شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول فيمن يكون مؤمنا بإيمان غيره · حديث 86
86 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن شاذان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد العزيز بن محمد عن العلاء بن ح عن أبيه عن أبي هريرة ـ رضي الله عنه ـ : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل إنسان تلده أمه على الفطرة أبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه فإن كانا مسلمين فمسلم كل إنسان تلده أمه يلكزه الشيطان في حضنيه إلا مريم و ابنها رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و قد حكينا عن الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ أنه قال : كل مولود يولد على الفطرة هي الفطرة التي فطر الله تعالى عليها الخلق فجعلهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ ما لم يفصحوا بالقول فيختاروا أحد القولين : الإيمان أو الكفر ـ لا حكم لهم في أنفسهم ـ إنما الحكم لهم بآبائهم فما كان آباؤهم يوم يولدون فهم بحاله إما مؤمن فعلى إيمانه أو كافر فعلى كفره فذهب الشافعي ـ رحمه الله ـ في هذا إلى أن الله تعالى خلق المولود لا حكم له في نفسه و إنما هو تبع لوالديه في الدين في حكم الدنيا حتى يعرف عن نفسه بعد البلوغ و أما في الآخرة فمنهم من ألحقهم بآبائهم في حكم الآخرة أيضا و منهم من ألحق ذراري المسلمين بهم و زعم أن أولاد المشركين خدم أهل الجنة و منهم من توقف في الجميع و وكل أمرهم إلى الله عز و جل و هذا أشبه الأقاويل بالسنن الصحيحة و الله تعالى أعلم و قد ذكرنا أقاويل السلف في ذلك و ما احتج به كل فريق منهم في آخر كتاب القدر فمن أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى و متى ما أسلم الأبوان أو أحدهما صار الولد مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما و قد ذكرنا في كتاب السنن إسلام من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة و إذا سبي الصغير من دار الحرب و معه أبواه أو أحدهما فدينه دين من معه من أبويه و إن سبي وحده فدينه دين السابي لأنه وليه الذي أولى به منه فقام في دينه مقام أبويه كما قام في الولاية و الكفالة مقامهما و الله تعالى أعلم
ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن شاذان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمن سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( کل انسان تلدہ امہ علی الفطرۃ ابواہ یھود انہ اوینصر انہ اور یمجسانہ فان کانا مسلمین فمسلم ۔ و کل انسان تلدہ امہ یلکزہ الشیطان فی حضنی ہالا مریم و ابنھا) ہر انسان کی اس کی ماں جنم دیتی ہے ( اسلام کی ) فطرت پر ۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے یا مجوسی بناتے ہیں اگر وہ دونوں مسلمان ہوتے ہیں تو بچہ بھی مسلمان ہوتا ہے ۔ اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوں میں گھوسہ مارتا ہے مگر بی بی مریم اور اس کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے ۔ اور ہم امام شافعی سے نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تھا : ( کل مولود یولد علی الفطرۃ ) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ یہ وہی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے موقوف قرار دیا ہے جب تک وہ اپنے قول سے وضاحت نہ کریں اور دو میں سے ایک قول کو اختیار کریں ۔ ایمان یا کفر کو فی ذاتدان کے حکم میں ہے البتہ ان کا حکم ان کے والدین والا ہے ولادت کے دن ان کے والدین جو کچھ تھے تو بچہ بھی اسی حکم میں ہو گا۔ اگر مومن تھے تو وہ ایمان پر ہوگا یا کافر تھے تو وہ کفر پر ہوگا۔ امام شافعی کا مسلک اسی بارے میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مولود کو اس طرح بنایا ہے کہ فی نفسہ اس کے لئے اپنا کوئی حکم نہیں ہے بہر حال دنیا میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے دین میں یہاں تک کہ وہ اپنے بارے میں بالغ ہونے کے بعد کچھ ظاہر کرے ۔ باقی رہا ان کا آخرت کا حکم تو کچھ لوگوں نے ان کو آخرت کے بارے میں بھی ان کے والدین کے ساتھ لاحق کیا ہے اور بعض نے مسلمانوں کی اولادوں کو ان کے ساتھ لاحق کیا ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مشرکین کی اولاد اہل جنت کے خادم ہوں گے ۔ اور کچھ لوگوں نے تمام بچوں کے بارے میں توقف کیا ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا ہے یہ قول احادیث صحیحہ کے مطابق تمام اقوال میں سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس بارے میں سلف کے تمام اقوال اور ان کے دلائل ہم کتاب القدر کے آخر میں ذکر کر رہے ہیں جو شخص ان پر اگاہی چاہے تو انشاء اللہ وہاں رجوع کرے گا۔ جب والدین دونوں یا کوئی ایک مسلمان ہو جائے گا بچہ اس کے اسلام کے ساتھ مسلمان قرار پائے گا۔ ہم نے کتاب السنن میں اولاد صحابہ میں سے جو بچے والدین یا کسی ایک اسلام کی وجہ سے مسلمان قرار پائے تھے ان کا ذکر کیا ہے ۔ جب کوئی بچہ دار الکفر سے قید ہو کر آئے اور اس کے والدین ساتھ ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ساتھ ہو تو بچھے کا دین اس کے ماں باپ والا ہوگا اگر بچہ اکیلا قیدی ہو کر آئے تو اس کا دین قید کرنے والے کا دین ہے کیونکہ وہی اس کا ولی ہے جو اس کے لئے اولیٰ ہے لہذا بچہ اپنے دین کے معاملے میں اپنے والدین کی جگہ ہے جیسے دلایت اور کفالت میں ان کی جگہ ہے واللہ اعلم ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلاء بن ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب
Shuab ul Iman · Book › The door to say about whoever is a believer in the faith of others · Hadith 86
