شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 278
278 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الله المنادي ثنا يونس بن محمد ثنا المعتمر بن سليمان عن أبيه عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن الإيمان قال : الإيمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و تؤمن بالجنة و النار و الميزان وتؤمن بالبعث بعد الموت و تؤمن بالقدر خيره و شره قال : يعني السائل إذا فعلت هذا فأنا مؤمن ؟ قال نعم قال : صدقت قال البيهقي رحمه الله في الآية التي كتبناها دلالة على أن أعمال الكفار توزن لأنه قال في آية أخرى : { بما كانوا بآياتنا يظلمون } و الظلم بآيات الله الاستهزاء بها و ترك الإذعان لها و قال في آية : { في جهنم خالدون } إلى أن قال : { ألم تكن آياتي تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون } و قال في آية : { فأمه هاوية * وما أدراك ما هيه * نار حامية } و هذا الوعيد بالإطلاق لا يكون إلا للكفار فإذا جمع بينه و بين قوله : { و إن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها } ثبت أن الكفار يسألون عن كل ما خالفوا به الحق من أصل الدين و فروعه إذا لو لم يسألوا عما وافقوا فيه أصل تدينهم من ضروب تعاطيهم و لم يحاسبوا بها لم يعتد بها في الوزن أيضا و إذا كانت موزونة في وقت الوزن دل ذلك على أنهم يحاسبون بها في موقف الحساب و الله أعلم و هذا على قول من قال في الكفار أنهم مخاطبون بالشرائع و هو الصحيح لأن الله عز و جل يقول : { وويل للمشركين * الذين لا يؤتون الزكاة } فتوعدهم على منع الزكوة و أخبر عن المجرمين أنهم يقال لهم : { ما سلككم في سقر * قالوا لم نك من المصلين * ولم نك نطعم المسكين * وكنا نخوض مع الخائضين * وكنا نكذب بيوم الدين * حتى أتانا اليقين } فبان بهذا أن المشركين مخاطبون بالإيمان بالبعث و بإقام الصلاة و إيتاء الزكاة و أنهم مسؤولون عنها مخاطبون بها مجزون على ما أخلوا به منها و الله أعلم و اختلفوا في كيفية الوزن فذهب ذاهبون إلى أن الكافر قد يكون منه صلة الأرحام و مواساة الناس و رحمة الضعيف و إغاثة اللهفان و الدفع عن المظلوم و عتق المملوك ونحوها مما لو كانت من المسلم لكانت برا و طاعة فمن كان له أمثال هذه الخيرات من الكفار فإنها تجمع و توضع في ميزانه لأن الله تعالى قال : { فلا تظلم نفس شيئا } فتأخذ من ميزانه شيئا غير أن الكفر إذا قابلها رجح بها و قد حرم الله الجنة على الكفار فجزاء خيراته أن يخفف عنه العذاب فيعذب عذابا دون كفار كأنه لم يصنع شيئا من هذه الخيرات و من قال بهذا احتج بما
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبداللہ منادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے، انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کے بارے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں کے ساتھ اور تو ایمان لا جنت کے ساتھ اور جہنم کے ساتھ اور میزان کے ساتھ اور تو ایمان لا موت کے بعد اٹھنے پر اور تو ایمان لا تقدیر کے ساتھ اچھی ہو یا بری ہو۔ اس کے بعد اس نے کہا یعنی سائل نے کہ جب میں یہ کام کروں گا کیا میں مؤمن ہو ں گا۔ (آپ نے) فرمایا ، جی ہاں۔ (سائل نے) کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ معلوم ہوا کہ ایمان بالمیزان دیگر تمام ان چیزوں کی طرح ہے جن کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ (مترجم) امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : جو آیت ہم نے درج کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے اعمال بھی وزن کئے جائیں گے ، اس لئے کہ دوسری آیت میں یہ الفاظ ہیں: "بماکانو ا بایاتنا یظلمون " (اعراف 9)۔ وہ لوگ خسارے میں اس لئے ہون گے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظلم و نا انصافی کرتے تھے۔ اور اللہ کی آیات کے ساتھ ظلم ان کے ساتھ استہزاء کرنا ہے اور ان کا یقین نہ کرنا ہے۔ اور ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ: فی جھنم خالدون" (مومنون 103) کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور اسی تسلسل میں یہ بھی ہے کہ: الم تکن ایاتی تتلی علیکم فکنتم بھا تکذبون (مومنون 105) کیا تم لوگوں پر میری آیات پڑھی نہیں جاتی تھیں مگر تم ان کی تکذیب کرتے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے اعمال کا وزن ہو گا) اور ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ: فامہ ھاویہ واما ادراک ماھیہ نار حامیہ (القارعہ 9-11) کس کے وزن اعمال ہلکے ہون گے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ، تم کیسے جانوں کہ وہ کیا ہے دھکائی ہوئی۔ یہ وعید اور دھمکی مطلقاً کفار کے لئے ہی ہے۔ جب اس آیت اور آنے والی آیت کے مفہوم کو ملا کر غور کیا جائے۔ (یعنی: "وان کانا مثقال حبۃ من خر دل اتینا بھا " (الانبیاء 47) اگرچہ کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو تو ہم اس کو بھی لائیں گے۔ دونوں آیات کے مفہوم کو ملا کر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار سے ہر اس بات کا سوال ہو گا جس میں انہوں نے دین کے اصول یا فروع میں سے حق کی مخالفت کی تھی۔ کیونکہ اگر وہ نہ پوچھے جاتے ان باتوں کے بارے میں جن میں انہوں نے موافقت کی تھی اپنی اصل دین داری میں مثلاً مختلف قسم کا باہم دینا لینا ان کا اور اس کا حساب بھی نہ کئے جاتے تو وزن میں اس کا شمار بھی نہ ہو گا۔ جس وقت وہ اعمال وزن کے وقت تو لے گئے تو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ وہ ان تمام باتوں اور تمام چیزوں کے بارے میں بھی پوچھے جائیں گے۔ حساب کے موقف میں یہ تحقیق اور یہ فیصلہ اس شخص کے قول پر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کفار بھی شرائع کے مخاطب ہیں اور مکلف ہیں اور وہ صحیح ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فویل للمشرکین الذین لا یؤتون الذکات (فصلت6) پس ہلاکت مشرکوں کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو زکوٰۃ نہ دینے پر دھمکی دی ہے (اس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ احکام شریعت کے مکلف ہیں)۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت میں ان سے سوال ہو گا: " ماسلککم فی سقر ؟ قالو الم نک من المصلین ولم نک نطعم المسکین وکنا نحوض من الخائضین وکنا نکذب بیوم الذین حتیٰ اتا قاالیقین (المدثر 43-47) تمہیں جہنم میں کیا چیز لے گئی؟ وہ کہیں گے ہم لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور اہل باطل کے ساتھ مل کر حق کاانکار کرتے تھے اور روز جزا کو ہم جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔ ان آیات سے واضح ہو ا کہ مشرکین بھی ایمان بالبعث مر کر اٹھنے ، نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے کے مخاطب ہیں اور مکلف ہیں اور ان سے ان چیزوں کا سوال ہو گا واور ان چیزوں میں سے جس کے ساتھ وہ کوتاہی کریں گے اس کی ان کو سزا دی جائے گی۔ واللہ اعلم۔ احناف کا مسلک : احناف کا مسلک اس کے برعکس یہ ہے کہ کفار ومشرکین جب تک ایمان و اسلام قبول نہ کر لیں اس وقت تک وہ شرعی احکامات کے مکلف و مخاطب نہیں ہیں۔ ان سے ان اعمال وغیرہ کا سوال نہیں ہو گا بلکہ ان سے ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ایمان بالقرآن کا سوال ہو گا اور ان کے اعمال کا وزن بھی نہیں کیا جائے گا اور اس پر ان کو اجر و ثواب بھی نہیں ملے گا بلکہ ان کے سارے اعمال دنیا میں ہی اکارت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اعمال کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ (1)۔۔ الذین صل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحمنون صنعا (کہف 104) یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی ہے ، حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ (2)۔۔ اولئک الذین کفرو ا بایات ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلانقیم لھم یو م القیمۃ وزنا (کہف 105) یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا ہے اوراس کی ملاقات کے ساتھ بھی کفر کیا ہے۔ لہذا ان کے اعمال ضائع ہو گئے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ قرآن مجید کی یہ آیات نص صریح ہیں اس بات پر کہ کفار و مشرکین کے اعمال دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہو چکے ہیں اور قیامت میں ان کا وزن بھی نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اس پر ان کو ثواب بھی نہیں ملے گا اور نہ ہی کوتاہی پر سزا ہو گی۔ یہ سب اعمال ایمان کے تابع رہیں گے۔ (ازمترجم)۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کہ وضاحت: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کام جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اہل علم نے اعمال کے وزن کرنے کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کافر کبھی صلہ رحمی بھی کرتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ غمخواری بھی کرتے ہیں، کمزور پر شفقت بھی کرتے ہیں ، پریشان حال کی فریاد رسی بھی کرتے ہیں، مظلوم کا دفاع بھی کرتے ہیں، غلام آزاد بھی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے ایسے اعمال میں کہ اگر وہ ایک مسلم کی جانب سے ہوتے تو ضرور وہ نیکی اور طاعت شمار ہوتے تو جس کافر کے پاس اس قسم کی بھلائیاں ہوں گی وہ جمع کر کے اس کے میزان میں رکھی جائیں گی۔ اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں فلاتظلم نفس شیئا (انبیاء 47) کہ کسی نفس پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ایسا نہیں کہ اس کے ترازو اور وزن میں سے کچھ لے لیا جائے گا اور کم کر لیا جائے ۔ لیکن جب اس کے کفر کا اس کے اچھے اعمال سے مقابلہ ہو گا تو وہ اچھائیوں سے بھاری ہو جائے گا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے جنت کو کافروں کے لئے حرام کر رکھا ہے (جنت تو ان کو مل نہیں سکتی) لہذا اس کے خیراتی امور کی جزا اس کو اس طرح دی جائے گی، اس سے عذاب ہلکا کر دیا جائے گا، لہذا اس کو عذاب دیکر کفار کے مقابلے میں نسبتاً کم دیا جائے گا جنہوں نے ان خیرات میں سے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
الإيمان ← الإيمان ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن عبد الله المنادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 278
