Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 71

71 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب ثنا سعيد بن مسعود ثنا عبيد الله بن موسى أنبأ شعبة عن سلمة بن كهيل عن إبراهيم عن علقمة قال : قال رجل عن عبد الله بن مسعود : أنا مؤمن قال : قل إني في الجنة و لكنا نقول : آمنا بالله و ملائكته و كتبه و رسله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے سعید بن مسعود نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے شعبہ نے سلمہ بن کھیل سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے کہا ایک آدمی نے عبداللہ بن مسعود سے کہا ۔ انامومن ۔ میں مومن ہوں ابن مسعود نے فرمایا یوں کہوں کہ میں جنت میں ہوں ( یعنی میں جنت میں جاؤں گا ) مگر ہم تو کہتے ہیں ۔ ہم اللہ کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر۔

مُؤْمِنٌ. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← رَجُلٌ: ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ شعبة ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 71

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 72

72 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن علي بن دحيم الشيباني ثنا إبراهيم بن إسحاق ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن منصور عن إبراهيم قال : قال رجل لعلقمة : أمؤمن أنت قال : أرجو إن شاء الله و قد روينا عن جماعة من الصحابة و التابعين و السلف الصالح رضي الله تعالى عنهم أجمعين و روينا عن معاذ بن جبل رضي الله عنه أنه خطبهم فقال : أنتم المؤمنون أنتم أهل الجنة و الله إني لأطمع أن يكون عامة من تصيبون من أهل فارس و الروم في الجنة لأن أحدهم يعمل لكم العمل فتقول أحسنت رحمك الله ! أحسنت بارك الله فيك ! و الله يقول : { و يستجيب الذين آمنوا و عملوا الصالحات و يزيدهم من فضله }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے محمد بن علی بن دحیم نے شیبانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن اسحٰق زہری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل نے منصور سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے کہا ایک آدمی نے علقمہ سے کہا ۔ کیا تو مومن ہے اس نے جواب دیا میں امید کرتا ہوں انشاء اللہ ۔ مصنف فرماتے ہیں ۔ ہم نے یہ بات صحابہ تابعین ، سلف صالحین رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے نقل ہے ۔ اور ہم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو خبطہ دیا اور فرمایا تم لگ مومن ہو۔ تم لگ اہل جنت ہو۔ اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ اہل فارس و روم کا زیادہ طبقہ جہاں تک تم دعوت لے کر بھیجے گئے ہو وہ جنت میں ہوں گے کیونکہ ان میں سے کوئی تمہارے لئے کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو۔ تم نے بہت اچھا کیا۔ اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ تم نے بہت اچھا کیا اللہ تجھے برکت دے اور اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے ۔ ( ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصالحات و یزیدھم من فضلہ ) ( سورہ شور کی آیت ۲۶) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ کر کے دیتا ہے ۔

أَرْجُو. ← رَجُلٌ لِعَلْقَمَةَ: أَمُؤْمِنٌ أَنْتَ؟ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← محمد بن علي بن دحيم الشيباني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 72

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 73

73 - أخبرنا أبو محمد المؤملي أنبأ أبو عثمان البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب نا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن شقيق عن سلمة بن سبرة قال : خطبنا معاذ فذكره و في هذا أنه يخاطب بذلك و لم يعين به شخصا و قد رجع في آخر الحديث إلى الاستثناء في دخول الجنة فقال : إني لأطمع

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد موملی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عثمان بصری نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بتائی ہے محمد بن عبدالوہاب نے کہ خبر دی ہے یعلی بن عبید نے کہ ہمیں بات بتائی ہے اعمش نے شفیق سے انہوں نے سلمہ بن سبرہ سے وہ کہتے ہیں حضرت معاذ نے ہمیں خطبہ دیا ۔ پھر اس نے پورا خطبہ ذکر کیا۔ ( جو پہلے ذکر ہو چکا ہے ) حضرت معاذ کے خطبہ میں یہ بات ہے کہ وہ اس میں جماعت کو مخاطب کرتے ہیں کسی شخص معین یعنی خاص شخص کو نہیں ۔ مگر دوران بات استثناء کی طرف رجوع کرتے ہیں دخول جنت کے بارے میں اور یوں کہتے ہیں ۔ انی لاطمع کہ میں امید کرتا ہوں۔

سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو محمد المؤملي أنبأ أبو عثمان البصري

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 73

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 74

74 - و أخبرنا أبو عبد الله بن عبد الله الديري أنبأ أبو حامد الخسروجردي ثنا داود بن الحسين الخسوجردي ثنا حميد بن زنجويه ثنا أبو شيخ الحراني ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن يسار قال : بلغ عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رجلا يزعم أنه مؤمن فكتب إلى أميره أن ابعثه إلي فلما قدم عليه قال : أنت الذي تزعم أنك مؤمن ؟ قال : نعم والله يا أمير المؤمنين ! قال : ويحك ! و مم ذاك ؟ قال : أولم تكونوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم أصنافا : مشرك و منافق و مؤمن فمن أيهم كنت ؟ قال : فمد عمر يده إليه معرفة لما قال حتى أخذ بيده

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ السدیری نے وہ کہتے ہیں ابو حامد خسرو گردی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد بن حسین خسرو گردی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو شیخ حرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحٰق سے انہوں نے سعید بن یسار سے انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب کو اطلاع پہنچی کہ ایک آدمی کو یہ زعم ہے کہ وہ مومن ہے آپ نے اس کے گورنر کو لکھا کہ اسے میرے پاس بھیجو جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ تو ہی دعویٰ کرتا ہے کہ تو مومن ہے اس نے کہا اللہ کی قسم ہاں اے امیر المومومنین ۔ آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو یہ کس وجہ سے ہے ؟ اس نے کہا کیا آپ لوگ رسول اللہ کے ساتھ تھے تو تین قسم نہیں تھے ؟ مشرک منافق اور مومن تو آپ ان میں کون سی قسم میں تھے ۔ حضرت عمر نے ی سمجھتے ہوئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے پکڑنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا یہاں تک آپ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← داود بن الحسين الخسوجردي ← أبو عبد الله بن عبد الله الديري أنبأ أبو حامد الخسروجردي ← و،

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 74

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 75

75 - و بإسناده حدثنا حميد بن زنجويه ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن الأسود قال : قلت لعطاء بن أبي رباح : الرجل يقول : لا أدري أمؤمن أنا أم لا ؟ قال : سبحان الله ! قال الله تعالى : { الذين يؤمنون بالغيب } فهو الغيب فمن آمن بالغيب فهو مؤمن بالله قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ فهذا الذي روينا من إطلاق معاذ و ما روي مرسلا من تصويب عمر و قول عطاء في تسمية من آمن بالله و برسوله بالمؤمن يرجع إلى الحال قال الحليمي : رحمه الله تعالى ـ : لا ينبغي للمؤمن أن يمتنع من تسمية نفسه مؤمنا في الحال لأجل ما يخشاه من سوء العاقبة ـ نعوذ بالله منه ـ لأن ذلك و إن وقع و حبط ما قدم من إيمانه فليس ينقلب الموجود منه معدوما من أصله و إنما يحبط أجره و يبطل ثوابه و بسط الكلام في شرح ذلك و أما من أنكر من السلف إطلاق اسم الإيمان فالموضع الذي يليق به ما قال : أن يقول الواحد : أنا مؤمن و أعيش مؤمنا و أموت مؤمنا و ألقى الله مؤمنا و لا يستثني كان و لذلك قال ابن مسعود : قل إني في الجنة لأن من مات مؤمنا كان في الجنة و ليس كل من كان مؤمنا ساعة من عمره أو يوما أو سنة كان في الجنة فعلمنا أن عبد الله إنما قال هذا لمن اتكل على إيمانه فقطع بأنه مؤمن مطلق في عامة أحواله و أوقاته فلا يعيش إلا مؤمنا و لا يموت إلا مؤمنا و لم يكل أمره إلى الله عز و جل فأما قول المؤمن : أنا الآن مؤمن فليس مما ينكر و إنما يصح الاستثناء إذا كان الخبر عن المستقبل خاصة فيكون المعنى أرجو أن يمن علي بالتثبيت و لا يسلبني هدايته بعد أن آتانيها قال : و للاستثناء موضع آخر يصح فيه و يحسن و هو أن يرد على كمال الإيمان لا على أصله و أسه كما روي أن رجلا سأل قتادة : أمؤمن أنت ؟ فقال : أما أنا فأؤمن بالله و ملائكته و بكتبه و برسله و بالبعث بعد الموت و بالقدر خيره و شره أما الصفة التي ذكرها الله عز و جل : { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } قرأ الآيات إلى قوله { أولئك هم المؤمنون حقا لهم درجات عند ربهم و مغفرة و رزق كريم } فلا أدري أنا منهم أو لا فقد أبان قتادة أنه قد آمن الإيمان الذي يبعده عن الكفر و لكنه لا يدري استكمل الأوصاف التي حكى الله تعالى بها قوما من المؤمنين فأوجب لهم بها المغفرة و الدرجات و كان ذلك مشككا منه في الاستكمال الذي يوجب له الدرجات لا في مجانية الكفر الذي يقسط عنه العذاب فمن وضع الاستثناء في أحد هذين الموضعين فليس من الشكاك قال الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله : و قد روينا معنى هذا عن الحسن البصري

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے صدقہ بن خالد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے عثمان بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا بن ابی رباح سے کہا ایک آدمی یہ کہتا ہے میں نہیں جانتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں ۔ الذین یومنون با لغیب ( بقرہ ۳) اللہ غیب ہے جو شخص غیب کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کے ساتھ ایمان رکھنے والا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو ہم نے حضرت معآز رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے روایت کیا ہے اور یہ ہے وہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصویب اوردرست قرار دینے کے بارے میں مرسلا مروی ہے ۔ اور حضرت عطاء کا قول اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ مومن ہے یعنی اس بات کی طرف راجع ہے کہ فی الحال مومن ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خاتمہ اور انجام کے خرابی کے خوف فی الحال بھی اپنے آپ کو مومن کہنے سے رک جانا اور باز آ جانا کسی بھی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے کہ اگر خدانخواستہ یہ بات ہو جائے اور جو ایمان وہ مقدم کر چکا وہ ضائع ہو بھی جائے تو اب جو ایمان موجود ہے یہ بالکل معدوم تو نہیں ہو جائے گا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس کا اجر ضائع ہو گا اور ثواب باطل ہو گا۔ مومن کے نام کے اطلاق کا انکار سلف میں سے جس نے بھی کیا ہے تو اس کا بھی ایک مقام ہے جو اس کے لائق ہے اور شایان شان ہے اور وہ وہی ہے جو شیخ حلیمی نے کہا کہ مثلا کوئی شخص کہتا ہے کہ میں مومن ہوں ۔ اور مومن رہوں گا ۔ اور مومن ہی مروں گا۔ اور اللہ کو مومن ہی ملوں گا۔ انشاء اللہ بالکل نہیں کہتا۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔ بلکہ کہہ دے کہ میں جنت میں جاؤں گا اس لئے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں مر گیا وہ جنت میں ہوگا۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کا ایک لخطہ یا ایک دن یا ایک سال مومن تھا وہ جنت میں نہیں ہوگا۔ تو اس سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اس شخص کے بارے میں کہی تھی جو اپنے ایمان پر تکیہ اور بھروسہ کر رہا تھا لہذا انہوں نے یقین کر لیا کہ وہ اپنے عام حالات اور عام اوقات میں مطلقا مومن ہے وہ مومن ہی جئے گا اور مومن ہی مرے گا ، اپنے معاملے کو اس نے اللہ کے حوالے نہیں کیا۔ بہر حال کسی مومن کا یہ قول کرنا کہ میں اس وقت مومن ہوں یہ وہ قول ہے جس کو غلط نہیں کہا جا سکتا استثناء کرنا یعنی انشاء اللہ کہنا اس وقت صحیح ہوتا ہے جب مستقبل کے بارے میں خصوصاً خبر ہو اس وقت مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اللہ کی بارگاہ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایمان پر مجھے پکا رکھنے کا احسان فرمائیں گے اور اپنی عطا کردہ ہدایت مجھ سے نہیں چھینیں گے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ استثناء کرنے اور انشاء اللہ کہنے کے لئے ایک مقام اور ہے جہاں وہ صحیح ہے اور بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ اس کو نہ ایمان کے کمال کی طرف راجع کیا جائے نہ ہی اس کی اصلی اور بنیاد پر مثال کے طور پر جیسے ایک آدمی نے حضرت قتادہ سے سوال کیا امومن انت ؟ کیا آپ مومن ہیں حضرت قتادہ نے ( جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں مومن ہوں بلکہ یہ ) کہا بہر حال میں اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں ، اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اور اچھی و بری تقدیر پر ۔ باقی رہی مومن کی وہ صفت اللہ تعالیٰ نے جس کا ذکر سورۃ انفال میں فرمایا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں ہوں یا نہیں ہوں ۔ پھر انہوں نے وہ آیات تلاوت کیں ( جن کا مفہوم یہ ہے ) مومن وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کا یمان زیادہ کر دیتی ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ مومن وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں زکٰوۃ ادا کرتے ہیں ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے خرچ کرتے وہی لوگ سچھے مومن ہیں ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجے اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ۔ حضرت قتادہ نے واضح فرمایا کہ وہ ایسا یمان لائے ہیں جو اسے کفر سے دور کرتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے وہ اوصاف و صفات مکمل کر لی ہیں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مومن قوم کے لئے بیان فرمائی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور درجات واجب فرمائے ہیں ۔ یہ بات غیر یقینی تھی ان کے لئے ایمان کی تکمیل کے وہ صفات جس کے لئے درجات واجب ہوتے ہیں وہ حاصل کر سکے ہیں یا نہیں ۔ اس بات میں شک انہیں نہیں تھا کہ ایمان پر ہوتے ہوئے کفر کی کیفیت سے بالکل دور ہیں ۔ جس سے عذاب ساقط ہو جاتا ہے ۔ جو شخص مذکورہ دونوں جگہوں میں سے کسی ایک موقع پر استثناء یعنی انشاء اللہ کہتا ہے وہ شک کرنے والا نہیں ہے ۔ غافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے یہی مفہوم حسن بصری سے بھی روایت کیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 75

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 76

76 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو أحمد الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ثنا أحمد بن نصر المقري الزاهد ثنا عبد الله بن عبد الجبار الحمصي ثنا بقية بن الوليد عن تمام بن نجيح قال : سأل رجل الحسن البصري عن الإيمان فقال : الإيمان إيمانان فإن كنت تسألني عن الإيمان بالله و ملائكته و كتبه و رسله و الجنة و النار و البعث و الحساب فأنا مؤمن و إن كنت تسألني عن قول الله عز و جل : { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } الآيات قرأ إلى { أولئك هم المؤمنون حقا } فو الله ما أدري أنا منهم أو لا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ابو احمد حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد شاذان ہاشمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن نصر مقبری زاہد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عبدالجبار حمصی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ بن ولید نے تمام بن نحیح سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے حسن بصری سے ایمان کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا ایمان دو ہیں اگر تم مجھ سے ایمان باللہ یعنی اللہ کے ساتھ ایمان اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، مر کر دوبارہ اٹھانا۔ حساب و کتاب کے بارے میں پوچھتے ہو تو میں اس مذکورہ معنی اور مفہوم میں مومن ہوں ۔ اور اگر آپ کا سوال ہے اس ایمان کے بارے میں جس ایمان کے حاصل ہونے کے لئے یہ صفات اللہ نے بیان کی ہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ڈر جاتا ہے ۔ حضرت حسن بصری نے یہ آیات اولئک ھم المومنون حقا تک پڑھیں۔ ( انفال ۳) تو اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ہوں ۔

تمام بن نجيح ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحِمْصِيُّ، ← أحمد بن نصر المقري الزاهد ← أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 76

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 77

77 - أخبرنا أبو منصور الفقيه أنبأ أبو أحمد بن إسحاق الحافظ قال سمعت أبا العباس الثقفي يقول : سمعت قتيبة بن سعيد يقول : هذا قول الأئمة المؤخوذ في الإسلام و السنة بقولهم فذكر الحكاية قال : و الإيمان يتفاضل و الإيمان قول و عمل و نية و الصلاة من الإيمان و الزكاة من الإيمان و الحج من الإيمان و إماطة الأذى عن الطريق من الإيمان و نقول : الناس عندنا مؤمنون بالاسم الذي سماهم الله في الإقرار و الحدود و المواريث و لا نقول : حقا و لا نقول : عند الله و لا نقول : كإيمان جبريل و ميكائيل فإن إيمانهم متقبل قال الإمام الحافظ البيهقي ـ رحمه الله : و روينا عن وكيع أنه قال : كان سفيان الثوري يقول : أنا مؤمن و أهل القبلة كلهم مؤمنون في النكاح والدية و المواريث و لا يقول : أنا مؤمن عند الله عز و جل و المراد بهذا ـ والله أعلم ـ أن الله عز و جل يعلم إلى ما يصير أمره في المستقبل و هو لا يعلم فيكل الأمر فيما لا يعلم إلى عالمه و يخبر عما هو عليه في الحال ـ و بالله تعالى التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور فقیہ نے خبر دی ہے ابو احمد بن اسحٰق حافظ نے وہ کہتے ہیں اس نے ابو العباس ثقفی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے قتبیہ بن سعید سے سنا وہ فرماتے تھے یہی قول ہے جو سنت اور ائمہ اسلام سے ماخوذ ہے پھر انہوں نے حکایت کی اور فرمایا ۔ کہ ایمان زیادتی کو قبول کرتا ہے اور ایمان قول عمل اور نیت کا نام ہے ۔ نماز ایمان میں سے ہیں ۔ زکوٰۃ ایمان میں سے ہے ۔ حج ایمان میں سے ہے ۔ راستہ سے تکلیف دینے والی چیز دور کرنا ایمان میں سے ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے نزدیک اس نام کے ساتھ مومن ہیں جو اللہ نے ان کا نام رکھا ( یعنی سورۃ حج میں ھو سما کم المسلمین اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ) وہ مومن ہیں ۔ اقرار میں اور حدود میں ۔ وراثتوں اور ہم نہیں کہتے سچھے مومن ہیں اور یہ بھی نہیں کہتے کہ عند اللہ مومن ہیں ور یہ بھی نہیں کہتے کہ جبرائیل اور میکائیل کے ایمان کی طرح ( ہے ہمارا ایمان ) اس لئے کہ ان دونوں کا ایمان مقبول ہے ۔ امام حافظ بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت وکیع سے نقل کیا ہے کہ انہوںنے کہا کہ سفیان ثوری فرمایا کرتے تھے ۔ سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے : میں مومن ہوں ۔ اور اہل قبلہ سارے مومن ہیں نکاح میں ۔ خون بہا دینے میں میراث میں ۔ یہ نہیں کہتے تھے کہ میں اللہ کے نزدیک مومن ہوں ۔ اس سے مراد واللہ اعلم ۔ یہ ہے کہ اللہ عزوجل جانتے ہیں کہ اس کا معاملہ مستقبل میں کیا ہوگا؟ اور ہو نہیں جانتا تو جو چیز معلوم نہیں اس کا معامہ اس کے جاننے والی ذات کے سپرد ہو گا۔ لہذا وہ اس کی خبر دیتے تھے جس حالت پر وہ فی الحال تھے توفیق کی عنایت اللہ کی طرف سے ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( و اذقال ابراھیم لا بیہ و قومہ اننی براء مما تعبدون الا الذی فطرنی فانہ ، سیدھین ، و جعلھا کلۃ باقیۃ فی عقبہ ) ( زحزف ۲۶-۲۷) ( وہ وقت قابل ذکر ہے ) جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا بس وہی مجھے راہ دیکھائے گا۔ اور بنا دیا اس کو ایک باقی رہنے والی بات ان کی اولاد میں تانکہ وہ رجوع رہیں ۔ یہ بھی کہا کیا کہ اس سے مراد لا الہ الا اللہ کا قول ہے ۔ اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ( امرت ان اقاتل الناس حتی یقولو الا الہ الا اللہ فاذا قالوا ھا عصموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحقھا و حسابھم علی اللہ ) میں حکم دیا گیا ہو ک لوگوں جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ کہنے لگ جائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جب وہ یہ کہیں تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور حساب و کتاب ان کا اللہ کے ذمہ ہوگا۔

قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبا العباس الثقفي ← أبو منصور الفقيه أنبأ أبو أحمد بن إسحاق الحافظ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 77

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood