Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1075

1074 - و قد أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن عبد الله الترقفي ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ ثنا نافع بن يزيد و ابن لهيعة و كهمس بن الحسن و همام بن يحيى عن قيس بن الحجاج الزرقي عن حنش عن ابن عباس قال : كنت رديف النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا غلام أو يا بني أو لا أعلمك كلمات ينفعك الله بهن ؟ قلت : بلى قال : احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده أمامك تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة إذا سألت فاسأل الله و إذا استعنت فاستعن بالله قد جف القلم بما هو كائن فلو أن الخلق كلهم جميعا أرادوا أن ينفعوك بشيء لم يقضه الله لك لم يقدروا عليه و إن أرادوا أن يضروك بشيء لم يقضه الله عليك لم يقدروا عليه و اعمل لله بالشكر في اليقين و اعلم أن الصبر على ما تكره خير كثير و أن النصر مع الصبر و أن الفرج مع الكرب و أن مع العسر يسرا

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبارسکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو نافع بن یزید نے اور ابن لہیعہ اور کہمس بن حسن نے اور ہمام بن یحییٰ نے ان کو قیس بن حجاج زرقی نے ان کو حنش نے ان کو ابن عباس نے فرماتے ہیں کہ میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے یا فرمایاتھا کہ اے بیٹے ۔ کیا میں آپ کو کچھ ایسے کلمات نہ سکھلاؤں جن کے ساتھ اللہ آپ کو نفع دے گا میں نے کہا جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ کے حکم کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا ۔ اللہ کے حکم کی حفاظت کر تو اس کو اپنے آگے پائے گا۔ راحت میں تو اللہ کی پہچان رکھ اللہ تعالیٰ تجھے سختی میں پہچان رکھے گا ۔ اور جب تو کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ سے مانگنا ، اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا قلم سوکھ چکا ہے ہر اس فیصلے کے ساتھ جو ہونا تھا اگر ساری مخلوق تجھے نفع پہنچانا چاہیں جس کا اللہ نے تیرے لئے فیصلہ نہ کیا ہو تو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے ۔ اور اگر سارے لوگ مل کر تجھے نقصان پہچانا چاہیں کسی ایسی بات کا جس کا للہ نے تیرے خلاف فیصلہ نہ کیا ہو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے یقین کے ساتھ شکر کا عمل کر۔ اور یقین جان کہ جو حالت تجھے نا پسند ہو اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر ہے ۔ اور بے شک مدد صبر کے ساتھ ہے ۔ اور کشادگی فراخی کرب اور تکلیف کے ساتھ ہے اور بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے ۔

كنت رديف النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حنش ← قيس بن الحجاج الزرقي ← نافع بن يزيد و ابن لهيعة و كهمس بن الحسن و همام بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ← و قد

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1075

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1076

1075 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا محمد بن مسلم الواسطي حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ حدثني عبد الله بن لهيعة و نافع بن يزيد عن قيس بن الحجاج الزرقي عن حنش عن ابن عباس قال : كنت ردف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا غلام فذكره قال : محمد بن سلمة و أخبرنا المقرئ عن كهمس بن الحسن و همام بن يحيى بإسناده إلى ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابوبکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو محمد بن مسلم واسعی رحمۃاللہ علیہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو عبداللہ بن لہبعہ نے اور نافع بن یزید نے ان کوقیس بن حجاج زرقی نے ان کو حنش نے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے ۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے اوپر والی حدیث ذکر کی ہے ۔محمد بن مسلمہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی ہے مقری نے ان کو کہمس بن حسن نے اور ہمام بن یحییٰ نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ابن عباس تک۔ (پھر مذکورہ حدیث ذکر فرمائی)۔

الْمُقْرِئُ ← محمد بن سلمة و ← يا غلام فذكره ← كنت ردف رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حنش ← قيس بن الحجاج الزرقي ← عبد الله بن لهيعة و نافع بن يزيد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1076

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1077

1076 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي ثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق ثنا إبراهيم بن الأشعث ثنا فضل بن عياض عن هشام عن الحسن عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أنقطع إلى الله عز و جل كفاه الله كل مؤنة و رزقه من حيث لا يحتسب و من انقطع إلى الدنيا وكله الله إليها

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو محمد بن علی بن حسن شقیق نے ان کو ابراہیم بن اشعث نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو ہشام نے ان کو حسن نے ان کو عمران بن حصین نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔جو شخص ساری مخلوق سے امیدیں منقطع کرکے صرف اللہ عزوجل سے جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سےرزق دیتا ہے جہاں سے اس کو امید نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ سے تعلق ختم کرکے مخلوق سے جوڑتا ہے اللہ اس کو مخلوق کے سپرد کر دیتا ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← فَضْلُ بْنُ عِيَاضٍ ← إبراهيم بن الأشعث، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن محمد القرشي ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1077

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1078

1077 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأني أبو العباس بن يعقوب و قرأته بخطه فيما أجاز له محمد بن عبد الوهاب حدثني علي بن عثام قال : قال بشر بن الحارث : لما رفع إبراهيم صلى الله عليه و سلم ليلقي في النار عرض له جبريل عليه السلام فقال : يا إبراهيم ! هل لك من حاجة ؟ قال : أما إليك فلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے میں نے اس کو انہیں کی تحریر میں پڑھا ہے جس میں خود ان کو اجازت ملی تھی۔ ان کو محمد بن عبدالواہاب نے ان کو علی بن عثام نے کہتے ہیں کہ بشر بن حارث نے کہا تھا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں ڈالنے کے لیے اٹھایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اور کہا کہ اے ابراہیم کیا آپ کی کوئی ضرورت ہے ؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ بہر حال تیری طرف میری کوئی بھی حاجب نہیں ہے ۔ یعنی اس روایت میں درس ہے کہ حضرت ابراہیم نے اللہ کے سوا کسی اور کے آگے ایسے خطرناک اور نازک وقت میں بھی امید نہیں رکھی اور نہ ہی اپنی حاجت جبرائیل کے آگے پیش کی اور نہ ان سے کوئی مدد مانگی پھر اللہ نے ان کی خود ہی مدد فرمائی یہ تمام باتیں اس روایت سے ثابت ہوتی ہیں مگر بشرط صحت روایت ۔ (مترجم)۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← أبو العباس بن يعقوب و قرأته بخطه فيما أجاز له محمد بن عبد الوهاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1078

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1079

1078 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو حازم و أبو نصر بن قتادة قالوا أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمد بن الحسن بن سماعة ثنا أبو نعيم ثنا بشير بن سلمان عن سيار أبي الحكم عن طارق عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من نزلت به حاجة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته و من أنزلها بالله أوشك الله تعالى له بالغنى إما أجل عاجل و إما غنى عاجل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو حازم نے اور ابو نصر بن قتادہ نے وہ سب کہتے ہیں کہ ان کو ابو عمرو بن مطرف نے ان کو محمد بن حسن بن سماعہ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو بشیر بن سلمان نے ان کو سیار ابوالحکم نے ان کو طارق نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی حاجت پیش آئے اور وہ اس کو لوگوں کے آگے پیش کرے اس کا فاقہ نہیں بند کیا جائے گا۔ اور جو شخص اس کو اللہ تعالیٰ کے آگے پیش کرتا ہے قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وہ حاجت پوری فرما کر اس کو غنی کر دے یا بہت جلدی اجل کے ساتھ یا غنی عاجل کے ساتھ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقٍ ← سيار أبي الحكم ← بشير بن سلمان ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَمَاعَةَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو حازم و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1079

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1080

1079 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم قال : سمعت عبد الله بن أحمد بن حنبل يقول قلت لأبي : حديث بشير أبي إسماعيل عن سيار أبي الحكم عن طارق عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من نزلت به فاقة قال أبي : إنما هو سيار أبو حمزة و ليس هو سيار أبو الحكم سيار أبو الحكم لم يحدث عن طارق بشيء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس رحمۃاللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن احمد حنبل سے کہتے ہیں کہ میں میں نے اپنے والد سے کہا کہ بشیر ابو اسماعیل کی حدیث سیار ابوالحکم سے اور طارق سے عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "من نزلت بہ فقتہ"۔ (اس کے بارے میں کچھ فرمائیے) انہوں نے فرمایا کہ وہ سیار ابو حمزہ ہے وہ سیار ابو الحکم نہیں ہے ۔ سیار ابو لحکم نے طارق سے کوئی حدیث بیان نہیں کی۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1080

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1081

1080 - حدثنا عن عبد الرزاق ثنا سفيان قال أبي أملاه عليهم سفيان باليمن عن بشير أبي إسماعيل عن أبي حمزة : فذكر هذا الحديث بعينه

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرزاق نے ان کو سفیان نے ۔ میرے والد نے کہا اسے ان پر لکھوایا تھا سفیان نے یمن میں بشیر ابو اسماعیل سے ان کو ابو حمزہ نے پھر انہوں نے بعینہ وہی مذکورہ حدیث ذکر فرمائی۔

أبي حمزة فذكر هذا الحديث بعينه ← بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، ← أَبِي: أَمْلَاهُ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بِالْيَمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1081

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1082

1081 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن القاضي قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن أبي الضحى عن ابن عباس قال : لما ألقي إبراهيم في النار قال : حسبي الله و نعم الوكيل قال : و كذلك قال محمد صلى الله عليه و سلم حين قالوا : { إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل } رواه البخاري عن أحمد بن يونس عن أبي بكر بن عياش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسین قاضی نے دونوں کو بیان کیا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو بکر بن عباس نے ان کو ابو الحصین نے ان کو ابوالضحیٰ نے ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے جانے لگے تو انہوں نے کہا "حسبنا اللہ و نعم الوکیل" ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ اس طرح کہا تھا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جب (کہنے والوں نے یہ کہا تھا) "ان الناس قد جمعوالکم فاخشو ھم فزادھم ایمانا قالواحسبنااللہ و نعم الوکیل"۔ (آل عمران)۔ بے شک (مکے والے) لوگوں نے جمع کیا ہے سامان تمہارے مقابلے کو سو تم ان سے ڈرو۔ تو اور زیادہ ہو ایمان ان کا ۔ اور وہ بولے کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کار ساز ہے ۔ اس کو بخاری نے احمد بن یونس سے انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← حسبنا الله ونعم الوكيل رواه البخاري ← إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا ← محمد صلى الله عليه و سلم حين ← و كذلك ← حسبي الله و نعم الوكيل ← لَمَّا أُلْقِيَ إبْرَاهِيمُ فِي النَّارِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الضُّحَى، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1082

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1083

1082 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي سمعت منصور بن عبد الله يقول : سمعت الحسن بن علويه يقول : سمعت يحيى بن معاذ يقول : ثلاث خصال من صفة الأولياء الثقة بالله في كل شيء و الغنى به عن كل شي و الرجوع إليه من كل شيء

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے انہوں نے سنا منصور بن عبداللہ سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن بن علویہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ فرماتے ہیں : تین صفتیں اولیاء اللہ کی صفات میں سے ہیں(1) ہر شئی میں اللہ پر پختہ یقین۔ (2) اور اللہ کے ساتھ ہر شئی سے غنی اور بے پرواہ ہو نا۔ (3) ہر شئی سے ہٹ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرنا۔

يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عُلُّوِيَةَ، ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1083

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1084

1083 - حدثنا عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد ثنا الحسن بن عبد الوهاب أنا أحمد بن محمد التيمي أخبرني أبو محمد الأشك قال سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : علم القوم في أربعة أشياء يرون كل شيء من الله ثم يرجعون مع كل شيء إلى الله فيطلبون كل شيء من الله و يردون كل شيء إلى الله

ہمیں حدیث بیان کی عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو حسن بن عبدالوہاب نے ان کو احمد بن محمد تیمی نے ان کو خبر دی ابو محمد اشک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے فرماتے تھے۔ (مسلمان) قوم کا علم چار چیزوں میں ہے ۔ (1) سب کچھ (ہر شئی کو ) اللہ کی طرف سے سمجھیں۔ (2) ہر شئی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں۔ (3) ہر شئی کو اللہ تعالیٰ سے طلب کریں۔ (4) اور ہر شئی کو اللہ کی طرف لوٹائیں۔

يحيى بن معاذ الرازي ← أبو محمد الأشك ← أحمد بن محمد التيمي، ← الحسن بن عبد الوهاب ← عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1084

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1085

1084 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول أخبرنا أبو عمرو بن حمدان يقول : وجدت في كتاب أبي سمعت أبا عثمان يقول : المرفق من لا يخاف غير الله و لا يرجو غيره فيؤثر رضاه على هوى نفسه

ہم نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو عمرو بن حمدان نے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں لکھاہوا پایا کہ میں نے ابو عثمان سے سنا وہ فرماتے تھے۔ (اللہ کی طرف سے) توفیق عطا کیا ہوا شخص وہ ہے جو غیر اللہ سے نہ ڈرے۔ اور نہ ہی غیر اللہ سے کوئی امید رکھے بس وہ اللہ کی رضا کو اپنی خواہش نفس پر ترجیح دے۔

أَبَا عُثْمَانَ ← وجدت في كتاب أبي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1085

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1086

1085 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا الحسين الفارسي يقول : سمعت أبا يعقوب النهرجوري يقول : من كان شبعه بالطعام لم يزل جائعا و من كان غناه بالمال لم يزل فقيرا و من قصد بحاجته الخلق لم يزل محروما و من استعان في أمره بغير الله لم يزل مخذولا

ہمیں خبردی ابو عبدالرحمٰن مشکی نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسین فارسی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو یعقوب نہر جوری سے وہ فرماتے ہیں:۔ جس شخص کا پیٹ بھرنا طعام سے تھا وہ ہمیشہ بھوکا رہا ۔ اور جس کا غنی ہونا مال کے ساتھ تھا وہ ہمیشہ فقیر رہا اور جس نے اپنی حاجت مخلوق سےپوری ہونے کا ارادہ کیا ہمیشہ محروم رہا ۔ اور جس نے اپنے کسی بھی معاملے میں غیر اللہ سے مدد مانگی ہمیشہ بے یارومدد گار رہا۔ "مترجم کہتا ہے "(1) جو شخص کھانے سے شکم سیر رہنا چاہتا ہے ہمیشہ بھوکا رہتا ہے ۔(2) جو مال کے ساتھ غنی ہونا چاہتا ہے ہمیشہ فقیر رہتا ہے ۔ (3) جو اپنی حاجت مخلوق سے پوری کرنا چاہتا ہے ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔(4)جو غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے ہمیشہ بے مدد رہتا ہے ۔

أبا يعقوب النهرجوري ← أَبَا الْحُسَيْنِ الْفَارِسِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Season · Hadith 1086

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood