے گا (یعنی پل صراط سے اس میں گرا ئے جانے کے بعد)۔ اور ہم نے اس حدیث میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث روایت میں ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جہنم پر پل نصب کی جائے گی اور وہ کہیں گے اے اللہ سلامتی دے ، اے اللہ سلامتی دے۔ کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھسلنا ہو گا اور پھسلنے کا مقام ہو گا اور اچکنے والے سیاہ پرندے ہوں گے اور کھائیاں ہوں گے آگ کی اور خاردار پودوں یا گوگھرو کو چبانا ہو گا اور گرم کئے جائیں گے اس میں کانٹے جنہیں معدان کہا جاتا ہے (وہ خاردار بوٹی ہے جسے اونٹ شوق سے کھاتا ہے)۔ (یہ محض تمثیلات میں انسانوں کی فہم سے بات کو قریب تر کرنے کے لئے ہے، ورنہ تو جہنم کی کسی چیز کو دنیا کی کسی چیز سے کوئی مماثلت نہیں ہے وہ عذاب خدا وندی ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔) ۔ (آمین) مترجم۔ خلاصہ یہ ہے کہ مومن اس پر سے آنکھ جھپکنے کی دیر میں گذر جائیں گے۔ بعض بجلی کی طرح بعض اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑوں کی طرح۔ بعض پیدل کی طرح۔ مومن آگ سے خلاصی پا لیں گے اور منافق و کافر آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ نجات پانے والے مسلم ہوں گے، نوچے ہوئے، زخمی جہنم میں چھوڑجائیں گے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت میں ہے۔ لوگ پل صراط پر اپنے اپنے اعمال کے بقدر گذر جائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ شخص گذرے گا جس کا نور اور روشنی پیر کے انگوٹھے پر ہو گی۔ وہ جہنم سے ایک ہاتھ کو بچائے تو دوسرا اس میں الجھ جائے گا اور ایک پیر کو بچائے تو اس کے پہلو میں آگ پہنچ جائے۔ پھر جب چھٹکارا پالیں گے تو کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اے جہنم تجھ سے نجات بخشی، تجھے ہمیں دکھا دینے کے بعد۔ اور ہم نے ان دونوں مذکورہ روایتوں کی اسناد ان کے شواہد سمیت کتاب البعث والنشور کی فصل خاص میں ذکر کر دی ہے۔ اور یہ بیان کرتی ہیں کہ وارد ہونے کے بابت ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ احتمال ہے کہ وارد ہونے سے مراد ہی پل صراط پر مرور اور چلنا ہو۔

کَعْبٍ ← أبي العوام ← غينم بن قيس ← أَبِي السَّلِيلِ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ: ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو عبد الرحمن السلمي أنبأ أبو الحسن الكارزي

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 373

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 374

374 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا عبد الرحمن بن أبي حماد عن يحيى بن يمان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد : في قول الله عز و جل : { و إن منكم إلا واردها } قال من حم من المسلمين فقد وردها

ہمیں خبر دی ہے محمد بن موسیٰ بن فضل نے، اس کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے، اس کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے، اس کو عبدالرحمٰن بن ابی حماد نے یحییٰ بن یمان سے ، انہوں نے عثمان بن اسود سے، اس نے مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں وان منکم الا واردھا کہ تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہو گا۔ فرمایا کہ مسلمانوں میں جس شخص کو بخار آ جائے بس وہ جہنم پر وارد ہو گیا۔

من حم من المسلمين فقد وردها ← مجاهد في قول الله عز و جل و إن منكم إلا واردها ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← عبد الرحمن بن أبي حماد ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 374

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 375

375 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ثنا أبو الحسن أحمد بن الحسين الصوفي ثنا سمعت سليم بن منصور ابن عمار يقول حدثني أبي عن الهقل بن زياد عن خالد الدريك عن بشير بن طلحة عن يعلى بن منية قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن النار تقول يوم القيامة : يا مؤمن ! جز فقد أطفأ نورك لهبي تفرد به سليم بن منصور و هو منكر

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابی اسحاق نے، ان کو ابو محمد احمد بن عبداللہ مزئی نے، ان کو ابو الحسن احمد بن حسین صنوفی نے، ان کو سلیم بن منصور ابن عمار نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے حدیث بیان کی تھی صقل بن زیاد سے ، ان کو خالد بن دریک سے، ان کو بشیر بن طلحہ سے یعنی یعلی بن منیہ سے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جہنم قیامت کے دن کہے گی اے مومن جلدی گذر جا تیرے نور اور روشنی نے میرے شعلے کو بجھا دیا ہے۔ اسی روایت میں سلیم بن منصور کا تفرد ہے اور وہ منکر ہے۔

يعلى بن منية، ← بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ، ← خالد الدريك ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبِي ← سليم بن منصور ابن عمار ← أبو الحسن أحمد بن الحسين الصوفي ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 375

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood