Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 78

78 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ حاجب بن أحمد الطوسي ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا جرير بن عبد الحميد أنبأ سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله و رسوله يفتح الله عليه قال سهيل : أحسبه خيبر قال عمر : فما أحببت الإمارة قط حتى يومئذ فدعا عليا فبعثه ثم قال : اذهب فقاتل حتى يفتح الله عليك و لا تلتفت قال علي رضي الله عنه : على ماذا أقاتل الناس ؟ قال : قاتلهم حتى يشهدوا أنبأ لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله فإذا فعلوا ذلك فقد عصموا منكم دماءهم و أموالهم إلا بحقها و حسابهم على الله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن سهيل

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حاجب بن احمد طوسی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحیم بن منیب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن عبدالحمید نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے سہیل بن ابی صالح نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( لا عطین الرایۃ غدار جلا یحب اللہ و رسولہ یفتح اللہ علیہ ) میں صبح جہاد کا جھنڈا ضرور ایک آدمی کو دوں گا جو اللہ و رسول سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دیں گے ۔ سہیل فرماتے ہیں میرا خیال ہے وہ خیبر کا موقع تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں امارت کو کبھی پسند نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ اس دن ( ضرور شک کیا ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں امیر مقرر فرمایا ۔ حضرت علی فرماتے ہیں میں کس بات پر لوگوں سے قتال کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ۔ لوگوں سے جہاد کر حتی کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہٰں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اگر وہ یہ کریں تو انہوں نے تم سے بچا لیا اپنے خون کو اور مالوں کو مگر اس کے حق ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو دوسرے طریق سے سہیل سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← جرير بن عبد الحميد أنبأ سهيل بن أبي صالح ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← أبو طاهر الفقيه أنبأ حاجب بن أحمد الطوسي

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 78

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 79

79 - و فيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع قال : قال الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ : الإقرار بالإيمان وجهان فمن كان من أهل الأوثان و من لا دين له يدعي أنه دين نبوة فإذا شهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله فقد أقر بالإيمان و متى رجع عنه قتل و من كان على دين اليهودية و النصرانية فهؤلاء يدعو دين موسى و عيسى عليهما الصلاة و السلام و قد بدلوا منه و قد أخذ عليهم فيه الإيمان بمحمد رسول الله صلى الله عليه و سلم فكفروا بترك الإيمان به و اتباع دينه مع ما كفروا به من الكذب على الله قبله فقد قيل لي إن فيهم من هو مقيم على دينه يشهد أن لا إله إلا الله و يشهد أن محمدا رسول الله و يقول لم يبعث إلينا فإن كان فيهم أحد هكذا فقال أحد منهم : أشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله لم يكن هذا مستكمل الإقرار بالإيمان حتى يقول : و إن دين محمد حق أو فرض و أبرأ مما خالف دين محمد صلى الله عليه و سلم أو دين الإسلام فإذا قال هذا فقد استكمل الإقرار بالإيمان و بسط الكلام فيه و على قياس هذا فكل من تلفظ بكلام محتمل لم يكن ذلك منه صريح إقرار بالإيمان حتى يأتي بما يخرجه عن حد الاحتمال و قد بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في شرحه و قد ينعقد الإيمان بغير القول المعروف إذا أتى بما يؤدي معناه و ما ذكرنا من الآية دلالة على ذلك قال البيهقي ـ رحمه الله : و قد روينا في حديث المقداد بن الأسود أنه قال : يا رسول الله ! أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فقاتلني فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها ثم لاذ مني بشجرة فقال : أسلمت لله أقتله يا رسول الله ! بعد أن قالها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقتله فقلت يا رسول الله ! إنه قطع يدي ثم قال ذلك بعد أقتله ؟ فقال : لا تقتله فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله و إنك بمنزلته قبل أن يقول الكلمة التي قال

مجھے خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے خبر دی ہے ابو العباس اصعم نے خبر دی ہے ربیع نے وہ کہتے ہیں ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ ایمان کے اقرار کی دو وجوہ ہیں ۔ جو شخص بت پرست ہے اور جو بے دین ہے اور دین نبوی کا دعویدار ہے ۔ جب وہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بندے اور رسول ہیں ۔ بس اس نے ایمان کا اقرار کر لیا جب اس اقرار سے پھر جائے قتل کر دیا جائے گا۔ اور جو شخص دین یہودیت اور نصرانیت پر ہے یہ لوگ دین موسیٰ اور عیسی علیہا السلام کے دعویدار ہیں حالانکہ وہ اس میں تبدیلی کر چکے ہیں ۔ حالانکہ ان کی کتاب میں ان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ ایمان کا عہد لیا جا چکا مگر وہ ان کے ساتھ ترک ایمان کی وجہ سے کفر کر چکے ہیں محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ کفر کے باوجود اس کے دین کی اتباع یہ اللہ پر جھوٹ ہے ۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں میں وہ بھی ہیں جو دین محمد پر قائم ہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہیں اور اس بات کی شہادت بھی محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رسول ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔ بالفرض اگر ان میں کوئی ایسا ہو اور ان میں سے کوئی ایک یہ کہے اشھدان لا الہ الا اللہ و ان محمد الرسول اللہ ، تو صرف کہنے سے وہ شخص ایمان کے اقرار کا مکمل کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا دین حق ہے یا فرض ہے اور اظہار برات کرے اس سب کچھ سے جو دین محمد کے خلاف ہے یا دین اسلام کے خلاف ہے جب وہ یہ کہے بس وہ ایمان کا اقرار مکمل کر لیا امام شافعی نے اس میں تفصیل سے کلام کیا ہے ۔ اس مذکورہ تفصیل پر قیاس کرتے ہوئے ہر وہ شخص جو احتمال رکھنے والے کلام کا تلفظ کرے تو ی اس کی طرف سے ایمان کا صریح اقرار نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اسی کلام کا تلفظ کرے جو اس کو احتمال کی حد سے نکال دے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی شرح کرتے ہوئے مفصل کلام کیا ہے ۔ کبھی مشہور قول لا الہ الا اللہ کے بغیر بھی ایمان منعقد و جاتا ہے جب ایسے الفاظ لے آئے جن سے معروف قول کا مفہوم ادا کر دے ہم نے جو آیت ذکر کی ہے اس میں اس پر دلالت موجود ہے ۔ حالانکہ تحقیق ہم روایت کر چکہے ہیں مقداد بن اسود کی حدیث میں کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں کسی کافر سے ٹکراؤں وہ مجھ سے قتال کر لے اور تلوار میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے پھر وہ بھاگ کر مجھ سے کسی درخت کے ساتھ پناہ لے لے اور یہ کہے کہ میں اللہ کے لئے اسلام لایا ہوں کیا اس کے یہ کہنے کے بعد میں اس کو قتل کر دوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا اس کو تو قتل نہ کر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ وہ تو میرا ہاتھ کاٹ چکا ہو گا۔ اس کے بعد یہ کہہ رہا ہو گا کیا میں اسے قتل کر دوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تو اس کو قتل نہ کر ۔ اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ ترے اس مقام پر ہوگا جس مقام تو اس کو قتل کرنے سے قبل تھا ۔ اور تو اس کے اس مقام پر ہوگا جس پر وہ کلمہ پڑھنے سے قبل تھا۔

أبو عبد الله الحافظ إجازة أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع ← و فيما

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 79

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 80

80 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق الفقيه نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا ابن بكير ثنا الليث عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن عبيد الله بن عدي بن الخيار عن المقداد بن الأسود : أنه قال يا رسول الله ! فذكره أخرجاه في الصحيح و روينا في حديث عقبة بن مالك في قصة شبيهة بقصة المقداد غير أنه قال : فقال إني مسلم فذكر ما كان من النبي صلى الله عليه و سلم من إعراضه عن قاتله و قوله : إن الله أبى علي من قتل مؤمنا

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسٰحق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے احمد بن ابراہیم نے بن ملحان نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابن بکیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے لیث نے ابن شہاب سے انہوں نے عطا بن یزید لیثی سے انہوں نے عبداللہ بن عدی بن خیار سے انہوں نے مقداد بن اسود سے انہوں نے کہا یا رسول اللہ ۔۔۔ پھر اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔ بخاری ، مسلم نے اس کو اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔ اور ہم نے روایت کیا ہے عقبہ بن مالک کی حدیث میں شبیہہ کی قصہ میں مقداد کے قصے کے ساتھ علاوہ ازیں انہوں نے یہ کہا انی مسلم جب کہ میں مسلمان بھی ہوں ۔ پھر آگے اس سے وہی ذکر کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی طرف سے اعراض منقول تھااس کے قاتل سے اور آپ کا یہ فرمان بھی کہ : ( ان اللہ ابی علی من قتل مومنا ) بے شک اللہ نے مجھ پر انکا کیا ہے اس شخص کی مغفرت سے جو شخص کسی مومن کو قتل کرے ۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق الفقيه

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 80

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood