شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 89
89 - قال : أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو مسلم ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان بضع و ستون أو بضع و سبعون أفضلها لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان قال الحليمي رحمه الله تعالى : و هذه الشهادة فرض تجمع الاعتقاد بالقلب و الاعتراف باللسان و الاعتقاد و الإقرار و إن كانا عملين يعملان بجارحتين مختلفتين فإن نوع العمل واحد و المنسوب منه إلى القلب هو المنسوب إلى اللسان و المنسوب إلى اللسان هو المنسوب إلى القلب كما أن المكتوب ـ مما جمع بين كتبه و قوله هو المقول و المقول هو المكتوب قال : و العمل الصالح بالاعتقاد و الإقرار مجموع عدة أشياء : 1 - ـ أحدهما : إثبات البارئ جل جلاله ليقع به مفارقة التعطيل 2 - ـ و الثاني : إثبات وحدانيته لتقع به البراءة من الشرك 3 - ـ و الثالث : إثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض ليقع به البراءة من التشبيه 4 - ـ و الرابع : إثبات أن وجود كل ما سواه كان معدوما من قبل إبداعه له و اختراعه إياه ليقع به البراءة من قول من يقول بالعلة و المعلول 5 - ـ و الخامس : إثبات أنه مدبر ما أبدع و مصرفه على ما يشاء ليقع به البراءة من قول القائلين بالطبائع أو تدبير الكواكب أو تدبير الملائكة فأما البراءة بإثبات الباري جل ثناؤه و الاعتراف له بالوجود من معاني التعطيل فلأن قوما ضلوا عن معرفة الله جل ثناؤه فكفروا و ألحدوا و زعموا أنه لا فاعل لهذا العالم و أنه لم يزل على ما هو عليه و لا موجود إلا المحسوسات و ليس وراءها شيء و أن الكوائن و الحوادث إنما تكون و تحدث من قبل الطبائع التي في العناصر ـ و هي الماء و النار و الهواء و الأرض و لا مدبر للعالم يكون ما يكون باختياره و صنعه فإذا أثبت المثبت للعالم إلها و نسب الفعل و الصنع إليه فقد فارق الإلحاد و التعطيل و هذا أحسن مذاهب الملحدين و القائلون به يسميهم غيرهم من أهل الإلحاد : الفرقة المتجاهلة و يدعونهم غير الفلاسفة أما البراءة من الشرك بإثبات الوحدانية فلأن قوما ادعوا فاعلين فزعموا أن أحدهما يفعل الخير و الآخر يفعل الشر و زعم قوم أن بدء الخلق كان من النفس إلا أنه كان يقع منها لا على سبيل السداد و الحكمة فأخذ الباري على يدها و عمد إلى مادة قديمة كانت موجودة معه لم تزل فركب منها هذا العالم على ما هو عليه من السداد و الحكمة فإذا ثبت المثبت أن لا إله إلا الله واحد و لا خالق سواه و لا قديم غيره فقد انتفى عن قول الشريك الذي هو في البطلان و وجوب اسم الكفر لقائله كالإلحاد و التعطيل و أما البراءة من التشبيه بإثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض فلأن قوما زاغوا عن الحق فصفوا الباري ـ جل و عز ـ ببعض صفات المحدثين فمنهم من قال : إنه جوهر و منهم من قال : إنه جسم و منهم من أجاز أن يكون على العرش قاعدا كما يكون الملك على سريره و كل ذلك في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و التشريك فإذا ثبت أنه ليس كمثله شيء و جماع ذلك أنه ليس بجوهر و لا عرض فقد انتفى التشبيه لأنه لو كان جوهرا أو عرضا لجاز عليه ما يجوز على سائر الجواهر و الأعراض و إذا لم يكن جوهرا و لا عرضا لم يجز عليه ما يجوز على الجواهر من حيث أنها جواهر كالتأليف و التجسيم شغل الأمكنة و الحركة و السكون و لا ما يجوز على الأعراض من حيث أنها أعراض كالحدوث و عدم البقاء و أما البراءة من التعطيل بإثبات أنه مبدع كل شيء سواه فلأن قوما من الأوائل خالفوا المعطلة ثم خذلوا عن بلوغ الحق فقالوا : إن الباري موجود غير أنه علة لسائر الموجودات و سبب لها بمعنى أن وجوده اقتضى وجودها شيئا فشيئا على ترتيب لهم يذكرونه و أن المعمول إذا كان لا يفارق العلة فواجب إذا كان الباري لم يزل أن يكون مادة هذا العالم لم تزل معه فمن أثبت أنه المبدع الموجد المحدث لكل ما سواه من جوهر و عرض باختياره و إرادته المخترع لها لا من أصل فقد انتفى عن قوله التعليل الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و أما البراءة من الشريك في التدبير بإثبات أنه لا مدبر لشيء من الموجودات إلا الله فلأن قوما زعموا أن الملائكة تدبر العالم و سموها آلهة و قد قال الله تعالى للملائكة : { فالمدبرات أمرا } و معنى المدبرات : المنفذات لما دبر الله على أيديها كما يقال لمن ينفذ حكم الله بين الخصوم : حاكم و زعم قوم أن الكواكب تدر ما تحتها و أن كل كائنة و حادثة في الأرض فإنما هي من آثار حركات الكواكب و اقترافها و اقترانها و اتصالها و انفصالها و غير ذلك من أحوالها فمن أثبت أن الله ـ عز و جل ـ هو المدبر لما أبدع و لا مدبر سواه فقد انتفى عن قوله التشريك في التدبير الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتشريك في القدم أو في الخلق ثم أن الله عز و جل ثناؤه ضمن هذه المعاني كلها كلمة واحدة و هي لا إله إلا الله و أمر المأمورين بالإيمان أن يعتقدوها و يقولوها فقال جل و عز : { فاعلم أنه لا إله إلا الله } و قال فيما ذم مشركي العرب : { إنهم كانوا إذا قيل لهم لا إله إلا الله يستكبرون * ويقولون أإنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون } و المعنى أنهم إذا قيل لهم لا إله إلا الله استكبروا و لم يقولوا بل قالوا مكانها : أئنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون
فرمایا ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو مسلم نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے محمد بن کثیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا : ( الا یمان بضع و ستون اوبضع و سبعون ، افضلھا لا الہ الا اللہ و ادنا ھا اماطۃ الا زی عن الطریق و الحیاء شعبۃ من اللایمان ) ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے و شاخین ہیں سب برتر شاخ لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے چھوٹی شاخ راستہ سے گندگی وغیرہ تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے اور حیاء ایمان کا شعبہ ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ شہادت فرض ہے ۔ جو اعتقاد بالقلب اور اقرار باللسان کو شامل ہے ۔ دل کا اعتقاد اور زبان کا اقرار اگرچہ دو ایسے عمل ہیں جو دو مختلف اعضاء ( دل اور زبان ) سے صادر ہوتے ہیں ۔ مگر عمل کی نوعیت واحد ہے ۔ جو چیز اس میں قلب کی طرف منسوب ہے وہی زبان کی طرف منسوب ہے ۔ اور جو چیز زبان کی طرف منسوب ہے ہی دل کی طرف منسوب ہے ۔ جیسے لفظ مکتوب وہی لکھا ہوا مکتوب ہے وہی بولا ہوا مکتوب ہے ۔ بولا ہوا وہی لکھا ہوا اور لکھا ہوا وہی بولا ہوا مکتوب ہے حلیمی نے فرمایا ۔ کہ عمل صالح اعتقاد اور اقرار سمیت مجموعی طور پر متعدد اشیاء میں ۔ اول ۔ باری تعالیٰ کے وجود کا اثبات کرنا تانکہ اس کے ساتھ تعطیل کا عقیدہ سے انکار واقع ہو۔ دوم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اثبات تانکہ اس کے ساتھ شرک سے بیزاری واقع ہو۔ سوم اس بات کا اثبات کے اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے نہ عرض ہے تانکہ اس کے ساتھ عقید تشبیہ سے بیزاری واقع ہو۔ چہارم ، اس بات کا اثبات کہ اللہ کے سوا ہر شئی کا وجود اللہ تعالیٰ کے ایجاد و اختراع کرنے سے قبل معدوم تھا تانکہ اس کے ذریعہ خالق و مخلوق کے مابین علت و معلول کے تعلق و رشتہ کے عقیدہ سے بیزاری و براءۃ واقع ہو۔ پنجم ، اس بات کا اثبات کہ جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اس کا مدبر اور متصرف جیسے چاہے وہ خود ہے تانکہ اس کے ذریعے ان لوگوں سے براۃ واقع ہو سکے جو اس بات کے قائل ہیں کہ کائنات طبعی طور پر چل رہی ہے یا وہ لوگ جو کہتے ہیں کواکب اور ستاروں کی گردش سے یا وہ لو گ جو کہتے ہیں کہ فرشتوں کی تدبیر سے چل رہی ہے بہر حال باری تعالیٰ کے اثبات کے ساتھ براۃ و بیزاری اور اللہ کے وجود کا اقرار یہ عقیدہ تعطیل کے رد میں سے ہے اس لئے کہ ایک قوم اللہ کی معرفت سے بھٹک گئی ہے اور کافر و ملحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے یہ دعویٰ کر لیا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے ۔ یہ ہمیشہ اسی حالت پر ہے اور یہ کہ موجود وہی چیز ہو سکتی ہے جو محسوسات میں سے اور جو چیز محسوس نہیں ہوتی وہ موجود بھی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ حوادث اور واقعات عناصر اربعہ آگ پانی ہوا مٹی کے طبائع کے تغیر و تبدیلی سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ عالم کا کوئی مدبر نہیں ہے جس کے اختیار اور عمل سے ہو جو کچھ ہوتا ہے ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا عالم کے لئے ایک الہٰ ثابت کرتا ہے اور فعل اور صنعت کی نسبت اسی کی طرف کرتا ہے تو وہ الحاد اور تعطیل کو غلط کر دیتا ہے جب کہ وہ ملحدین کا خوبصورت مذہب ہے جس کے قائل اہل الحاد اپنے مخالفین کو فرقہ متجاہلہ کا نام دیتے ہیں اور انہیں غیر فلاسفہ و غیر معقول کہتے ہیں ۔ اسی طرح شرک سے براۃ و بیزاری وحدانیت کے اثبات سے ہوتی ہے کیونکہ ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ کائنات کے دو فاعل ہیں یا دو خالق ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایک خیر کے امور اور دوسرا شر کے امور انجام دیتا ہے ۔ اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تخلیق کی ابتدا روح اور نفس سے تھی لیکن غیر درست طریقہ اور غیر معقول طریقے تھی اللہ تعالیٰ نے اس تخلیق کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مادہ قدیمہ کے طرف ارادہ کیا جو ازل سے اس کے ساتھ موجود تھا ۔ اور اس عالم کو اس مادہ سے بنایا اور ترتیب دیا اس موجود ہ درست اور معقول ترکیب کے ساتھ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ الٰہ کوئی نہیں ہے اللہ کے سوا وہ ایک ہے اس کے سوا کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے ۔ تو وہ شریک ہونے کے قول کی نفی کرتا ہے اور یہ شریک ہونے کا کرنے والا قول باطل ہونے اور اپنے قائل کے لئے کافر کا لقب واجب کرنے میں الحاد اور تعطیل کے قول کی طرح ہے اسی طرح تشبیہ کے عقیدے سے براۃ و بیزاری یہ ثابت کرے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے اس لئے ہے کہ ایک قوم حق سے بھٹک گئے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بعض حادث صفات کے ساتھ متصف کیا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوہر ہے بعض کہتے ہیں کہ وہ جسم ہے ۔ بعض نے یہ جائز رکھا ہے کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے جیسے کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جب کہ یہ ساری باتیں اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب لگانے کے لئے تعطیل اور تشریک کے عقیدے کی طرح ہیں ( کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لازم آتا ہے کہ وہ کائنات کی اشیاء سے ممثلت رکھتا ہے جب کہ وہ مثلیت سے پاک ہے ( مترجم ) جب کوئی ثابت کرتے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لیس کمثلہ شئی ہے اس کی مثل کوئی بھی شئی نہیں ہے خلاصہ اس کا یہ ہے کہ نہ وہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے تو وہ تشبیہ کی نفی کر دیتا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ جوہر یا عرض ہوتا تو اس پر وہ سب کچھ جائز اور ممکن ہوتا جو تمام جو اہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ جب وہ جوہر نہیں ہے عرض نہیں ہے تو اس پر وہ سب کچھ جائز نہیں ہے جو جواہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ جواہر میں تالیف و ترکیب ہوتی ہے تحبیم ہوتی ہے اللہ اس سے پاک ہے اور مکان اور جگہ گھیرتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے حرکت و سکون میں آتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے ور وہ کیفیات بھی س پر جائز نہیں جو اعراض پر ہوتی ہے جیسے قائم بالغیر ہونا اپنے ہونے اور وجود کے لئے کسی اور شئی کا محتاج ہونا پھر حادث و فانی ہونا وغیرہ اللہ تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے ۔ اسی طرح تعطیل سے براۃ و بیزاری ۔ یہ ثابت کرنے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی کو از سر نو بغیر مادہ کے بنانے والا ہے اپنی ذات کے سوا ( یہ اس لئے ضروری ہے کہ ) پہلے لوگوں میں سے ایک قوم نے فرقہ معطلہ کی مخلافت کی مگر حق تک رسائی پانے میں ناکام ہو گئے اور انہوں نے یہ قول اختیار کر لیا کہ اللہ تعالیٰ جود تو ہے لیکن اسی طرح کہ وہ تمام کائنات کی موجودات کے لئے علت اور سبب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وجود نے موجودات میں سے ہر ہر شئی کے وجود کو ایک کے بعد ایک کو تقاضا کیا ہے ایک خاص ترتیب کے ساتھ جس کا وہ ذکر کرتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ از سر نوع بغیر مادے اور بغیر مثال کے کائنات بنانے اور ایجاد کرنے والا ہے اور اپنے سوا ہر چیز کو از سرے نو پیدا کرنے والا ہے اپنے اختیار کے ساتھ اور اپنے ارادے کے ساتھ خواہ وہ چیز جوہر ہو یا عرض ہو بغیر کسی اصل کے اختراع کرنے والا ہے تو وہ شخص تعطیل کے قول کی نفی کرتا ہے علت و معلول کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے جو عقیدہ اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے کے لئے عقیدہ تعطیل و تشریک کی طرح ہے اسی طرح شریک سے براۃ و بیزری یعنی تدبیر میں شریک ہونا اس کی نفی ہوتی ہے اس بات کے اثبات کے ساتھ کہ موجودات میں سے کسی بھی شئی کے لئے اللہ کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ فرشتے عالم کے مدبر ہیں لہذا ان کو اللہ کا نام دے رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے بارے میں فرمایا ۔ فالمدبرات امرا ( ناز علت ) مدبرات کا معنی ہے منفذات لما دبر اللہ علی ایدیھا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے جس چیز کی تدبیر فرما دی ہے ان تدبیرات الہیہ کو نافذ کرنے والے مثال کے طور پر جیسے اللہ کے حکم کو نافذ کرنے والے کو حاکم کہتے ہیں جب وہ دو مخالفوں میں فیصلہ کرتا ے اور ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ کواکب اور ستارے اپنے نیچے مدبر ہیں اور ہر مصیبت اور ہر حادثہ جو دھرتی پر ہوتا ہے وہ کواکب کی گردش کے آثار سے ہوتا ہے اور ان کے ملنے اور جدا ہونے ان کے ملاپ اور جدائی وغیرہ کیفیات سے ہوتا ہے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ ایجاد و اختراع کیا ہے اس کا مدبر وہ خود ہے اس کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے تو وہ تدبیر میں شریک کرنے کی نفی کرتا ہے جب کہ یہ شرک اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے میں قدیم ہونے کے شرک اور تخلیق میں شرک کی طرح ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ( مذکورہ تمام شرک کی نفی کرنے اور توحید کے تمام مذکورہ و غیر مذکورہ ( پہلو اجاگر کرنے اور ثابت کرنے کے لئے ) اور مذکورہ تمام معانی کو ایک ہی کلمہ میں جمع کرنے کے لئے یہی ایک کلمہ دیا ہے وہ ہے لا الہ الا اللہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے مامورین کو حکم دیا ہے کہ واسی کا عقیدہ رکھیں اور اسی کا قول و اقرار کریں اور اللہ تعالیٰ نے خود حکم دیا ہے : ( فاعلم انہ لا الہ الا اللہ ) ( سورۃ محمد ۱۹) یقین جاننے کہ وہ وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ ( یعنی لا موجود الا اللہ ، ولا واحد الا اللہ ، لا منزہ من الشرکاء الا اللہ لا منزہ من النشیبیہ الا اللہ ، لا مبدع ولا موجد بغیر اصلی و مادۃ الا اللہ ، لا مدب و الا متصرف فی الکو نالا اللہ ، و غیرہ ذلک من اللوازم و الصفات ) ( ازمترجم ) اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : ( انھم کانوا اذاقیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون و یقولون ائنا لتار کوا الھتنا لشاعر مجنون ) ( الصافات ۳۵-۳۶) بے شک ان مشرکوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نیں ہے تو وہ اکڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم ایک شاعر اور دیوانے کے لئے اپنے بہت سارے معبودوں اور حاجت رواؤں کو چھوڑ دیں گے ؟ یعنی جب انہیں کہا جاتا کہ لا الہ الا اللہ تو وہ اخر جاتے اور اس کا اقرار نہ کرتے بلکہ اس کی جگہ یہ کہتے ہیں : ( ائنا لتار کوا التھنا لشاعر مجنون ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،
Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 89
