شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 505
504 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو زكريا العنبري أنا أبو عبد الله البوشجني ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع حدثنا روح بن القاسم عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسير في طريق مكة فمر على جبل يقال له جمدان فقال : سيروا هذا جمدان سبق المفردون قالوا : و ما المفردون يا رسول الله قال : الذاكرون الله كثيرا و الذكرات رواه مسلم في الصحيح عن أمية بن بسطام
جو ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو زکریا عنبری نے ان کو ابو عبداللہ بو شنجی نے ان کو امیہ بن بسطام نے ان کو یزیدبن زریع نے ان کو روح بن قاسم نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چل رہے تھے ، آپ ایک پہاڑپر سے گذرے اسے جمدانکہا جاتا تھا آپ نے فرمایا چلو پھر سیر کرو) یہ پہاڑ جمدان ہے ۔ پھر فرمایا کہ مفرد ۔ لوگ ( اللہ کو ایک قرار دینے والے ) سبقت کر گئے ہیں ۔ آگے بڑھ گئے ہیں ۔ اصحاب نے پو چھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفر دون کون ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں۔ اس کو مسلم نے صحیح میں امیہ بن بسطام سے روایت کیا ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أبو عبد الله البوشجني ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا
Hadith 505
