Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1385

1385 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن محمد بن الفضيل القطان ببغداد ثنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان ثنا أبو صالح حدثني معاوبة بن صالح عن سعيد بن سويد عن عبد الأعلى بن هلال السلمي عن العرباض بن سارية صاحب النبي صلى الله عليه و سلم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إني عبد الله و خاتم النبيين و ان آدم لمنجدل في طينته و سأخبركم عن ذلك دعوت إبراهيم و بشارة عيسى بي و رؤيا أمي التي رأت و كذلك أمهات النبيين يرين و أن أم رسول الله صلى الله عليه و سلم رأت حين وضعته نورا أضاءت له قصور الشام قال البيهقي رحمه الله : و رواه أبو بكر بن أبي مريم عن سويد بن سعيد عن العرباض عن النبي صلى الله عليه و سلم : إني عند الله في أم الكتاب لخاتم النبيين و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه كذلك في قضاء الله و تقديره قبل أن يكون آدم عليه السلام و أما دعوة إبراهيم عليه السلام فإنه لما أخذ في بناء البيت دعا الله تعالى فقال : { ربنا وابعث فيهم رسولا منهم يتلو عليهم آياتك ويعلمهم الكتاب والحكمة ويزكيهم إنك أنت العزيز الحكيم } فاستجاب الله دعاءه في نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و أما بشارة عيسى عليه السلام فهو أن الله تعالى أمر عيسى عليه السلام فبشر به قومه فعرفه الحواريون بني إسرائيل قبل أن يخلق

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن محمد بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو سعید بن سوید نے ان کو عبدالا علیٰ بن ہلال سلمی نے ان کو عرباض بن ساریہ صاحب النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے تھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ۔ اور نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم ہے ۔ اس وقت سے نبی ہوں جب آدم علیہ السلام ابھی گلگارا تھا یعنی ابھی پانی اور مٹی کی ملی جلی کیفیت میں تھا یا انکا خمیر تیار ہو رہا تھا ۔ اور عنقریب اس بارے میں خبر دوں گا میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ ہوں ، میرے بارے میں دی جانے والی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں ۔ اور اپنی والد ہ کا خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا۔ اور اسی طرح دیگر انبیاء کی مائیں بھی خواب دیکھتی رہی ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی والدہ محترمہ نے خواب دیکھا جب آپ کو جنم دیا کہ ایک روشنی ہے جس نے اپنی اونچائی کی وجہ سے شام کی محلات روشن کر دئیے ہیں۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان کو روایت کیا ہے ابوبکر بن ابو مریم نے سوید بن سعید سے انہوں نے حضرت عرباض بن ساریہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور ام کتاب میں ( یعنی لوح محفوظ میں) میں خاتم النبین ہوں ۔ بیہقی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تقدیر میں ایسے تھا یہ یعنی آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے۔

العرباض بن سارية صاحب النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الأعلى بن هلال السلمي ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← معاوبة بن صالح ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو الحسين محمد بن الحسين بن محمد بن الفضيل القطان

Hadith 1385

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1386

1386 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو النعمان محمد بن الفضل و الحجاج قالا : ثنا مهدي بن ميمون : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال له رجل : يا رسول الله صوم يوم الاثنين ؟ قال : فيه ولدت و فيه أنزل علي القرآن أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعمان محمد بن فضل نے اور حجاج نے وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مہدی بن میمون نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کو عبداللہ بن معبد زمانی نے ان کو ابو قتادہ انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کای میں پیر کے دن کا روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میں اس دن پیدا ہوا اور اسی دن ہی مجھ پر قرآن اتارا گیا۔ اس کو امام مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ۔

لَهُ رَجُلٌ: ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← أبو النعمان محمد بن الفضل و الحجاج ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1386

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1387

1387 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن شبويه الرئيس بمرو ثنا جعفر بن محمد النيسابوري ثنا علي بن مهران ثنا سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق قال : ولد رسول الله صلى الله عليه و سلم لاثنتي عشرة ليلة مضت من شهر ربيع الأول قال البيهقي رحمه الله : و روينا عن ابن عباس ثم عن قيس بن مخزمة ثم عن قباث بن أشيم أن النبي صلى الله عليه و سلم ولد عام الفيل و كان الزهري و من تابعه يقولون ولد بعده و الأول أصح

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن بن محمد بن احمد بن شبویہ الرائیس نے مقام مرو میں ان کو جعفر بن محمد تیسا پوری نے ان کو علی بن مہران نے ان کو سلمہ بن فضل نے ان کو محمد بن اسحاق نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ربیع الا ول کی بارہ راتیں گذرنے کے بعد پیدا ہوئے تھے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے روایت کی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے بعد قیس بن مخرمہ سے پھر قباث بن اشیم سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے ۔ یعنی جس سال ابرہہ نے بیت اللہ پر ہاتھیوں سے حملہ کیا تھا۔ امام زہری فرمایا کرتے تھے کہ آپ ربیع الا ول کے بعد پیدا ہوئے تھے اور زہری کے تابعداروں نے بھی یہی کہا کہ پہلی بات زیادہ صحیح ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1387

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1388

1388 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال : حدثني والدي إسحاق بن يسار : قال حدثت أنه كان لعبد الله بن عبد المطلب امرأة مع آمنة بنت وهب بن عبد مناف بن زهرة فمر بامرأته تلك و قد أصابه أثر من طين عمل به فدعاها إلى نفسه فأبطأت عليه لما رأت من عمل الطين فدخل فغسل عنه أثر الطين ثم دخل عامدا إلى آمنة ثم دعته صاحبته التي كان أراد إلى نفسها فأبى للذي صنعت به أول مرة فدخل على آمنة فأصابها ثم خرج فدعاها إلى نفسه فقالت : لا حاجة لي بك مررت بي و بين عينيك غرة فرجوت أن أصيبها منك فلما دخلت على آمنة ذهبت بها منك قال ابن إسحاق : فحملت برسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فكانت آمنة بنت وهب تحدث أنها أتيت حين حملت بمحمد صلى الله عليه و سلم فقيل لها : إنك قد حملت بسيد هذه الأمة فإذا وقع بالأرض فقولي : أعيذ الواحد من شر كل حاسد في كل بر عاهد و كل عبد رائد يرود كل رائد فإنه عبد الحميد الماجد حتى أراه قد أتى المشاهد قال : و آية ذلك أن يخرج معه نور يملأ قصور بصرى من أرض الشام فإذا وقع فسميه محمدا فإنه اسمه في التوارة أحمد يحمده أهل السماء و أهل الأرض و اسمه في الإنجيل أحمد يحمده أهل السماء و أهل الأرض و اسمه في القرآن محمد فسميه بذلك فلما وضعته بعثت إلى عبد المطلب جاريتها و قد هلك أبوه عبد الله و هي حبلى ـ و يقال إن عبد الله هلك و النبي صلى الله عليه و سلم ابن ثمانية و عشرين شهرا و الله أعلم أي ذلك كان قال ابن إسحاق و مات عبد المطلب و النبي صلى الله عليه و سلم ابن ثمان سنين و هلكت أمه آمنة بنت وهب بالأبواء و النبي صلى الله عليه و سلم ابن ست سنين قال ابن إسحاق فلما وضعته بعثت إلى عبد المطلب فقالت قد ولد لك الليلة غلام فانظر إليه فلما جاءها أخبرته بخبره و حدثته بما رأت حين حملت به و ما قبل لها فيه و ما أمرت أن تسميه فأخذه عبد المطلب فأدخله في جوف الكعبة و ذكر ابن إسحاق دعاءه و أبياته التي قالها في شكر الله تعالى على ما وهبه قال : و استرضع له من حليمة بنت أبي ذؤيب و أبو ذؤيب : عبد الله بن الحارث بن شجنة بن جابر بن رزام بن ناصرة بن سعد بن بكر بن هوازن بن منصور بن عكرمة بن خصفة بن قيس عيلان بن مضر و اسم أبي رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي أرضعه : الحارث بن عبد العزى بن رفاعة بن ملان بن ناصرة بن سعد بن بكر بن هوازن و أخوته من الرضاعة : عبد الله بن الحارث و أنيسة بنت الحارث و حذافة بنت الحارث و هي الشيماء و ذكروا أنها كانت تحصن رسول الله صلى الله عليه و سلم مع أمه إذا كان عندهم و هو محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة ( بن خزيمة ) بن مدركة بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن أدد بن المقوم بن ناحور بن يعرب بن يشجب بن نابت بن إسماعيل بن إبراهيم بن آزر ـ و هو في التوراة ابن تارخ بن ناحور بن أرغوا بن سارح بن فالخ بن عابر بن شالخ بن أرفخشذ بن سام بن نوح بن لمك بن متوشلخ بن أخنوخ بن يرد بن مهلاييل بن قينان بن أنوش بن شيث بن آدم أبي البشر صلوات الله عليه و على الأنبياء الطيبين الأخيار

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ان کے والد اسحاق بن یسار نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بات بتائی گئی ہے کہ عبداللہ بن عبدالمطلب کی آمنہ بنت وھب بن عبد مناف بن زہری کے علاوہ بھی ایک دوسری بیوی تھی ۔ ایک مرتبہ ان کے پاس آئے جب کہ کسی کام کاج کی وجہ سے اس وقت ان کے جسم پر مٹی یا کیچڑ وغیرہ کے نشان تھے ۔ کیونکہ انہوں نے مٹی میں کام کیا تھا اس وقت انہوں نے اس بیوی کو شوہر ہونے کے ناتے صحبت کے لئے بلایا اس نے تاخیر کر دی اس لئے عبداللہ پر مٹی میں کام کرنے کی وجہ سے ان کے جسم میں مٹی کا یا کیچڑ کا اثر دیکھا تھا ۔ عبداللہ نے جا کر نہا کر مٹی کا اثر صاف کر دیا ۔ اس کے بعد وہ اپنی بیوی آمنہ کی طرف قصد کرکے آئے ۔ لہذا اب اس عورت نے عبداللہ کو اپنی طرف بلایا ۔ لہذا اب عبداللہ نے اس کی پہلی بار کے رویے کی وجہ سے اس کے پاس جانے سے منع کر دیا ۔ لہذا انہوں نے اپنی فرمانبردار بیوی آمنہ کے ساتھ فریضہ زوجیت ادا کیا اس کے بعد دوسری بیوی کو بلایا تو اس نے یہ کہہ کر منع کیا کہ اب مجھے تیری ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ جب آپ میرے سامنے گذرے تھے تو اس وقت آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک روشنی تھی میں نے سوچا تھا کہ وہ تم سے میں پالوں گی آپ جب آمنہ کے پاس چلے گئے ہیں تو ہ اس کو تم سے لے گئی ہے ۔ ابن اسھاق نے کہا کہ سیدہ آمنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حاملہ ہو گئیں ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدہ آمنہ بنت وھب یہ بات بتاتی تھیں کہ جب وہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حمل والی تھیں تو ان کے پاس کوئی حاتف غیبی آتا تھا اور وہ ان سے کہتا تھا ۔ کہ آپ اس امت کے سردار کے ساتھ حاملہ ہیں جب وہ زمین پر آئے تو یوں دعا کرنا۔ " اعیذ الواحد من شر کل حاسد، فی کل برعاھد وکل عبدالرائد، یرود کل رائد فانہ عبدالحمید یا رالماجد، حتی اراہ قد اتی المشاھد "۔ میں اللہ کی پناہ پکڑتی ہوں ہر حاسد کے شر سے ہر نیکی میں کوئی ضامن و محافظ ہوتا ہے ۔ اور ہر بندہ منزل کا متلاشی ہوتا ہے ۔ جو آتا ہے ہر منزل کا پتہ دینے والے کے پاس۔ بے شک وہ بندہ ہے ۔ حمد اور مجد والی ذات کا۔ یہاں تک کہ میں اس کو دیکھوں کہ وہ آیا ہے ۔ تمام حاضر ہونے کے مقامات پر۔ ابن اسحٰق کہتے ہیں کہ سیدہ آمنہ سے کہا گیا تھا کہ اس سردار امت کے آنے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے آنے کے ساتھ ایک نور اور روشنی پیدا ہوگی جو شام کے ملک میں واقع شہر بصریٰ کے محلات کو بھر دے گا۔ جب یہ پیدا ہو جائے اس کا نام محمد رکھنا بے شک اس کانام تو راۃ میں احمد ہے اس لئے کہ اہل آسمان اور اہل زمین اس کی تعریف کریں گے اور انجیل میں اس کا نام احمد ہے اس لئے کہ اہل آسمان اور اہل زمین اس کی تعریف کریں گے ۔ اور اس کا نام قرآن مجید میں محمد ہے لہذا اس کا یہی نام رکھنا۔ جب آپ پیدا ہو گئے تو انہوں نے عبدالمطلب کی طرف اپنی لونڈی کو اطلاع کے لئے بھیجا ، آپ کے والد عبداللہ پہلے انتقال کر چکے تھے اس وقت جب کہ وہ حمل سے تھیں۔ اور ایک قول کے مطابق آپ کے والد عبداللہ کا اس وقت انتقال ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اٹھائیس مہینے کے تھے ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں سے کون سی بات سچی تھی۔ اور ابن اسحاق نے کہا کہ عبدالمطلب کا اسوقت انتقال ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آٹھ سال کے ہو گئے۔ اور آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب کا انتقال مقام ابواء میں اس وقت ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چھ سال کے ہو گئے تھے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب آمنہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جنم دیا تو آپ کے دادا عبدالمطلب کے پاس پیغام بھیجا کہ آج رات تیر اپوتا پیدا ہوا ہے ۔ آپ آکر اسے دیکھئے ۔ چنانچہ جب وہ آپ کو دیکھنے کے لئے آئے تو آپ کی والدہ نے عبدالمطلب کو اپنی ولادت کی خوشخبری کے ساتھ وہ بات بھی بتلائی جو آپ کے پیٹ میں موجود ہونے کے وقت انہوں نے خواب دیکھا تھا اور وہ بات بھی بتائی جو آپ کے بارے میں دعا کرنے اور آپ کا نام رکھنے کی بابت ان کو کہی گئی تھی۔ لہذا آپ کے دادا عبدالمطلب آپ کو اٹھا کر کعبے کے اندر لے گئے ( اور دعا کی) اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے ان کو یہ پوتا عطا کیا ہے ۔ چنانچہ ابن اسحاق نے عبدالمطلب کی دعا ان کے وہ اشعار درج کئے ہیں جو انہوں نے آپ کو کعبے میں لے جا کر کہے تھے۔ اور دادا نے آپ کو دودھ پلوانے کے لیے حلیمہ بنت ابو ذویب سے بات کی ۔ ابو ذویب ( کا سلسلہ نسب حسب ذیل ہے) ابو ذویب عبداللہ بن حارث بن شجنہ بن جابر رازم بن ناصرہ بن سعد بکر بن ھوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رضاعی والد کا نام حارث بن عبدالعزی بن رفاعہ بن ملان بن ناصرہ بن سعدبن بکر بن ھوازن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رضاعی بہن بھائی ۔۔۔ عبداللہ بن حارث ، آنیسہ بنت حارث ، حذافہ بن حارث یہی شیمآء ہے اہل علم نے کہا ہے کہ و ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو گود میں لیتی تھیں اور پرورش کرتی تھیں یعنی اپنی والدہ کے ساتھ مل ک ر۔ جب آپ ان کے پاس ہوتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حسب نامہ:۔ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ (بن خزیمہ) بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نذار بن معد بن عدنان بن ادد بن مقوم بن ناحور بن تارح بن یعرب بن یشجب بن نابت بن اسماعیل بن ابراہیم بن ارزروہ توراۃ میں بن تارخ ہیں " بن ناحور بن ارغور بن سارح بن فالخ بن عابر بن شالح بن ارفخشد بن سام بن نوح بن لمخ بن متو شلخ بن اخنوخ بن یرد بن مھلا یبل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم ابو البشر صلوات اللہ علیھم اجمعین۔

والدى اسحاق بن يسار ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1388

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1389

1389 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري ثنا عبيد بن يعيش ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال : ـ محمد بن عبد الله ـ فذكر هذا النسب غير أن قال : أدد و قال في آزر و هو في التوراة تارح بن ناحور بن عور بن فلاح بن عابر بن شالخ بن سام بن نوح بن لامك بن متوشلخ بن خنوخ بن مهليل بن قنان بن شيش بن آدم و رواه سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق فخالفه في بعض ما رواه قال أبو عبد الله الحافظ رحمه الله : نسبة رسول الله صلى الله عليه و سلم صحيحة إلى عدنان و ما وراء ذلك فليس فيه شيء يعتمد قال البيهقي رحمه الله : و ذلك الاختلاف النسابين في ذلك منهم من يزيد و منهم من ينقص و منهم من يغير

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارسی نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو عبید بن یعیش نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ کہا محمد بن عبداللہ نے ۔ پھر انہوں نے ان سب کو ذکر کیا مگر ادوکا ذکر نہ کیا۔ اور ازر کے بارے میں کہا کہ اس کا نام توراۃ میں تارح بن ناحور ہے بن عور بن فلاح بن عابر بن شالخ بن سام بن نوح بن لامک بن متومثلخ بن خنوخ بن مھلیل بن قنان بن شیش بن آدم ۔ اور اس کو روایت کیا ہے مسلمہ بن فضل نے محمد بن اسحٰق سے اور اس کی مخالفت بھی کی ہے اس کی بعض مرویات ہیں ابو عبداللہ حافظ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نسب عدنان تک صحیح ہے اور اس کے بعد جو کچھ ہے وہ قابل اعتماد نہیں ہے اور بعض اس کو تبدیل کرتے ہیں۔

هذا النسب غير ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Hadith 1389

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1390

1390 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان قال : قال إبراهيم بن المنذر أملى علي محمد بن طلحة بن الطويل التيمي فقال : محمد بن عبد الله : فذكر مثله إلى معد بن عدنان و أقرب الناس برسول الله صلى الله عليه و سلم بنو عبد المطلب بن هاشم و هم العباس أبي طالب و آل الحارث و آل أبي لهب و أبو طالب و عبد الله ـ أبو رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ أخوان من أم دون بني عبد المطلب و بنو عبد شمس و المطلب و هم أخوة هاشم بن عبد مناف لأبيه و أمه ثم يليهم أخوتهم لأبيهم بنو نوفل بن عبد مناف ثم يليهم بنو أسد بن عبد العزى بن قصي و بنو عبد الدار بن قصي و ذكر سائر القبائل ثم قال إبراهيم : و ولد عبد المطلب بن هاشم عشرة نفر و ست نسوة : العباس و حمزة و عبد الله و أبو طالب ـ و اسمه عبد مناف و الزبير و الحارث و حجل و المقوم و أبو لهب ـ و اسمه عبد العزى و صفية و أم حكيم و هي البيضاء و عاتكة و أميمة و أروى و برة قال : فولد عبد الله بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه و سلم سيد ولد آدم محمد بن عبد الله و أمه آمنه بنت وهب بن عبد مناف بن زهرة بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر ثم ذكر أنساب الجدات ثم قال : و رسول الله صلى الله عليه و سلم أشرف ولد آدم حسبا و أفضلهم نسبا من قبل أبيه و أمه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن منذر نے کہا کہ مجھے محمد بن طلحہ بن طویل تیمی نے املاء کروایا اور یوں کہا کہ محمد بن عبداللہ کہا اور مذکور کی مثل نسب ذکر کیا معد بن عدنان تک۔ سب لوگوں میں سے رسول اللہ کے قریب ترین رشتہ دار بنو عبدالمطلب بن ہاشم ( یعنی سگے دادا کی اولاد ) اور وہ یہ ہیں ۔ عباس ۔ آل ابو طالب، آل حارث اور آل ابولھب اور ابو طالب۔ اور عبداللہ رسول اللہ کے والد ۔ یہ ماں کی طرف سے بھائی ہیں ۔ عبدالمطلب کی دیگر اولاد میں سے ۔ عبدشمس کے بیٹے اور مطلب یہ ماں اور باپ دونوں طرف سے ہاشم بن عندمناف کے بھائی ہیں ۔ پھر ان کے قریب ان کے والد کی طرف سے ان کے بھائی ہیں نوفل بن عبدمناف کے بیٹے ہیں ۔ پھر ان کے قریب بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصیٰ اور بنع عبدالدار بن قصی ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے تمام قبائل کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد ابراہیم نے کہا : عبدالمطلب بن ہازم کی اولاد دس افراد تھے اور چھ عورتیں وہ یہ ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے چچا آٹھ تھے 1۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ، 2۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ، 3۔ حضرت عبداللہ ، 4۔ ابو طالب ( نام عبد مناف تھا ) ، 5۔ زبیر، 6۔ حارث، 7۔ حجل ، 8۔ مقوم، 9۔ ابو لھب ( نام عبدالفری ) ، حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی پھوپھیاں 1۔ صفیہ بنت عبدالمطلب، 2۔ ام حکیم بیضآ ء بنت عبدالمطلب، 3۔ عاتکہ بنت عبدالمطلب ، 4۔ امیمہ بنت عبدالمطلب ، 5۔ اروی، 6۔ برہ ۔ ابراہیم نے کہا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اولاد آدم کے سردار محمد بن عبداللہ کو جنم دیا اور اسی طرح آمنہ بنت وھب نے عبدمناف بن زہرہ بن گلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فھر نے اس کے بعد انہوں نے دادیوں کے نسب ذکر کئے ۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اولاد آدم میں سب سے زیادہ اشرف والے ہیں حسب کے اعتبار سے اور افضل ہیں نسب کے اعتبار سے ماں کی طف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی ۔

يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 1390

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1391

1391 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي املاء في آخرين قالوا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان و سعيد بن عثمان قالا : ثنا بشر بن بكر عن الأوزاعي حدثني أبو عمار شداد عن واثلة بن الأسقع قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن الله اصطفى كنانة من بني إسماعيل و اصطفى من بني كنانة قريشا و اصطفى من قريش بني هاشم و اصطفاني من بني هاشم أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأوزاعي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے بطور املاء کرانے کے انہوں نے کہا کہ ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہا ان کو ربیع بن سلمان نے اور سعید بن عثمان نے ان کو بشر بن بکر نے ا ن کو اوزاعی نے ان کو ابو عمار شداد نے ان کو واثلہ بن اسقع نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں سے بنو کنانہ کا انتخاب فرمایا پھر بنو کنانہ میں سے قریش کا انتخاب فرمایا ۔ پھر قریش میں سے بنو ہاشم کو چنا پھر بنو ہاشم میں مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چنا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اوزاعی کے روایت سے۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الربيع بن سليمان و سعيد بن عثمان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الرحمن السلمي املاء في آخرين

Hadith 1391

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1392

1392 - أخبرنا أبو علي بن شاذان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو شريك يحيى بن يزيد بن ضماد المرادي ثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بعثت من خير قرون بني آدم قرنا فقرنا حتى كنت من القرن الذي كنت فيه

ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن بن شاذان نے بغداد میں یہ کہ عبداللہ بن جعفر نے ان کو خبر دی ہے اور ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو شریک یحییٰ بن یزید بن ضماد مرادی نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ان کو عمرو بن ابو عمر مولیٰ مطلب نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کے زمانے میں پیدا کیا گیا ہوں ۔ زمانے کے اعتبار سے ۔ جس زمانے میں میں ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو شريك يحيى بن يزيد بن ضماد المرادي ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان ببغداد،

Hadith 1392

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1393

1393 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي بن الحسين بن علي الحافظ أنا أحمد بن يحيى بن زهير التستري ثنا أحمد بن المقدام ثنا حماد بن واقد عن محمد بن ذاكون خال ولد حماد بن زيد عن عمرو بن دينار عن ابن عمر قال : إنا لقعود بفناء النبي صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث إلى أن قال عن النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى خلق السموات سبعا فاختار العليا منها فأسكنها من شاء من خلقه ثم خلق الخلق فاختار من خلقه بني آدم و اختار من بني آدم العرب و اختار من العرب مضر و اختار من مضر قريشا و اختار من قريش بني هاشم و اختارني من بني هاشم فأنا من خيار إلى خيار فمن أحب العرب فبحبي أحبهم و من أبغض العرب فببغضي أبغضهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے۔ ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو احمد بن یحییٰ بن زہیر تستری نے ان کو احمد بن مقدام نے ان کو حماد بن واقد نے ان کو محمد بن ذکوان حماد بن زید کے بیٹے کے ماموں نے ۔ ان کو عمر بن دینار نے ا ن کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ ہم صحن نبوی میں بیٹھے تھے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث ذکر کی یہاں تک کہ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں ۔ ان میں سے اوپر والے کو اللہ نے چن لیا ہے اور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا اس میں ٹھہرایا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اس میں سے حضرت آدم کو چن لیا اور پھر اولاد آدم میں سے عرب کو چن لیا اور عرب میں سے قبیلہ مضر کو چنا اور مضر میں سے قریش کو چنا پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چنا تو میں منتخب میں منتخب ہوں جو شخص عرب سے محبت کرے تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے ۔ اور جو شخص ان سے نفرت کرے وہ میری نفرت کی وجہ سے کرتا ہے ۔

الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ ← لقعود بفناء النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← محمد بن ذاكون خال ولد حماد بن زيد ← حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ← أبو علي بن الحسين بن علي الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1393

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1394

1394 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص الزاهد ثنا حمدون السمسار ثنا الأزرق بن علي ثنا حسان بن إبراهيم الكرماني ثنا سفيان الثوري عن موسى بن أبي عائشة عن سليمان بن قتة عن ابن عباس في قوله تعالى : ـ { و إنه لذكر لك و لقومك } قال : شرف لك و لقومك

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر حفص زاہد نے ان کو حمدون سمسار نے ان کو ازرق بن علی نے ان کو حسان بن ابراہیم کرمانی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو موسیٰ بن ابو عائشہ نے ان کو سلیمان بن قتہ نے ۔ ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں : " وانہ لذکر لک ولقو مک" (الذخرف44) بے شک وہ ذکر تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے۔ فرمایا ۔ اس کا مطلب ہے : "شرف لک ولقومک"۔ یہ شرف تو اعزاز ہے تیرے لئے اور تیری قوم کے لیے۔

شرف لك و لقومك ← ابن عباس في قوله تعالى و إنه لذكر لك و لقومك ← سليمان بن قتة ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← حسان بن إبراهيم الكرماني ← الأزرق بن علي ← حَمْدُونٌ السِّمْسَارُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1394

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1395

1395 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان أنا الشافعي أنا سفيان بن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله : ـ { وإنه لذكر لك ولقومك } قال : يقال ممن الرجل ؟ فيقال : من العرب فيقال : من أي العرب فيقال من قريش

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ، ان کو شافعی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے اس قول باری کے بارے میں : "وانہ لذکر لک ولقومک"۔فرمایا کہ محاررۃ کہا جاتا ہے "فمن الرجل"؟ آدمی کہا سے ہے یا کون سے لوگوں میں سے تو کہا جاتا ہے "من العرب" عرب سے ہے ۔ پھر یوں کہا جاتا ہے کہ "من ای العرب" کون سی قوموں سے ہے جواب دیا جاتا ہے کہ میں " قریش قریشی ہوں ۔"

مجاهد في قوله وإنه لذكر لك ولقومك ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1395

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1396

1396 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني نا يحيى بن أبي بكير ثنا عبد الغفار بن القاسم عن جعفر بن محمد عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل أخرجني من النكاح و لم يخرجني من السفاح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو یحییٰ بن بکر نے ان کو عبدالغفار بن قسم نے ان کو حقیر بن محمد نے ان کو ان کے والد نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "ان اللہ تعالیٰ اخر جنی من النکاح ، ولم یخر جنی من اسفاح"۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے نکاح کے نتیجے میں پیدا کیا ہے اور مجھے بدکاری کے نتیجے میں پیدا نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ أبو العباس محمد بن يعقوب

Hadith 1396

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood