Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 361

361 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل و أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني بالكوفة قالا : ثنا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنبأ وكيع ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو بكر بن عبد الله ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول تبارك و تعالى يوم القيامة : قم يا آدم ابعث بعث النار فيقول لبيك و سعديك و الخير في يديك و ما بعث النار ؟ قال : فيقول : من كل ألف تسعمائة و تسعة و تسعون قال فحينئذ يشيب المولود و تضع كل ذات حمل حملها و ترى الناس سكارى و ما هم بسكارى و لكن عذاب الله شديد فيقولون و أينا ذلك الواحد ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسعمائة و تسع و تسعون من يأجوج و مأجوج و منكم واحد فقال الناس : الله أكبر فقال النبي صلى الله عليه و سلم إني لأرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة و الله إني لأرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة و الله إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة فكبر الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنتم يومئذ في الناس إلا كالشعرة البيضاء في الثور الأسود أو الشعرة في الثور الأبيض رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع قال البيهقي رحمه الله : وأخرجاه من حديث جرير عن الأعمش و في حديثه : أبشروا فإن يأجوج و مأجوج ألفا و منكم رجل و روينا في حديث عمران بن حصين و أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ قوله تعالى : { يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم } إلى آخر الآيتين ثم قالا : معنى ما رواه أبو سعيد غير أن في حديثهما قال : اعملوا و أبشروا و الذي نفس محمد بيده إن معكم لخليقتين ما كانتا مع أحد قط إلا كثرتاه مع من هلك من بني آدم و بني إبليس و قالوا : و من هما قال : يأجوج و مأجوج و روينا عن عائشة أنها قالت يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أرأيت قول الله عز و جل : { يوم تبدل الأرض غير الأرض و السموات و برزوا لله الواحد القهار } أين الناس يومئذ ؟ قال : على الصراط و في حديث ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم زيادة قال : هم في الظلمة دون الجسر و الجسر هو الصراط وأما قوله : { وإذا الأرض مدت * وألقت ما فيها وتخلت } فمعناه قد ألقت ما فيها و قوله تعالى : { إذا زلزلت الأرض زلزالها * وأخرجت الأرض أثقالها } معناه و قد أخرجت الأرض أثقالها و سياق الآية تدل خطأ على ذلك و قوله : { فإذا نفخ في الصور نفخة واحدة * وحملت الأرض والجبال فدكتا دكة واحدة } فمعناه النفخة الآخرة و الله أعلم فصل في معنى قول الله عز و جل { تعرج الملائكة و الروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } و روينا عن أبي هريرة عبد النبي صلى الله عليه و سلم في صاحب الكنز إذا لم يؤد زكاته جيء به يوم القيامة و بكنزه فيحمى صفائح من نار جهنم فيكوى بها جبهته و جبينه و ظهره حتى يحكم الله بين عباده في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس أنه قال في قوله : { يعرج إليه في يوم كان مقداره ألف سنة } قال هذا في الدنيا و قوله { في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } فهذا يوم القيامة جعله الله على الكافرين مقدار خمسين ألف سنة و روينا عن أبي هريرة قال : يوم القيامة على المؤمن كقدر ما بين الظهر و العصر و يروى ذلك مرفوعا و روي في حديث ابن لهيعة عن دراج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن يوم كان مقداره خمسين ألف سنة ما طول هذا اليوم ؟ فقال : و الذي نفسي بيده إنه ليخفف على المؤمن حتى يكون أهون عليه من الصلوات المكتوبة يصليها في الدنيا و قد ذكرنا هذه الأحاديث في كتاب البعث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب عدل نے، ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے کوفہ میں ان دونوں کو ابراہیم بن عبداللہ عیسیٰ نے، ان کو وکیع نے اور ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ نے، اس کو خبر دی ہے ابو بکر بن عبداللہ نے، ان کو حسن بن سفیان نے، ان کو محمد بن عبداللہ نمیر نے، ان کو وکیع نے اعمش سے ان کو ابو صالح نے، انکو ابو سعید نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے: اے آدم بھیج آگ والوں کو آگ میں۔ وہ عرض کریں گے میں حاضر ہوں اور سعادت حاصل کرتا ہوں اور خیر تو تیرے ہاتھ میں ہے۔ آگ میں بھیجنا کس قدر ہو گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت اس دن کی شدت سے بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل ضائع کر دے گی اور آپ لوگوں کو دیکھیں گے کہ نشہ کی حالت میں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ کا سخت عذاب ہو ا۔ لوگ کہیں گے ہم میں سے کون ہو گا جنت کے لئے بچنے والا باقی ایک۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نو سو ننانوے یا جوج ماجوج میں سے ہوں گے اور تم لوگوں میں سے ایک ہو گا۔ لوگوں نےکہا: اللہ اکبر۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ اہل جنت میں سے ایک چوتھائی ہو گے۔ واللہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں ایک تہائی ہو گے۔ واللہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں نصف ہو گے۔ لوگوں نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس دن ایسے ہو گے جیسے سیاہ جسم پر ایک سفید بال یا سفید بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے ابو بکر ابن شیبہ سے ، انہوں نے وکیع سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بخاری اور مسلم دونوں نے اس کو نقل کیا ہے جریر سے اعمش سے اور اس کی روایت میں ہے کہ خوش ہو جاؤ، بے شک یا جوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہون گے جہنم کے لئے اور تم میں سے ایک آدمی۔ ہم نے روایت کیا ہے عمران بن حصین اور انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: "یا ایھا الناس اتقو ا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیئی عظیم" (الحج 1-2) دو آیات تک۔ اے لوگو! تم لوگ اپنے رب سے ڈرو ، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے۔ (آخر تک) پھر دونوں نے اس کا مفہوم بیان کیا جو کچھ ابو سعید نے روایت کیا ہے ۔ علاوہ اس کے کہ دونوں کے حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوش ہو جاؤ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بے شک تمہارے ساتھ دو مخلوقیں ایسی ہیں وہ جس کے ساتھ ہوں گے ان سے زیادہ ہو جائیں گے۔ یعنی بنی آدم اور بنی ابلیس کے ہلاک ہونے والوں سے (یعنی جنوں اور انسانوں کے جہنمیوں سے ان دو مخلوقات کی تعداد زیادہ ہو جائے گی ۔) لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یاجوج ماجوج ہیں۔ اور ہم نے روایت کیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے اس فرمان کو دیکھا: "یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات وبرزواللہ الواحد القھار" (ابراہیم 48) جس دن یہ زمین دوسری زمین سے تبدیل کر دی جائے گی اور آسمان بھی ظاہر ہو جائیں گے اللہ واحد قہار کے لئے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال کیا؟) کہاں ہوں گے؟ لوگ اس دن۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صراط پر (راستہ) ۔ ابو حضرت ثوبان کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ الفاظ زیادہ ہیں ( کہ آ پ نے جواب میں فرمایا) کہ لوگ اس دن اندھیرے میں ہوں گے۔ پل سے پہلے پل وہی صراط ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : " واذالارض مدت والقت مافیھا وتخلت" (الاشقاق 4) اور زمین جب دراز کی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ نکال پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ جو کچھ اس میں ہے اس کو نکال دے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کہ یہ فرمان: "اذا زلزلت الارض زلزالھا واخرجت الارض اثقالھا" (الزلزلہ 1-2) جب زمین ہلائی جائے گی سخت ہلایا جانا اور زمین نکال دے گی اپنے بوجھ کو۔ اس کا مطلب ہے زمین اپنے اندر کے بوجھ نکال دے گی ۔ آیت کا سیاق اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : "فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ وحملت الارض والجبال فدکنا دکۃ واحدۃ (الحاقۃ) جب صور پھونکا جائے گا یکبار گی اور اٹھائی جائے گی زمین ، پس ٹھونک کر ماری جائے گی۔ ٹھونک کا مارنا ایک ہی بار اس سے مرد ہے نفخہ آخرہ۔ واللہ اعلم۔ فصل:۔۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب : "تعرج الملائکۃ والروج الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ (المعارج 4) تمام فرشتے اور روح الامین اس کی طرف چڑھ جائیں گے اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خزانہ کے مالک کے بارے میں جب وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہو گا، قیامت کے دن وہ لایا جائے گا اور اس کا مال (سونا چاندی وغیرہ) گرم کر کے اس کا ماتھا اور پیشانی اور کروٹیں اور پیٹھ داغے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر لے گا اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ ہم نے روایت کی ہے کہ علی بن ابو طلحہ سے،ا س نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: "یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ 5) چڑھ جائے گا اس کی طرف اس دن جس کی مقدار ہزار سال ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا میں ہے (یعنی دنیا ہزار سال کے برابر) ۔ اور یہ قول : " فی یوم کان مقدارہ خمیسین الف سنۃ" (المعارج 4) اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ یہ قیامت کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو کافروں پر پچاس ہزار سال کا بنا دیاہے۔ اور ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ قیامت کا دن مومن پر ایسے ہو گا جیسے ظہر اور عصر کی نماز کے درمیان کا وقت اور یہ مرفوعاً مروی ہے۔ اور ابن لھیعہ کی روایت میں دراج سے مروی ہے وہ ابو الھیثم سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابو سعید سے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس دن کے بارےمیں دریافت کیا گیا تھا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ اس دن کا طول کتنا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضےمیں میری جان ہے کہ بےشک وہ مومن پر ہلکا کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے زیادہ آسان ہو گا جتنی دیر میں وہ دنیا میں ایک فرض نماز پڑھتا تھا۔ ہم نے ان احادیث کی اسانید کو کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دیا ہے۔

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 361

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood