شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1449
1449 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إسماعيل بن أحمد التاجر أنا أبو يعلى ثنا زهير بن حرب ثنا عمر بن يونس ثنا عكرمة بن عمار حدثني أبو زميل سماك الحنفي حدثني عبد الله بن عباس حدثني عمر بن الخطاب قال : لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نسائه فذكر الحديث إلى أن قال :
فدخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو مضطجع على حصير فجلست فأدنى عليه إزاره و ليس عليه غيره و إذا الحصير قد أثر في جنبه فنظرت ببصري في خزانة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أنا بقبضة من شعير نحو الصاع و مثلها قرظا في ناحية الغرفة و إذا إهاب معلق قال : فابتدرت عيناي فقال : ما يبكيك يا ابن الخطاب ؟
قلت : يا نبي الله و مالي لا أبكي و هذا الحصير قد أثر في جنبك و هذا خزانتك لا أرى فيها إلا ما أرى و ذاك قيصر و كسرى في الثمار و الأنهار و أنت رسول الله و صفوته و هذه خزانتك
فقال : يا ابن الخطاب أما ترضى أن تكون لنا الآخرة و لهم الدنيا
قلت : بلى
رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو اسماعیل بن احمد تاجر نے ان کو ابو یعلیٰ نے ان کو زہیر بن حرب نے ان کو عمر بن یونس نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو ابو زمیل سماک حنفی نے ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر والیوں سے علٰیحدہ ہو گئے تھے ۔ پھر انہوں نے آگے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اس وت آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے میں بیٹھ گیا آپ نے اوپر اوڑھنے کی چادر قریب کی اس چادر کے علاوہ آپ کے اوپر اس وقت کرتہ وغیرہ نہیں تھا چٹائی کے نشان آپ کے پہلو پر نمایاں تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خزانے میں ( وہ سانچہ جس میں کھانے پینے کا سامان دھرا رہتا تھا ) نظر ماری تو اس میں میٹھی بھر جو پڑے ہوئے تھے یعنی ایک صاع کے برابر ہوں گے اور اسی کی مثل کھجور جو کمرے کے کونے میں پڑی تھیں اور دیکھا تو ایک چمڑا بھی لٹکا ہوا تھا میں نے جلدی سے اپنی نگاہوں کو گھمایا یعنی ( یہ ناداری کا سرکار دوجہاں کے گھ میں دیکھ کر مجھے بے ساختہ رونا آگیا۔ ) آپ نے فرمایا ابن خطاب تمہیں کس چیز نے رو لا یا ہے ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی میں کیسے نہ روؤں اس چٹائی نے آپ کے پہلو مقدس پر نشان ڈال دئیے ہیں ۔ اور یہ رہا آپ کا خزانہ اس میں کیا کچھ جمع ہے وہ بھی میرے سامنے ہے ۔ اور دوسری طرف دیکھتا ہوں تو یہ قیصر و کسریٰ ہیں جو پھلوں اور نہروں میں پڑے ہیں ( یعنی ان کے پاس تمام ضروری سامان دنیا کی فراوانی ہے۔) آپ کا یہ حال ہے جب کہ اپ اللہ کے رسول ہیں آپ اس کے برگزیدہ ہیں ( اور یہ آپ کے گھر کا حال ہے ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ ہمارے لئے آخرت ہو اور ان کے لئے دنیا میں نے کہا بالکل بالکل راضی ہوں ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے۔
الحديث إلى ← لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نسائه ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو يَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1449
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1450
1450 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا عبد الله بن معاوية الجمحي ثنا ثابت بن يزيد ثنا هلال يعني ابن حباب عن عكرمة عن ابن عباس قال : دخل عمر بن الخطاب على النبي صلى الله عليه و سلم و هو على الحصير و قد أثر في جنبه فقال : يا رسول الله لو اتخذت فراشا أوثر من هذا
فقال : ما لي و الدنيا و ما للدنيا و مالي و الذي نفسي بيده ما مثلي و مثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار ثم راح و تركها
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو عبداللہ بن معاویہ جمعی نے ان کو ثابت بن یزید نے ان کو ہلال نے یعنی ابن حباب نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ فرما تھے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے آپ چٹائی پر آرام فرمارہے تھے چٹائی کے نشانات آپ کے جسم پر پڑ چکے تھے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ کوئی بستر بچھا لیتے تو یہ نشان نہ پڑتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے دنیا سے کیا مطلب ؟ اور کیا ہے دنیان کے لیے اور کیا ہے میرے لئے ؟ (یعنی مجھے دنیا سے کیا نسبت ؟ اور دنیان کو مجھ سے کیا تعلق؟ ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میری مثال اور دنیا کی مثال اس کے سوا کچھ نہیں جیسے کوئی ایک سخت گرمی کے دن سفر کر رہا ہو۔ لہذا وہ کسی درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے دن کا ایک لحظہ ٹھہر جائے یا کچھ دیر آرام کر لے پھر اس سائے کو اور اس درخت کو وہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هلال يعني ابن حباب ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1450
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1451
1451 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أخبرني يحيى بن أبي طالب ثنا شبابة بن سوار ثنا يحيى بن إسماعيل بن سالم الأسدي قال : سمعت الشعبي عن ابن عمر أنه قال : إن جبريل عليه السلام أتى النبي صلى الله عليه و سلم فخيره بين الدنيا و الآخرة فاختار الآخرة و لم يرد الدنيا
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے نا کو خبر دی یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو شبابنہ بن سوار نے ان کو یحییٰ بن اسماعیل بن سالم اسدی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا شعبی سے اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے مابین اختیار دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخرت کو پسند کر لیا اور دنیان کی خواہش نہیں کی۔
ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← الشَّعْبِيِّ، ← يحيى بن إسماعيل بن سالم الأسدي ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1451
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1452
1452 - و روينا عن ابن عباس رضي الله عنه : أن الله تبارك و تعالى أرسل إلى نبيه صلى الله عليه و سلم بين أن يكون عبدا نبيا أو ملكا نبيا فأشار إليه جبريل عليه السلام أن تواضع فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بل عبدا نبيا
ہم نے روایت کی ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی کے پاس نمائندہ بھیجا کہ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور نبی بنیں یا بادشاہ اور نبی بنیں۔ جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ فرمایا کہ آپ عاجزی کیجئے لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلکہ بندہ نبی ہونا پسند کرتا ہوں۔
و روينا
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1452
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1453
1453 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن عبد الرحمن بن ماتي السبيعي ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا ثابت بن محمد العابد ثنا الحارث بن النعمان الليثي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم احيني مسكينا و أمتني مسكينا و احشرني في زمرة المساكين يوم القيامة
فقالت عائشة رضي الله عنها : لم يا رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟
قال : لأنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين خريفا يا عائشة لا تردي المساكين و لو بشق تمرة يا عائشة احبي المساكين و قربيهم فإن الله تعالى يقربك يوم القيامة
قال البيهقي رحمه الله :
و أصح من هذا الإسناد إسناد في معناه ما :
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن بن ماتی سبیع نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرزہ نے ان کو ثابت بن محمد عابد نے ان کو حارث بن نعمان لیثی نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : " اللھم احینی مسکینا و امتنی مسکینا و احشر نی فی زمرۃ المساکین یوم القیمۃ"۔ اے اللہ مجھے بحالت مسکین زندہ رکھ اور مجھے بحالت مسکین موت دے اور قیامت میں مجھے مساکین کی جماعت کے ساتھ ملادے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا ایسا کیوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ جنت میں اغیناء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے اے عائشہ یتیم مسکین سے محبت رکھنا انہیں قریب کرنا اللہ تعالیٰ قیامت میں تجھے قریب کریں گے ۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس مذکورہ اسناد سے زیادہ صحیح و اسناد جو اسی کے مفہوم میں ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الحارث بن النعمان الليثى، ← ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← علي بن عبد الرحمن بن ماتي السبيعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1453
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1454
1454 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا ابن عفان يعني الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة عن الأعمش عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا
رواه مسلم في الصحيح عن الأشج عن أبي أسامة أخرجاه من حديث محمد بن فضيل عن أبيه عن عمارة
ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابن عفان یعنی حسن بن علی نے ان کو ابو اسماء نے اعمش سے ان کو عمارہ بن قعقاع نے ان کو ابوزرعہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " اللہ اجعل رزق ال محمد قوتاً" اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کا رزق بقدر روزی بنا ( یعنی بقدر قوت لا یموت بنا) یعنی جسے کھا کر زندہ رہ سکیں یعنی اضافی اور زیادہ نہ دے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں اشج سے روایت کیا ہے ان کو ابو اسامہ نے دونوں نے اس کو نقل کیا محمد بن فضیل کی حدیث سے انہوں نے اپنے والد سے اس نے عمارہ سے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← ابن عفان يعني الحسن بن علي بن عفان ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1454
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1455
1455 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت : ما شبع آل محمد صلى الله عليه و سلم منذ قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة من طعام بر ثلاثة أيام تباعا حتى مضى
أخرجاه في الصحيح من حديث جرير
ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافط نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے منصور سے ان کو ابراہیم نے اسود سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں ۔ " ماشبع ال محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منذ قدم رسول اللہ المدینۃ من طعام ثلاثۃ ایام تباعا حتی مضی"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سے مدینے میں ہجرت کرکے تشریف لائے آل محمد نے کبھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں نقل کیا ہے ۔ جریر کی حدیث سے۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1455
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1456
1456 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي حدثنا يحيى ثنا هشام بن عروة أخبرني أبي عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان يأتي على آل محمد صلى الله عليه و سلم الشهر ما يوقدون فيه نارا ليس إلا التمر و الماء إلا أن يؤتى باللحم
رواه البخاري عن محمد بن المثنى عن يحيى بن سعيد القطان
و أخرجه مسلم من وجه آخر عن هشام دون ذكر اللحم فيه
و فيه من الزيادة ذكر بعثه من حولهم من دور الأنصار نسائهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و كان له من ذلك اللبن
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر مطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ہشام بن عرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ : آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی مہینہ ایسا آتا تھا جس میں وہ (کچھ پکانے کے لئے) آگ نہیں جلاتے تھے۔ تو گذارہ صرف کھجور اور پانی پر ہوتا تھا ہاں کبھی کوئی کہیں سے گوشت آ جاتا ( یعنی وہ بھی پکا ہوا) ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن مثنی یعنی یحییٰ بن سعید قطان سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے دوسرے طریق سے ہشام سے جس میں گوشت کا ذکر نہیں ہے ۔ اور اس میں کچھ اضافہ ہے اس بات کے ذکر کا کہ اردگرد سے انصار کے گھروں سے ان کی عورتیں کچھ بھیج دیں اور وہ زیادہ تر دودھ ہوتا۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1456
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1457
1457 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الله بن جعفر بن درستويه النحوي ثنا محمد بن إبراهيم بأجنادين ثنا أبو معمر عبد الله بن عمرو ثنا عبد الوارث ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك قال : ما أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم على خوان حتى مات و لا أكل خبزا مرققا حتى مات صلى الله عليه و سلم
رواه البخاري في الصحيح عن أبي معمر
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نحوی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے اجناد بن میں ان کو ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے ان کو عبدالوارث نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو حضرت قتادہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستر خوان پر کھانا نہیں کھایا۔ حتیٰ کہ فوت ہو گئے اور نہ ہی روٹی گوشت کے شوربے سے حتیٰ کہ فوت ہو گئے ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں الخ معمر سے روایت کیا ہے ۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1457
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1458
1458 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عيبد الله الحرفي ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحربي ثنا الحسن بن موسى ثنا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة عن أنس قال : دعي النبي صلى الله عليه و سلم إلى خبز الشعير و إهالة سنخة و لقد سمعته ذات غداة يقول و الذي نفس محمد بيده ما أصبح عند آل محمد صاع حب و لا صاع تمر و إن له يومئذ تسع نسوة
و لقد رهن درعا له عند يهودي بالمدينة أخذ منه صاعا ما وجد ما يفتكه
ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبید اللہ حرفی نے بغداد میں ان کو ابو بکر بن عبداللہ شافعی نے ان کو اسحاق بن حسن بن میمون حربی نے ان کو حسن بن موسیٰ نے ان کو شیبان بن عبدالرحمٰن نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی گئی جو کی روٹی اور پگھلائی ہوئی چربی سے ۔ ایک صبح میں سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے آل محمد پر ایسی صبح نہیں آئی کہ گھر میں ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور رکھی ہوں مگر اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں نو بیویاں موجود تھیں ۔ آپ کی ایک ذرہ تھی جو آپ نے مدینے میں کسی یہودی کے پاس رہن رکھوائی اوراس سے ایک صاع گندم یا جو لئے مگر اس کو چھڑانے کے لئے رقم نہ تھی جس سے اس کو چھڑا لائیں۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عيبد الله الحرفي
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1458
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1459
1459 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ثنا أحمد بن منصور المروزي ثنا النضر بن شميل أنا هشام بن عروة أخبرني أبي عن عائشة قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم من أدم و حشوه من ليف
أخرجاه من الصحيح
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال بزار نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اس کے اندر کھجور کے چھال بھرے ہوئے تھے۔ اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے ۔
عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1459
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1460
1460 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الآدمي بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي بردة قال : دخلت على عائشة رضي الله عنها فأخرجت إلينا إزارا غليظا و كساء ملبدا فقالت : في هذا قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم
رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن اعلیٰ آدمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو ابو بردہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آپ نے ہم لوگوں کے لئے ایک موٹی چادر اور ایک عدد اوپر اوڑھنے کی چادر خوشبو لگی ہوئی نکالی اور فرمایا: " فی ھذا قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " اس چادر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک نکالی گئی تھی ۔ ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کپڑوں میں فوت ہوئے تھے)۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں محمد بن رافع سے ان کو عبدالرزاق نے۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1460