شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدعاء إلى الإسلام · حديث 88
88 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ محمد بن إبراهيم المزكي و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور قالا ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ثنا زكريا ابن إسحاق المكي عن يحيى بن عبد الله بن صيفي عن أبي معبد عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعث معاذا إلى اليمن قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك لتأتي قوما أهل كتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم و ليلة فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم فترد في فقرائهم فإن هم أجابوا لذلك فإياك و كرائم أموالهم و إياك و دعوة المظلوم فإنها ليس بينها و بين الله حجاب رواه البخاري عن يحيى بن موسى عن وكيع و رواه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم و غيره و دعاء من لم تبلغه الدعوة مستحق و دعاء من بلغته الدعوة إذا لم يحتج إلى التثبيت في قهرهم مستحب و قد مضى الكلام و ما ورد فيه من الأخبار في كتاب السنن
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد بن ابراہیم مزنی نے اور خبر دی ہے ہمیں ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے میرے دادا یحییٰ بن منصور نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن سلمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے وکیع نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے زکریا بن اسحٰق مکی نے یحییٰ بن عبداللہ صیفی سے انہوں نے ابو سعید سے انہوں نے ابن عباس سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جب حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو اس سے فرمایا ، تم اہل کتاب قوم کے پاس جا رہے ہو انہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت کی دعوت دینا اگر وہ لوگ تمہاری اس دعوت کو مان لیں تو پھر انہیں یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں رات دن میں ہر روز اگر وہ تمہاری اس بات کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ یعنی زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے دولت مندوں سے لی جائے گی اور ان کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو تم ان کے اعلیٰ ترین مالوں میں تصرف سے بچنا اور خود کو مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کو حجاب نہیں ہوتا بخاری نے اس کو یحییٰ بن منصور سے انہوں نے وکیع سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو اسحاق بن ابراہیم وغیرہ سے روایت کیا ہ ۔ جس شخص کو اسلام کی دعوت نہیں پہنچی اس کو دعوت دینا فرض ہے اور جس کو دعوت اسلام پہنچ چکی ہے اس کو بلانا مستحب ہے ۔ کتاب السنن میں احادیث اور اس بارے میں کلام گزر چکے ہیں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زكريا ابن اسحاق المكى ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور
Shuab ul Iman · Book › The door to pray to Islam · Hadith 88
