شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الأعراف ـ · حديث 382
381 - أخبرناه أبو زكريا قال أنا أبو الحسن الطرايفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : فذكره قال البيهقي رحمه الله : و روينا في حديث مرسل ضعيف أنه سئل عن أصحاب الأعراف فقال : قوم قتلوا في سبيل الله عز و جل في معصية آبائهم فمنعهم من الجنة معصيتهم آباءهم و منعهم من النار قتلهم في سبيل الله عز و جل و أما قوله : { ونادى أصحاب الأعراف رجالا يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون } فهذا قولهم وهم على السور قبل أن يدخلوا الجنة لرجال من الكفار ثم ينظرون إلى أهل الجنة فيرون الضعفاء و المساكين ممن كان يستهزئ بهم الكفار في الدنيا فينادونهم يعني فينادون الكفار أهؤلاء يعني الضعفاء و المساكين الذي حلفتم إذا أنتم في الدنيا { لا ينالهم الله برحمة } يعني الجنة و يقول الله لأصحاب الأعراف : { ادخلوا الجنة لا خوف عليكم و لا أنتم تحزنون } هكذا فسره الكلبي فيما رواه عن أبي صالح عن ابن عباس و قال مقاتل بن سليمان هذا قول أصحاب الأعراف لرجال من أهل النار في النار { يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون } فأقسم أهل النار أن أصحاب الأعراف داخلون النار معهم فقالت الملائكة الذين حبسوا أصحاب الأعراف على الصراط أهؤلاء يعني أصحاب الأعراف الذين أقسمتم يا أهل النار لا ينالهم الله برحمة و هم داخلون النار معكم { ادخلوا الجنة لا خوف عليكم و لا أنتم تحزنون } بالموت و هذا القول أشبه بما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس و أمر أصحاب الأعراف على الأصل الذي قدمنا ذكره و هو أن من وافى القيامة مؤمنا و لسيئاته وزن في ميزانه و هو بين أن يغفر له من غير تعذيب و بين أن يعذب بقدر ذنوبه ثم يغفر له فقد يكون منهم من لا يدخل الجنة في الحال و لا يدخل النار و لكن يحبس على الأعراف و هو السور ـ قال مقاتل على الصراط ـ فإذا أراد الله دخولهم الجنة أمرهم بدخولها برحمته أو بشفاعة الشفعاء و الله أعلم
ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو زکریا نے، ان کو ابو الحسن طرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ۔ ان کو عبداللہ بن صالح نے، ان کو معاویہ بن صالح نے ، ان کو علی بن ابو طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، پھر مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نے مرسل اور ضعیف حدیث میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصحاب اعراف کے بارے میں پوچھا گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہوں مگر وہ ماں باپ کے نا فرمان ہوں گے۔ لہذ ا والدین کی نا فرمانی ان کو جنت سے روک دے گی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور شہید ہو جانا ان کو جہنم سے روک دے گا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "ونادی اصحب الاعراف رجالاً یعرفون نھم بسیماھم قالو ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون (اعراف 48) اعراف والے پکاریں گے کچھ ان جوانوں کو جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے۔ نہ کام آئی تمہاری جماعت اور نہ ہی تمہارا اترانا۔ اعراف والوں کی یہ بات دیوار کے پاس ہو گی اور جنت میں ان کے داخلے سے قبل کافر مردوں سے ہو گی۔ پھر اعراف والے اھل جنت کو دیکھیں گے تو ان میں ضعیف اور مسکین نظر آئیں گے ۔ کفار جن کے ساتھ دنیا میں استہزاء کرتے تھے۔ پھر اعراف والے کافروں کو پکار کر کہیں گے کیا یہی ضعفاء اور مساکین تھے جن کے ساتھ تم قسمیں کھاتے تھے جب تم دنیا میں تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی۔ یعنی جنت نہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف سے فرمائیں گے تم جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔ کلبی نے اسی طرح ان آیات کی تفسیر کی ہے اس روایت کے مطابق جسے ابو صالح نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ اور مقاتل بن سلیمان نے کہا کہ یہ قول اصحاب اعراف کا اہل جہنم کے کچھ لوگوں کے لئے ہو گا جو جہنم میں ہوں گے۔ پہچانیں گے ان کو ان کی نشانیوں سے (اور کہیں گے کہ) تمہیں تمہاری جماعت نے اور تمہارے اکڑنے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ چنانچہ جہنمی قسمیں کھائیں گے کہ اعراف والے بھی ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے اور فرشتے کہیں گے جنہوں نے اصحاب اعراف کو راستے پر روک رکھاہو گا (جہنمیوں ےس) کہ کیا یہی لوگ تھے۔ یعنی اعراف والے جن کے بارے میں تم اے اہل جہنم قسمیں کھاتے تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی اور وہ لوگ تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہو ں گے۔ (تم داخل ہو جاؤ اے اعراف والو جنت میں تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں نہ تم غمگین ہو گے موت کے ساتھ)۔ یہ قول زیادہ انسب ہے اس روایت کے سبب جسے ہم نے علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اصحاب اعراف کا معاملہ اس اصول اور قاعدے کے مطابق ہے جس کا ذکر ہم نے پہلے کر دیا ہے اور وہ یہ کہ جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں آیا اور اس کے گناہوں کا اس کے ترازو میں وزن بھی بن گیا ، وہ اس کیفیت کے درمیان ہو گا کہ اسے بغیر عذاب کے بخش دیا جائے گا یا اس کو اس کے گناہوں کی مقدار کے مطابق عذاب دیا جائے۔ اس کے بعد اس کو بخش دیا جائے۔ لہذا وہاں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو فی الحال نہ تو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ ہی جہنم میں۔ لیکن اعراف پر روک لئے جائیں گے اور وہ دیوار ہے۔ مقاتل کے بقول صراط پر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا ارادہ کرے گا تو ان کو اپنی رحمت سے یا سفارش کرنے والوں کی سفارش سے جنت میں داخلے کا حکم دے گا۔ واللہ اعلم۔ فصل اس باب میں جس چیز کی معرفت لازمی ہے اور ضرور ی ہے وہ یہ ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ جنت و جہنم دونوں مخلوق ہیں، جو اپنے اپنے مستحق لوگوں کے لئے بنائی جا چکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جنت کے بارے ارشاد فرماتے ہیں: اعدت للمتقین (آل عمران 133) تقوے والے لوگوں کےلئے جنت تیا ر کی گئی ہے۔ اور جہنم کے بارے میں فرمایا کہ : اعد ت للکافرین (البقرہ 24) وہ کافروں کے لئے تیا ر کی گئی ہے۔ تیار کرنے کی وضاحت فرمائی ہے اور تیار وہی چیز ہو تی ہے جو پیدا ہو چکی ہو اور موجود ہو۔ نیز جنت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وجنۃ عرضھا السموات والارض (آل عمران 133) جنت کا عرض اور چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ اور معدوم اور غیر موجود شے کا عرض نہیں ہوتا ۔ یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ جنت و جہنم بن چکی اور تیار ہو چکی ہیں اور موجود ہیں۔
البيهقي و روينا في حديث مرسل ضعيف ← ابْنُ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in the owners of customs · Hadith 382
