Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1449

1449 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إسماعيل بن أحمد التاجر أنا أبو يعلى ثنا زهير بن حرب ثنا عمر بن يونس ثنا عكرمة بن عمار حدثني أبو زميل سماك الحنفي حدثني عبد الله بن عباس حدثني عمر بن الخطاب قال : لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نسائه فذكر الحديث إلى أن قال : فدخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو مضطجع على حصير فجلست فأدنى عليه إزاره و ليس عليه غيره و إذا الحصير قد أثر في جنبه فنظرت ببصري في خزانة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أنا بقبضة من شعير نحو الصاع و مثلها قرظا في ناحية الغرفة و إذا إهاب معلق قال : فابتدرت عيناي فقال : ما يبكيك يا ابن الخطاب ؟ قلت : يا نبي الله و مالي لا أبكي و هذا الحصير قد أثر في جنبك و هذا خزانتك لا أرى فيها إلا ما أرى و ذاك قيصر و كسرى في الثمار و الأنهار و أنت رسول الله و صفوته و هذه خزانتك فقال : يا ابن الخطاب أما ترضى أن تكون لنا الآخرة و لهم الدنيا قلت : بلى رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو اسماعیل بن احمد تاجر نے ان کو ابو یعلیٰ نے ان کو زہیر بن حرب نے ان کو عمر بن یونس نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو ابو زمیل سماک حنفی نے ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر والیوں سے علٰیحدہ ہو گئے تھے ۔ پھر انہوں نے آگے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اس وت آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے میں بیٹھ گیا آپ نے اوپر اوڑھنے کی چادر قریب کی اس چادر کے علاوہ آپ کے اوپر اس وقت کرتہ وغیرہ نہیں تھا چٹائی کے نشان آپ کے پہلو پر نمایاں تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خزانے میں ( وہ سانچہ جس میں کھانے پینے کا سامان دھرا رہتا تھا ) نظر ماری تو اس میں میٹھی بھر جو پڑے ہوئے تھے یعنی ایک صاع کے برابر ہوں گے اور اسی کی مثل کھجور جو کمرے کے کونے میں پڑی تھیں اور دیکھا تو ایک چمڑا بھی لٹکا ہوا تھا میں نے جلدی سے اپنی نگاہوں کو گھمایا یعنی ( یہ ناداری کا سرکار دوجہاں کے گھ میں دیکھ کر مجھے بے ساختہ رونا آگیا۔ ) آپ نے فرمایا ابن خطاب تمہیں کس چیز نے رو لا یا ہے ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی میں کیسے نہ روؤں اس چٹائی نے آپ کے پہلو مقدس پر نشان ڈال دئیے ہیں ۔ اور یہ رہا آپ کا خزانہ اس میں کیا کچھ جمع ہے وہ بھی میرے سامنے ہے ۔ اور دوسری طرف دیکھتا ہوں تو یہ قیصر و کسریٰ ہیں جو پھلوں اور نہروں میں پڑے ہیں ( یعنی ان کے پاس تمام ضروری سامان دنیا کی فراوانی ہے۔) آپ کا یہ حال ہے جب کہ اپ اللہ کے رسول ہیں آپ اس کے برگزیدہ ہیں ( اور یہ آپ کے گھر کا حال ہے ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ ہمارے لئے آخرت ہو اور ان کے لئے دنیا میں نے کہا بالکل بالکل راضی ہوں ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے۔

الحديث إلى ← لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نسائه ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو يَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1449

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1450

1450 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا عبد الله بن معاوية الجمحي ثنا ثابت بن يزيد ثنا هلال يعني ابن حباب عن عكرمة عن ابن عباس قال : دخل عمر بن الخطاب على النبي صلى الله عليه و سلم و هو على الحصير و قد أثر في جنبه فقال : يا رسول الله لو اتخذت فراشا أوثر من هذا فقال : ما لي و الدنيا و ما للدنيا و مالي و الذي نفسي بيده ما مثلي و مثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار ثم راح و تركها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو عبداللہ بن معاویہ جمعی نے ان کو ثابت بن یزید نے ان کو ہلال نے یعنی ابن حباب نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ فرما تھے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے آپ چٹائی پر آرام فرمارہے تھے چٹائی کے نشانات آپ کے جسم پر پڑ چکے تھے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ کوئی بستر بچھا لیتے تو یہ نشان نہ پڑتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے دنیا سے کیا مطلب ؟ اور کیا ہے دنیان کے لیے اور کیا ہے میرے لئے ؟ (یعنی مجھے دنیا سے کیا نسبت ؟ اور دنیان کو مجھ سے کیا تعلق؟ ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میری مثال اور دنیا کی مثال اس کے سوا کچھ نہیں جیسے کوئی ایک سخت گرمی کے دن سفر کر رہا ہو۔ لہذا وہ کسی درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے دن کا ایک لحظہ ٹھہر جائے یا کچھ دیر آرام کر لے پھر اس سائے کو اور اس درخت کو وہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هلال يعني ابن حباب ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1450

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1451

1451 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أخبرني يحيى بن أبي طالب ثنا شبابة بن سوار ثنا يحيى بن إسماعيل بن سالم الأسدي قال : سمعت الشعبي عن ابن عمر أنه قال : إن جبريل عليه السلام أتى النبي صلى الله عليه و سلم فخيره بين الدنيا و الآخرة فاختار الآخرة و لم يرد الدنيا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے نا کو خبر دی یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو شبابنہ بن سوار نے ان کو یحییٰ بن اسماعیل بن سالم اسدی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا شعبی سے اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے مابین اختیار دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخرت کو پسند کر لیا اور دنیان کی خواہش نہیں کی۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← الشَّعْبِيِّ، ← يحيى بن إسماعيل بن سالم الأسدي ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1451

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1452

1452 - و روينا عن ابن عباس رضي الله عنه : أن الله تبارك و تعالى أرسل إلى نبيه صلى الله عليه و سلم بين أن يكون عبدا نبيا أو ملكا نبيا فأشار إليه جبريل عليه السلام أن تواضع فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بل عبدا نبيا

ہم نے روایت کی ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی کے پاس نمائندہ بھیجا کہ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور نبی بنیں یا بادشاہ اور نبی بنیں۔ جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ فرمایا کہ آپ عاجزی کیجئے لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلکہ بندہ نبی ہونا پسند کرتا ہوں۔

و روينا

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1452

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1453

1453 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن عبد الرحمن بن ماتي السبيعي ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا ثابت بن محمد العابد ثنا الحارث بن النعمان الليثي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم احيني مسكينا و أمتني مسكينا و احشرني في زمرة المساكين يوم القيامة فقالت عائشة رضي الله عنها : لم يا رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لأنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين خريفا يا عائشة لا تردي المساكين و لو بشق تمرة يا عائشة احبي المساكين و قربيهم فإن الله تعالى يقربك يوم القيامة قال البيهقي رحمه الله : و أصح من هذا الإسناد إسناد في معناه ما :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن بن ماتی سبیع نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرزہ نے ان کو ثابت بن محمد عابد نے ان کو حارث بن نعمان لیثی نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : " اللھم احینی مسکینا و امتنی مسکینا و احشر نی فی زمرۃ المساکین یوم القیمۃ"۔ اے اللہ مجھے بحالت مسکین زندہ رکھ اور مجھے بحالت مسکین موت دے اور قیامت میں مجھے مساکین کی جماعت کے ساتھ ملادے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا ایسا کیوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ جنت میں اغیناء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے اے عائشہ یتیم مسکین سے محبت رکھنا انہیں قریب کرنا اللہ تعالیٰ قیامت میں تجھے قریب کریں گے ۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس مذکورہ اسناد سے زیادہ صحیح و اسناد جو اسی کے مفہوم میں ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الحارث بن النعمان الليثى، ← ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← علي بن عبد الرحمن بن ماتي السبيعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1453

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1454

1454 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا ابن عفان يعني الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة عن الأعمش عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا رواه مسلم في الصحيح عن الأشج عن أبي أسامة أخرجاه من حديث محمد بن فضيل عن أبيه عن عمارة

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابن عفان یعنی حسن بن علی نے ان کو ابو اسماء نے اعمش سے ان کو عمارہ بن قعقاع نے ان کو ابوزرعہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " اللہ اجعل رزق ال محمد قوتاً" اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کا رزق بقدر روزی بنا ( یعنی بقدر قوت لا یموت بنا) یعنی جسے کھا کر زندہ رہ سکیں یعنی اضافی اور زیادہ نہ دے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں اشج سے روایت کیا ہے ان کو ابو اسامہ نے دونوں نے اس کو نقل کیا محمد بن فضیل کی حدیث سے انہوں نے اپنے والد سے اس نے عمارہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← ابن عفان يعني الحسن بن علي بن عفان ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1454

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1455

1455 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت : ما شبع آل محمد صلى الله عليه و سلم منذ قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة من طعام بر ثلاثة أيام تباعا حتى مضى أخرجاه في الصحيح من حديث جرير

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافط نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے منصور سے ان کو ابراہیم نے اسود سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں ۔ " ماشبع ال محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منذ قدم رسول اللہ المدینۃ من طعام ثلاثۃ ایام تباعا حتی مضی"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سے مدینے میں ہجرت کرکے تشریف لائے آل محمد نے کبھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں نقل کیا ہے ۔ جریر کی حدیث سے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1455

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1456

1456 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي حدثنا يحيى ثنا هشام بن عروة أخبرني أبي عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان يأتي على آل محمد صلى الله عليه و سلم الشهر ما يوقدون فيه نارا ليس إلا التمر و الماء إلا أن يؤتى باللحم رواه البخاري عن محمد بن المثنى عن يحيى بن سعيد القطان و أخرجه مسلم من وجه آخر عن هشام دون ذكر اللحم فيه و فيه من الزيادة ذكر بعثه من حولهم من دور الأنصار نسائهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و كان له من ذلك اللبن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر مطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ہشام بن عرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ : آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی مہینہ ایسا آتا تھا جس میں وہ (کچھ پکانے کے لئے) آگ نہیں جلاتے تھے۔ تو گذارہ صرف کھجور اور پانی پر ہوتا تھا ہاں کبھی کوئی کہیں سے گوشت آ جاتا ( یعنی وہ بھی پکا ہوا) ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن مثنی یعنی یحییٰ بن سعید قطان سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے دوسرے طریق سے ہشام سے جس میں گوشت کا ذکر نہیں ہے ۔ اور اس میں کچھ اضافہ ہے اس بات کے ذکر کا کہ اردگرد سے انصار کے گھروں سے ان کی عورتیں کچھ بھیج دیں اور وہ زیادہ تر دودھ ہوتا۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1456

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1457

1457 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الله بن جعفر بن درستويه النحوي ثنا محمد بن إبراهيم بأجنادين ثنا أبو معمر عبد الله بن عمرو ثنا عبد الوارث ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك قال : ما أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم على خوان حتى مات و لا أكل خبزا مرققا حتى مات صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن أبي معمر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نحوی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے اجناد بن میں ان کو ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے ان کو عبدالوارث نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو حضرت قتادہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستر خوان پر کھانا نہیں کھایا۔ حتیٰ کہ فوت ہو گئے اور نہ ہی روٹی گوشت کے شوربے سے حتیٰ کہ فوت ہو گئے ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں الخ معمر سے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ← محمد بن إبراهيم بأجنادين ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1457

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1458

1458 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عيبد الله الحرفي ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحربي ثنا الحسن بن موسى ثنا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة عن أنس قال : دعي النبي صلى الله عليه و سلم إلى خبز الشعير و إهالة سنخة و لقد سمعته ذات غداة يقول و الذي نفس محمد بيده ما أصبح عند آل محمد صاع حب و لا صاع تمر و إن له يومئذ تسع نسوة و لقد رهن درعا له عند يهودي بالمدينة أخذ منه صاعا ما وجد ما يفتكه

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبید اللہ حرفی نے بغداد میں ان کو ابو بکر بن عبداللہ شافعی نے ان کو اسحاق بن حسن بن میمون حربی نے ان کو حسن بن موسیٰ نے ان کو شیبان بن عبدالرحمٰن نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی گئی جو کی روٹی اور پگھلائی ہوئی چربی سے ۔ ایک صبح میں سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے آل محمد پر ایسی صبح نہیں آئی کہ گھر میں ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور رکھی ہوں مگر اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں نو بیویاں موجود تھیں ۔ آپ کی ایک ذرہ تھی جو آپ نے مدینے میں کسی یہودی کے پاس رہن رکھوائی اوراس سے ایک صاع گندم یا جو لئے مگر اس کو چھڑانے کے لئے رقم نہ تھی جس سے اس کو چھڑا لائیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عيبد الله الحرفي

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1458

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1459

1459 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ثنا أحمد بن منصور المروزي ثنا النضر بن شميل أنا هشام بن عروة أخبرني أبي عن عائشة قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم من أدم و حشوه من ليف أخرجاه من الصحيح

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال بزار نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اس کے اندر کھجور کے چھال بھرے ہوئے تھے۔ اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1459

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1460

1460 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الآدمي بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي بردة قال : دخلت على عائشة رضي الله عنها فأخرجت إلينا إزارا غليظا و كساء ملبدا فقالت : في هذا قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن اعلیٰ آدمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو ابو بردہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آپ نے ہم لوگوں کے لئے ایک موٹی چادر اور ایک عدد اوپر اوڑھنے کی چادر خوشبو لگی ہوئی نکالی اور فرمایا: " فی ھذا قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " اس چادر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک نکالی گئی تھی ۔ ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کپڑوں میں فوت ہوئے تھے)۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں محمد بن رافع سے ان کو عبدالرزاق نے۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1460

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood