شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 361
361 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل و أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني بالكوفة قالا : ثنا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنبأ وكيع ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو بكر بن عبد الله ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول تبارك و تعالى يوم القيامة : قم يا آدم ابعث بعث النار فيقول لبيك و سعديك و الخير في يديك و ما بعث النار ؟ قال : فيقول : من كل ألف تسعمائة و تسعة و تسعون قال فحينئذ يشيب المولود و تضع كل ذات حمل حملها و ترى الناس سكارى و ما هم بسكارى و لكن عذاب الله شديد فيقولون و أينا ذلك الواحد ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسعمائة و تسع و تسعون من يأجوج و مأجوج و منكم واحد فقال الناس : الله أكبر فقال النبي صلى الله عليه و سلم إني لأرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة و الله إني لأرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة و الله إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة فكبر الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنتم يومئذ في الناس إلا كالشعرة البيضاء في الثور الأسود أو الشعرة في الثور الأبيض رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع قال البيهقي رحمه الله : وأخرجاه من حديث جرير عن الأعمش و في حديثه : أبشروا فإن يأجوج و مأجوج ألفا و منكم رجل و روينا في حديث عمران بن حصين و أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ قوله تعالى : { يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم } إلى آخر الآيتين ثم قالا : معنى ما رواه أبو سعيد غير أن في حديثهما قال : اعملوا و أبشروا و الذي نفس محمد بيده إن معكم لخليقتين ما كانتا مع أحد قط إلا كثرتاه مع من هلك من بني آدم و بني إبليس و قالوا : و من هما قال : يأجوج و مأجوج و روينا عن عائشة أنها قالت يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أرأيت قول الله عز و جل : { يوم تبدل الأرض غير الأرض و السموات و برزوا لله الواحد القهار } أين الناس يومئذ ؟ قال : على الصراط و في حديث ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم زيادة قال : هم في الظلمة دون الجسر و الجسر هو الصراط وأما قوله : { وإذا الأرض مدت * وألقت ما فيها وتخلت } فمعناه قد ألقت ما فيها و قوله تعالى : { إذا زلزلت الأرض زلزالها * وأخرجت الأرض أثقالها } معناه و قد أخرجت الأرض أثقالها و سياق الآية تدل خطأ على ذلك و قوله : { فإذا نفخ في الصور نفخة واحدة * وحملت الأرض والجبال فدكتا دكة واحدة } فمعناه النفخة الآخرة و الله أعلم فصل في معنى قول الله عز و جل { تعرج الملائكة و الروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } و روينا عن أبي هريرة عبد النبي صلى الله عليه و سلم في صاحب الكنز إذا لم يؤد زكاته جيء به يوم القيامة و بكنزه فيحمى صفائح من نار جهنم فيكوى بها جبهته و جبينه و ظهره حتى يحكم الله بين عباده في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس أنه قال في قوله : { يعرج إليه في يوم كان مقداره ألف سنة } قال هذا في الدنيا و قوله { في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } فهذا يوم القيامة جعله الله على الكافرين مقدار خمسين ألف سنة و روينا عن أبي هريرة قال : يوم القيامة على المؤمن كقدر ما بين الظهر و العصر و يروى ذلك مرفوعا و روي في حديث ابن لهيعة عن دراج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن يوم كان مقداره خمسين ألف سنة ما طول هذا اليوم ؟ فقال : و الذي نفسي بيده إنه ليخفف على المؤمن حتى يكون أهون عليه من الصلوات المكتوبة يصليها في الدنيا و قد ذكرنا هذه الأحاديث في كتاب البعث
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب عدل نے، ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے کوفہ میں ان دونوں کو ابراہیم بن عبداللہ عیسیٰ نے، ان کو وکیع نے اور ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ نے، اس کو خبر دی ہے ابو بکر بن عبداللہ نے، ان کو حسن بن سفیان نے، ان کو محمد بن عبداللہ نمیر نے، ان کو وکیع نے اعمش سے ان کو ابو صالح نے، انکو ابو سعید نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے: اے آدم بھیج آگ والوں کو آگ میں۔ وہ عرض کریں گے میں حاضر ہوں اور سعادت حاصل کرتا ہوں اور خیر تو تیرے ہاتھ میں ہے۔ آگ میں بھیجنا کس قدر ہو گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت اس دن کی شدت سے بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل ضائع کر دے گی اور آپ لوگوں کو دیکھیں گے کہ نشہ کی حالت میں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ کا سخت عذاب ہو ا۔ لوگ کہیں گے ہم میں سے کون ہو گا جنت کے لئے بچنے والا باقی ایک۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نو سو ننانوے یا جوج ماجوج میں سے ہوں گے اور تم لوگوں میں سے ایک ہو گا۔ لوگوں نےکہا: اللہ اکبر۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ اہل جنت میں سے ایک چوتھائی ہو گے۔ واللہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں ایک تہائی ہو گے۔ واللہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں نصف ہو گے۔ لوگوں نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس دن ایسے ہو گے جیسے سیاہ جسم پر ایک سفید بال یا سفید بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے ابو بکر ابن شیبہ سے ، انہوں نے وکیع سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بخاری اور مسلم دونوں نے اس کو نقل کیا ہے جریر سے اعمش سے اور اس کی روایت میں ہے کہ خوش ہو جاؤ، بے شک یا جوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہون گے جہنم کے لئے اور تم میں سے ایک آدمی۔ ہم نے روایت کیا ہے عمران بن حصین اور انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: "یا ایھا الناس اتقو ا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیئی عظیم" (الحج 1-2) دو آیات تک۔ اے لوگو! تم لوگ اپنے رب سے ڈرو ، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے۔ (آخر تک) پھر دونوں نے اس کا مفہوم بیان کیا جو کچھ ابو سعید نے روایت کیا ہے ۔ علاوہ اس کے کہ دونوں کے حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوش ہو جاؤ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بے شک تمہارے ساتھ دو مخلوقیں ایسی ہیں وہ جس کے ساتھ ہوں گے ان سے زیادہ ہو جائیں گے۔ یعنی بنی آدم اور بنی ابلیس کے ہلاک ہونے والوں سے (یعنی جنوں اور انسانوں کے جہنمیوں سے ان دو مخلوقات کی تعداد زیادہ ہو جائے گی ۔) لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یاجوج ماجوج ہیں۔ اور ہم نے روایت کیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے اس فرمان کو دیکھا: "یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات وبرزواللہ الواحد القھار" (ابراہیم 48) جس دن یہ زمین دوسری زمین سے تبدیل کر دی جائے گی اور آسمان بھی ظاہر ہو جائیں گے اللہ واحد قہار کے لئے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال کیا؟) کہاں ہوں گے؟ لوگ اس دن۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صراط پر (راستہ) ۔ ابو حضرت ثوبان کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ الفاظ زیادہ ہیں ( کہ آ پ نے جواب میں فرمایا) کہ لوگ اس دن اندھیرے میں ہوں گے۔ پل سے پہلے پل وہی صراط ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : " واذالارض مدت والقت مافیھا وتخلت" (الاشقاق 4) اور زمین جب دراز کی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ نکال پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ جو کچھ اس میں ہے اس کو نکال دے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کہ یہ فرمان: "اذا زلزلت الارض زلزالھا واخرجت الارض اثقالھا" (الزلزلہ 1-2) جب زمین ہلائی جائے گی سخت ہلایا جانا اور زمین نکال دے گی اپنے بوجھ کو۔ اس کا مطلب ہے زمین اپنے اندر کے بوجھ نکال دے گی ۔ آیت کا سیاق اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : "فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ وحملت الارض والجبال فدکنا دکۃ واحدۃ (الحاقۃ) جب صور پھونکا جائے گا یکبار گی اور اٹھائی جائے گی زمین ، پس ٹھونک کر ماری جائے گی۔ ٹھونک کا مارنا ایک ہی بار اس سے مرد ہے نفخہ آخرہ۔ واللہ اعلم۔ فصل:۔۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب : "تعرج الملائکۃ والروج الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ (المعارج 4) تمام فرشتے اور روح الامین اس کی طرف چڑھ جائیں گے اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خزانہ کے مالک کے بارے میں جب وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہو گا، قیامت کے دن وہ لایا جائے گا اور اس کا مال (سونا چاندی وغیرہ) گرم کر کے اس کا ماتھا اور پیشانی اور کروٹیں اور پیٹھ داغے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر لے گا اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ ہم نے روایت کی ہے کہ علی بن ابو طلحہ سے،ا س نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: "یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ 5) چڑھ جائے گا اس کی طرف اس دن جس کی مقدار ہزار سال ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا میں ہے (یعنی دنیا ہزار سال کے برابر) ۔ اور یہ قول : " فی یوم کان مقدارہ خمیسین الف سنۃ" (المعارج 4) اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ یہ قیامت کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو کافروں پر پچاس ہزار سال کا بنا دیاہے۔ اور ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ قیامت کا دن مومن پر ایسے ہو گا جیسے ظہر اور عصر کی نماز کے درمیان کا وقت اور یہ مرفوعاً مروی ہے۔ اور ابن لھیعہ کی روایت میں دراج سے مروی ہے وہ ابو الھیثم سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابو سعید سے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس دن کے بارےمیں دریافت کیا گیا تھا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ اس دن کا طول کتنا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضےمیں میری جان ہے کہ بےشک وہ مومن پر ہلکا کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے زیادہ آسان ہو گا جتنی دیر میں وہ دنیا میں ایک فرض نماز پڑھتا تھا۔ ہم نے ان احادیث کی اسانید کو کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دیا ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 361
