Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 376

375 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو ثنا سعيد بن مسعود ثنا عبيد الله بن موسى ثنا طلحة بن يحيى ـ ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا أسامة عن طلحة بن يحيى عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان يوم القيامة دفع إلى كل مؤمن رجل من أهل الملل فقيل له هذا فداؤك من النار لفظ حديث أبي طاهر رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي أسامة و أخرجه أيضا من حديث عون و سعيد بن أبي بردة عن أبي بردة و رواه جماعة غير هؤلاء عن أبي بردة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے مقام مرو سے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو طلحہ بن یحییٰ نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے، ان کو ابو حامد بن بلال نے، ان کو ابو الازھر نے، ان کو ابو اسامہ نے، ان کو طلحہ بن یحییٰ نے، ان کو ابو بردہ بن ابو موسیٰ نے، ان کو ان کے والد نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا، ہر مومن کو دیگر اہل مذاہب میں سے ایک آدمی دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ یہ جہنم سے تیرا فدیہ اور بدلہ ہے۔ یہ ابو طاہر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ا بو بکر ابن ابی شیبہ سے۔ اس نے اسامہ سے اوراس کو انہوں نے عون کی روایت سے اور سعید بن ابی بردہ سے نقل کیا ہے اور اس کو ایک جماعت نے مذکور ین کے علاوہ ابو بردہ سے روایت کیا ہے۔

أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← أُسَامَةُ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 376

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 377

376 - أخبرنا أبو القاسم علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان ثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا محمد بن أيوب ثنا محمد بن سنان العوقي ثنا همام عن قتادة عن سعيد بن أبي بردة و عن عون بن عبد الله أنهما شهدا أبا بردة يحدث عمر بن عبد العزيز عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يموت رجلة مسلم إلا أدخل الله مكانه النار يهوديا أو نصرانيا ـ فقال عون و لم ينكر سعيد على عون قوله ـ فاستحلفه عمر بالله الذي لا إله إلا هو ثلاث مرات بأن أباه حدثه عن النبي صلى الله عليه و سلم فحلف أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عفان عن همام قال البيهقي رحمه الله : و روينا في الحديث الثابت عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل أحد الجنة إلا أري معقده من النار لو أساء ليزداد شكرا و لا يدخل النار أحد إلا أري مقعده من الجنة لو أحسن ليكون عليه حسرة

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم علی بن ابراہیم بن حامد بزاز نے ھمدان میں ، ان کو ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے، ان کو محمد بن ایوب نے، ان کو محمد بن سنان عوفی نے، ان کو ھمام نے قتادہ سے ، سعید بن ابی بردہ سے اور عون بن عبداللہ سے اور وہ دونوں ابو بردہ کے پاس حاضر تھے۔ وہ حدیث بیان کر رہے تھے عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : جب بھی کوئی مسلمان آدمی مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں کسی یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرتا ہے۔ پس عون نے کہا حدیث سن کر عون پر سعید نے انکار نہیں کیا تھا اس کے قول کا۔ پھر اس سے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے قسم اٹھوائی (یعنی کہ م اس طرح قسم اٹھاؤ کہ ) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بس وہی معبود ہے۔ اور تین بار قسم کھا کر کہو کہ تیرے باپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث بیان کی تھی۔ سوا س نے قسم کھالی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں عفان سے ھام سے نقل کیا ہے۔ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے وہ حدیث روایت کی ہے جو ابو زناد سے اعرج نے ابو ہریرہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جنت میں داخل نہیں کیا جاتا مگر اس کو اس کا جہنم والا ٹھکانہ نہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اگر اس نے گناہ کیا تھا تو تانکہ وہ اس پر اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر کرے (کہ اللہ نے مجھے اس بری جگہ سے بچا لیا ہے) اور کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں کیا جاتا مگر اس کو اس کا ٹھکانہ جنت والا دکھا دیا جاتا ہے اگر اس نے کوئی نیکی کی تھی تاکہ اس پر حسرت و افسوس زیادہ سے زیادہ ہو۔

أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عون بن عبد الله أنهما شهدا أبا بردة ← سعيد بن أبي بردة و ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ← أبو القاسم علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 377

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 378

377 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا الحسن بن سفيان أخبرنا فياض بن زهير ثنا علي بن عياش ثنا شعيب عن أبي الزناد : فذكره رواه البخاري رحمه الله في الصحيح عن أبي اليمان عن شعيب بن أبي حمزة قال البيهقي رحمه الله : و روي ذلك أيضا من حديث أبي صالح عن أبي هريرة مرفوعا و في رواية أخرى عنه : ما منكم من رجل إلا له منزلان منزل في الجنة و منزل في النار فإن مات ودخل النار ورث أهل الجنة منزله قال : فذلك قوله : { أولئك هم الوارثون }

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ، ان کو ابو بکر اسماعیلی نے، ان کو حسن بن سفیان نے ،ا ن کو فیاض بن زبیر نے، ان کو علی بن عیاش نے، ان کو شعیب نے ابو زناد سے پھر اس کو ذکر کیا ہے اور اس کو بخاری نے صحیح میں ابو الیمان سے شعیب بن ابو حمزہ سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ روایت کیا گیا ہے ابو صالح سے ابو ہریرہ سے بھی مرفوعا اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر آدمی کی دو منزلیں ہیں۔ ایک جنت میں دوسرا جہنم میں۔ اگر مر کر وہ جہنم میں چلا جاتا تو اہل جنت اس کے جنت والے گھر کے وارث بن جاتے ہیں۔ پھر کہا کہ یہی مطلب اس آیت کا ہے: اولئک ھم الوارثون "(المومنون 10) کہ وہی لوگ ہی وارث ہیں۔

شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي الْيَمَانِ ← أبي الزناد فذكره رواه البخاري في الصحيح ← شُعَيْبٌ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 378

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 379

378 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس و هو الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار أنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فذكره هذه الرواية الآخرة قال البيهقي رحمه الله : و يشبه أن يكون هذا الحديث تفسيرا لحديث الفداء و الكافر إذا أورث على المؤمن مقعده من الجنة و المؤمن إذا أورث على الكافر مقعده من النار يصير في التقدير كأنه فدى المؤمن بالكافر و الله أعلم و قد علل البخاري رحمه الله حديث الفداء برواية بريد بن عبد الله و غيره عن أبي بردة عن رجل من الأنصار عن أبيه و برواية أبي حصين عنه عن عبد الله بن يزيد و برواية حميد عنه عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال الخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم في الشفاعة و أن قوما يعذبون ثم يخرجون من النار أكثر و أبين و حديث أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد صح عند مسلم بن الحجاج و غيره رحمهم الله من الأوجه التي أشرنا إليها و غيرها و وجهه ما ذكرناه و ذلك لا ينافي حديث الشفاعة فإن حديث الفداء و إن ورد مورد العموم في كل مؤمن فيحتمل أن يكون المراد به كل مؤمن قد صارت ذنوبه مكفرة بما أصابه من البلايا في حياته ففي بعض ألفاظه : إن أمتي أمة مرحومة جعل الله عذابها بأيديها فإن كان يوم القيامة دفع الله إلى كل رجل من المسلمين رجلا من أهل الأديان فكان فداؤه من النار و حديث الشفاعة يكون فيمن لم تصر ذنوبه مكفرة في حياته و يحتمل أن يكون هذا القول لهم في حديث الفداء بعد الشفاعة و الله أعلم و أما حديث شداد أبي طلحة الراسبي عن غيلان بن جرير عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يجيء يوم القيامة ناس من المسلمين بذنوب مثل الجبال يغفرها الله لهم و يضعها على اليهود و النصارى ـ فيما أحسب أنا ـ قاله بعض رواته فهذا حديث شك فيه راويه و شداد أبو طلحة ممن تكلم أهل العلم بالحديث فيه و إن كان مسلم بن الحجاج استشهد به في كتابه فليس هو ممن يقبل منه ما يخالف فيه و الذين خالفوه في لفظ الحديث عدد و هو واحد و كل واحد ممن خالفه أحفظ منه فلا معنى للاشتغال بتأويل ما رواه مع خلاف ظاهر ما رواه الأصول الصحيحة الممهدة في { ألا تزر وازرة وزر أخرى } و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس رحم نے ، ان کو ابو معاویہ نے، ان کو اعمش نے ، ان کو ابو صالح نے، ان کو ابو ہریرہ نے، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، پھر ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث یعنی آخری روایت ذکر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زیادہ انسب یہ ہے کہ یہ حدیث فدیہ اور بدلے والی حدیث کی تفسیر ہو اور کافر جب اپنی جنت والی جگہ کا مومن کو وارث بناتا اور مومن جب کافر کو اپنی جہنم والی جگہ کا وارث بناتا تو تقدیر میں گویا یہ ہے کہ کافر مومن کے بدلے میں دیا جائے۔ اور تحقیق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فدیہ والی حدیث کی تعلیل بیان کی ہے برید بن عبداللہ وغیرہ کی روایت کے ساتھ ابو بردہ سے۔ اس نے انصار کے ایک آدمی سے، اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔ اور ابو حصین کی روایت کے ساتھ جو کہ عبداللہ بن یزید سے مروی ہے۔ اور حمید کی روایت کے ساتھ جو اصحاب رسول کے ایک آدمی سے مروی ہے۔ پھر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کے بارے میں یہ حدیث کہ ایک قوم کے لوگ عذاب دئیے جائیں گے، پھر جہنم سے نکالے جائیں گے۔ یہ حدیث زیادہ اکثر ہے اور زیادہ واضح ہے۔ اور ابو بردہ والی حدیث ابو موسیٰ سے، اس کے والد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسلم بن حجاج وغیرہ رحمہم اللہ کے نزدیک صحیح ہے کئی وجوہ سے وہ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور اس کے علاوہ بھی۔ اور اس کی توجیہ وہی ہے جس کو ہم نے ذکر کیا ہے اور یہ حدیث ، حدیث شفاعت کےمنافی ہے۔ بے شک فدیہ والی حدیث اگرچہ ہر مومن کے بارے میں عموم کے مورد میں وارد ہوئی ہے، احتمال رکھتی ہے کہ اس سے مراد ہر مومن ہو تو اس کے گناہ اس کی زندگی میں آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں کے ساتھ مٹ جائیں گے۔ وہ ان کا کفارہ بن جائیں گی۔ اس روایت کے بعض الفاظ یہ ہیں: " ان امتی امۃ مرحومۃ جعل اللہ عذابھا بایدیھا فاذا کان یوم القیمۃ دفع اللہ الی کل رجل من المسلمین رجلاس اھل الادیان فکان فداہ من النار " بے شک میری امت مرحومہ ہے (رحم کی ہوئی ہے) اللہ تعالیٰ اس کی سزا اس کے ہاتھوں سے کریں گے جب قیامت کا دن ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان مرد کو دیگر اہل ادیان میں سے ایک آدمی دیں گے جو کہ جہنم سے اس کا فدیہ اور بدلہ ہو گا۔ لہذا شفاعت والی حدیث اس اعتبار سے پھر ان لوگوں کے بارے میں ہو گی جن کے گناہوں کا دنیا کی زندگی میں کوئی کفارہ نہیں ہو سکا ہو گا اور وہ نہیں مٹ سکے ہوں گے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ قول ان مومنون کے لئے فدیہ والی حدیث میں شفاعت کے بعد ہو۔ واللہ اعلم۔ بہر حال شداد بن ابی طلحہ ذاہبی والی حدیث غیلان بن جریر سے ابو بردہ بن ابو موسیٰ سے ان کے والد سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا تھا: قیامت کے دن کچھ مسلمان لوگ پہاڑوں کی مثل گناہوں کے ساتھ لائے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان کو بخش دے گا اور ان کے گناہوں کو یہود و نصاریٰ پر رکھ دے گا۔ میرے خیال کے مطابق اس کو بھی مذکورہ روایت کے راویوں نے کہا ہے۔ مگر یہ ایسی حدیث ہے جس کے راویوں میں شک ہے اور شداد ابو طلحہ ان لوگوں میں ہے جس کے بارے میں اہل علم بالحدیث نے کلام کیا ہے۔ اگرچہ امام مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب میں اس کے ساتھ شہادت پکڑی ہے۔ تاہم وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہو سکتا کہ اس کی وہ روایت قبول کی جائے جس میں اس کی مخالفت کی گئی ہو اور جن لوگوں نے لفظ حدیث میں اس کی مخالفت کی ہے وہ متعدد ہیں۔ اور جب کہ وہ خود اکیلا ہے اور ہر ایک ان میں سے جس نے اس کی مخالفت کی ہے اس سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہے لہذا جو روایت اس نے نقل کی ہے اس کی تاویل کے ساتھ ااشتعال کا کوئی مطلب نہیں اور کوئی معنی نہیں اس کے باوجود کہ وہ اس کے خلاف ہے جو ظاہر اصول صحیحہ جن کی بنیاد اس اصول پر ہے: "ان لاتزرورازرۃ رزر اخریٰ (النجم 38) کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ جو روایت اس اصول اور اس اصول کے مطابق مری احادیث کے ظاہر کے خلاف ہو اس کی تاویل میں مشغول ہونے کا کوئی مقصد نہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو العباس و هو الأصم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 379

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 380

379 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء ثنا أبو بكر محمد بن محمد بن إسماعيل القاضي ثنا جعفر بن محمد بن سوار ثنا محمد بن رافع ثنا يحيى بن آدم قال : قال سفيان بن عيينة : لما نزلت هذه الآية : { و رحمتي وسعت كل شيء } مد إبليس عنقه فقال : أنا من الشيء فنزلت : { فسأكتبها للذين يتقون ويؤتون الزكاة والذين هم بآياتنا يؤمنون } قال : فمد اليهود و النصارى أعناقها فقالوا : نحن نؤمن بالتوراة و الإنجيل و نؤدي الزكاة قال : فاختلسها الله من إبليس و اليهود و النصارى فجعلها لهذه الأمة خاصة فقال : { الذين يتبعون الرسول النبي الأمي الذي يجدونه مكتوبا عندهم في التوراة والإنجيل } الآية

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو بکر بن محمد بن محمد اسماعیل قاضی نے، ان کو جعفر بن محمد سوار نے، ان کو محمد بن رافع نے ، ان کو یحییٰ بن آدم نے ، انہوں نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا جب یہ روایت نازل ہوئی: "ورحمتی وسعت کل شیء (الاعراف 156) اور میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ تو ایاس نے گردن اپنی اوپر ٹکا کر کہا میں بھی شیء ہوں ۔(یعنی جب تیری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے تو مجھ سے بھی وسیع ہوئی۔ کیونکہ میں بھی شیء ہوں۔ لہذا میری بھی مغفرت ہونی چاہیئے) تو پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ :" فسا کتبھا للذین یتقون ویؤتون الزکوٰۃ والذین ھم با یا تنا یؤمنون "(اعراف 56) میں جلدی لکھ دوں گا رحمت ان لوگوں کے لئے جو نافرمانی سے بچتے رہے، زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور جو لوگ ہماری زبان پر ایمان رکھتے ہیں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ پھر یہود و نصاریٰ نے اپنی گردنیں دراز کیں اور بولے ہم تو راۃ پر ایمان رکھتے ہیں اور انجیل پر بھی۔ ہم زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ابلیس سے بھی اور یہود و نصاریٰ سے بھی اچک لیا اور چھین لیا اور اسی امت کے لئے مخصوص کر دیا اور ارشاد فرمایا: " الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدو نہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل (اعراف 157) (وہ مذکورہ بالا لوگ) وہ ہیں جو رسول ا امی کی اتباع کرتے ہیں جس رسول کا تذکرہ یہود ونصاریٰ اپنے پاس تو راۃ و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

الْآيَةِ ← فاختلسها الله من إبليس و اليهود و النصارى فجعلها لهذه الأمة خاصة ← نحن نؤمن بالتوراة و الإنجيل و نؤدي الزكاة ← فمد اليهود و النصارى أعناقها ← من الشيء فنزلت ← سفيان بن عيينة لما نزلت هذه الآية مد إبليس عنقه ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← أبو بكر محمد بن محمد بن إسماعيل القاضي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 380

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 381

380 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عمر بن أحمد الزاهد قال : سمعت الثقة من أصحابنا يذكر : أنه لما رأى أبا بكر بن الحسين بن مهران رحمه الله في المنام في الليلة التي دفن فيها قال فقلت : أيها الأستاذ ما فعل الله بك ؟ فقال إن الله عز و جل أقام أبا الحسن العامري بحذائي و قال لي : هذا فداؤك من النار قال و توفي في اليوم الذي توفي فيه أبو بكر أبو الحسن العامري و أشار إلى كونه معروفا بالإلحاد نعوذ بالله من الكفر و الفسوق و سوء العاقبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو عمر بن احمد زاہد نے، انہوں نے کہا ہم نے اپنے اصحاب میں سے ثقہ اور مضبوط شخص سے سنا وہ ذکر کر رہے تھے کہ انہوں نے ابو بکر بن حسین بن مہران رحمۃ اللہ علیہ کو نیند میں خواب میں دیکھا جس رات کو وہ دفن کئے گئے تھے۔ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا استاذ محترم اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا بے شک اللہ عزوجل نے میرے برابر میں ابو الحسن عامر کو کھڑا کیا اور مجھ سے فرمایا : یہ تیرا فدیہ ہے اور بدلہ ہے جہنم سے۔ کہتے ہیں کہ جس دن استاذ ابو بکر فوت ہوئے تھے اسی دن ابوالحسن عامری بھی فوت ہوئے تھے اور استاذ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو کہ وہ یعنی ابوالحسن عامری اپنے الحاد کی وجہ سے مشہور تھے۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کفر سے فسوق سے اور برے خاتمہ سے۔ فصل :۔۔۔۔۔۔ اصحاب الاعراف: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نےفرمایا کہ اعراف شرف و عظمت والی جگہ ہے۔ اور ہم نے حذیفہ بن یمان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں ان کو جہنم سے بچا گئی ہیں اوران کی غلطیاں ان کو جنت سے قاصر کر رہی ہیں۔ :" فادا ضرفت ابصارھم تلقاء اصحٰب النار قالوا ربنا لاتجعلنا مع القوم الظالمین (اعراف 47) جب ان کی نگاہیں جہنمیوں کی طرف پھیر جائیں گی (تو جہنمیوں کی بری حالت دیکھ کر) کہیں گے، اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کرنا۔ بس وہ اسی جال میں ہو ں گے، اچانک تیرا رب ان پر جھانک کر فرمائے گا۔ کھڑے ہو جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ بے شک تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور یہ روایت معناً مرفوع ہے۔ اور علی بن ابی طلحہ کی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت میں ہے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں: "وبینھما حجاب وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم (الاعراف 46) جہنم اور جنت کے درمیان آڑ اور پردہ ہو گا اور مقام اعراف پر ایسے مرد ہوں گے جو پہچانیں گے سب کو ان کی نشانیوں سے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اہل جہنم منہ کی سیاہی سے اور اہل جنت چہروں کی روشنی سے پہچانیں جائیں گے اور اعراف و جنت و جہنم کے درمیان دیوار ہو گی اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ : "لم یدخلوھا وھم یطمعون" وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے مگر طمع کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہ بہت بڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا معاملہ بھی اہم ہو گا۔ مقام اعراف پر کھڑے ہوں گے۔ جب جنت کی طرف دیکھیں گے تو جنت کی تمنا کریں گے کہ اس میں داخل ہو جائیں اور جس وقت جہنم کی طرف دیکھیں گے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کر دے گا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا۔ " اھؤ لاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمۃ " کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ : پہنچے گی ان کو رحمت اللہ کی یعنی اصحاب اعراف کو ۔ "ادخلو ا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون " (اعراف 49) اے اعراف والو داخل ہو جاؤ تم جنت میں (اے اعراف والے) نہ ڈر ہے تمہارے اوپر نہ تم غمگین ہو گے۔

الثقة من أصحابنا يذكر ← عمر بن أحمد الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 381

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood