Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 365

365 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ثنا قرة بن خالد ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا يحيى بن أبي الحجاج ثنا قرة بن خالد و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم انا أبو عامر العقدي ثنا قرة بن خالد عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من لقي الله و هو لا يشرك به شيئا دخل الجنة و من لقيه يشرك به شيئا دخل النار و ذكر الحديث في رواية أبي طاهر و ذكر النبي صلى الله عليه و سلم قال : من لقي الله لا يشرك به شيئا دخل الجنة و من لقيه يشرك به دخل النار و رواه مسلم في الصحيح عن حجاج بن الشاعر و أبي أيوب سليمان بن عبد الله الغيلاني عن أبي عامر قال الحليمي رحمه الله و إذا ظهر أن مآب المسلمين الجنة و مآب الكافرين النار فقد قال الله عز و جل : { إن كتاب الفجار لفي سجين } و { إن كتاب الأبرار لفي عليين } و كان المعنى ما كتب لهؤلاء و لهؤلاء علمنا إن السجين خلاف العليين كما أن الفجار خلاف الأبرار و سمي الله جل ثناءه النار الهاوية ووصف الجنة أنه عالية و جاء في الحديث أن أرواح خطأ المؤمن تعلى به و روح الكافر تهوى به و لم نعلم أحدا قال : إن الجنة في الأرض ثبت أن الجنة فوق السموات و دون العرش و يحتمل قول الله عز و جل : { و إذا السماء كشطت } أنها تكشط عما وراءها من الجنان ننظر آثارها و أن يكون ذلك إزلافها في قوله : { و أزلفت الجنة للمتقين } قال البيهقي رحمه الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ،ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے، ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے، ان کو عبداللہ بن عبدالحمید حنفی نے، ان کو قرہ بن خالد نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے میرے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے، ان کو احمد بن سلمہ نے، ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ، ان کو ابو عامر عقدی نے ، ان کو قرہ بن خالد نے ابو زبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس کے ساتھ کسی شے کو بھی شریک بناتا ہو گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ اور ذکر کیا ہے اس حدیث کو ابو طاہر کی روایت میں اور یہ ذکر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کرتا ہو گا جنت میں داخل ہو گا اور جو اس کو ملا اور شرک کرتا ہو گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حجاج بن شاعر سے اور ابو ایوب سلیمان بن عبید اللہ غیلانی سےا س نے ابو عامر سے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کا ٹھکانہ جنت ہے اور کافروں کا ٹھکانہ آگ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ : "(1)۔۔۔ ان کتاب الفجار لفی سجین (مصطففین 7) (2)۔۔ ان کتاب الابرار لفی علیین (مصطففین 8) کہ بد کردار وں کی تحریر سجین میں ہے اور نیکو کاروں کی علیین میں ہے۔ تو معنی یہ ہوا کہ فجار کے لئے وہ ہے اور ابرار کے لئے یہ ہے۔ تو یہاں سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ سجین الگ ہے اور علیین الگ ہے۔ جیسا کہ فجار الگ اور ابرار الگ ہیں اور مختلف ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگ کی صفت ھاویہ۔۔ کھاتی بتائی ہے اور جنت کی صفت جنۃ العالیۃ بلند بتائی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح اوپر لے جائی جاتی ہے اور کافر کی روح نیچے لے جائی جاتی ہے۔ اور ہم کسی ایک کو بھی نہیں جانتے جس نے یہ قول کیا ہو کہ جنت زمین پر ہے ۔ لہذا یہیں سے ثابت ہوا کہ جنت آسمانوں سے اوپر ہے اور عرش سے نیچے ہے اور یہ آیت احتمال رکھتی ہے واذالسماء کشطت (تکویرا 1) کہ جس وقت آسمان کی کھال اتاری جائے گی ۔ احتما ل ہے کہ وہ حصہ چھیلا جائے گا جو آگے رہے جنت کے تاکہ چھیلنے کے بعد ہم جنت کے آثار دیکھ سکیں ۔ اور اس طرح جنت قریب ہو جائے۔ وازلفت الجنۃ للمتقین " کا یہی مطلب ہو کہ جنت متقیوں کے قریب کر دی جائے گی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← قرة بن خالد و ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 365

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 366

366 - و قد أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا مهدي بن ميمون ثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب عن بشر بن شغاف : قال كنا جلوسا مع عبد الله بن سلام فذكر الحديث إلى أن قال : و إن أكرم الخلائق على الله تعالى أبو القاسم صلى الله عليه و سلم و إن الجنة في السماء و إن النار في الأرض فإذا كان يوم القيامة بعث الله الخلائق أمة أمة ونبيا نبيا ثم يوضع الجسر على جهنم ثم ينادي مناد أين أحمد و أمته ؟ فيقول و تتبعه أمته : برها و فاجرها فيأخذون الجسر فيطمس الله أبصر أعدائه فيتهافتون فيها من يمين و شمال و ينجو النبي صلى الله عليه و سلم و الصالحون معه و تتلقاهم الملائكة وثبا يرونهم منازلهم من الجنة : على يمينك على يسارك ثم ذكر مرور كل نبي و أمته قال : الحليمي رحمه الله و في ورود الأخبار بذكر الصراط و هو جسر جهنم بيان أن الجنة في العلو كما أن جهنم في السفل إذ لو لم يكن كذلك لم يحتج الصائر إليها إلى جسر قال و روي عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن على جهنم جسرا أدق من الشعر من السيف أعلاه نحو الجنة دحض مزلة بجنبيه كلاليب و حسك النار يحبس الله به من يشاء من عباده الزالون و الزالات يومئذ كثير و الملائكة بجانبيه قيام ينادون : اللهم سلم اللهم سلم فمن جاء بالحق جاز و يعطون النور يومئذ على قدر إيمانهم و أعمالهم فمنهم من يمضي عليه كلمح البرق ومنهم من يمضي عليه كمر الريح و منهم من يمضي عليه كمر الفرس السابق و منهم من يسير عليه و منهم من يهرول و منهم من يعطى نورا إلى موضع قدميه و منهم يحبو حبوا و تأخذ النار منه بذنوب أصابها و هي تحرق من يشاء الله منهم على قدر ذنوبهم حتى تنجو و تنجو أول أول زمرة سبعون ألفا حساب عليهم و لا عذاب كأن وجوههم القمر ليلة البدر و الذي يلونهم كأضواء نجم في السماء حتى يبلغوا إلى الجنة برحمة الله تعالى قال : البيهقي رحمه الله و هذا الحديث فيما :

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن فقری نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے، ان کو یوسف بن یعقوب نے، ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو یعقوب نے ، ان کو عبداللہ بن محمد بن اسمآء نے ، ان کو مہدی بن میمون نے، ان کو محمد بن عبداللہ بن ابو یعقوب نے، ان کو بشر بن شغاف نے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن سلام کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے حدیث ذکر فرمائی یہاں تک کہ فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوقات سے زیادہ عزت والے ابو القاسم (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہیں اور جنت آسمانوں پر ہے اور جہنم زمین پر۔ جب قیامت کا دن ہو گا اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات ایک ایک جماعت اور ایک ایک امت اور ایک ایک نبی کو اٹھائیں گے۔ پھر جہنم کے اوپر پل ڈالی جائے گی۔ پھر منادی کرنے والا منادی کرے گا کہا ں ہے احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت؟ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھیں گے اور آپ کی امت آپ کے پیچھے ہو گی ۔ نیک بھی ہوں گے، بد بھی ہوں گے وہ پل کو پکڑیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کی آنکھیں مٹا دے گا ۔ لہذا اس کی دائیں اور بائیں طرف سے جہنم میں گریں گے۔ نبی نجات پائیں گے اور ان کے ساتھ صالح لوگ بھی اور ان کو فرشتے ملیں گے ، دوڑ کر اور ان کو جنت میں ان کے ٹھکانے دکھائیں گے کہ تیری دائیں طرف سے ہے اور تیری بائیں طرف سے ہے۔ پھر عبداللہ بن سلام نے اسی طرح ہر نبی اور ہر امت کے گذرنے کا تذکرہ فرمایا: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد : شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ صراط جو کہ جہنم کا پل ہے۔ اس کے ذکر کے ساتھ احادیث کا وارد ہونا اس بات کا بیان و ثبوت ہے کہ جنت اوپر اور بلندی میں ہے۔ جیسے کہ جہنم نیچے اور پستی میں ہے۔ اس لئے کہ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی طرف یعنی جنت کی طرف جانے والا پل کا محتاج نہ ہوتا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جہنم پر ایک پل ہے جو کہ بار سے باریک اور تلوار سے تیز ہے۔ اس کا اوپر والا حصہ جنت کی طرف ہے، پھسلنے کی جگہ ہے اور پل لے جانبیں سے جہنم کی کھائیاں ہیں ، آگ کی آواز مجھے سنائی دے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں گے اس پر روکیں گے اس دن پھسلنے والے مرداور عورتیں بہت ہوں گی اور دونوں طرف سے فرشتے کھڑے ہوں گے جو دعا کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے اے اللہ بچانا، اے اللہ بچانا جو شخص حق کو لائے گا گذر جائے گا اور وہ اس دن اپنے اپنے ایمان و اعمال کی مقدار سے نور اور روشنی عطا کئے جائیں گے۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو وہ ہوں گے جو پل پر سے بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے اور بعض ہوا کی طرح گذر جائیں گے اور بعض اس میں سے آگے آگے دوڑنے والے گھوڑے کی طرح گذر جائیں گے۔ اور بعض ان میں سے تیزی سے گذر جائیں گے اور بعض دوڑ کر۔ بعض کو ان میں سے روشنی ملے گی ان کی قدموں تک اور بعض گھٹنوں کے بل دوڑیں گے اور ان میں سے بعض کو اس کے گناہوں کے سبب آگ پکڑ لے گی اور وہ اس کو جلائے گی۔ جس کو اللہ چاہے گا ان کے گناہوں کےاندازے کے مطابق یہاں تک کہ وہ نجات پا جائے گا ۔ اور سب سے پہلا گروہ جو نجات پائے گا وہ ستر ہزار افراد ہوں گے جس پر نہ حساب ہو گا اور نہ ہی کوئی عذاب ہو گا۔ ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے جیسی چودھویں کا چاند اور جو لوگ ان کے قریب قریب ہوں گے۔ وہ آسمان کے روشن ترین ستارے کی طرح ہوں گے۔ یہاں تک کہ اللہ کی رحمت کے ساتھ جنت تک پہنچ جائیں گے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث ان میں سے ہے (جو آنے والی سند کے ساتھ ہمیں موصول ہوئی ہے)۔

الحديث إلى ← كنا جلوسا مع عبد الله بن سلام ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و قد

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 366

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 367

367 - أنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن محمد حدثنا مكي بن إبراهيم ثنا سعيد بن زربي عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك حدث : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره قال البيهقي رحمه الله و هذا إسناد ضعيف غير لأن معنى بعض ما روي فيه موجود في الأحاديث الصحيحة التي وردت في ذكر الصراط و قد ذكرناها في كتاب البعث قال : الحليمي رحمه الله : قوله في الصراط إنه أدق من الشعرة معناه أن أمر الصراط و الجواز عليه أدق من الشعر أي يكون عسره و يسره على قدر الطاعات و المعاصي و لا يعلم حدود ذلك إلا الله عز و جل لخفائها و غموضها و قد جرت العادة بتسمية الغامض الخفي دقيقا و ضرب المثل له بدقة الشعرة و قوله إنه أحد من السيف فقد يكون معناه ـ و الله أعلم ـ أن الأمر الدقيق الذي يصدر من عند الله إلى الملائكة في إجازة الناس على الصراط يكون في نفاذ حد السيف و مضيه منهم إلى طاعته و امتثاله و لا يكون له مرد كما أن السيف إذا نفذ بحده و قوة ضاربه في شيء لم يكن له بعد ذلك مرد قال البيهقي رحمه الله : و هذا اللفظ من الحديث لم أجده في الروايات الصحيحة و روي عن زياد النميري عن أنس مرفوعا : الصراط كحد الشفرة أو كحد السيف و هي أيضا رواية ضعيفة و روي بعض معناه عن عبيد بن عمير عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا و جاء عنه من قوله و روى عن عبد الله بن مسعود أنه قال : الصراط في سواء جهنم مدحضة من له ( خطأ ) كحد السيف المرهف و روي عن سعيد بن أبي هلال أنه قال : بلغنا أن الصراط يوم القيامة و هو الجسر يكون على بعض الناس أدق من الشعر و على بعضهم مثل الدار و الوادي الواسع فيحتمل أن يكون لشدة مروره عليه و سقوطه عنه يشبه بذلك و الله أعلم و أما ما قيل في رواية أنس من ( أن أعلى الجسر نحو الجنة ) ففيه بيان أن أسفله نحو طرف الأرض و ذلك لما مضى بيانه من أن جهنم سافة و الجنة عالية

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ان احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن محمد نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو سعید بن زربی نے یزید رقاشی سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذکور حدیث ذکر کی ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ مذکورہ اسناد ضعیف ہے ، علاوہ اس کے کہ ایسی بعض روایت کا مفہوم صحیح احادیث میں موجود ہے جو صراط کے ذکر میں وار د ہوئی ہیں۔ چنانچہ انہیں ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دیا ہے۔ بال سے باریک اور تلوار سے تیز کا کیا مطلب ہے؟ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : کہ صراب کے بارے میں بال سے باریک ہونے کا معنی و مطلب یہ ہے کہ صراط اور اس پر گزرنے کا حکم بال سے باریک ہے۔ یعنی اس کامشکل ہونا اور آسان ہونا طاعات اور گناہوں کے اندازے کے مطابق ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس بات کے حدود کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ اس کا معاملہ گہرا ہے ور مخفی ہے ۔ عربوں کی یہ عادت جاری ہے کہ وہ مخفی اور گہرائی والی بات کو دقیق اور باریک کانام دیتے ہیں اور اس کے لئے بال کی باریک کی باریکی کی مثال دی جاتی تھی۔ اور اس قول کا مطلب کہ تلوار سے تیز تر ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ امر دقیق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کی طرف جو لوگوں کو صراط پر گزرنے کی بابت ہو گا وہ اپنے جاری ہونے میں اور نفاذ میں تلوار کی طرح تیز ہو گا اور فرشتوں کی طرف سے اس کی اطاعت و اتباع جاری ہو نا بھی اسی قدر تیز ہو گا اور اس کے لئے کوئی روکنے اور رد کرنے والا نہیں ہو گا جیسے کہ تلوار جب چل جاتی ہے اپنی تیزی اور اپنی قوت مار کے ساتھ کسی بھی شے میں تو اس کے بعد اسے روکنے والی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ حدیث کے یہ الفاظ میں نے صحیح روایات میں نہیں پائے۔ اور زیاد نمبری سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ صراط ، چھری ی دھاریا تلوار کی تیزی کی طرح ہے۔ مگر یہ بھی روایت ضعیف ہے۔ اور اس کا کچھ معنی عبید بن عمیر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے کہ آپ سے یہی قول آیا ہے ۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ صراط جہنم کے اوپر سیدھا میں گناہگاروں کے پھسلنے کی جگہ ہے جیسی تیز تلوار ہوتی ہے۔ اور سیعد بن ابی بلال سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہمیں ( یہ حدیث پہنچی ہے کہ ) صراط قیامت کے دن وہ پل ہو گی جو بعض لوگوں پر بال سے باریک ہو گی اور بعض پر گھر کی طرح اور کھلی وادی کی طرح ہو گی۔ احتال ہے کہ اس پر گزرنے کی تیزی اور اس سے گرنے کی وجہ سے یہ مذکورہ تشبیہ دی گئی ہو۔ اللہ اعلم۔ بہر حال جو کچھ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں کہا گیا ہے کہ پل کا اوپر جنت کی جانب ہے ۔ اس میں اس بات کا بیان بھی ہے کہ اس کا نیچے والا حصہ اور سر ا زمین کی طرف ہے، کیونکہ اس بات کا بیان گذر چکا ہے کہ جہنم نیچے ہے اور جنت اورپر ہے۔

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 367

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في أن دار المؤمنين و مأواهم الجنة دار الكافرين و مآبهم النار ـ · حديث 368

368 - أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن البراء أنبا عبد المنعم بن إدريس حدثني أبي عن وهب بن منبه قال : إذا قامت القيامة و قضي الله بين أهل الدارين أمر بالفلق فيكشف عن سقر و هو غطاؤها فيخرج منه نار فتحرق جهنم و تأكلها كما تأكل النار في الدنيا القطن المندوف فإذا وصلت البحر المطبق على شفير جهنم ـ و هو بحر البحور ـ نسفته أسرع من طرفة العين نسفا فنضب كأن لم يكن مكانه ماء قط و هو حاجز بين جهنم و الأرضين السبع فإذا انشقت ماء ذلك البحر اشتعلت في الأرضين السبع فتدعها جمرة واحدة و قد روينا عن علي بن أبي طالب أنه قال ليهودي : أين جهنم قال : تحت البحر فقال علي : صدق ثم قرأ : { و البحر المسجور } قال : البيهقي رحمه الله و يحتمل ما حكيناه عن وهب بن منبه معنى ما قال الله عز و جل : { يوم تبدل الأرض غير الأرض و السموات } و يكن ذلك بعد ركوب الناس الصراط كما روينا عن عائشة أنها سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك و قالت فأين الناس يومئذ ؟ قال : على الصراط ثم قد قال بعض العلماء أن الكفار لا يجاوزون على الصراط لأنهم في معدن النار فإذا خلص المؤمنون و خلصوا على الصراط انفرد الكفار بمواقفهم و صار مواقفهم من النار قال غيرهم إنهم يركبون الصراط ثم قد تكون أبواب جهنم فروجا في الحشر كأبواب السطوح فهم يقذفون منها في جهنم ليكون غمهم أشد و أفظع و إلقاؤهم من الجسر أخوف وأهول و فرح المؤمنين بالخلاص أكثر و أعظم و لعل قول الله عز و جل : { و امتازوا اليوم أيها المجرمون } يكون في هذا الوقت و ما في القرآن من قول الله عز و جل : { كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير } و قوله : { ألقيا في جهنم كل كفار عنيد } كالدليل على هذا لأن الإلقاء في الشيء أكثر ما يستعمل في الطرح من علو إلى سفل والله أعلم بكيفية ذلك و أما المنافقون فالأشبه أنهم يركبون الجسر مع المؤمنين ليمشوا في نورهم فيظلم الله عز و جل على المنافقين فيقولون للمؤمنين : { انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نورا } فيرجعون إلى المكان الذي قسم فيه النور على قدر إيمانهم و أعمالهم فلا يجدون شيئا فينصرفون إليهم و قد : { ضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب * ينادونهم ألم نكن معكم } نصلي بصلاتكم و نغزو مغازيكم { قالوا بلى ولكنكم فتنتم أنفسكم } فيحتمل ـ و الله أعلم ـ أن هذا السور إنما يضرب عند انتهاء الصراط و يترك له باب يخلص منه المؤمنون إلى طريق الجنة فذلك هو الرحمة التي في باطنه و أما ظاهره فإن يلي النار و إن كانت النار سافلة عنه لا محاذيه إياه ما دام لم يجد المنافقون إلى باطن السور سبيلا فليس إلا أن يقذفوا من أعلم الصراط يهوون إلى الدرك الأسفل من النار هذا باستهزائهم بالمؤمنين في دار الدنيا كما شرحنا في كتاب الأسماء و الصفات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے محمد بن احمد بن براء نے ان کو خبر دی ہے عبدالمنعم بن ادریس نے ، ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے وھب بن منبہ سے، انہوں نے کہا، جب قیامت قائم ہو گی اور اللہ تعالیٰ اہل جنت و اہل جہنم کے مابین فیصلہ فرما چکیں گے تو اللہ تعالیٰ جہنم کے ایک خاص کنویں کے بارے میں حکم دیں گے، چنانچہ سقر کو کھولا جائے گا اور وہ اس کا ڈھکنا ہے۔ اس سے ایسی آگ نکلے گی جو خود جہنم کو جلا دے اور کھا جائے جیسے دنیا میں آگ دھنی ہوئی روئی کو کھا جاتی ہے اور پھر جب سمندر جہنم کے کنارے سے ملے گا، حالانکہ وہ بحر البحور ہے۔ یعنی سب دریاؤں سے بڑا دریا ہے تو آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کو اڑا دے گی اور ایسے سوکھ جائے گا جیسے اس جگہ کبھی پانی تھا بھی نہیں اور وہی حجاب حاجز ہے جہنم کے اور سات زمینوں کے درمیان پھر جب اس دریا یا سمندر کا پانی بھٹے گا تو ساتویں طبق زمین میں آگ لگ جائے گی، لہذا وہ ساتوں زمینوں کو جلا کر صرف ایک ہی کوئلہ کر کے چھوڑے گی۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے ایک یہودی سے کہا کہ جہنم کہا ں ہے اس نے کہ کہ سمندر کے نیچے ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: "والبحر المسجود (والطور 6) قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ہم نے مذکورہ روایت جو وھب بن منبہ سے نقل کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے معنی و مفہوم کا احتمال رکھتی ہے: یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات" (ابراہیم 48) جس دن بدلی جائے گی یہ زمین دوسری زمین کے ساتھ اور آسمان بھی۔ اور یہ سب کچھ تمام لوگوں کے پل صراط پر چڑھ جانے کے بعد ہو گا۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہم نے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوا ل کیا تھا اس بارے میں اور عرض کی تھی کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ صراط پر ہوں گے۔ بعض علماء کا قول : بعض علما نے کہا ہے کہ کفار پر سے نہیں گذریں گے اس لئے کہ وہ سب آگ کی کان میں ہوں گے۔ جب مومن چھٹکارا پالیں گے اور وہ صراط پر چڑھ جائیں گے تو باقی کفار ہی اپنے اپنے موقف پر اور اپنی جگہ پر باقی رہ جائیں گے۔ گویا پیچھے اب باقی آگ میں انہیں کا ہی مقام رہ جائے گا۔ دیگر علماء کا موقف : بعض دیگر علماء نے کہا ہے کہ کفار بھی صراط پر سوار ہوں گے۔ پھر کبھی جہنم کے دروازے سوراخ سوراخ ہو جائیں گے حشر میں چھتوں کے دروازوں کی مثل پھر کفار انہیں میں سے جہنم میں پھینکے جائیں گی۔ تاکہ ان کا غم زیادہ شدید ہو اور زیادہ ہیبت ناک ہو اور ان کو پل کے اوپر سے پھینکنا زیادہ ڈراؤنا اور ہولناک ہواور چھٹکارے کے ساتھ مومنوں کی خوشی بہت زیادہ اور بہت بڑی ہو۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ کایہ فرمان: "وامتازوا الیوم ایھا المجرمون " (یٰس59) آج علیحدہ ہو جاؤ اے مجرموں۔ شاید یہ اعلان اسی وقت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی: " کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر (الملک 8) جب بھی جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا۔ ان سے جہنم کے دربان پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ اور یہ فرمان بھی: القبا فی جہنم کل کفار عنید (ق 24) پھینکو جہنم میں ہر بڑے کا فرعناد ی کو۔ یہ بھی اسی پر دلیل کی طرح ہے (جو ہم پہلے کہہ آئے ہیں) کیونکہ پھینکنے کے حوالے سے جو طریقہ زیادہ تر مستعمل ہے وہ اسی طرح ہے کہ بلندی سے پستی کی طرف سے اوپر سے نیچے کے طرف پھینکا جاتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بھی اس کی کیفیت کو خوب جانتے ہیں۔ پل صراط پر منافقو کا انجام : زیادہ یقین یہ ہے کہ منافقین لوگ پل کے اوپر مومنوں کے ساتھ ساتھ سوار ہوں گے تاکہ مومنوں کے نور میں وہ بھی چلتے جائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ منافقوں پر اندھیرا کر دیں گے ، لہذا منافقین اسی موقع اسی موقع پر مومنوں سے کہیں گے: " انظرو نا نقتبس من نور کم قبل ارجعو ا وراء کم فالتمسو ا نوراً (الحدید 13) مومنوں ہماری طرف دیکھو نا تاکہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کر لیں گے۔ کہا جائے گا واپس پیچھے چلے جاؤ اورروشنی ڈھونڈ کر آؤ۔ لہذا منافق اس جگہ کی طرف واپس لوٹیں گے جہاں روشنی لوگوں کے ایمان و اعمال کے اندازے کے مطابق تقسیم کی گئی تھی۔ وہ وہاں کچھ بھی نہیں پائیں گے۔ پھر وہ دوبارہ مومنوں کی طرف لوٹ کر آئیں گے ۔ اس دوران ان کے اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہو گی۔ قرآن مجید نے اس مقام کی منظر کشی فرمائی کہ : " ضرب بینھم بسور لہ باب، باطنہ فیہ الرحمۃ وظاھرہ من قبلہ العذاب۔ ینادونھم الم نکن معکم " ان کے درمیان دیوار ھائل ہو جائے گی۔ اس میں ایک دروازہ ہو گا اس کے اندر کی طرف رحمت ہو گی اور سامنے کی طرف عذاب ہو گا۔ (جو سمت منافقوں کی ہو گی) پھر منافق مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ یعنی ہم تمہاری طرح نمازیں بھی پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ جہاد بھی کرتے تھے۔ اہل ایمان ان سے کہیں گے: "قالو بلا ولکنکم فتنتم انفسکم " مومن ان سے کہیں گے ، ہاں ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے نفسوں کو فتنوں میں واقع کر رکھا تھا۔ (الحدید 13) ایک خاص کیفیت کا احتمال : احتمال ہے کہ یہ دیوار پل صراط کے آخر میں نصب کی جائے گی اور اس میں سے ایک دروازہ چھوڑ دیا جائے گا جس سے مومن جنت کے راستے کی طرف خلاصی پائیں گے۔ یہی ہو گی وہ رحمت جو اس کے اندر کی جانب ہو گی۔ بہر حال اس کا ظاہر وہ آگ کے متصل ہو گا۔ اگرچہ آگ اس سے نیچے ہو گی۔ ا س کے متوازی اور مقابل نہیں ہو گی۔ منافق ہمیشہ کے لئے دیوار کے اندر کی طرف راستہ نہیں پائیں گے، لہذا و ہ لا محالہ پل صراط کے اوپر سے بھی پھینک دئیے جائیں گے جہاں سے وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں گرتے چلے جائیں گے۔ یہ سلوک ان کے ساتھ ان کے اس استہزا کی پاداش میں ہو گا جو وہ مومنوں کے ساتھ دنیا میں کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ہم کتاب الاسماء والصفات میں اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ فصل : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : فوربک لخشرنھم والشیاطین ثم لنحصرنھم حول جھنم جثیا۔ ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمٰن عتیا۔۔۔ تا ۔۔۔ ونذر الظالمین فیھا جثیا " (مریم 68 تا 72) پس قسم ہے تیرے رب کی ہم ان لوگوں کو ضرور اکٹھا کر لائیں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ہم ان کو ضرور جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے۔ پھر ہم ضرور کھینچ کر علیحدہ کر لیں گے ہر گروہ میں سے اس کو جو رحمٰن پر اکڑ نے میں زیادہ سخت تھا۔ پھر البتہ ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو جہنم میں داخل ہونے کے لئے زیادہ مناب ہیں۔ اور تم میں سے کوئی بھی نہیں (بچے گا) مگر (ہر ایک) جہنم پر آئے گا۔ تیرے رب کا یہ لازمی فیصلہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو (اللہ کی نافرمانی اور کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں (کافروں مشرکوں) کو جہنم میں اوندھے گرے ہوئے چھوڑ دیں گے ۔ مذکورہ بالا آیات کے مفہوم میں اہل تفسیر کا اختلاف: اہل تفسیر نے مذکورہ بالا آیات میں لفظ وارد ھا کے مفہوم و مطلب کو بیان کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے دو میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق وارد ہونے سے مراد جہنم میں دخول مراد ہے ۔ اور اہل تفسیر نے اس بات پر دلیل اسی دوسری آیت سے پکڑی ہے: "انتم لھا واردون لو کان ھؤلا ء الھۃ ماور دوھاو کل فیھا خالدون " (الانبیاء 98-99) (اے مشرکو) تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا (سب) جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں ضرور داخل ہونا ہے۔ اگر یہ (بت وغیرہ) الٰہ (معبود ومختار) ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے،سارے اس میں سدا پڑے رہیں گے۔ اور دوسری اس آیت سے بھی دلیل پکڑی ہے مفسرین نے: "فاوردھم النار وبئس الورد المورود " (ھود 98) پس داخل کرے گا ان کو آگ میں اور بری ہے داخل ہونے کی جگہ۔ تو اس مقام پر ورود سے مراد دخول ہی ہے۔ چنانچہ الا واردھا کا قول بھی اسی طرح ہے۔ یعنی اس سے مراد بھی دخول ہی ہے۔ اور یہی بات ہوئی جب ان سے نافع بن ازرق نے بحث کی تھی تو انہوں نے اس کے جواب مٰں یہ کہا تھا کہ آپ نے اور میں نے دونوں نے اس میں داخل تو ہونا ہی ہے، پھر میں دیکھوں گا کیا ہم نکلتے ہیں یا نہیں؟ اور عبداللہ بن سائب سے مروی ہے کہ اس نے اس شخص سے سنا جس نے ابن عباس سے سنا تھا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جہنم میں وارد ہونے والے کفار ہوں گے۔ مومن اس میں داخل نہیں ہو گا۔ جبکہ یہ روایت منقطع ہیں اور پہلی روایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکثر ہے اور زیادہ مشہور ہے۔ اور ہم نے عبداللہ بن رواحہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رو پڑے تھے اور ان کو روتا دیکھ کر ان کی اہلیہ بھی رو پڑی تھیں اور فرمانے لگے کہ میں خوب جانتا ہوں کہ میں جہنم میں وارد ہوں گا اور یہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا میں اس سے نجات بھی پاؤں گا یا نہیں؟ اور سدی نے فرّہ ہمدانی سے، اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی تھی کہ انہوں نے فرمایا لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اس سے اپنے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے۔ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے فرہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: یدخلو نھا یعنی ورود کی جگہ واضح دخول کا لفظ استعمال فرمایا۔ یا یلجونھا فرمایا دونوں کا مطلب داخل ہونا ہے۔ یعنی جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے ساتھ نکلیں گے۔ اور ایک اور روایت میں ابو الاحوص سے، عبداللہ سے ہے کہ (وان منکم الا واردھا) یعنی تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہو گا۔ فرمایا کہ راستے کا پل جہنم پر تلوار کی دھار کی طرح ہے۔ (جس پر) پہلا گروہ بجلی کی مثل گذر جائے گا اور دوسرا طبقہ ہوا کی مثل اور تیسرا طبقہ بہترین گھوڑے کی مثل اور چوتھا طبقہ بہترین اونٹ اور مویشیوں کی مثل گذریں گے اور فرشتے کہتے ہوں گے اے ہمارے رب بچائیو بچائیو۔ اور ان آثار کی اسناد ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی ہیں اور ہم نے روایت کی ہے سفیان سے، ان کو زہری نے، ان کو سعید بن مسیب نے، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کسی مسلمان کے تین بچے نہیں مریں گے کہ پھر وہ جہنم میں داخل ہو جائے، مگر قسم کو پورا کے لئے پھر سفیان نے یہ آیت پڑھی: " وان منکم الا واردھا" یعنی ایسا انسان صرف اسی آیت کا تقاضا پورا کرنے کے لئے داخل ہو گا اور بس۔

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell · Hadith 368

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood