شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 78
78 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ حاجب بن أحمد الطوسي ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا جرير بن عبد الحميد أنبأ سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله و رسوله يفتح الله عليه قال سهيل : أحسبه خيبر قال عمر : فما أحببت الإمارة قط حتى يومئذ فدعا عليا فبعثه ثم قال : اذهب فقاتل حتى يفتح الله عليك و لا تلتفت قال علي رضي الله عنه : على ماذا أقاتل الناس ؟ قال : قاتلهم حتى يشهدوا أنبأ لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله فإذا فعلوا ذلك فقد عصموا منكم دماءهم و أموالهم إلا بحقها و حسابهم على الله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن سهيل
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حاجب بن احمد طوسی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحیم بن منیب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن عبدالحمید نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے سہیل بن ابی صالح نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( لا عطین الرایۃ غدار جلا یحب اللہ و رسولہ یفتح اللہ علیہ ) میں صبح جہاد کا جھنڈا ضرور ایک آدمی کو دوں گا جو اللہ و رسول سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دیں گے ۔ سہیل فرماتے ہیں میرا خیال ہے وہ خیبر کا موقع تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں امارت کو کبھی پسند نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ اس دن ( ضرور شک کیا ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں امیر مقرر فرمایا ۔ حضرت علی فرماتے ہیں میں کس بات پر لوگوں سے قتال کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ۔ لوگوں سے جہاد کر حتی کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہٰں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اگر وہ یہ کریں تو انہوں نے تم سے بچا لیا اپنے خون کو اور مالوں کو مگر اس کے حق ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو دوسرے طریق سے سہیل سے روایت کیا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← جرير بن عبد الحميد أنبأ سهيل بن أبي صالح ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← أبو طاهر الفقيه أنبأ حاجب بن أحمد الطوسي
Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 78
