شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 365
365 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ثنا قرة بن خالد ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا يحيى بن أبي الحجاج ثنا قرة بن خالد و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم انا أبو عامر العقدي ثنا قرة بن خالد عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من لقي الله و هو لا يشرك به شيئا دخل الجنة و من لقيه يشرك به شيئا دخل النار و ذكر الحديث في رواية أبي طاهر و ذكر النبي صلى الله عليه و سلم قال : من لقي الله لا يشرك به شيئا دخل الجنة و من لقيه يشرك به دخل النار و رواه مسلم في الصحيح عن حجاج بن الشاعر و أبي أيوب سليمان بن عبد الله الغيلاني عن أبي عامر قال الحليمي رحمه الله و إذا ظهر أن مآب المسلمين الجنة و مآب الكافرين النار فقد قال الله عز و جل : { إن كتاب الفجار لفي سجين } و { إن كتاب الأبرار لفي عليين } و كان المعنى ما كتب لهؤلاء و لهؤلاء علمنا إن السجين خلاف العليين كما أن الفجار خلاف الأبرار و سمي الله جل ثناءه النار الهاوية ووصف الجنة أنه عالية و جاء في الحديث أن أرواح خطأ المؤمن تعلى به و روح الكافر تهوى به و لم نعلم أحدا قال : إن الجنة في الأرض ثبت أن الجنة فوق السموات و دون العرش و يحتمل قول الله عز و جل : { و إذا السماء كشطت } أنها تكشط عما وراءها من الجنان ننظر آثارها و أن يكون ذلك إزلافها في قوله : { و أزلفت الجنة للمتقين } قال البيهقي رحمه الله
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ،ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے، ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے، ان کو عبداللہ بن عبدالحمید حنفی نے، ان کو قرہ بن خالد نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے میرے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے، ان کو احمد بن سلمہ نے، ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ، ان کو ابو عامر عقدی نے ، ان کو قرہ بن خالد نے ابو زبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس کے ساتھ کسی شے کو بھی شریک بناتا ہو گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ اور ذکر کیا ہے اس حدیث کو ابو طاہر کی روایت میں اور یہ ذکر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کرتا ہو گا جنت میں داخل ہو گا اور جو اس کو ملا اور شرک کرتا ہو گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حجاج بن شاعر سے اور ابو ایوب سلیمان بن عبید اللہ غیلانی سےا س نے ابو عامر سے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کا ٹھکانہ جنت ہے اور کافروں کا ٹھکانہ آگ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ : "(1)۔۔۔ ان کتاب الفجار لفی سجین (مصطففین 7) (2)۔۔ ان کتاب الابرار لفی علیین (مصطففین 8) کہ بد کردار وں کی تحریر سجین میں ہے اور نیکو کاروں کی علیین میں ہے۔ تو معنی یہ ہوا کہ فجار کے لئے وہ ہے اور ابرار کے لئے یہ ہے۔ تو یہاں سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ سجین الگ ہے اور علیین الگ ہے۔ جیسا کہ فجار الگ اور ابرار الگ ہیں اور مختلف ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگ کی صفت ھاویہ۔۔ کھاتی بتائی ہے اور جنت کی صفت جنۃ العالیۃ بلند بتائی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح اوپر لے جائی جاتی ہے اور کافر کی روح نیچے لے جائی جاتی ہے۔ اور ہم کسی ایک کو بھی نہیں جانتے جس نے یہ قول کیا ہو کہ جنت زمین پر ہے ۔ لہذا یہیں سے ثابت ہوا کہ جنت آسمانوں سے اوپر ہے اور عرش سے نیچے ہے اور یہ آیت احتمال رکھتی ہے واذالسماء کشطت (تکویرا 1) کہ جس وقت آسمان کی کھال اتاری جائے گی ۔ احتما ل ہے کہ وہ حصہ چھیلا جائے گا جو آگے رہے جنت کے تاکہ چھیلنے کے بعد ہم جنت کے آثار دیکھ سکیں ۔ اور اس طرح جنت قریب ہو جائے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین " کا یہی مطلب ہو کہ جنت متقیوں کے قریب کر دی جائے گی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← قرة بن خالد و ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 365
