شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول فيمن يصح إيمانه أو لا يصح ـ · حديث 87
87 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب ثنا أبو الوليد الطيالسي و موسى بن إسماعيل قالا : ثنا حماد بن سلمة عن حماد عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رفع القلم عن ثلاثة : عن الصبي حتى يحتلم و عن المعتوه حتى يفيق و عن النائم حتى يستيقظ و أما ما روي من إسلام علي و صلاته مع النبي صلى الله عليه و سلم فقد قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : لما أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بالإسلام و الصلاة فهو آحد شيئين : أما أن يكون خصه بالخطاب لما صار من أهل التمييز و المعرفة دون سائر الصغار ليكون ذلك كرامة له و منقبة فلما توجه عليه الخطاب و الدعوة صحت منه الإجابة و سائر الصغار لا يتوجه عليهم الخطاب و الدعوة فلا يصح منهم الإسلام أو يكون خطاب النبي صلى الله عليه و سلم إياه بالدعاء إلى الإسلام و الصلاة يومئذ على أنه بالغ عنده لأن البلوغ بالسن ليس مما شرع في أول الإسلام بل ليس يحفظ قبل قصة ابن عمر في أحد و الخندق في ذلك شيء فالظاهر أن الناس كانوا يجرون في ذلك على رأيهم و ما تعارفوا من أن الصبي من لا يمكن أن يولد له و الرجل من يمكن أن يولد له و كان علي ـ رضي الله عنه ـ ابن عشر سنين لما أسلم و ظاهر قول من قال إنه ابن عشر : أنه استكمل عشرا و دخل في الحادي عشر و من بلغ هذا السن فقد يمكن أن يولد له فلما شرع البلوغ بعد ذلك بالسن نظر إلى السن فقد يمكن أن يولد له فلما شرع البلوغ بعد ذلك بالسن نظر إلى السن التي كل من بلغها جاز أن يولد له دون السن التي ينذر ممن يبلغها الإيلاد و كان من قصرت سنوه عن ذلك الحد صغيرا في الحكم و لم يجز أن يصح إسلامه و الله تعالى أعلم و قد ذكرنا في كتاب السنن و في كتاب الفضائل سائر ما قيل فيه
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد ایوب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الولید طیالسی نے اور موسیٰ بن اسماعیل نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن سلمہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے انہوں نے عائشہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا : ( رفع القلم عن ثلاثۃ عن الصبی حتی یحتلم و عن المعتوہ حتی یفیق و عن النائم حتی یستیقط ) تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا دیا گیا ہے ( یعنی خاص حالت میں فرشتے ان کے اعمال نہیں لکھتے ) چھوٹا بچہ یہاں تک کہ جوان ہو جائے اور بیہوش جب تک کے ہوش میں آئے اور نیند والا یہاں تک کے بیدار ہو جائے ۔ بہر حال حضرت علی کے اسلام کے بارے میں جو مروی ہے کہ وہ دس سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا اسی بارے حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اسلام اور نماز کا حکم دیا تو وہاں دو میں سے ایک بات تھی ۔ یا تو انہیں خطاب کے لئے مخصوص کیا ہو گا ۔ اس لئے کہ وہ صاحب تمیز اور صاحب معرفت ہو گئے تھے باقی عام بچوں کے مقابلے ۔ تانکہ یہ ان کی کرامت اور منقبت ہو جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب خطاب ان کی طرف متوجہ ہو اور دعوت متوجہ ہوئی تو ٹھیک ان کی طرف سے اس کی اجابت بھی ہو گئی اور باقی تمام بچوں کی طرف نہ تو خطاب متوجہ ہوتا ہے اور نہ ہی دعوت لہذا ان کی طرف سے اسلام صحیح نہیں ہوتا ۔ یا پھر نبی علیہ السلام کا خطاب حضرت علی کے لئے خاص ان کو اسلام اور نماز کی دعوت ہو گا۔ اس دن اس لئے کہ وہ حضور کے نزدیک بالغ ہو چکے تھے ۔ اس لئے کہ سن کے ساتھ بالغ ہونا ابتدا اسلام میں مشروع نہیں ہوا تھا بلکہ ابن عمر کے قصہ سے قبل محفوظ نہیں جو احد یا خندق میں ہوا علاوہ اس کے کوئی بات محفوظ نہیں ہے ۔ بلکہ ظاہر یہ ہے کہ لوگ اس بارے میں اپنی رائے پر چلتے تھے ۔ اور جس بات کو لوگ جانتے وہ یہ تھی کہ صبی ( بچہ ) وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہونا ممکن نہ ہو ۔ اور آدمی وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہونا ممکن ہو۔ اور حج علی جب مسلمان ہوئے تو دس برس کے تھے یعنی دس پورے کر کے گیارہ میں داخل ہو چکے تھے ۔ اور جو اس عمر کو پہنچ جائے اس کی اولاد ہونا ممکن ہوتا ہے ۔ جب بلوغ اس کے بعد اس کے ساتھ مشروع ہوا تو سن کی طرف دیکھا جانے لگا ۔ کہ جو اس سن کو پہنچ جائے ممکن ہے کہ اس کی اولاد ہو جائے سوائے اس سنہ کے جو نادر ہو ان میں سے جو اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو جائے اور وہ جو اس متعین سنہ سے کم ہو گا وہ بچہ کے حکم میں ہو گا۔ اور یہ بھی جائز نہیں ہو گا کہ اس کا اسلام صحیح اور درست ہو۔ اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہم نے کتاب السنسن کی کتاب الفضائل میں ذکر کر دیا ہے ۔
المعتوه حتى يفيق و ← الصبي حتى يحتلم و ← ثَلَاثَةٍ ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو الوليد الطيالسي و موسى بن إسماعيل ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Book › Chapter of the saying about whoever has valid faith or not · Hadith 87
