Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 505

504 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو زكريا العنبري أنا أبو عبد الله البوشجني ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع حدثنا روح بن القاسم عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسير في طريق مكة فمر على جبل يقال له جمدان فقال : سيروا هذا جمدان سبق المفردون قالوا : و ما المفردون يا رسول الله قال : الذاكرون الله كثيرا و الذكرات رواه مسلم في الصحيح عن أمية بن بسطام

جو ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو زکریا عنبری نے ان کو ابو عبداللہ بو شنجی نے ان کو امیہ بن بسطام نے ان کو یزیدبن زریع نے ان کو روح بن قاسم نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چل رہے تھے ، آپ ایک پہاڑپر سے گذرے اسے جمدانکہا جاتا تھا آپ نے فرمایا چلو پھر سیر کرو) یہ پہاڑ جمدان ہے ۔ پھر فرمایا کہ مفرد ۔ لوگ ( اللہ کو ایک قرار دینے والے ) سبقت کر گئے ہیں ۔ آگے بڑھ گئے ہیں ۔ اصحاب نے پو چھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفر دون کون ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں۔ اس کو مسلم نے صحیح میں امیہ بن بسطام سے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أبو عبد الله البوشجني ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Hadith 505

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 506

505 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا أبو عامر العقدي ثنا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحرقة قال : سمعت أبا هريرة رضي الله عنه يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم سبق المفردون قلت : و ما المفردون ؟ قال : الذين يهترون في ذكر الله عز و جل

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین احمد بن عثمان مقری نے بغداد میں ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو علی بن مبارک نے ان کو یحیی بن ابو اکثیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن یعقوب مولیٰ الحرقہ نے ان کو ابوہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مفردون سبقت کر گئے ہیں ۔ میں پوچھا مفردون کون ہیں ؟ فرمایا کہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ذکر میں کثرت کرتے ہیں (ذکر میں مگن رہتے ہیں منہمک رہتے ہیں )

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحرقة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 506

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 507

506 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح أنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق بن راهويه أنا محمد بن بشر العبدي عن عمر بن راشد اليمامي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سيروا سبق المفردون قيل يا رسول الله و من المفردون ؟ قال : المستهترون لذكر الله عز و جل يضع الذكر عنهم أثقالهم فيأتون يوم القيامة خفافا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد صبیح نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحاق بن راھویہ نے ان کو محمد بن بشر عبدی نے ان کو عمر بن راشد یمامی نے ان کو یحیی بن ابی کثیر نے ۔ ان کو سلمہ نے ان کو حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایاکہ چلو مفردون سبقت کر گئے ہیں ۔ کہا گیا یا رسول اللہ مفر دون کون ہیں ؟ فرمایا للہ کے ذکر کی کثرت کرنے والے ذکر کے رسیا ذکر میں مگن رہنے والے ذکر اللہ ان سے ان کے ثقل اور بوجھ ہلکے کر دے گا لہذا قیامت کے وہ ہلکے پھلکے آئیں گے۔

سيروا سبق المفردون قيل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ الْيَمَامِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 507

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 508

507 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد ثنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا محمد بن يزيد العجلي ثنا محمد بن بشر : فذكره بإسناده بنحوه غير أن قال الذين اهتروا بذكر الله يضع الذكر عنهم أوزارهم و لم يذكر ما بعده و الإسناد الأول أصح و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشر ان نے بغداد میں ۔ ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو الدنیا نے ان کو محمد بن یزید عجلی نے ان کو محمد بن بشر نے پھر انہوں نے اس کو اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اسی مذکور کی مثل سوائے اس کے کہ یہ کہا ہے ۔ کہ وہ ولوگ جو ذکر کے ساتھ کثرت کرتے ہیں ذکر ان سے ان کے بوجھ اتاردے گا ۔ اور اس کا مابعدذکر نہیں فرمایا اور پہلی اسناد زیادہ صحیح ہے و اللہ اعلم ۔

محمد بن بشر فذكره بإسناده بنحوه غير أن ← محمد بن يزيد العجلي ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Hadith 508

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 509

508 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو صادق العطار قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من عجز منكم عن الليل أن يكابده و بخل بالمال أن ينفقه و جبن عن العدو أن يجاهده فليكثر من ذكر الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ۔ اور صادق عطار نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو یحییٰ قتات نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم میں سے رات کی عبادت کرنے سے اور اس کی مشقت اٹھانے سے قاصر ہے اور مال خرچ کرنے سے بخیل ہے ۔ اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے بزدل ہے اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے ذکرکی کثرت کرے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو صادق العطار

Hadith 509

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 510

509 - أخبرنا الشيخ الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا إسحاق بن بكر عن أبيه عن جعفر بن ربيعة عن ربيعة بن يزيد الدمشقي عن إسماعيل بن عبيد الله مولى بني مخزوم قال : دخلت على أم الدرداء رضي الله عنها فلما سلمت جلست سمعت كريمة بنت الحسحاس المزنية قال : و كانت من صواحب أم الدرداء و تقول : سمعت أبا هريرة رضي الله عنه في بيت هذه تشير إلى أم الدرداء يقول : سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل قال : أنا مع عبدي ما ذكرني و تحركت بي شفتاه

ہمیں خبر دی شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ان کو اسحاق بن بکر نے ان کو ان کے والد نے ان کو جعفر بن ربیعہ بن یزید دمشقی سے ان کو اسماعیل بن عبداللہ مولیٰ بنی مخزوم نے کہتے ہیں کہ میں بی بی ام دردا ء ضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا جب میں نے سلام کیا تو بیٹھ گیا کہ میں کریمہ بنت خسحاس مزنیہ سے سنا فرمایا کہ وہ بی بی ام دردا ءکی سہیلی تھی کہتی تھیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنا ان کے گھر میں ام درداء کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کتنے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں جب تک وہ میرے ذکر کرتا رہتا ہے ۔ اس کے دونوں ہونٹ میرے ذکر کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں ۔

مع عبدي ما ذكرني و تحركت بي شفتاه ← أبا القاسم صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل ← أبا هريرة في بيت هذه تشير إلى أم الدرداء ← و كانت من صواحب أم الدرداء و تقول ← كريمة بنت الحسحاس المزنية ← دخلت على أم الدرداء فلما سلمت جلست ← إسماعيل بن عبيد الله مولى بني مخزوم ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقَ بْنِ بَكْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← الشيخ الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان

Hadith 510

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 511

510 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن الوليد بن مزيد أنبا أبي قال : سمعت ابن جابر : يقول حدثني إسماعيل بن عبيد الله عن كريمة بنت الحسحاس المزنية أنها قالت حدثنا أبو هريرة و نحن في بيت هذه يعني أم الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال ربك عز و جل أنا مع عبدي ما ذكرني وتحركت بي شفتاه هكذا روياه عن إسماعيل بن عبيد الله ورواه الأوزاعي عن إسماعيل عن أم الدرداء عن أبي هريرة موقوفا مرة و مرة مرفوعا و روايتهما أصح من رواية الأوزاعي و ذكر أيضا معنى :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا ابن جابر سے ان کو بیان کیا اسماعیل بن عبیداللہ نے کریمہ بنت حسحاس مزنیہ نے وہ کہتی ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور ہم ان کے یعنی ام درداء کے گھر میں تھے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ تیرے رب نے فرمایاہے ۔ میں اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا جب تک کہ وہ مجھےیاد کرتا ہے اور جب تک اس کے ہونٹ میرے ساتھ متحرک رہتے ہیں ۔ اسی طرح بخاری مسلم نے اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن عبیداللہ سے اور روایت کیا ہے اس کو اوزاعی نے اسما عیل سے انہوں نے ام درداء سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دفعہ مرفوع اور دوسری دفعہ موقف طریقہ سے اور دونوں کی روایت اوزاعی کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور آنے والی روایت کی معنی و مفہوم بھی ذکر کیا ہے۔

كريمة بنت الحسحاس المزنية ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← ابْنِ جَابِرٍ ← العباس بن الوليد بن مزيد انبأ أبي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 511

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 512

511 - ما أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا الحسين بن علي الحافظ ثنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ثنا يزيد بن سنان ثنا عمرو بن حصين ثنا محمد بن علاثة عن إبراهيم بن أبي عبلة عن عمر بن عبد العزيز عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من ساعة تمر بابن آدم لم يذكر الله فيها إلا تحسر عليها يوم القيامة و في هذا الإسناد ضعف غير أن له شواهد من حديث معاذ

اس کی ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسین بن علی حافظ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم بن یونس نےمصر میں ، ان کو یزید بن سنان نے ان کو عمرو بن حصین نے ان کو محمد بن علاثہ نے ابراہیم بن ابی عبلہ سے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے عدوۃ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی ساعت نہیں گذرتی ابن آدم پر جس میں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہوگا ۔ مگر اس ساعت پرقیامت کے دن افسوس کر ے گا ۔ اس سند میں ضعف ہے ہاں مگر اس کے حدیث معاذ سے شواہد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← محمد بن علاثة ← عمرو بن حصين ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ← الحسين بن علي الحافظ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← مَا

Hadith 512

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 513

512 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو عمرو بن مطر أنا جعفر بن محمد بن المستفاض الفريابي ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا يزيد بن يحيى القرشي ثنا ثور بن يزيد ثنا خالد بن معدان عن جبير بن نفير عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس يتحسر أهل الجنة إلا على ساعة مرت بهم لم يذكروا الله فيها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو جعفر بن محمد مستفاض فریابی نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو یزید بن یحییٰ قرشی نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن سعد ان نے ان کو جبیر بن نضیر نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کہ اہل جنت کسی شے پر حسرت و افسوس نہیں کریں گے مگر اسی ساعت پر جس میں انہوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تھا ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← يزيد بن يحيى القرشي ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ الْفِرْيَابِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 513

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 514

513 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان قال : روي عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس يتحسر أهل الجنة إلا على ساعة مرت بهم لم يذكروا الله فيها قال : يعقوب حدثني بذلك محمود بن خالد عن سليمان بن عبد الرحمن ثنا يزيد بن يحيى أبو خالد عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير يعني عن معاذ

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ: اہل جنت کسی ساعت پر حسرت و افسوس نہیں کریں گے مگر اس ساعت پر جوان پر ایسی گذری ہو گی جس میں انہوں نے ذکر اللہ نہ کیا ہوگا۔یعقوب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث محمود بن خالد نے سلیمان بن عبدالرحمٰن سے بیان کی ان کو یزید بن یحییٰ نے ابو خالد نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو جبیر بن نضر نے یعنی معاذ سے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← رُوِيَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 514

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 515

514 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمدآباذي ثنا عباس الدوري ثنا محمد يزيد بن خنيس قال : دخلنا على سفيان الثوري نعوده بمكة فدخل علينا سعيد بن حسان المخزومي فقال له سفيان الثوري : الحديث الذي حدثتنيه عن أم صالح أردده علي فقال سعيد نعم حدثتني أم صالح عن صفية بنت شيبة عن أم حبيبة زوج النبي صلى الله عليه و سلم و رضي عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلام ابن آدم كله عليه لآله إلا أمر بمعروف أو نهي عن منكر أو ذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو علی دو زباری نے ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو عباس دوری نے ان کو محمد یزید بن حنیس نے وہ فرماتےہیں کہ ہم حضرت سفیان ثوری کے پاس مکہ میں ان کی بیمارپرسی کرنے کے لیے پہنچے ہمارے اوپر سعید بن حسان مخزومی بھی پہنچ گئے سفیان ثوری نے ان سے کہا وہ حدیث جو آپ نے مجھے ام صالح سے بیان کی تھی اس کو میرے سامنے ذرا دہرائیے سعید نے ہاں کی ( اور شروع ہو گئے ) مجھے حدیث بیان کی ام صالح نے ان کو صفیہ بنت شیبہ نے ان کو ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : ابن آدم ہر کلام اس کے اوپر وبال ہے اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہے ۔ سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ( اچھائی کی تلقین کرنے اور برائی سے روکنے کے ) اور سوائے اللہ کے ذکر کے۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← سعيد نعم حدثتني أم صالح ← أم صالح أردده علي ← له سفيان الثوري الحديث الذي حدثتنيه ← دخلنا على سفيان الثوري نعوده بمكة فدخل علينا سعيد بن حسان المخزومي ← محمد يزيد بن خنيس ← عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 515

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 516

515 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو صالح ثنا معاوية بن صالح عن عمرو بن قيس الكندي عن عبد الله بن بسر قال : جاء أعرابيان إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يسألانه فقال أحدهما يا رسول الله أي الناس خير ؟ قال : من طال عمره و حسن عمله و قال الآخر يا رسول الله : إن شرائع الإسلام قد كثرت علي فمرني بأمر أتشبت به قال : لا يزال لسانك رطبا بذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو الحسین محمد بن حسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ بن صالح ان کو عمر و بن قیس کندی نے ان کو عبداللہ بن بسرنے انہوں نے کہاکہ دو دیہاتی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ سے کچھ پو چھنا چاہتے تھے ۔ ایک نے کہا یار سول اللہ کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ وہ شخص جس کی عمر لمبی ہو جائے اور اس کے عمل نیک ہوں۔ دوسرے نے سوال کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک اسلام کے احکامات تو بہت ہیں میرے اوپر آپ مجھے کسی ایسی بات کا حکم فرمائیے کہ جس کو میں مظبوطی سے پکڑلوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر کے ساتھ تر رہنی چاہئے۔

أَحَدُهُمَا ← جاء أعرابيان إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يسألانه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ

Hadith 516

chevron_left Previous
1234…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood