Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1001

1000 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا إسماعيل بن جعفر قال : أخبرني العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع بجنته أحد و لو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من جنته أحد أخرجه مسلم في الصحيح عن جماعة عن إسماعيل و أخرجه البخاري من حديث المقبري عن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الر بیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لو "یعلم المؤمن ماعنداللہ من العقوبۃ ماطمع بضنتہ احد ، ولو یعلم الکافر ماعند اللہ من الرحمۃ ماقنط من جنتہ احد" اگر مؤمن اس سزا کو جان لے جو اللہ کے ہاں ہے تو اس کی جنت سے کوئی نا امید نہ ہو۔ اس کو امام مسلم نے صحیح میں ایک جماعت سے انہوں نے اسماعیل سے نقل کیا ہے ۔ اور بخاری نے اس کو مقبری کی حدیث سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1001

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1002

1001 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حامد المقرئ و أبو عبد الرحمن السلمي قالوا حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان الهاشمي ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على شاب و هو في الموت فقال : كيف تجدك ؟ قال : أرجو الله و أخاف ذنوبي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يجتمعان في قلب عبد في مثل هذا الموطن إلا أعطاه الله ما يرجو و آمنه مما يخاف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابی حامد مقری نے ۔ اور ابو عبدالرحمٰن نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان ہاشمی نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے آپ کو کیا پا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے امید کر رہا ہوں اور اپنے گناہوں ڈر رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " لا یجتمعان فی قلب عبد فی مثل ھذا المؤمن الا اعطاہ اللہ مایر جو و امنہ مما یخاف"جس بندے کے دل میں یہ دو چیزیں ( خوف اور امید ) اکٹھے ہو جائیں ایسے وقت میں ( موت کے وقت ) اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا فرما دیتے ہیں جس کی امید کرتا ہے اور اس سے امن عطا کر تے ہیں جس سے وہ ڈرتا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1002

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1003

1002 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن إسحاق البغوي ثنا يحيى بن عبد الحميد ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس رضي الله عنه قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل يعوده فوجده في الموت فقال : كيف تجدك ؟ قال : أجدني أخاف و أرجو قال : لا يجتمعان في قلب مؤمن إلا أعطاه الله الذي يرجو منه و آمنه من الذي يخاف كذا قاله جعفر بن سليمان الضبعي 1002 - مكرر ـ و رواه أبو ربيعة عن حماد بن سلمة عن ثابت عن عبيد بن عمير قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم على رجل من أصحابه و هو مريض فقال : كيف تجدك ؟ قال : أجدني راغبا راهبا قال : و الذي نفسي بيده لا يجتمعان لأحد عند هذا الموضع إلا أعطاه ما رجا و آمنه مما يخاف

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفا ر نے ان کو محمد بن اسحاق بغوی نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کی مزاج پرسی کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے وہ موت کی حالت میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے آپ کو کیا پا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو خوف اور امید کی حالت میں پا رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ " لا یجتمعان فی قلب عبد فی مثل ھذا المؤمن الا اعطاہ اللہ مایر جو و امنہ مما یخاف"جس مؤمن کے دل میں یہ دو چیزیں ( خوف اور امید ) جمع ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا کرتے ہیں جس کی اس سے امید قائم کرتا ہے اور اس چیز سے امان دے دیتے ہیں جس چیز کا خوف کرتا ہے ۔ اس کو اسی طرح کہا ہے جعفر بن سلیمان ضبعی نے ۔مکرر ہے ۔ اس کو ابو ربیعہ نے روایت کیا ہے ۔ حماد بن سلمہ سے ان کو ثابت نے بیان کیا ان کو عبید بن عمیر نے وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کے ہاں تشریف لے گئے وہ بیمار تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: " کیف تجدک" تم خود کو کیا پا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: " اجدنی راغباوراھباً" میں اپنے آپ کو امید کرنے والا اور ڈرنے والا پا رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " والذین نفسی بیدہ لا یجتمعان فی قلب عبد فی مثل ھذا المؤمن الا اعطاہ اللہ مایر جو و امنہ مما یخاف"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میر ی جان ہے کسی بندے میں جب یہ دو باتیں جمع ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا کرتے ہیں جو امید کرتا ہے اور اسے امان دیتے ہیں جس سے وہ ڈرتا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يحيى بن عبد الحميد ← محمد بن إسحاق البغوي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1003

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1004

1003 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحفيد ثنا عباد بن سعيد الجعفي ثنا محمد بن عثمان بن بهلول ثنا بهلول ثنا إسماعيل بن زياد أبو الحسن عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب : أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه اشتكى فدخل عليه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده فقال : كيف تجدك يا عمر ؟ فقال : أرجو و أخاف فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما اجتمع الرجاء و الخوف في قلب مؤمن إلا أعطاه الله الرجاء و آمنه الخوف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ حفید نے ان کو عباد بن سعید جعفی نے ان کو محمد بن عثمان بن بہلول نے ان کو اسماعیل بن زیاد ہ ابو الحسن نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن مسیب نے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پرسی کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ عمر اپنے آپ کو تم کیسا پا رہے ہو؟ انہوں نے عرض کی امید کر رہا ہوں اور ڈر بھی رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "لا یجتمعان فی قلب عبد فی مثل ھذا المؤمن الا اعطاہ اللہ مایر جو و امنہ مما یخاف" مؤمن کے دل میں یہ دو چیزیں جمع ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی امید اس کو عطا کرتے ہیں اور خوف سے امن دیتے ہیں ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْحَسَنِ، ← بُهْلُولٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← عباد بن سعيد الجعفي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1004

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1005

1004 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن منقذ حدثني إدريس بن يحيى عن أبي إسحاق الرباحي عن ابن أبي مالك قال : دخل واثلة بن الأسقع على مريض يعوده فقال له : كيف تجدك ؟ قال المريض : لقد خفت الله خوفا خشيت أن لا يقوم لي بعد نظام و رجوت الله رجاء فرجائي فوق ذلك فقال واثلة : الله أكبر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أقسم الخوف و الرجاء أن لا يجتمعا في أحد في الدنيا فيرح ريح النار و لا يفترقا في أحد في الدنيا فيرح ريح الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے دونوں کہتے ہیں کہ ان کو بیان کیا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن منقذ نے ان کو ادریس بن یحییٰ نے ، ان کو ابو اسحٰق رباحی نے ان کو ابن ابو مالک نے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت واثلہ بن اسقع ایک مریض کو پوچھنے کے لیے گئے ۔ تو اس سے پوچھا کہ آپ اپنے آپ کو کیا پا رہے ہیں؟ مریض نےجواب دیا کہ میں اتنی زیادہ اللہ ہوں کہ شاید میرے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اور اللہ سے امید اتنی کر رہا ہوں کہ میری امید خوف سے بھی بڑی ہے ۔ تو حضرت واثلہ بن اسقع نے کہا اللہ اکبر ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ خوف اور امید تقسیم کر دئیے گئے ہیں ۔ جس بندے میں دنیا میں یہ جمع ہو جاتے ہیں ، وہ جہنم کی بو بھی نہیں پائے گا اور جس بندے میں دنیا میں یہ جمع نہیں ہوتے ( یعنی یا تو صرف امید رکھتا ہے یا صرف خوف ہی رکھتا ہے ) وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔

لَهُ: «كَيْفَ تَجِدُكَ؟» ← دخل واثلة بن الأسقع على مريض يعوده ← ابْنِ أَبِي مَالِكٍ، ← أبي إسحاق الرباحي ← إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1005

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1006

1005 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا : حدثنا أبو العباس ثنا الربيع بن سليمان ثنا أيوب بن سويد حدثني عتبة بن أبي حكيم قال : عاد واثلة بن الأسقع يزيد بن الأسود الجرشي و قد نزل به الموت فقال : يا أخي كيف تجدك ؟ قال : أجدني أرجو و أخاف قال : له أيهما في نفسك أكثر ؟ قال : الرجاء قال واثلة : الله أكبر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل : أن عند ظن عبدي بي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو عقبہ بن ابو حکیم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے یزید بن اسود جرشی کی عیادت کی تھی ۔ حالانکہ ان پر موت آنے والی تھی۔ ان سے پوچھا کہ بھائی آپ اپنے آپ کو کیا پا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں خود کو امید اور خوف کی حالت میں پا رہا ہوں ۔ حضرت واثلہ نے ان سے پوچھا کون سی بات زیاد ہے ؟ اس نے کہا کہ امید زیادہ ہے یعنی غالب ہے ۔ حضرت واثلہ نے کہا اللہ اکبر! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے۔ " قال اللہ تعالیٰ انا عند ظن عبدی بی" اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں وہ جو میرے ساتھ کرتا ہے ۔

الله عز و جل ← وَاثِلَةُ: اللهُ أَكْبَرُ ← الرَّجَاءُ، ← لَهُ أَيُّهُمَا فِي نَفْسِكَ أَكْثَرُ؟ ← أجدني أرجو و أخاف ← يَا أَخِي كَيْفَ تَجِدُكَ؟ ← عاد واثلة بن الأسقع يزيد بن الأسود الجرشي و قد نزل به الموت ← عتبة بن أبي حكيم ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1006

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1007

1006 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أنا أبو خثيمة ثنا شبابة بن سوار عن هشام بن الغاز حدثني حيان أبو النضر قال : قال لي واثلة بن الأسقع : قدني إليه يزيد بن الأسود فإني قد بلغني أن ألما نزل به قال : فقدته فدخل عليه و هو ثقيل و قد وجه يعني نحو القبلة و قد ذهب عقله قال : نادوه فنادوه فقلت : إن هذا واثلة بن الأسقع أخوك قال : فأبقى الله من عقله أن سمع فجعلتها في كفه و إنما أراد أن يضع يده في يد واثلة ذلك لموضع يد واثلة من يد رسول الله صلى الله عليه و سلم و جعل يضعها مرة على صدره و مرة على وجهه و مرة على فيه فقال واثلة : ألا تخبرني عن شيء أسألك عنه كيف ظنك بالله ؟ قال : أعجزتني ذنوب لي أشفيت على هلكة و لكن أرجو رحمه الله فكبر واثلة و كبر أهل البيت بتكبيره و قال : الله أكبر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يقول الله عز و جل : أنا عند ظن عبدي بي فليظن بي ما شاء

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو شبابہ بن سوار نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو حیان ابو النصر فرماتے ہیں کہ مجھے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ مجھے یزید بن اسود کے پاس لے کر چلو مجھے خبر ملی ہے کہ ان کو تکلیف ہے حیان کہتے ہیں ، میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کو لے کر گیا، ان کے پاس پہنچے تو وہ لا چار ہو چکے تھے ، ان کا منہ قبلہ کی طرف کر دیا گیا تھا۔ اور ان کی عقل بھی زائل ہو چکی تھی، حضرت واثلہ نے فرمایا کہ اس کو ( یزید بن اسود ) کو آواز دو۔ گھر والوں نے اس کو آواز دو۔ گھر والوں نے اس کو آواز دی ، اور میں نے کہا یہ دیکھئے حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ آپ کے بھائی آپ کو ملنے آئے ہیں حیان کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اتنی عقل سلامت رکھی تھی کہ انہوں نے سن لیا کہ حضرت واثلہ آ گئے ہیں ، حضرت واثلہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کے ہاتھ میں کچھ ڈھونڈھ رہے تھے ، میں سمجھ گیا کہ کیا چاہ رہے ہیں ۔ لہذا میں نے حضرت واثلہ کا ہاتھ پکڑ کر مریض کے ہاتھ میں دے دیا، یزید بن اسود چاہ رہے تھے کہ وہ حضرت واثلہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیں اور رکھ لیں اس لیے کہ حضرت واثلہ نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں رکھا تھا ، یزید بن اسود ایک بار حضرت واثلہ کے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھتے تو دوسری بار اپنے چہرے پر اور کبھی اپنے منہ پر ۔ اتنے میں حضرت واثلہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا گمان لے کر جا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے گناہوں نے تو مجھے عاجز کر دیا ہے میں ہلاکت کے کنارے پر اتر چکلا ہوں ، لیکن میں اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں ۔ چنانچہ حضرت واثلہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا یزید بن واثلہ کے گھر والوں نے بھی واثلہ سے سن کر نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت واثلہ نے فرمایا: اللہ اکبر ، میں نے رسول اللہ ق سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔" یقول اللہ عزوجل انا عند ظن عبدی بی فلیظن بی ماشاء"۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے میرے گمان کے پاس ہوں اسے چاہیے کہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھ لے ۔

لي واثلة بن الأسقع قدني إليه يزيد بن الأسود فإني قد بلغني ← حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أبو خثيمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1007

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1008

1007 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد أبي الدنيا ثنا عمرو بن محمد ثنا خلف بن خليفة عن حصين عن إبراهيم قال : كانوا يستحبون أن يلقنوا العبد محاسن عمله عند موته لكي يحسن ظنة بربه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو عمرو بن محمد نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حسین نے ان کو ابراہیم نے وہ فرماتے ہیں : اہل علم مستحب سمجھتے تھے کہ بندے کو اس کے اچھے اعمال یا د دلائے جائیں اس کی موت کے وقت تاکہ وہ اپنے رب کے ساتھ حسن ظن پیدا کرے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حُصَيْنٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ← عبد الله بن محمد أبي الدنيا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1008

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1009

1008 - قال و حدثنا عبد الله ثنا سوار بن عبد الله العنبري ثنا المعتمر بن سليمان قال : قال لي أبي ـ حين حضرته الوفاة : يا معتمر حدثني بالرخص لعلي ألقى الله و أنا حسن الظن به

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ نے ان کو سوار بن عبداللہ عنبری نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے کہ مجھ سے میرے والد سلیمان نے بوقت موت کہا:۔ اے معتمر مجھے رخصت کی حدیثیں بیان کر یا رخصت کی باتیں بتلا تا کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملوں تو میں اس کے ساتھ اچھا گمان لے کر ملوں۔

حسن الظن به ← بالرخص لعلي ألقى الله و ← لي أبي حين حضرته الوفاة يا معتمر ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1009

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1010

1009 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثنا محمد بن الحسين حدثنا خالد بن يزيد الكاهلي ثنا أبو سلمة التيمي قال : سمعت عبد الأعلى التيمي يقول : لجار له قد حضره الموت أكثر من جزعك من الموت و أعد لعظيم الأمور حسن الظن بالله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو خالد بن یزید کاہلی نے ان کو ابو سلمیٰ تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالا علیٰ تیمی سے سنا وہ اپنے پڑوسی سے اس وقت کہہ رہے تھے جب اس کی موت کا وقت آ گیا تھا۔ اے ابو فلاں تیری فکر ما بعد موت کے لیے موت کے ذکر سے زیادہ ہو نی چاہیے اور عظیم امور کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کو تیار کر۔

عَبْدِ الأَعْلَى التَّيْمِيِّ ← أبو سلمة التيمي ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْکَاهِلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1010

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1011

1010 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد الأسفراييني ثنا سعيد بن عثمان قال : سمعت السري بن المغلس يقول : الخوف أفضل من الرجاء ما كان الرجل صحيحا فإذا نزل به الموت فالرجاء أفضل من الخوف فقال له رجل كيف يا أبا الحسن ؟ قال : لأنه إذا كان في صحته محسنا عظم رجاءه عند الموت و حسن ؟ ظنه بربه و إذا كان في صحته مسيئا ساء ظنه عند الموت و لم يعظم رجاءه قال البيهقي رضي الله عنه : و إنما أراد به خوفا يمنعه من معصية الله عز و جل و يحمله على طاعته حتى إذا حضره الموت عظم رجاءه في رحمة ربه و كثر طمعه في إحسان الله ثقة منه بوعد الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد اسفرائنی نے ان کو سعید بن عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سری بن مغلس سے سنا کہتے تھے کہ خوف امید سے اس وقت افضل ہے جب تک انسان تندرست ہو اور جب اس کے ساتھ موت اتر پڑے تو پھر امید خوف سے افضل ہے ۔ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ اے ابو الحسین وہ کیسے؟ فرمایا اس لیے کہ جس وقت وہ اپنی صحت میں ہو گا تو خوف کی وجہ سے نیکی کرے گا۔ جب نیکی کرے گا تو موت کے وقت خود بخود اس کی امید بڑی ہو جائے گی تو رب کے ساتھ اس کا گمان بھی اچھا ہو جائے گا۔ اور جب صحت میں گنہگار ہو گا تو موت کے وقت بھی اس کا گمان براہی ہوگا اور امید بھی بڑی نہیں ہو گی۔

السَّرِيَّ بْنَ الْمُغَلِّسِ، ← سعيد بن عثمان ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1011

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1012

1011 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير التاجر بالكوفة ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : سمعت رسول الله - يقول : ـ قبل أن يموت بثلاث ـ : لا يموتن أحدكم إلا و هو يحسن الظن بالله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش قال البيهقي رحمه الله : و أفضل الرجاء ما تولد من مجاهدة النفس و مجانبة الهوى قال : الله عز و جل : { إن الذين آمنوا والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله أولئك يرجون رحمة الله والله غفور رحيم }

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر تاجر نے کوفے میں ان کو ابو جعفر دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات سے تین روز قبل فرما رہے تھے ۔ "لایموتن احد کم الا وھو یحسن الظن باللہ"۔ تم لوگوں میں سے جو بھی وفات پائے وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان لے کر ہی وفات پائے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں اعمش نے حدیث سے نقل کیا ہے ۔

قَبْلَ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير التاجر

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1012

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood