Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 278

278 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الله المنادي ثنا يونس بن محمد ثنا المعتمر بن سليمان عن أبيه عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن الإيمان قال : الإيمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و تؤمن بالجنة و النار و الميزان وتؤمن بالبعث بعد الموت و تؤمن بالقدر خيره و شره قال : يعني السائل إذا فعلت هذا فأنا مؤمن ؟ قال نعم قال : صدقت قال البيهقي رحمه الله في الآية التي كتبناها دلالة على أن أعمال الكفار توزن لأنه قال في آية أخرى : { بما كانوا بآياتنا يظلمون } و الظلم بآيات الله الاستهزاء بها و ترك الإذعان لها و قال في آية : { في جهنم خالدون } إلى أن قال : { ألم تكن آياتي تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون } و قال في آية : { فأمه هاوية * وما أدراك ما هيه * نار حامية } و هذا الوعيد بالإطلاق لا يكون إلا للكفار فإذا جمع بينه و بين قوله : { و إن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها } ثبت أن الكفار يسألون عن كل ما خالفوا به الحق من أصل الدين و فروعه إذا لو لم يسألوا عما وافقوا فيه أصل تدينهم من ضروب تعاطيهم و لم يحاسبوا بها لم يعتد بها في الوزن أيضا و إذا كانت موزونة في وقت الوزن دل ذلك على أنهم يحاسبون بها في موقف الحساب و الله أعلم و هذا على قول من قال في الكفار أنهم مخاطبون بالشرائع و هو الصحيح لأن الله عز و جل يقول : { وويل للمشركين * الذين لا يؤتون الزكاة } فتوعدهم على منع الزكوة و أخبر عن المجرمين أنهم يقال لهم : { ما سلككم في سقر * قالوا لم نك من المصلين * ولم نك نطعم المسكين * وكنا نخوض مع الخائضين * وكنا نكذب بيوم الدين * حتى أتانا اليقين } فبان بهذا أن المشركين مخاطبون بالإيمان بالبعث و بإقام الصلاة و إيتاء الزكاة و أنهم مسؤولون عنها مخاطبون بها مجزون على ما أخلوا به منها و الله أعلم و اختلفوا في كيفية الوزن فذهب ذاهبون إلى أن الكافر قد يكون منه صلة الأرحام و مواساة الناس و رحمة الضعيف و إغاثة اللهفان و الدفع عن المظلوم و عتق المملوك ونحوها مما لو كانت من المسلم لكانت برا و طاعة فمن كان له أمثال هذه الخيرات من الكفار فإنها تجمع و توضع في ميزانه لأن الله تعالى قال : { فلا تظلم نفس شيئا } فتأخذ من ميزانه شيئا غير أن الكفر إذا قابلها رجح بها و قد حرم الله الجنة على الكفار فجزاء خيراته أن يخفف عنه العذاب فيعذب عذابا دون كفار كأنه لم يصنع شيئا من هذه الخيرات و من قال بهذا احتج بما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبداللہ منادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے، انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کے بارے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں کے ساتھ اور تو ایمان لا جنت کے ساتھ اور جہنم کے ساتھ اور میزان کے ساتھ اور تو ایمان لا موت کے بعد اٹھنے پر اور تو ایمان لا تقدیر کے ساتھ اچھی ہو یا بری ہو۔ اس کے بعد اس نے کہا یعنی سائل نے کہ جب میں یہ کام کروں گا کیا میں مؤمن ہو ں گا۔ (آپ نے) فرمایا ، جی ہاں۔ (سائل نے) کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ معلوم ہوا کہ ایمان بالمیزان دیگر تمام ان چیزوں کی طرح ہے جن کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ (مترجم) امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : جو آیت ہم نے درج کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے اعمال بھی وزن کئے جائیں گے ، اس لئے کہ دوسری آیت میں یہ الفاظ ہیں: "بماکانو ا بایاتنا یظلمون " (اعراف 9)۔ وہ لوگ خسارے میں اس لئے ہون گے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظلم و نا انصافی کرتے تھے۔ اور اللہ کی آیات کے ساتھ ظلم ان کے ساتھ استہزاء کرنا ہے اور ان کا یقین نہ کرنا ہے۔ اور ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ: فی جھنم خالدون" (مومنون 103) کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور اسی تسلسل میں یہ بھی ہے کہ: الم تکن ایاتی تتلی علیکم فکنتم بھا تکذبون (مومنون 105) کیا تم لوگوں پر میری آیات پڑھی نہیں جاتی تھیں مگر تم ان کی تکذیب کرتے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے اعمال کا وزن ہو گا) اور ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ: فامہ ھاویہ واما ادراک ماھیہ نار حامیہ (القارعہ 9-11) کس کے وزن اعمال ہلکے ہون گے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ، تم کیسے جانوں کہ وہ کیا ہے دھکائی ہوئی۔ یہ وعید اور دھمکی مطلقاً کفار کے لئے ہی ہے۔ جب اس آیت اور آنے والی آیت کے مفہوم کو ملا کر غور کیا جائے۔ (یعنی: "وان کانا مثقال حبۃ من خر دل اتینا بھا " (الانبیاء 47) اگرچہ کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو تو ہم اس کو بھی لائیں گے۔ دونوں آیات کے مفہوم کو ملا کر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار سے ہر اس بات کا سوال ہو گا جس میں انہوں نے دین کے اصول یا فروع میں سے حق کی مخالفت کی تھی۔ کیونکہ اگر وہ نہ پوچھے جاتے ان باتوں کے بارے میں جن میں انہوں نے موافقت کی تھی اپنی اصل دین داری میں مثلاً مختلف قسم کا باہم دینا لینا ان کا اور اس کا حساب بھی نہ کئے جاتے تو وزن میں اس کا شمار بھی نہ ہو گا۔ جس وقت وہ اعمال وزن کے وقت تو لے گئے تو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ وہ ان تمام باتوں اور تمام چیزوں کے بارے میں بھی پوچھے جائیں گے۔ حساب کے موقف میں یہ تحقیق اور یہ فیصلہ اس شخص کے قول پر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کفار بھی شرائع کے مخاطب ہیں اور مکلف ہیں اور وہ صحیح ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فویل للمشرکین الذین لا یؤتون الذکات (فصلت6) پس ہلاکت مشرکوں کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو زکوٰۃ نہ دینے پر دھمکی دی ہے (اس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ احکام شریعت کے مکلف ہیں)۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت میں ان سے سوال ہو گا: " ماسلککم فی سقر ؟ قالو الم نک من المصلین ولم نک نطعم المسکین وکنا نحوض من الخائضین وکنا نکذب بیوم الذین حتیٰ اتا قاالیقین (المدثر 43-47) تمہیں جہنم میں کیا چیز لے گئی؟ وہ کہیں گے ہم لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور اہل باطل کے ساتھ مل کر حق کاانکار کرتے تھے اور روز جزا کو ہم جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔ ان آیات سے واضح ہو ا کہ مشرکین بھی ایمان بالبعث مر کر اٹھنے ، نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے کے مخاطب ہیں اور مکلف ہیں اور ان سے ان چیزوں کا سوال ہو گا واور ان چیزوں میں سے جس کے ساتھ وہ کوتاہی کریں گے اس کی ان کو سزا دی جائے گی۔ واللہ اعلم۔ احناف کا مسلک : احناف کا مسلک اس کے برعکس یہ ہے کہ کفار ومشرکین جب تک ایمان و اسلام قبول نہ کر لیں اس وقت تک وہ شرعی احکامات کے مکلف و مخاطب نہیں ہیں۔ ان سے ان اعمال وغیرہ کا سوال نہیں ہو گا بلکہ ان سے ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ایمان بالقرآن کا سوال ہو گا اور ان کے اعمال کا وزن بھی نہیں کیا جائے گا اور اس پر ان کو اجر و ثواب بھی نہیں ملے گا بلکہ ان کے سارے اعمال دنیا میں ہی اکارت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اعمال کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ (1)۔۔ الذین صل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحمنون صنعا (کہف 104) یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی ہے ، حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ (2)۔۔ اولئک الذین کفرو ا بایات ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلانقیم لھم یو م القیمۃ وزنا (کہف 105) یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا ہے اوراس کی ملاقات کے ساتھ بھی کفر کیا ہے۔ لہذا ان کے اعمال ضائع ہو گئے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ قرآن مجید کی یہ آیات نص صریح ہیں اس بات پر کہ کفار و مشرکین کے اعمال دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہو چکے ہیں اور قیامت میں ان کا وزن بھی نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اس پر ان کو ثواب بھی نہیں ملے گا اور نہ ہی کوتاہی پر سزا ہو گی۔ یہ سب اعمال ایمان کے تابع رہیں گے۔ (ازمترجم)۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کہ وضاحت: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کام جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اہل علم نے اعمال کے وزن کرنے کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کافر کبھی صلہ رحمی بھی کرتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ غمخواری بھی کرتے ہیں، کمزور پر شفقت بھی کرتے ہیں ، پریشان حال کی فریاد رسی بھی کرتے ہیں، مظلوم کا دفاع بھی کرتے ہیں، غلام آزاد بھی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے ایسے اعمال میں کہ اگر وہ ایک مسلم کی جانب سے ہوتے تو ضرور وہ نیکی اور طاعت شمار ہوتے تو جس کافر کے پاس اس قسم کی بھلائیاں ہوں گی وہ جمع کر کے اس کے میزان میں رکھی جائیں گی۔ اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں فلاتظلم نفس شیئا (انبیاء 47) کہ کسی نفس پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ایسا نہیں کہ اس کے ترازو اور وزن میں سے کچھ لے لیا جائے گا اور کم کر لیا جائے ۔ لیکن جب اس کے کفر کا اس کے اچھے اعمال سے مقابلہ ہو گا تو وہ اچھائیوں سے بھاری ہو جائے گا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے جنت کو کافروں کے لئے حرام کر رکھا ہے (جنت تو ان کو مل نہیں سکتی) لہذا اس کے خیراتی امور کی جزا اس کو اس طرح دی جائے گی، اس سے عذاب ہلکا کر دیا جائے گا، لہذا اس کو عذاب دیکر کفار کے مقابلے میں نسبتاً کم دیا جائے گا جنہوں نے ان خیرات میں سے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔

الإيمان ← الإيمان ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن عبد الله المنادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 278

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 279

279 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد أنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي قال أبو الوليد : و أنا عبد الله بن محمد ثنا محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب قالا : ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن العباس بن عبد المطلب قال : قلت : يا رسول الله هل نفعت أبا طالب بشيء فإنه كان يحفظك و يغضب لك ؟ قال : نعم هو في ضحضاح من النار و لولا أنا لكان في الدرك الأسفل من النار و رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل عن أبي عوانة و رواه مسلم عن محمد بن أبي بكر و ابن أبي الشوارب قال البيهقي رحمه الله : و ذهب ذاهبون إلى أن خيرات الكافر لا توزن ليجزي بها بتخفيف العذاب عنه و إنما توزن قطعا لحجته حتى إذا قابلها الكفر رجح بها و أحبطها أو لا توزن أصلا و لكن يوضع كفره أوكفره و سائر سيئاته في إحدى كفتيه ثم يقال له : هل لك من طاعة نضعها في الكفة الأخرى ؟ فلا يجدها فيتثاقل الميزان فترتفع الكفة الفارغة و تبقى الكفة المشغولة فذلك خفة ميزانه فأما خيراته فإنها لا تحسب بشيء منها مع الكفر قال الله عز و جل : { و قدمنا إلى ما عملوا من عمل فجعلناه هباء منثورا } و روينا عن عائشة رضي الله عنه قالت : يا رسول الله ! إن ابن جدعان كان في الجاهلية يصل الرحم و يطعم المسكين فهل ذاك نافعه ؟ قال : لا ينفعه لأنه لم يقل يوما : رب اغفر لي خطيئيتي يوم الدين و روينا عن عدي بن حاتم أنه سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن أبيه فقال : إن أباك طلب أمرا فأدركه يعني الذكر وروينا عن أنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله لا يظلم المؤمن حسنة يثاب عليها في الدنيا و يجزي بها في الآخرة و أما الكافر فيعطى بحسناته في الدنيا حتى إذا افضى إلى الآخرة لم يكن له حسنة يعطى به خيرا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو الولید نے کہ خبر دی ہے حسن بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی بکر مقدمی نے ابوالولید نے کہا خبر دی ہے عبداللہ بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالمالک بن ابی شوارب نے، وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، انہوں نے عباس بن عبدالمطلب سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ کیا آپ نے ابو طالب (چچا) کو کچھ فائدہ دیا، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتا تھا اور آپ کے لئے لوگوں سے ناراضگی مول لیتا رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، جی ہاں، وہ جہنم میں ٹخنوں ٹخنوں تک ہو گا۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں موسی بن اسماعیل سے ابو عوانہ سے روایت کیا ہے اور ا س کو مسلم نے محمد بن ابی بکر اور ابن شوارب سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی ؒ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کافر کی اچھائیاں اس لئے نہیں تولی جائیں گی تاکہ وہ ان کے ساتھ عذاب میں تخفیف کی صورت میں جزا اور اجردیا جائے بلکہ اس کی حجت ختم کرنے کےلئے تولی جائیں گی یہاں تک کہ تولنے کے بعد جب ان کے ساتھ اس کو تولا جائے گا تو وہ ان پر بھاری ہو کر ان کو تباہ کر دے گا۔ یا سرے سے بالکل تولی ہی نہیں جائیں گی۔ بلکہ اس کافر اور اس کی دیگر تمام سیئات ایک ہی پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ کیا تیرے پاس کوئی طاعت یعنی اللہ کی فرمانبردرای بھی ہے جسے ہم دوسرے پلڑے میں رکھیں۔ چنانچہ وہ اس کے پاس نہیں ہو گی۔ لہذا ترازو کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور خالی پلڑا اٹھ جائے گااور بھرا ہوا پلڑا اپنی جگہ باقی رہے گا۔ یہی ہو گا اس کا ہلکا پلڑا ہو جانا۔ باقی اس کی اچھائیاں وہ کفر کے ہوتے ہوئے کچھ بھی شمار نہیں کی جائیں گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وما منا الیٰ ما عملو ا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا " (الفرقان 23) ہم متوجہ ہوں گے کفار کے اعمال کی طرف پس کر دیں گے ہم ان کو اڑتا ہوا غبار۔ یعنی کفر کے ہوتے ہوئے کوئی اچھے عمل بھی مقبول نہیں ہوں گے۔ (مترجم)۔ ابن جدعان کو کچھ نہ ملا اور ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے، وہ فرماتی ہیں انہوں نےعرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص ابن جدعان تھا، جاہلیت کے دور میں وہ صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکین کو کھانا دیتا تھا، کیا یہ کام اس کو فائدہ دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ اس لئے کہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: "رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین" اے میرے رب قیامت میں میری خطا معاف کر دینا۔ حاتم کو کچھ نہ ملنا: اور ہم نے عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے والد حاتم کے بارے میں پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا تھا کہ : "ان ایاک طلب امرا ً فادر کہ " بے شک تیرے والد نے جو کچھ طلب کیا تھا اس نے اس کو پا لیا تھا۔ اس سے آپ تذکرہ اور شہرت مراد لے رہے تھے۔ یعنی وہ چاہتا تھا کہ میرا نام ہو میرا چرچا ہو، شہرت ہو کہ بڑا سخی ہے۔ وہ اس نے پا لیا ہے۔ اب آخرت میں اس کو کیا ملتا ہے۔ (مترجم) مؤمن کو دنیا و آخرت میں جبکہ کافر کو صرف دنیا میں اجر ملتا ہے: ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اس کی ایک نیکی پر اسے دنیا میں بھی ثواب دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس پر جزا دے گا بہر حال۔ رہا کافر تو وہ اپنی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ آخرت کی طرف لوٹتا ہے تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی۔ جس پر اس کو کوئی خیر عطا کی جائے۔

قُلْتُ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو الوليد و ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 279

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 280

280 - أخبرناه أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أحمد بن محمد بن زياد أبو سهل القطان ثنا إسحاق بن الحسن الحربي حدثنا عفان ثنا همام عن قتادة عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل فذكر الحديث و أخرجاه مسلم في الصحيح من حديث همام قال البيهقي رحمه الله : من قال بالأول زعم أن المراد بالآية و الأخبار أنه لا يكون لحسنات الكافر موقع التخليص من النار و الإدخال في الجنة و قد يجوز أن يخفف عنه من عذابه الذي استوجبه بسيئاته بما تقدم منه في الشرك من خيراته و قد روي في حديث مرفوع ما :

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو الحسن بن فضل قطان نے ، خبر دی ہے احمد بن زیاد ابو سھل قطان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن حسن حروی نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عفان سے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل ۔۔ پھر مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔ اس کومسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں ہمام کی روایت سے۔ امام بیہقی ؒ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ پہلی توجیہ کے قائل ہوئے ہیں انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ آیات اور احادیث کی مراد و مطلب یہ ہے کہ کافر کی نیکیاں اس کو جہنم سے بچانے اور جنت میں داخل کرانے کےلئے کوئی کام نہیں آتیں۔ ہاں کبھی یہ جائز ہوتا ہے کہ اس کی سیئات کی وجہ سے اس کے لئے جو عذاب واجب ہو چکا تھا وہ ہلکا ہو جاتا ہے اس کی نیکیوں کی وجہ سے۔ اوریہ ایک مرفوع حدیث میں آ چکا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أحمد بن محمد بن زياد أبو سهل القطان ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 280

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 281

281 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ثنا زكريا بن يحيى البزاز ثنا زيد بن أخزم الطائي ثنا عامر بن مدرك ثنا عتبة بن يقظان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أحسن من محسن كافر أو مسلم إلا أثابه الله عز و جل قلنا يا رسول الله ! و ما إثابه الله الكافر ؟ قال : إن كان وصل رحما أو تصدق بصدقة أو عمل حسنة أثابه الله تعالى و إثابته إياه المال و الولد و الصحة وأشباه ذلك قال قلنا : و ما أثابته في الآخرة ؟ قال : عذاب دون العذاب و قرأ : { أدخلوا آل فرعون أشد العذاب } قال البيهقي رحمه الله : و هذا أن ثبت ففيه الحجة و إن لم يثبت لأن في إسناده من لا يحتج به و حديث أبي طالب صحيح و لا معنى لإنكار الحليمي رحمه الله الحديث و لا أدري كيف ذهب عنه صحة ذلك فقد روي من أوجه عن عبد الملك بن عمير و روي من وجه آخر صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه و قد أخرجه صاحب الصحيح و غيرهما من الأئمة في كتبهم الصحاح و إنما يصح لمن ذهب المذهب الثاني في خيرات الكافر أن يقول حديث أبي طالب خاص في التخفيف عن عذابه بما صنع إلى النبي صلى الله عليه و سلم خص به أبو طالب لأجل النبي صلى الله عليه و سلم تطيبا لقلبه و ثوابا له في نفسه لا لأبي طالب فإن حسنات أبي طالب صارت بموته على كفره هباء منثورا و مثل هذا حديث عروة بن الزبير في اعتاق أبي لهب ثويبة و إرضاعها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله في النون بشر خيبة فقال له : ما لقيت ؟ فقال أبو لهب : لم نر بعدكم رجاء غير أني سقيت في هذه مني بعتاقتي ثويبة و أشار إلى النقيرة التي بين الإبهام و التي تليها و هذا أيضا لأن الإحسان كان مرجعه إلى صاحب النبوة فلم يضيع و الله أعلم و أما المؤمنون يحاسبون فإن أعمالهم توزن و هم فريقان : أحدهما المؤمنون المتقون لكبائر الذنوب فهؤلاء توضع حسناتهم في الكفة النيرة و و صغائرهم ـ إن كانت لهم ـ في الكفة الأخرى فلا يجعل الله لتلك الصغائر وزنا و تثقل الكفة النيرة و ترتفع الكفة الأخرى ارتفاع الفارع الخالي فيؤمر بهم إلى الجنة و يثاب كل واحد منهم على قدر حسناته و طاعاته كما تلونا في الآيات التي ذكرناها في الموازين و الآخر : المؤمنون المخئطون : و هم الذين يوافون القيامة بالكبائر و الفواحش غير أنهم لم يشركوا بالله شيئا فحسناتهم توضع في الكفة النيرة و آثامهم و شيئاتهم في الكفة المظلمة فيكون يومئذ لكبائرهم التي جاؤوا بها ثقل و لحسناتهم ثقل إلا أن الحسنات تكون بكل حال أثقل لأن معها أصل الإيمان و ليس مع السيئات كفر و يستحيل وجود الإيمان و الكفر معا لشخص واحد و لأن الحسنات لم يرد بها إلا وجه الله تعالى و السيئات لم يقصد بها مخالفة الله و عناده بل كان تعاطيها لداعية الهوى و على خوف من الله عز و جل و إشفاق من غصبه فاستحال توازي السيئات ـ و إن كثرت ـ حسنات المؤمن و لكنها عند الوزن لا تخلوا من تثقيل و يقع بها الميزان حتى يكون ثقلها كبعض ثقل الحسنات فيجزي أمر هؤلاء على ما ورد به الكتابة جملة و دلت سنة المصطفي صلى الله عليه و سلم على تفصيلها و هو قوله عز و دل : { إن الله يغفر الذنوب جميعا } و قوله : { و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء } فيغفر لمن يشاء بفضله و يشفع فيمن شاء منهم بإذنه و يعذب من شاء منهم بمقدار ذنبه ثم يخرجه ثم يخرجه من النار إلى الجنة برحمته كما ورد به خبر الصادق و قد دل الكتاب على وزن أعمال المخلطين من المؤمنين و هو قوله عز و جل : { ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه لا يترك له حسنة إلا توزن و هذا بالمؤمن المخلط لأنه لو تركت له حسنة لم توزن لزاد ذلك في ثقل سيئاته فأوجب ذلك زيادة في عذابه فأما أن الوزن كيف يكون ؟ ففيه وجهان : أحدهما أن صحف الحسنات توضع في الكفة النبيرة و صحف السيئات في الكفة المظلمة لأن الأعمال لا تنسخ في صحيفة واحدة و لا كاتبها يكون واحدا لكن الملك الذي يكون عن اليمين يكتب الحسنات و الملك الذي يكون على الشمال يكتب السيئات فيتفرد كل واحد منهما بما ينسخ فإذا جاء وقت الوزن وضعت الصحف في الموازين فيثقل الله عز و جل ما يحق تثقيله و يخفف ما يحق تخفيفه و الوجه الآخر أن يجوز أن يحدث الله تبارك و تعالى أجساما مقدرة بعدد الحسنات و السيئات و يميز إحداهما عن الأخرى بصفات تعرف بها فتوزن كما توزن الأجسام بعضهما ببعض في الدنيا و الله أعلم و يعتبر في وزن الأعمال مواقعها من رضي الله عز و جل و سخطه و ذهب أهل التفسير إلى إثبات هذا الميزان بكفتيه و جاء في الأخبار ما دل عليه و قد روى الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس أنه قال : الميزان له لسان و كفتان يوزن فيه الحسنات و السيئات فيؤتي بالحسنات في أحسن صورة فتوضع في كفة في كفة الميزان فيثقل على السيئات قال : فيؤخذ فيوضع في الجنة عند منازله ثم يقال للمؤمن : الحق بعملك قال فينطلق إلى الجنة فيعرف منازله بعمله قال : و يؤتى بالسيئات في أقبح صورة فتوضع في كفة الميزان فتخفف ـ و الباطل خفيف ـ فيطرح في جهنم إلى منازله منها و يقال له : الحق بعملك إلى النار قال : فيأتي النار فيعرف منازله بعمله و ما أعد الله فيها من ألوان العذاب قال ابن عباس : فلهم أعرف بمنازلهم في الجنة و النار بعملهم من القوم ينصرفون يوم الجمع راجعين إلى منازلهم

ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سھل بن محمد بن سلیمان نے خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یزید جوزی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن یحییٰ بزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زیدن بن احزم طائی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عامر بن مدوک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عقبہ بن یقضان نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شھاب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: "مااحسن من محسن کافر اورمسلم الا اثابہ اللہ عزوجل " کوئی بھی نیکی کرنے والا جو نیکی کرتا ہے مسلم ہو یا کافر ہو اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا کافر کو ثواب دینا کیسا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ صلہ رحمی کرتا تھا یا صدقہ کرتا تھا یا کوئی نیک عمل کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے اور اس کو مخصوص ثواب یہ ہے کہ اس کومال دیتا ہے، اولاد دیتا ہے، صحت دیتا ہے اور اس کی مثل کچھ اور بھی۔ ہم نے عرض کی کہ کافر کو آخرت میں ثواب کیسے دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، زیادہ عذاب کے مقابلے میں کم عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ''ادخلو ا اٰل فرعون اشد العذاب " (مومن 46) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کفار کم عذاب اور کچھ کو کمترین عذاب بھی دیا جائے گا۔ (مترجم) اس روایت کو نقل کرتے کے بعد امام بیہقی تبصرہ کرتے ہیں کہ اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس میں حجت و دلیل ہے۔ اگر ثابت نہ وہ تو پھر دلیل بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کی اسناد میں وہ راوی بھی ہے جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور ابو طالب کے واقعہ والی حدیث صحیح ہے۔ باقی شیخ حلیمی کے اس حدیث کا انکار کرنے کا کچھ مطلب نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کی صحت ان سے کیونکر اوجھل رہی ہے۔ وہ تو کئی وجوہ سے مروی ہے۔ عبدالملک بن عمیر سے اور ایک اور صحیح طریقہ سے حضرت ابو سعید خدری سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کے مفہوم میں مروی ہے۔ اور اس روایت کو صاحب صحیح نے بھی نقل کیا ہے اوران دونوں کے علاوہ کئی ائمہ نے اپنی صحاح کتب میں نقل کی ہے۔ جو شخص کافر کی نیکیوں کی بابت مذہب ثانی کی طرف گیا ہے اس کےلئے صحیح ہے کہ وہ یہ کہے کہ حدیث ابو طالب خاص ہے صرف اسی کے عذاب کی تخفیف کے لئے۔ اس نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سلوک کیا تھا اسی کی وجہ سے اس تخفیف کے ساتھ ابو طالب مختص کیا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تالیف قلف کےل ئے اور آپ کوفی نفسہ ثواب دینے کے لئے ابو طالب کے لئے نہیں اس لئے کہ ابو طالب کی نیکیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس کی مغفرت پر اڑتا ہوا غبار ہو گئی تھیں۔ رحمۃ للعالمین کی وجہ سے ابو لہب کو پانی کا گھونٹ ملنا : اسی حدیث ابو طالب کی مثل ہے حدیث عروہ بن زبیر جس میں ابو لھب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لوندی ثوبیہ کو آزاد کرنا اور ثوبیہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانا مذکور ہے۔ جب ابو لہب کا انتقال ہو گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی ایک کو وہ خواب میں دکھایا گیا ۔ بڑی بری حالت میں اور ناکامی میں تھا۔ اس نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ ابو لہب نے کہا کہ میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعدمکمل مایوسی دیکھی، امید کی کہیں کوئی صورت نہیں تھی۔ ہاں ثوبیہ کو آزاد کرنے کے بدلے میں مجھے اتنا سا گھونٹ پلایا گیا ہے (یعنی تھوڑا سا) اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان جو فاصلہ یا سوراخ بنتا ہے اسی کا اشارہ کر کے دکھا یا۔ یہ بات بھی ایسی ہی ہے س لئے کہ اس واقعہ میں بھی احسان کا مرجع وہی ذات رسالت ہے، لہذا وہ نیکی ضائع نہ کی گئی۔ بہر حال ایمان کا حساب لیا جائے گا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور وہ دو گروہ ہوں گے۔ پہلا گروہ: مومن متقی جو کبیرہ گناہوں سے بچتے رہتے تھے ۔ ان کی نیکیاں روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے صغیرہ گناہ اگر ہوئے تو وہ دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ اللہ پاک ان صغیرہ گناہوں کا کوئی وزن نہیں بنائیں گے۔ لہذا روشنی والاپلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا پلڑا اٹھ جائے گا۔ جیسے فارغ اور خالی اٹھ جاتا ہے۔ پھر ان کے لئے جنت کا حکم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو اس کی حسنات اور طاعت کے بقدر ثواب دیا جائے گا ۔ جیسے ہم ونضع الموازین والی آیت بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا گروہ: مؤمن خطا کاروں کا ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو قیامت میں کبیرہ گناہوں اور فواحش اور بے حیائیوں کی سزا دئیے جائیں گے۔مگر وہ شرک نہیں کرتے ہوں گے۔ ان کی نیکیاں بھی روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے گناہ اور سیئات تاریک پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ آج ان کے ان کبیرہ گناہوں کا جو وہ لائے ہوں گے بھی بوجھ ہو گا اور ان کی نیکیوں کا بھی بوجھ ہو گا۔ مگر نیکیاں ہر حال میں بھاری ہوں گی۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ اصل ایمان بھی ہوگا۔ جبکہ سیئات اور گناہوں میں کفر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایک ہی شخص میں ایمان بھی ہو اور کفر بھی یہ محال ہے۔ اور دوسری یہ وجہ بھی ہے کہ حسنات اور نیکیوں کا مقصد اور منشاء صرف اللہ کی رضا تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گناہوں کا مقصد اللہ کی مخالفت کرنا یا اللہ سے بغض نہیں تھا بلکہ وہ محض نفسانی خواہشات کی بناء پر تھا۔ جس کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف ، اللہ کے غضب سے ڈرنا بھی ساتھ تھا۔ لہذا یہ تو محال ہو گا کہ سیئات بھی برابر ہوجائیں ، اگرچہ زیادہ بھی ہوں۔ تاہم نیکیوں کے برابر نہیں ہوں گے۔ لہزا لامحالہ گناہوں کا بوجھ تو ہو گا اور ان کے ساتھ ترازو بھی جھکے گا۔ یہاں تک کہ بعض سیئات کا بوجھ بعض حسنات کے بوجھ کی طرح ہو گا۔ سو اسوقت وہی معاملہ ہو گا جو قرآن میں مذکور ہو۔ آیت "ونضع الموازین القسط میں مذکور ہے کہ کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی دلالت کرتی ہے اس کی تفصیلات کے بارے میں۔ اور اس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا (الزمر 53) بے شک اللہ تعالیٰ سارے کے سارے گناہ بخش دے گا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ویغفر مادون ذالک لمن یشاء " (الانبیاء 47) ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے قیامت کے روز لہذا کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگرچہ کسی کی کوئی نیکی رائی کےدانے برابر ہو گی تو ہم اس کو بھی ضرور لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس آیت میں مراد یہ ہے کہ کسی انسان کی کوئی نیکی چھوڑی نہیں جائے گی۔ بلکہ وہ تولی جائے گی۔ یہ معاملہ ہو گا اس مؤمن کا جس کے ملے جلے اعمال ہوں گے، کیونکہ اگر اس کی کوئی نیکی چھوڑی جائے اوراس کا وزن رہ جائے تو اس کی جگہ اس کے گناہ کا وزن زیادہ ہو جائے گا اور یہ زیادتی اس کے لئے عذاب کو واجب کرسکتی ہے۔ وزن اعما ل کی کیفیت بہر حال وزن اعمال کیسے ہو گا؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ نیکیوں کے صحیفے ایک روشن پلڑے میں رکھے جائیں گے اور گناہوں کے صحیفے تاریک پلڑے میں کیونکہ اعمال ایک ہی صحیفے میں نہیں لکھے جاتے اور ان کا لکھنے والا بھی ایک نہیں ہے۔ جو فرشتہ دائیں طرف ہوتا ہے وہ نیکیوں کو لکھتا ہے اور جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیوں اور گناہوں کو لکھتاہے۔ لہذا دونوں اپنے اپنے صحیفے لکھنے میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ جب وزن کرنے کا وقت آئے گا تو وہی صحیفے میزان اور ترازو میں رکھے جائیں گے۔ سو جس کو بھاری کرنے کا حق ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو بھاری کر دیں گے اور جس کو ہلکا کرنے کا حق ہو گا اس کو ہلکا کر دیں گے۔ دوسری صورت: یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ مخصوص اجسام پیدا فرما دیں جو حسنات اور سیئات کی تعداد کے مطابق ہوں اور وہ سب ایک دوسرے سے ایسی صفات کے ساتھ ممتاز اور نمایاں ہوں جن کے ذریعے وہ پہچانے جا سکیں ۔ پھر وہی اجسام وزن کئے جائیں۔ جیسے دنیا میں بعض اجسام بعض کے ساتھ وزن کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور وزن اعمال میں اعتبار اس بات کو ہو گا کہ اللہ کی رضا اور اللہ کی ناراضگی جس جگہ واقع ہو۔ اہل تفسیر اس میزان کو دو پلڑوں والا ثابت کرنے کی طرف گئے ہین اور احادیث میں بھی اس پر دلالت آئی ہے اور کلبی نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میزان ایسی ہو گی کہ اس کی ایک زبان ہو گی اور اس کی دو ہتھیلیاں یا دو پلڑے ہوں گے۔ اس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی۔ نیکیاں خوبصورت شکل میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ اوروہ گناہوں اور غلطیوں کا بھاری ہو جائیں گی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ اٹھا کر جنت میں ان کے ٹھکانوں کے پاس رکھ جائیں گی۔ پھر مومن سے کہا جائے گا۔ آپ اپنے عمل کے ساتھ لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ جنت کی طرف چلے گا اور اپنے اپنے ٹھکانے کو اپنے اپنے عمل سے پہچان لے گا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ برائیاں بد ترین صورت میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی اور وہ ہلکی پڑجائیں گی ۔ ا س لئے کہ باطل ہلکا اور بے وزن ہوتا ہے۔ پھر وہ اٹھا کر جہنم میں ان کے ٹھکانے پر رکھ دی جائیں ۔ پھر اس بندے سے کہا جائے گا کہ آپ اپنے عمل کے ساتھ جہنم میں لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ انسان جہنم کی طرف آئے گا اور اپنے عمل کے ذریعے اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا اور اس کو بھی جو اللہ نے اس کے لئے مختلف اور رنگ رنگ اور قسم قسم کے عذاب تیار کر رکھے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے اپنے منازل کو اور مقامات کو سب سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے وہ جمع ہونے کے دن جائیں گے۔اپنے اپنے مقامات ی طرف رجوع کرنے والے ہوں گے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ← عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← زكريا بن يحيى البزاز، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 281

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 282

282 - أخبرنا أبو عبد الرحمن الدهان أنا الحسين بن محمد بن هارون ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان عن الكلبي : فذكره

ہمیں خبردی ہے ابو عبدالرحمٰن دھان کہ خبر دی ہے حسین بن محمد ہارون نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن محمد بن نضر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن مروان نے کلبی سے، پھر اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔

الْكَلْبِيِّ، فَذَكَرَهُ. ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّهَّانُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 282

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 283

283 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن الحسين القاضي ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا يونس بن محمد ثنا الليث بن سعد حدثني عامر بن يحيى عن أبي عبد الرحمن المعافري ثم الحبلي قال : سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله سيخلص رجلا من أمتي على رؤوس الخلائق يوم القيامة فينشر عليه تسعة و تسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر ثم يقول أتنكر من هذا شيئا ؟ أظلمك كتبتي الحافظون ؟ فيقول : لا يا رب فيقول ألك عذر ؟ فيقول لا يا رب فيقول : بلى إن لك عندنا حسنة و إنه لا ظلم عليك اليوم فيخرج بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات ؟ فيقال إنك لا تظلم قال : فتوضع السجلات في كفة و البطاقة في كفة فطاشت السجلات و ثقلت البطاقة و لا يثقل مع اسم الله تعالى شيء و رواه عبد الله بن صالح عن الليث بهذا الإسناد و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيصاح يوم القيامة برجل من أمتي على رؤوس الخلائق ينشر عليه تسعة و تسعين سجلا فذكر الحديث

ہمیں بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے عبداللہ بن حسین قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حارث بن ابی اسامہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث بن سعد نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عامر بن یحییٰ نے انہوں نے ابو عبدالرحمٰن معافری حلبی سے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے قیامت کے دن ایک انسان کے ساتھ خصوصی بات چیت کریں گے اور اس کے آگے ننانوے رجسٹر کھول کر رکھ دیں گے۔ رجسٹرڈ تا حد نظر تک لمبا ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کیا تو اس تحریر کی کسی ایک شے سے انکار کر سکتا ہے؟ کیا میرے محافظ کاتبوں نے تجھ پر ظلم و زیادتی کی ہے؟ وہ بندہ کہے گا نہیں یا رب۔ پھر اللہ تعالیٰ سوال کریں گے کیا تیرے پاس اس کے برعکس کوئی عذر ہے؟ بندہ کہے گا نہیں یا رب۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں ہمارے پاس تیری ایک نیکی بھی ہے اور آج تیرے اوپر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ چنانچہ ایک پرچہ نکالا جائے گا۔ اس میں لکھا ہو گا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا ً عبد ورسولہ۔ وہ بندہ عرض کرے گا اے میرے رب یہ چھوٹا سا پرچہ اتنے بڑے طوماروں کے مقابلے میں کیا ہے؟ یعنی کچھ بھی تو نہیں ہے۔ اس سے کہا جائے گا کہ تجھ پر ظلم نہیں ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ شہادتیں والا پرچہ بھاری ہو جائے گا اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی شے بھاری نہیں ہو سکتی۔ اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن صالح نے لیث سے اسی اسنا د کے ساتھ اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے دن ایک بندے کو پکارا جائے گا تمام لوگوں کے سامنے اورا س کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے۔ پھر آگے حدیث ذکی کی ہے۔ فصل۔۔ بڑے بڑے گناہ اور چھوٹے چھوٹے گناہ اور بے حیائیاں گناہوں میں حد سے بڑھ جانا فحش اور فواحش کہلاتاہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے: "قل انما حرم ربی الفواحش ماظھر منھا وما بطن (الاعراف 37) فرما دیجئے اے پیغمبر کہ میرے رب نے بے حیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ وہ پوشیدہ اور باطنی ہوں اور ارشاد فرمایا: "ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم (النساء 31) اورتم کبیرہ گناہوں سے پرہیز کروگے جن سے تمہیں منع کیاگیاہے۔مٹادیں گے ہم تم سے تمہاری غلطیاں۔ اور ارشاد ہے: "والذین یجتنبون کبائر الا ثم والفواحش الا اللمم "(النجم 32) جو لوگ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں اور بے حیائیوں سے سوائے چھوٹی چھوٹی باتونں کے اور کبائر کی تعداد کی بابت ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واردہوئے ہیں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبي عبد الرحمن المعافري ثم الحبلي ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 283

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood