شعب الإيمان · السابع من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الإيمان بالبعث و النشور بعد الموت ـ · حديث 256
256 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن مطر : فذكره و هو مخرج في كتاب مسلم و الإيمان بالبعث هو أن يؤمن بأن الله تعالى يعيد الرفات من أبدان الأموات و يجمع ما تفرق منها في البحار و بطون السباع و غيرها حتى تصير بهيئتها الأولى ثم يجمعها حية فيقوم الناس كلهم بأمر الله تعالى أحياء صغيرهم و كبيرهم حتى السقط الذي قد تم خلقه و نفخ فيه الروح فأما الذي لم يتم خلقه أو لم ينفخ فيه الروح أصلا فهو و سائر الأموات بمنزلة واحدة و الله تعالى أعلم و أما قول الله عز و جل في صفة القيامة : { إن زلزلة الساعة شيء عظيم * يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما أرضعت وتضع كل ذات حمل حملها } فإنما أراد الحوامل اللاتي لم يضعن أحمالهن فإذا بعثن أسقطن تلك الأحمال من فزع يوم القيامة ثم إن كانت الأحمال أحياء في الدنيا أسقطنها يوم القيامة أحياء و لا يتكرر عليها الموت و إن كانت الأحمال لم ينفخ فيها الروح في الدنيا أسقطنها أمواتا كما كانت لأن الإحياء إنما هو إعادة الحياة إلى من كان حيا فأميت و من لم يكن له في الحياة الدنيا نصين فلا نصيب له في الحياة الآخرة و قد ذكر الله عز و جل في غير آية من كتابه إثبات البعث منها قول الله عز و جل : { أوليس الذي خلق السماوات والأرض بقادر على أن يخلق مثلهم } و قال : { أولم يروا أن الله الذي خلق السماوات والأرض ولم يعي بخلقهن بقادر على أن يحيي الموتى بلى إنه على كل شيء قدير } فأحال بقدرته على إحياء الموتى على قدرته خلق السماوات و الأرض التي هي أعظم جسما من الناس و منها قوله عز و جل : { قال من يحيي العظام وهي رميم * قل يحييها الذي أنشأها أول مرة وهو بكل خلق عليم } فجعل النشأة الأولى دليلا على جواز النشأة الآخرة لأنها في معناه ثم قال : { الذي جعل لكم من الشجر الأخضر نارا فإذا أنتم منه توقدون } فجعل ظهور النار على حرها و يبسها من الشجر الأخضر على نداوته و رطوبته دليلا على جواز خلقه الحياة من الرمة البالية و العظام النخرة و قد نبهنا الله عز و جل في غير آية من كتابه على إحياء الموتى بالأرض تكون حية تنبت و تنمى و تثمر ثم تموت فتصير إلى أن لا تنبت و تبقى خاشعة هامدة ثم تحيى فتصير إلى أن تنبت و تنمى و هو الفاعل لحياتها و موتها ثم حياتها فإذا قدر على ذلك لم يعحزه أن يميت الإنسان و يسلبه معاني الحياة ثم يعيدها إليه و يجعل كما كان و نبهنا على إحياء النطفة التي هي ميتة و خلق الحيوان منها على قدرته على إحياء الموتى فقال عز و جل : { كيف تكفرون بالله و كنتم أمواتا فأحياكم } يعني نطفا في الأصلاب و الأرحام فخلقكم منها بشرا تنتشرون قال تعالى : { ألم نخلقكم من ماء مهين * فجعلناه في قرار مكين * إلى قدر معلوم * فقدرنا فنعم القادرون } فأعملهم أنه إذا أخرج النطفة من صلب الأب فهي ميتة ثم إنه جل ثناؤه جعلها حية في رحم الأم يخلق من يخلف منها و يركب الحياة فيه فهذه إحياء ميتة في المشاهدة فمن يقدر على هذا لا يعجز عن أن يميت هذا الخلق ثم يعيده حيا ثم بسط هذا المعنى في آية أخرى فقال { ألم يك نطفة من مني يمنى * ثم كان علقة فخلق فسوى * فجعل منه الزوجين الذكر والأنثى * أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى } و نبهنا على ذلك بخلق الحب و النوى فقال عز من قائل : { إن الله فالق الحب و النوى يخرج الحي من الميت } و ذلك أن الحب إذا جف و يبس بعد انتهاء تمامه وقع اليأس من ازدياده فكذلك النوى إذا تناهى عظمه وجف و يبس كانا ميتين ثم إنهما إذا أودعا الأرض الحية فلقهما الله تعالى و أخرج منهما ما يشاهد من النخل و الزرع حيا ينشأ و ينمو إلى أن يبلغ غايته و يدخل في هذا المعنى البيضة تفارق البائض و يجري عليها حكم الموت ثم يخلق الله منها حيا فهل هذا إلا إحياء الميتة و هو أمر مشاهد و العلم به ضرورة و قد نبهنا الله عز و جل على إحياء الموتى بما أخبر من اراءة إبراهيم عليه السلام إحياء الأموات و قد نقلته عامة أهل الملل و بما أخبر به عن الذين أخرجوا من ديارهم و هم ألوف حذر الموت فقال لهم الله : موتوا ثم أحياهم و بما أخبر به عن الذي مر على قرية و هي خاوية على عروشها قال : أنى يحيي هذه الله بعد موتها ؟ فأماته الله مائة عام ثم بعثه و بما أخبر به عن عصا موسى عليه السلام و قلبه إياه حية ثم أعادتها خشبة ثم جعلها عند محاجة السحرة حية ثم اعادتها خشبة و قد أشركت عامة أهل الملل في نقله و بما أخبر به من شأن أصحاب الكهف الذين ضرب على آذانهم زيادة على ثلاثمائة سنة ثم أحياهم ليدل قومهم عند ما أعثر عليهم على أن ما أنذروا به من البعث بعد الموت حق لا ريب فيه و قد نقلنا الآثار في شرح ذلك في الأول من كتاب البعث و النشور
ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس سے اس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے مطر سے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔ اور وہ مسلم شریف میں منقول ہے۔ مر کر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کے عقیدے کی تشریح دوبارہ اٹھنے پر ایمان لانا یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ اور ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ مردہ اجسام کے چورے کو اور ذرات کو دوبارہ زندہ کر کے لوٹائے گا ۔ اور ا ن کے وہ ذرات جو دریاؤں اور سمندروں میں بکھر گئے تھے۔ جو درندوں وغیرہ کے پیٹوں میں چلے گئے تھے جمع کرے گا۔ حتیٰ کہ وہ انسان اپنی پہلی شکل و صورت پر کھڑا ہو جائے گا۔ پھر تمام انسانوں کو زندہ کر کے جمع کرے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ تمام لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے کھڑے ہوں گے چھوٹے بھی بڑے بھی۔ یہاں تک کہ وہ کچے ضائع ہونے والے حمل بھی جن کی خلقت مکمل ہو چکی تھی اور روح پڑ چکی تھی۔ اور وہ بھی جن کی خلقت مکمل نہیں ہو ئی تھی۔ یا روح نہیں پڑی تھی بالکل بھی وہ بھی اور تمام مردے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک جیسے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ۔ قیامت کی صفت کے بارے میں: "ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم۔ یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا (الحج 2) بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن اس کو پہنچیں گے ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ساقط کر دے گی۔ تحقیق انیق (مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) مذکورہ آیت میں مذکور حمل والیوں سے مراد وہ حمل والیاں ہیں۔ (جو حاملہ ہو گئی) تھیں اور ان کی دنیا میں وضع حمل نہیں ہوئی تھی۔ جب وہ زندہ کر کے اٹھائی جائیں گی تو قیامت کے ہولناکی کی وجہ سے اپنے حملوں کو ساقط کر بیٹھیں گی۔ پھر اگر وہ حمل دنیا میں زندہ تھے تو قیامت میں وہ ان کو زندہ ہی گرا دیں گی اور ان پر موت مکرر نہیں آئے گی اور اگر وہ حمل دنیا میں ایسے تھے کہ ابھی ان میں روح نہیں پڑی تھی تو مائیں انکو مردہ ہی گرا دیں گی جیسے وہ دنیا میں بے جان تھے۔ اس لئے کہ زندہ کرنا حیات کا اعادہ رکنا ہے اس کی طرف جو زندہ تھا پھر مار دیا گیا۔ اور جس کا دنیا کی زندگی میں کوئی حصہ نہیں تھا اس کا آخرت کی زندگی میں بھی کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ قرآن مجید سے زندہ ہو کر اٹھنے کا اثبات ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی آیات میں بعث بعد الموت کے اثبات کو ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ (1)۔۔ اولیس الذی خلق السما وات والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم " (یٰس 80) کیا وہ ذات جس نے آسمان اور زمین (جیسی بڑ ی بڑی مخلوقات) پیدا فرمائیں کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ان انسانوں کو پہلے کی طرح پیدا کر ڈالے۔ اور ارشاد فرمایا: "(2)۔۔ اولم یروان اللہ الذی خلق السموات والارض ولم یعی بخلقھن بقادر علی ان یحییٰ الموتیٰ؟ بلا انہ علی کل شئی قدیر " (احقاف 33) کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ اللہ جس نے زمین آسمان بنائے اور وہ ان کو بنانے میں تھکا بھی نہیں وہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ہاں بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کرنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ کے ارض و سماء کو پیدا کرنے کی تمثیل سے ثابت فرمایا ہے حالانکہ وہ اپنے جسم کے اعتبار سے انسانوں سے بہت بڑے ہیں (تو جو ذات اتنی بڑی مخلوق پیدا کرسکتی ہے اس کے لئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہو سکتا ہے۔ تخلیق اول سے دوسری تخلیق پر استدلال اور ارشاد ہے: (3)۔۔ قال من یحی العظام وھی رمیم قل یحیھا الذی انشاء اول مرۃ وھو بکل خلق عظیم" (یٰس 78) کہتا ہے کو ن زندہ کرے گا ہڈیوں کو حالانکہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہے۔ آپ فرما دیجئے وہی ان کو زندہ کرے گا۔ جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلی تخلیق کو دوسری تخلیق کے لئے دلیل بنایا ہے کیونکہ یہ بالکل اسی جیسی ہے۔ پھر مزید ارشاد فرمایا: سر سبز درخت سے آگ کی تخلیق سے قدرت پر احیاء اموات پر استدلال۔ "الذی جعل لکم من الشجر الا خضر نارا ً فاذا انتم منہ تو قدون " (یٰس 80) اور وہ ہی ذات عالی ہے جس نے تمہارے لئے سر سبز درخت سے آگ پیدا فرمائی ہے اور تم اسی سے آگ جلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس درخت سے آگ کے ظہور کو آگ کی حرارت اور خشکی کے باوجود اور درخت کے سر سبز ہونے اور تروتازہ ہونے کے باوجود۔ پیدا کرنے کو دلیل بنایا ہے پرانی اور بوسیدہ ہڈیوں میں نئی حیات پیدا کرنے کی اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی کئی کئی آیات کے اندر مردوں کو زندہ کرنے پر زمین کی مثال دے کر ہم لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے۔ کہ زمین زندہ ہوتی ہے اور پودے اور کھیت کی نشوونما کرتی ہے اور پھل دار کرتی ہے ، پھر وہ مر جاتی ہے اور ایسی ہو جاتی ہے کہ اب وہ بالکل کچھ نہیں آگائے گی اسی طرح ایک عرصہ تک لوگوں کے قدموں تلے روندی جاتی رہتی ہے پھر اس پر جب پانی پڑتا ہے تو پھولتی اور حرکت کرتی ہے اور پھر زندہ اور آباد ہو جاتی ہے اور پھر سب چیز کو اگاتی اور نشو ونما کرتی ہے۔ حالانکہ اس سارے عمل میں اس کی موت و حیات پھر موت پھر حیات کافاعل حقیقی وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ جب وہ اس تسلسل پر قادر ہے تو اس کو کون سی چیز عاجز کر سکتی ہے کہ وہ انسان کومار دینے اور زندگی کے تمام آثار چھین لینے کے بعد پھر دوبارہ اس کو زندہ کر دے اور پھر ویسا ہی بنا دے جیسا کہ وہ پہلے سے تھا۔ اور اسی خالق و مالک نے ہمیں متنبہ فرمایا ہے نطفہ کے زندہ کرنے پر جو کہ بے جان تھا پھر اسی نے اس سے زندہ اور چلتا پھرتا انسان بنا دیا لہذا اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اور ارشاد فرمایا: "کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم (البقرہ 28) تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرو گے حالانکہ تم بے جان تھے سوا اسی نے تمہیں جان بخش دی۔ یعنی باپ کی پشتوں اور ماں کے رحموں میں نطفے تھے اسی سے تمہیں اس نے چلتے پھرتے کام کاج کرتے انسان بنا دیا۔ اور ارشاد فرمایا: " الم نخلقکم من مآء مھین ، فجعلناہ فی قرار مکین الی قدر معلوم ، فقدرنا فنعم القدرون" (المرسلت 20-23) کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر سے پانی سے نہیں بنایا؟ ہم نے اس پانی کو ایک محفوظ جگہ میں ایک خاص وقت تک ٹھہرایا سو ہم نے (اس کے تمام مراحل) کا ایک خاص اندازہ مقرر فرمایا اور ہم ہی بہتر اندازے اور قدرت کے مالک ہیں۔ اس نے انسانوں کو آگاہ کر فرمایا کہ جب وہ باپ کی پشت سے نطفے کو نکالتا ہے تو وہ بے جان ہوتا ہے مردہ ہوتا ہے ۔ پھر وہ اس کو رحم مادر میں زندہ کرتا ہے۔ جس کو پیدا کرنا ہوتا ہے اس سے پیدا کرتا ہے اور اس میں حیات کی ترکیب کرتا ہے، یہ مردہ اور بیجان کو زندہ کرنا روز مرہ کے لوگوں کے مشاہدہ میں ہے جو ذات اس زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ وہ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ وہ اس کو موت دے دے پھر وہ اس کو دوبارہ زندہ کر دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو ایک دوسری آیت میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اور ارشاد ہوا۔ تخلیق انسان، اور تخلیق شجر اور کھیت سے مسئلہ بعث بعدالموت پر استدلال " الم یک نطفۃ من منی یمنیٰ ، ثم کان علقۃ فخلق فسوی ، فجعل منہ الزوجین الذکر والانثی الیس ذالکک بقدر علیٰ ان یحییٰ الموتیٰ" (القیامہ 37-40) کیا انسان (پانی کی بوند یعنی) نطفہ نہیں تھا منی کو جو ٹپکایا گیا؟ پھر وہ خون کی پھٹکی تھا سوا اس کو اللہ تعالیٰ نے متناسب اعضا والا بنایا۔ پھر اس سے مرد اور عورت کے جوڑے بنائے کیا وہ اللہ (جو ان تمام امور پر قادر ہے) کیا وہ اس بات پرقادر نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اس مسئلہ بعث بعد الموت پر دانہ اور گٹھلی کی پیدائش کے ساتھ متنبہ فرمایا ۔ ارشاد ہوا۔ " ان اللہ فالق الحب والنویٰ ، یخرج الحی من المیت " (انعام 95) جب کہ اللہ تعالیٰ دانہ اور گٹھلی کو (اگانے کے لئے ) چیرتا ہے ، وہی زندہ چیز کو بے جان چیز سے پیدا کرتا ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ دنہ جب پورا ہو جاتا ہے اور پک کر سوکھ جاتا ہے اور اس کے بڑھنے کے چانس ختم ہو جاتے ہیں یہی حال گھٹلی کا ہے کہ وہ بھی جب بڑی ہو کر بڑھنے سے رک جاتی ہے اور سوکھ جاتی ہے تو یہ دونوں چیزیں مردہ اور بے جان ہوتی ہیں ، پھر جب دونوں کو زندہ اور تازہ زمین میں امانت رکھا جاتا ہے تو انہیں سے لمبے لمبے کھجور کے درخت اور لہلہات کھیت پیدا ہوتے ہیں جو کہ بڑھتے اور نشو نما پاتے ہیں یہاں تک کہ اپنی حد انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ اسی تمثیل میں داخل ہے انڈا بھی کہ وہ جب انڈا دینے والی چیز سے جدا ہو جاتا ہے توا س پر بھی موت کا اور بے جان ہونے کا حکم لگ جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اسی مردہ و بے جان انڈے سے زندہ جاندار پیدا کر دیتا ہے۔ آپ نے کبھی غور فرمایا کہ یہ کہ یہ سب کچھ کیا ہے یہی مردہ کو زندہ کرنا بے جان کو جاندار بنانا اور یہ امر ایسا ہے جو سب کے نظروں کے سامنے ہے سب کے مشاہدے میں ہے اور اس کا علم یہ یہی ہے جس سے کسی کو انکار کی مجال نہیں ہے۔ یہی دلیل ہے اس بات کی کہ جو ذات یہ مذکورہ تصرف کرتی ہے۔ وہی ذات تمام انسانوں کو قیامت میں دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لئے اپنے سامنے لا کھڑا کر ے گی جس طرح اس کے لئے یہ مذکورہ امور کچھ مشکل نہیں ہیں بلکہ آسان ہیں اسی طرح اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اور زندہ کرنا بھی مشکل نہیں بلکہ آسان ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے مسئلہ بعث پر استدلال : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو مردوں کے زندہ کرنے پر اس واقعہ کے ساتھ آگاہ فرمایا ہے جب اس نے ابراہیم علیہ السلام کو مردہ چیزوں کو زندہ کر کے دیکھایا تھا اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی اطلاع ہم لوگوں کو قرآن مجید میں دی ہے۔ اور اس واقع کو تمام اہل ملل نے نقل کیا ہے۔ مسئلہ بعث بعد الموت پر حضرت عزیز علیہ السلام کے واقعہ سے استدلال : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسئلہ بعث بعد الموت کو حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعہ کے ساتھ مطلع فرمایا ہے جب وہ ایک ویران اور تباہ شدہ بستی سے گزرے تھے اور وہ بستی اپنی چھتوں پر گر چکی تھی۔ ازراہ تعجب یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کہاں؟ اس کو زندہ کریں گے؟ توا للہ تعالیٰ نے ان کو سو سال تک موت کی نیند سلا دیا۔ پھر ان کو زندہ کر کے اٹھایا۔ مسئلہ بعث بعد الموت قوم عمالقہ کے ہزاروں افراد کی موت پھر زندگی سے استدلال: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسئلہ بعث بعدالموت کو ہمارے لئے اس واقعہ کی تفصیل بیان فرما کر واضح فرمایا کہ جب بنی اسرائیل یا قوم عمالقہ کے ہزاروں لوگ موت کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگے تھے(مگر موت نہیں ٹلتی اپنے وقت پر آجاتی ہے) اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ تم سب مر جاؤ لہذا وہ مر گئے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے یہ واضح فرمایا جیسے میں نے ان ہزاروں کو زندہ کیا اسی طرح تمام اموات کو زندہ کروں گا۔ مسئلہ بعث بعد الموت پر موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے واقعہ سے استدلال: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسئلہ بعث بعد الموت پر ہمیں آگاہی فرمائی ہے موسیٰ علیہ السلام کے ساحروں کے ساتھ مناظرے والے واقعہ کے ساتھ کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا لکڑی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو سانپ بنا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو موسیٰ علیہ السلام نے پکڑا تو وہ لکڑی بن گئی۔ یعنی لکڑ کا سانپ کے ساتھ بدل جاتا پھر سانپ کا لکڑی سے بدل جانا پھر جادوگروں کےمقابلے کے وقت اس کا سانپ بن جانا اس کے بعد اس کا لکڑی بن جانا۔ اس واقعہ کو نقل کرنے میں تمام اہل ملک شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جو اللہ ایک چیز کی ماہیت بدل دینے پر قادر ہے وہ مردے کو زندہ کر نے پر کیوں قادر نہیں ہو سکتا؟ بعث بعد الموت پر واقعہ اصحاب کہف سے استدلال: اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ سے مسئلہ بعث بعد الموت پر دلیل قائم فرمائی ہے۔ جن کے کانوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سو سال کے عرصہ سے زیادہ عرصہ تک مہر مار دی (یعنی موت کی نیند سلا دیا) پھر ان کو زندہ کیا تاکہ ان کی قوم ان کے حالات پر مطلع ہونے کے بعد اس بات پر دلیل پکڑیں کہ وہ ان کو جس مسئلہ بعث بعد الموت سے ڈراتے رہے وہ حق ہے اور لاریب ہے۔ ہم نے اپنی کتاب "العبث والنشور" کے شروع میں اس مسئلہ کی شرح و تفصیل میں بہت سے ارشاد بھی نقل کر دئیے ہیں۔
حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني
Shuab ul Iman · Seventh of the people of faith › It is a section on belief in resurrection and resurrection after death · Hadith 256
