شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان النبي صلى الله عليه و سلم فصاحته ـ · حديث 1431
1431 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن أحمد الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي ثنا يحيى بن معين ثنا عباد بن العوام ثنا موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث يعني التميمي عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم دجن : كيف ترون بواسقها ؟ قالوا : ما أحسنها و أشد تراكمها قال : فكيف ترون قواعدها ؟ قالوا : ما أحسنها و أشد تمكنها قال : كيف ترون جونها ؟ قالوا : ما أحسنه و أشد سواده قال : فيكف ترون رحاها استدارت ؟ قالوا : نعم ما أحسنها و أشد استدارتها قال : كيف ترون برقها خفوا أو وميضا أم يشق شقا ؟ قالوا : بل يشق شقا قال : الحياء فقال له رجل يا رسول الله ما أفصحك ما رأينا الذي هو أعرب منك قال : حق لي و إنما أنزل القرآن بلسان عربي مبين قال أبو عبيد قوله قواعدها يعني قواعد السحاب و هي أصولها المعترضة و في آفاق السماء و إلى الأفق الآخر و الجون الأسود و قوله : رحاها فرحاها استدارة السحاب في السماء و الخفق هو الاعتراض من البرق في نواحي بجسم و الوميض أن يلمع قليلا ثمن يسكن و ليس له اعتراض و أما الذي يشق شقا فاستطارته في الجو إلى وسط السماء من غير أن يأخذ يمينا و شمالا و الحياء هو المطر الواسع الغزير
ہمیں خبر دی ہے ابوبکر محمد بن ابراہیم بن احمد فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے صوفی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عباد عوام نے ان کو موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث نے یعنی تمیمی نے ان کو ان کے والد نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن جس دن آسمان پر سیاہ دلدار بادل چھائے ہوئے تھے ان کے بارے میں اپنے اصحاب سے سوال فرمایا ۔ تم اس آسمان میں پھیلی ہوئی شاخوں کو کیسا دیکھتے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کتنی خوبصورت اور کتنی سخت دلدار ہیں اور تہہ بتہہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان کی بنیاد اور اصل کو کیسا دیکھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی ہی خوبصورت بادلوں کی اصل اور بنیاد سے اور کس قدر جماؤ اور مضبوطی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم ان کی سیاہی کو کیسا پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ کس قدر خوبصورت ہے ان کی سیاہی۔ اور کس قدر شدید ہے ان کی سیاہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیسا پاتے ہو تم ان کی چکی اور گردش کو ؟ لوگوں نے جواب دیا جی ہاں کس قدر خوبصورتی ہے ۔ اور کس قدر شدید ان کی گردش ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کی بجلی کو کیسا پاتے ہو، اور ان کی چمک کو ۔ یاہلکی چمک کو یا زور دار چمک کو ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیرتی ہے چیر تا یعنی سخت چمک ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر حیا یعنی بارش کا کیا خیال ہے ؟ چنانچہ اس کے بعد ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کس قدر فصیح ہیں ہم نے آپ سے بڑا فصیح اور کلام کو درست کرنے والا کبھی نہیں دیکھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ میرا حق ہے اور میرے لئے ضرورہی ایسا ہونا چاہیے مجھے ۔ اس لئے کہ قرآن اتارا گیا ہے فصیح ترین عربی میں (یعنی اس لئے مجھے بھی فصاحت کا علم رکھنا ضروری ہے ۔)
أَبِيهِ ← موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث يعني التميمي ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو بكر محمد بن إبراهيم بن أحمد الفارسي
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence · Hadith 1431
