Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 11

11 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا النفيلي ثنا زهير ثنا أبو إسحاق : فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث زهير بن معاوية و جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الطهور من الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو نصر الفقیہہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی عثؐان بن سعید دارمی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ نفیلی نے وہ کہتےہیں ہمیں حدیث بیان کی زہیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو اسحٰق نے پھر انہوں نے حدیث ذکر فرمائی ہے ۔ بخاری مسلم نے اس روایت کو زہیر بن معاویہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ظہور کو ایمان قرار دیا ہے ۔

زُهَيْرٍ ← النُّفَيْلِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 11

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 12

12 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني قالا : أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : الطهور شطر الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبان بن يزيد العطار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے اور ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے وہ دونوں فرماتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے مسلم بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابو کثیر سے زید بن سلام سے انہوں نے ابو سلام سے انہوں نے حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے : ( الطھور شطر الایمان ) طہارت حاصل کرنا ایمان کا حصہ ہے یا صفائی نصف ایمان ہے ۔ امام مسلم نے اس حدیث کو صحیح مسلم میں ابان بن یزید عضاد کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 12

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 13

13 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي المسديدي فما قرأت عليه من أصله بخسروجرد قال : أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي نا داود بن الحسين البيهقي ثنا حميد بن زنجويه النسوي حدثنا أبو شيخ الحراني ثنا موسى بن أعين عن ليث عن عمرو بن مرة عن معاوية بن سويد ـ قال : أراه قال : ـ عن أبيه ـ الشك من أبي شيخ ـ قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما نتحدث فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتدرون أي عرى الإيمان أوثق ؟ فقالوا : الصلاة فقال : إن الصلاة لحسنة و ما هي بها فقالوا : الجهاد فقال : إن الجهاد لحسن و ما هو به فقالوا : الحج فقال : إن الحج لحسن و ليس به فقالوا : الصيام فقال : الصيام لحسن و ليس به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوثق عرى الإيمان أن تحب لله و تبغض له و رواه جرير بن عبد الحميد عن ليث بن أبي سليم عن عمرو بن مرة عن معاوية بن سويد بن مقرن عن البراء بن عازب عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ بیہقی مسدیدی نے اس صال کیتاب سے جو میں نے خسرو گرد کے ساتھ ان کے سامنے پڑھی تھی انہوں نے فرمایا خبر دی ہے ابو احمد بن محمد حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے داؤد بن حسین بیہقی نے انہوں نے کہا ہمیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ حمید بن زنجویہ نسوی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو شیخ خرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن ایمن نے لیث سے انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے انہوں نے کہا میں اسے دیکھا فرما رہے تھے اپنے والد سے شک ابو شیخ کی طرف سے ہے وہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی مجلس میں ایک روز بیٹھے تھے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اتدرون ای عری الا یمان اوثق ؟ ) کیا تم لوگ جانتے ہو ایمان کا مضبوط ترین کڑا کون سا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا ۔ الصلوٰۃ ، نماز مضبوط کڑا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ( ان الصلوٰۃ لحسنۃ و ما ھی بھا ) نماز تو بے شک ضرور اچھی ہے لیکن وہ نہیں ۔ صحابہ نے جواب دیا الجہاد ۔ جہاد ، آپ نے فرمایا جہاد تو ضرور اچھا ہے ۔ لیکن وہ نہیں لوگوں نے کہا حج آپ نے فرمایا ضرور حج اچھی چیز ہے لیکن وہ نہیں لوگوں نے کہا روزہ سے آپ نے فرمایا روزے ضرور اہم ہیں مگر وہ نہیں پھر آپ نے خود وضاحت فرمائی : ( اوثق العریٰ الا یمان ان تحب للہ و تبغض لہ ) کہ ایمان کا مضبوط ترین کڑا یہ ہے کہ تو کسی سے محبت کرے تو اللہ کے لئے اور ناپسند کرے تو اللہ کے لئے ۔ جریر بن عبدالحمید نے اس کو روایت کیا ہے لیث بن ابی سلیم سے انہوں نے عمرو بن مرہ سےانہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرون سے انہوں نے براء بن عازب سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ليث بن أبي سليم ← الصيام لحسن و ليس به ← الصِّيَامِ ← إن الحج لحسن و ليس به ← الْحَجِّ ← إن الجهاد لحسن و ما هو به ← الْجِهَادُ ← إن الصلاة لحسنة و ما هي بها ← الصَّلَاةِ ← كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما نتحدث ← أَبِيهِ الشَّكُّ مِنْ أَبِي شَيْخٍ ← أُرَاهُ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← لَيْثٌ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ ← حميد بن زنجويه النسوي ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← عليه من أصله بخسروجرد ← أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي المسديدي فما

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 13

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 14

14 - أخبرناه أبو منصور النخعي بالكوفة ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنبأ عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال في آخره : إن أوثق عرى الإيمان أن تحب في الله و أن تبغض في الله فجعل هذه الشرائع كلها من الإيمان و شاهده في الحب و البغض ما :

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور نخعی نے کوفہ میں وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر بن رحیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن حازم نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عثمان بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر نے پھر اس نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ ذکر کیا سابق کی طرح علاوہ اس کے کہ اس نے اس کے آخر میں کہا ہے ۔ لوگوں نے شرائع اسلام کا زکر کیا مگر درست نہ کہہ پائے جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحیح نہی کہہ پائے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ان اوثق عریٰ الایمان ان تحب فی اللہ و ان تبغض فی اللہ ) ۔ بے شک ایمان کا مضبوط ترین کڑا یہ ہے کہ تو محبت بھی اللہ کی رضا کے لئے کرے اور نفرت بھی ۔ ( دیکھئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان تمام شرائع کو ایمان قرار دیا ہے اور اس کو محبت اور بغض میں بھی ظاہر کیا ہے ۔

جرير فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← أحمد بن حازم أنبأ عثمان بن أبي شيبة ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو منصور النخعي بالكوفة

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 14

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 15

15 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ و إبراهيم بن عصمة قالا نا السري بن خزيمة نا عبد الله بن يزيد المقرئ ثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي مرحوم عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أعطى لله و منع لله و أحب لله و أبغض لله و أنكح لله فقد استكمل إيمانه و روى ذلك أيضا في حديث أبي أمامة الباهلي عن النبي صلى الله عليه و سلم في غير الإنكاح فصرح أن هذه الخصال كلها إيمان و أبان أن أوثق عرى الإيمان الإخلاص

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا محمد بن صالح بن بانی نے اور ابراہیم بن عصمہ نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے سری ابن حزیمہ نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ۔ عبداللہ بن یزید مقری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعیدن بن ابی ایوب نے میرے والد مرحوم سے انہوں نے سہل بن معاذ بن انس جھنی سے انہوں نے اپنے باپ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( من اعطٰی للہ و منع للہ واحب للہ وابغض للہ و انکح للہ فقد استکمل ایمانہ ) جس شخص نے اللہ کی رضا کے لئے دیا اور اللہ کی رضا کے لئے دینے سے ہاتھ روکا۔ جس نے اللہ کی رضا کے لئے کسی کو چاہا اور جس نے اللہ کی رضا کے لئے نفرت کی ۔اور اللہ کی رضا کے لئے نکاح کیا اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔ یہی مفہوم ابا امامہ باہلی کی حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے مگر اس میں نکاح کا زکر نہیں ہے اور تصریح اور وضاحت کی گئی ہے یہ تمام صفات و اعمال ایمان ہیں ۔ اور واضح فرمایا ہے کہ ایمان کا مضبوط ترین کڑا اخلاص ہے ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن صالح بن هانئ و إبراهيم بن عصمة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 15

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 16

16 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز ثنا عبد السلام بن صالح الهروي ثنا علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب حدثني أبي عن جعفر عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي ـ رضي الله عنهم ـ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان معرفة بالقلب و إقرار باللسان و عمل بالأركان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے علی بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر بیان کی ہے عبدالسلام بن صالح ہروی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے جعفر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے علی بن حسین سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( الایمان معرفۃ بالقلب و اقرار باللسان و عمل با لا رکان ) کہ ایمان دل کی معرفت زبان سے اقرار اور اعضاء کے ساتھ عمل کرنے کا نام ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 16

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 17

17 - و حدثنا أبو محمد عبيد بن محمد بن مهدي القشيري أنبأ أبو محمد المسيب البيهقي ثنا أبو الصلت الهروي عبد السلام و محمد بن أسلم قالا : ثنا علي بن موسى الرضا عن أبيه : فذكره بإسناده غير أنه قال : الإيمان إقرار باللسان و معرفة بالقلب و عمل بالجوارح و شاهد هذا الحديث ما مضى في الحديث الثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم في عدد شعب الإيمان و أما قول الله عز و جل : { إن الذين آمنوا و عملوا الصالحات } فأفرد العمل الصالح بالذكر و قد قال أيضا : { إلا الذين آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر } فأفرد التواصي بالحق و التواصي بالصبر بالذكر و لم يدلك ذلك على أنهما ليسا من الأعمال الصالحة فكذلك قوله : { إن الذين آمنوا و عملوا الصالحات } لا يدل على أن عمل الصالحات ليس بإيمان و إنما معناه أن الذين آمنوا قبل الإيمان ـ الناقل عن الكفر ـ ثم لم يقتصروا عليه و لكنهم ضموا إليه الصالحات فعملوها حتى ارتقى إيمانهم من درجة الأقل إلى الأكمل أو نقول : إن المراد بالذين آمنوا الإيمان بالله و بعمل الصالحات الإيمان لله و الإيمانان متغايران على ما بينا فلذلك سميا باسمين و الله أعلم

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبید بن محمد بن مہدی قثیری نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن محمد بن موسیٰ بن کعب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد فضل بن محمد بن مسیب بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو صلت ہروی عبدالسلام اور محمد بن اسلم نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن موسیٰ رضا نے اپنے والد سے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مگر اس طرح کیا ہے ۔ ( الایمان اقرار باللسان و معرفۃ بالقلب و عمل بالجوارح ) کہ ایمان زبان سے اقرار دل کی معرفت اور اعضاء کے ساتھ عمل کا نام ہے ۔ اس حدیث کو مشاہدہ کیجیے شعب الایمان کی گنتی میں جو گزری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ثابت حدیث میں آئندہ سطور میں ممکنہ اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کو حرف عطف کے فاصلہ کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ ( مترجم ) بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ( ان الذین امنوا و عملوا الصالحات ) یعنی جو لوگوں نے ایمان لائے اور عمل صالح کئے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عمل صالح کو علیحدہ ذکر کیا ہے ۔ نیز دوسری آیت ( الا الذین امنوا و عملوا الصالحات و توا صو با لحق و توا صوا بالصبر ) ( سورۃ العصر ۳) یعنی اس آیت میں ایمان ۔ عمل صالح ، تواصی بالحق ، تواصی بالصبر کو الگ الگ ذکر کیا ہے یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ دونوں اعمال صالحہ میں سے نہیں ہیں یہی حال اس آیت کا ہے ۔ ( ان الذین امنوا و عملوا الصالحات ) یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ اعمال صالح ایمان نہیں ہیں بلکہ مطلب ہے کہ جو لوگ ایسے ایمان سے قبل ایمان لائے جو کفر سے اسلام کی طرف منتقل کرتا ہے پھر اسی پر اکتفا نہیں کیابلکہ ایمان کے ساتھ نیکیاں بھی شامل کیں اور ان پر عمل کیا یہاں تک کہ ان کا ایمان کہ درجہ سے اکمل درجے کی طرف بلند ہو گیا ۔ یا ہم کہیں گے کہ الذین امنوا سے مراد ہے ایمان با اللہ اور عمل با الصالحات ایمان اللہ ۔ دو مختلف ایمان ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔ اسی لئے دو الگ الگ نام رکھے گئے ہیں ۔ و اللہ اعلم ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 17

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood