شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 141
141 - قال البيهقي رحمه الله و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التفسير لهذه الآية أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله تعالى : { و جعلوا بينه و بين الجنة نسبا } قال : قال كفار قريش : الملائكة بنات الله تعالى فقال لهم أبو بكر الصديق رضي الله عنه : فمن أمهاتهم ؟ فقالوا بنات سروات الجن فقال الله عز و جل : { و لقد علمت الجنة إنهم لمحضرون } يقول : إنها ستحضر للحساب قال : و الجنة هي الملائكة و روينا عن قتادة أنه قال : جعلوا الملائكة بنات الله من الجن و كذب أعداء الله و عن أبي عمران الجوني قال : قالت اليهود : إن الله صاهر الجن فخرجت الملائكة و روينا عن الكلبي أنه قال : يقول ذلك لقولهم الملائكة بنات الله يقول الله عز و جل : { و لقد علمت الجنة إنهم لمحضرون } محضرون النار الذين قالوا الملائكة بنات الله قال : و يقال نزلت هذه الآية في الزنادقة و ذلك أنهم قالوا خلق الله الناس و الدواب و الأنعام فقال إبليس لأخلقن خلقا أضرهم فخلق الحيات و العقارب و السباع فذلك قوله تعالى : { و جعلوا بينه و بين الجنة نسبا } قالوا هو إبليس أخزاه الله تعالى الله عما يشركون
امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں کہ خبر دی ہے عبدالرحمن بن حسن قاضی کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقآء نے ابن ابو نحیح سے انہوں نے مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے بارے میں : ( و جعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا ) ( صافات ۱۵۱) مجاہد فرماتے ہیں کہ کفار قریش نے کہا ۔ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، حضرت ابو بکر صدیق نے ان سے فرمایا ان کی مائیں کون ہیں ؟ بولے سردار جنوں کی بیٹیاں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( و لقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون ) ( الصافات ۱۵۸) البتہ تحقیق جن جانتے کہ وہ حاضر کئے جائیں گے کہ عنقریب حساب کے لئے حاضر کئے جائیں گے ۔ اور جن وہی ملائکہ ہیں ہم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا ( مشرکوں نے ) ملائکہ کو جنوں میں سے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ بولا۔ ابو عمران جونی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہودی کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں سے مصاہرت کی اس کے نتیجے میں ملائکہ پیدا ہوئے ۔ اور ہم نے کلبی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا۔ یہودی یہ کہتے تھے ۔ اپنی بات کی بنا پر کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون ) جن اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ حاضر کئے جائیں گے ۔ یعنی جہنم پر حاضر کئے جائیں گے یعنی وہ لوگ جو کہ کہتے ہیں کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ( کلبی نے ) کہا اور کہا جاتا ہے کہ یہ آیت زندیقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے کہا تھا اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا اور چوپایوں ک اور مویشیوں کو ابلیس نے کہا تھا کہ میں بھی ضرور ایک مخلوق پیدا کروں گا جو ان سب کو نقصان پہنچائے گی سو اس نے سانپ پید ا کئے بچھو اور درندے پیدا کئے ۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا ۔ ( رجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا ) ( صافات ۱۵۸) بولے وہ ابلیس ہے اللہ اس کو رسوا کرے ۔ اللہ اس سے برتر ہے جو وہ شرک کرتے ہیں ۔
الله عز و جل ← بنات سروات الجن ← لهم أبو بكر الصديق فمن أمهاتهم ← كفار قريش الملائكة بنات الله تعالى ← مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أبو عبد الله الحافظ في التفسير لهذه الآية ← البيهقي و قد
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 141
