Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان بالقرآن المنزل على نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و سائر الكتب المنزلة على الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين · حديث 168

168 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن كثير ثنا إسرائيل عن عثمان بن المغيرة عن سالم ـ يعني ابن أبي الجعد ـ عن جابر بن عبد الله قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعرض نفسه على الناس بالموسم فقال ألا رجل يحملني إلى قومه فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي عز و جل و روينا عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه : أنه لما قرأ سورة الروم على مشركي مكة فقالوا هذا مما أتى به صاحبك ؟ قال : لا و لكنه كلام الله عز و جل و قوله و في رواية أخرى : ليس بكلامي و لا كلام صاحبي و لكنه كلام الله عز و جل و روينا عن عامر بن شهر أنه قال : كنت عند النجاشي فقرأ ابن له آية من الإنجيل فضحك فقال أتضحك من كلام الله عز و جل ! و روينا عن خباب بن الأرت أنه قال : تقرب ما استطعت و اعلم أنك لن تتقرب إلى الله بشيء أحب إليه من كلامه و روينا عن ابن مسعود أنه قال : أصدق الحديث كلام الله عز و جل و عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : القرآن كلام الله عز و جل و عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال : لو أن قلوبنا طهرت لما شبعنا من كلام الله تعالى و عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال : ما حكمت مخلوقا إنما حكمت القرآن وعن ابن عباس : أنه صلى على جنازة فقال رجل اللهم رب القرآن العظيم اغفر له فقال ابن عباس ثكلتك أمك ! إن القرآن منه أن القرآن منه و قد ذكرنا أسانيد هذه الآثار في كتاب الصفات مع سائر ما ورد فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم و عن أصحابه و التابعين و أتباعهم

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روز باری نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن داسہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن کثیر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل نے عثمان بن مغیرہ سے انہوں نے سالم سے یعنی ابن ابو جعد سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم موسم حج میں اپنے آپ کو لوگوں پر پیش فرماتے تھے کہ کیا ہے کوئی آدمی ؟ جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے ۔ اس لئے کہ قریش نے مجھے منع کر دیا ہے کہ میں اپنے رب کا کلام لے جاؤں ( یہاں بھی رب کا کلام کہا ۔ ) ایسے ہیں ) ہم نے حضرت ابو بکر صدیق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے جب مکہ کے مشرکوں کے سامنے سورۃ روم پڑھی تو انہوں نے کہا یہ تو وہی ہے جو تیرا دوست ( محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ) لایا ہے تو صدیق نے جواب دیا کہ ۔ لا کلمتہ کلام اللہ عزوجل نہیں بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ ( انہوں نے بھی کلام اللہ فرمایا ) ۔ اور ایک دوسری روایت میں ایسے الفاظ ہیں کہ یہ نہ تو میرا کلام ہے اور نہ ہی میرے ساتھی ( محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ) کا کلام ہے بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ ( یہاں بھی صدیق نے کلام اللہ فرمایا ) ۔ اور ہم نے عامر بن شہر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں شاہ حبشہ نجاشی کے پاس بیٹھا تھا اس کے ایک بیٹھے نے انجیل کی کوئی آیت پڑھ ڈالی اور پھر خود ہی ہنس پڑا ۔ تو نجاشی نے کہا کیا تم کلام اللہ پر ہنستے ہو ۔ ( نجاشی نے بھی کلام اللہ کہا ) ۔ اسی طرح ہم نے حضرت خباب بن ارت سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس قدر استطاعت رکھتے ہو اللہ کا قرب حاصل کرو اور یقین کرو تم ہر گز اللہ کے قریب نہیں ہو سکتے کسی بھی چیز کے ذریعے جو اللہ کو اس کلام سے زیادہ محبوب ہو۔ ( انہوں نے بھی کلام اللہ فرمایا ) اور ہم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اصدق الحدیث کلام اللہ کی سچی بات اللہ کا کلام ہے ( انہوں نے بھی اللہ کا کلام فرمایا ) ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا القران کلام اللہ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( لو ان قلوبنا طھرت لما شبعنا من کلام اللہ ) اگر ہمارے دل پاک ہوں تو ہم اللہ کے کلام سے کبھی سیر نہیں ہوں گے ۔ ( انہوں نے بھی کلام اللہ کہا ) ۔ اور حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( ماحکمت مخلوقا، انما حکمت القران ) کہ میں نے کسی مخلوق کو فیصل نہیں بنایا بلکہ میں نے تو قرآن کو فیصل بنایا ہے ۔ ( قرآن کہا جب کہ قرآن یہ وہ چیز ہے جو کلام اللہ ہونے کے یقین کے ساتھ پڑھی جاتی ہے ( وہی کلام اللہ فرمایا ) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک جنازہ کی نماز پڑھائی اور دعا میں ایک آدمی نے یوں کہا : ( اللھم رب القرآن العظیم اغفرلہ فقال لہ ابن عباس ثکلتک امک ان القران منہ ان القران منہ ) اے اللہ اے عظیم قرآن کے رب اس بندے کو معاف فرما دے تو حضرت عبداللہ بن عباس نے اس شخص کو کہا کہ بے شک قرآن اسی سے ہے بے شک قرآن اسی سے ہے ( یعنی اس کا کلام ہے اس کی صفت ہے ) ۔ ان مذکورہ اسناد کی ہم نے کتاب الصفات میں بیان کر دی ہیں ور اس بارے میں جو کچھ نبی کریم سے اور ان کے صحابہ و تابعین سے اور تبع تابعین سے مروی ہے وہ بھی ذکر کر دیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all · Hadith 168

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان بالقرآن المنزل على نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و سائر الكتب المنزلة على الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين · حديث 169

169 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي في التاريخ ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الأصبهاني أخبرنا أبو أحمد محمد بن سليمان بن فارس حدثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال الحكم بن محمد أبو مروان الطبري : حدثناه سمع ابن عيينة قال : أدركت مشيختنا منذ سبعين سنة منهم عمرو بن دينار يقولون : القرآن كلام الله ليس بمخلوق كذا قال البخاري عن الحكم و رواه سلمة بن شبيب عن الحكم بن محمد قال حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار قال : سمعت مشيختنا منذ سبعين يقولون فذكر معنى هذه الحكاية

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے التاریخ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو اسحٰق ابراہیم بن عبداللہ اصفہانی نے انہوں نے خبر دی ہے ابو احمد محمد بن سلیمان بن فارس سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا ہے حکم بن محمد ابو مروان نے کہ ہمیں اس کی خبر دی ہے سمع بن عیینہ نے وہ کہتے ہیں میں نے ستر سال سے اپنے مشائخ کو ایسا پایا ہے کہ جن میں عمرو بن دینار بھی ہیں وہ سب یہ کہتے تھے کہ : ( القران کلام اللہ لیس بمخلوق ) قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے ۔ بخاری حکم سے ایسے ہی روایت فرمایا ہے ۔ اس کو روایت کیا ہے سلمہ بن شبیب نے حکم بن محمد سے کہ انہوں نے فرمایا ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مشائخ سے سنا ستر سال سے کہ وہ کہتے تھے ۔ پھر اسی مذکورہ حکایت کا مفہوم ذکر فرمایا ۔

معنى هذه الحكاية ← مشيختنا منذ سبعين يقولون ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الحكم و رواه سلمة بن شبيب ← الْبُخَارِيِّ ← أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مُنْذُ سَبْعِينَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مَرْوَانَ الطَّبَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الأصبهاني ← أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي في التاريخ

Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all · Hadith 169

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان بالقرآن المنزل على نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و سائر الكتب المنزلة على الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين · حديث 170

170 - أخبرنا أبو منصور الفقيه أنا أبو أحمد الحافظ أخبرنا أبو عروبة السلمي قال أخبرنا سلمة بن شبيب : فذكره و كذلك رواه غير الحكم بن محمد عن سفيان قال البيهقي رحمه الله : مشيخة عمرو بن دينار جماعة من الصحابة منهم عبد الله بن عباس و عبد الله بن عمر و جابر بن عبد الله و عبد الله بن الزبير و أكابر التابعين و روينا هذا القول عن علي بن الحسين و جعفر بن محمد الصادق و مالك بن أنس و الليث بن سعد و سفيان بن عيينة و حماد بن زيد و عبد الله بن المبارك و عبد الرحمن بن مهدي و محمد بن إدريس الشافعي و يحيى بن يحيى و أحمد بن حنبل و أبي عبيد و محمد بن إسماعيل البخاري في مشيخة أجلة سواهم و إنما أحدث هذه البدعة الجعد بن درهم و منه كان يأخذ جهم فذبحه خالد بن عبد الله القسري يوم الأضحى قال الأستاذ أبو بكر بن فورك رحمه الله : لو كان كلام الباري جل و عز محدثا كان قبل حدوثه موصوفا بأنه يمنع منه كما لو كان غير عالم كان موصوفا بجهل و آفة مانعة منه و لو كان كذلك لما صح أن يتكلم في حال كما لا يصح أن يعلم لو كان لم يزل غير عالم فوجب أنه لم يزل متكلما لما لم يلحق به أضداد الكلام من السكوت و الخرس و الطفولية و إن شئت قلت : كلام الله سبحانه لو كان مخلوقا كان يجب أن يكون موصوفا بضده قبل خلقه له لاستحالة أن يخلو الحي من الكلام و ضده و ضد الكلام و كان قديما لم يجز عدمه و كان يؤدي إلى إحالة وصفه بالأمر و النهي و الخبر و ذلك خلاف الدين و لأن الكلام لو كان مخلوقا كان لا يخلو من أن خلقه في نفسه أو في غيره أو في لا شيء و يستحيل أن يخلقه في لا شيء لأنه عرض و العرض لا يقوم بنفسه و يستحيل أن يخلقه في نفسه لاستحالة أن يكون محلا للحوادث و يستحيل أن يخلقه في غيره لأنه لو كان مخلوقا في غيره لكان مضافا إلى ذلك الغير بأخص أوصافه كسائر الأعراض التي هي علم و قدرة و حياة إذ خلقها في غيره و لو كان كذلك لم يكن كلاما لله و لا أمرا له فإن قيل : يكون كلاما له كما يكون فعله تفضلا له و إن كان في غيره قيل : التفضل هو اسم يعم أجناسا و نحن قلنا يضاف إليه بأخص أوصافه فإن كان قوة أضيفت إلى ما خلقت فيه و إن كان سمعا و بصرا فكذلك فقولوا بأنه يضاف إليه باسم الأمر و النهي بلفظ الكلام و القول فإن لم يضيفوه لا بالأخص ولا بالأعم و لا إلى الجملة و لا إلى المحل فقد افترق الأمر فيهما فإن قيل لو كان كلامه غير مخلوق لكان لم يزل مخبرا : { إنا أرسلنا نوحا } و لم يزل يرسل ذلك كذب قيل : أو ليس قد قال : { و قال الشيطان لما قضي الأمر إن الله وعدكم وعد الحق } و لم يقل بعد أفهو كذب ؟ فإن قال معناه سيقول قيل ذلك قوله : { إنا أرسلنا نوحا إلى قومه } في أزله خبرا عن أن سنرسل نوحا قبل إرساله فإذا أرسل يكذب خبرا عن إرساله أنه وقع من غير أن يحدث خبرا كما أن علمه بأن سيكون الدنيا علمه بأنه كائن و إذا كان لم يحدث علم إنما حدث المعلوم و المخبر عنه دون العلم و الخبر فإن قالوا : لو كان لم يزل متكلما لكان لم يزل آمرا وأمر من ليس بموجود محال قيل من قال من أصحابنا لم يزل آمرا فهو يقول لم يزل آمرا له يكون على معنى إذا خلقت و بلغت و كمل عقلك فافعل كذا كأوامر الرسول صلى الله عليه و سلم لمن يأتي بعده و من قال لم يزل غير آمر و إنما يكون كلامه أمرا لحدوث معنى فنقول لا يجب إذا كان لم يزل متكلما أن يكون لم يزل آمرا لأن حقيقة الكلام غير حقيقة الأمر و لم يكن كلاما لأنه أمر و إنما كان كلاما لأنه مسموع يفيد معاني المتكلم و ينفي السكوت و الخوص و يكون أمرا لعلة الإفهام أن كذا يلزمه أن يفعله فإن قيل : لو كان لم يزل متكلما لكان هاذيا إذ لا يسمع كلامه أحد قيل أليس المسبح لا يسمع كلامه أحد و لا يكون هذيا فإن قيل : الله يسمعه قيل : فهو يسمع الهذيان أيضا و لا يخرجه من أن يكون هذيانا و لأن معنى الهذيان أنه كلام لا يفيد و كلام الله يفيد المعاني الجليلة فإن احتج محتج بالحروف و تأخر بعضها عن بعض و في ذلك دلالة على الحدث و كلام الباري ليس بحروف و إنما هو معنى موجود قائم بذاته يسمع و تفهم معانيه و الحروف تكون أدلة عليه كما تكون الكتابة أمارات الكلام و دلالات عليه و كما يعقل متكلما لا مخارج له و لا أدوات كذلك يعقل له كلاما ليس بحروف و لا أصوات وقوله : { ما يأتيهم من ذكر من ربهم محدث } دليلنا لأنه لولا أن في الأذكار ذكرا غير محدث ما كانت له فائدة كما أن من قال جاءني رجل له رأس ما كانت له فائدة إذ لا يخلو منه رجل و معنى الذكر كلام الرسول صلى الله عليه و سلم أو نفس الرسول لأنه هو الذي يأتي في الحقيقة و أما النسخ و التبديل و الحفظ فكل ذلك راجع إلى الأحكام و إلى القراءة الدالة على الكلام لا إلى عين الكلام و كذلك التبعيض إنما هو في القراءة الدالة عليه و القراءة غير المقروء كما أن ذكر الله غير الله و قوله : { إنا جعلناه قرآنا عربيا } يريد به سميناه كقوله { وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا } يعني وصفه الملائكة إناثا ـ قال الحليمي رحمه الله و قوله عز و جل : { إنه لقول رسول كريم } { و لا بقول كاهن } و قال { إنه لقول رسول كريم * ذي قوة عند ذي العرش مكين * مطاع ثم أمين } فإنما معناه إنه لقول رسول كريم أي قول تلقاه عن رسول كريم أو قول سمعه عن رسول كريم إذ نزل به عليه رسول كريم و قد قال في آية أخرى : { وإن أحد من المشركين استجارك فأجره حتى يسمع كلام الله } فأثبت أن القرآن كلامه و لا يجوز أن يكون كلامه و كلام جبريل معا فدل أن معناه ما قلنا قال البيهقي رحمه الله : و المقصود من تلك الآية تكذيب المشركين فيما كانوا يزعمون من وضع النبي صلى الله عليه و سلم هذا القرآن ثم قد أخبر الله عز و جل أنه هو الذي نزل به الروح الأمين عليه السلام على قلب محمد صلى الله عليه و سلم و أن جبريل نزل به من عنده و بالله التوفيق و أما الوجه الثاني و هو الاعتراف بأنه معجز النظم فقد مضى الكلام فيه و الإعجاز عند أكثر أصحابنا يقع في قراءة القرآن فنظم حروفه و دلالاته في عين كلامه القديم و لما كان الجن و الإنس عاجزين عن الإتيان بمثله و الملائكة أيضا عاجزون عن الإتيان بمثله لأنه في قول أكثر أهل العلم ليس من جنس نظوم كلام الناس و لا يهتدى إلى وجهه ليحتذى و يمثل و هو كتركيب الجواهر لتصير أجساما و قلب الأعيان إذ كما لا يقدر عليه الجن و الإنس لا يقدر عليه الملائكة و إنما وقع التحدي عليه للجن و الإنس دون الملائكة لأن النبي صلى الله عليه و سلم إنما أرسل إلى الجن و الإنس دون الملائكة و في ذلك ما أبان أن نظم القرآن ليس من عند جبريل و لكنه من عند اللطيف الخبير و هذا معنى كلام الحليمي رحمه الله الوجه الثالث : فبيانه أن الله عز و جل ضمن حفظ القرآن فقال : { إنا نحن نزلنا الذكر و إنا له لحافظون } و قال : { وإنه لكتاب عزيز * لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد } فمن أجاز أن يتمكن أحد من زيادة شيء في القرآن أو نقصانه منه أو تحريفه فقد كذب الله في خبره و أجاز الخلف فيه و ذلك كفر و أيضا فإن ذلك لو كان ممكنا لم يكن أحد من المسلمين على ثقة من دينه و يقين مما هو متمسك به لأنه كان لا يأمن أن يكون فيما كتم من القرآن أوضاع بنسخ شيء مما هو ثابت من الأحكام أو تبديله بغيره و بسط الحليمي رحمه الله الكلام فيه فصح أن من تمام الإيمان بالقرآن الاعتراف بأن جميعه هو هذا المتوارث خلفا عن سلف لا زيادة فيه و لا نقصان منه و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو احمد حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عروبہ سلمیٰ نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے سلمہ بن شبیب نے پھر مذکورہ قول کو نقل کیا اور اسی کو حکم بن محمد نے سفیان سے روایت کیا ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : عمرو بن دینار کے مشائخ صحابہ کرام کی ایک جماعت ہیں ان میں سے : 1۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ 2۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ 3۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، 4۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اکابر تابعین ہیں ۔ ہم نے یہی قول علی بن حسین سے اور جعفر بن محمد صادق سے اور مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ لیث بن سعد، سفیان بن عیینہ ، حماد بن زید، عبداللہ بن مبارک ، عبدالرحمن بن مہدی، محمد بن ادریس شاعی، یحییٰ بن یحییٰ ، احمد بن حنبل ابوعبید، محمد بن اسماعیل بخاری اور ان کے سوا جلیل القدر مشائخ سے یہی قول نقل کیا ہے جب کہ ( قرآن کے مخلوق ہونے ) والی بدعت کو جعد بن درہم نے ایجاد کیا تھا اور اس سے جھم نے نقل کیا تو اس کو خالد بن عبداللہ نے قسری عید قربانی کے دن ذبح کر دیا تھا۔ استاذ ابو بکر بن فورک رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کلام حادث و نو پیدا ہوتا اس کے لئے اور پہلی بار وجود میں آنے سے قبل اللہ تعالیٰ عدم کلام یعنی متکلم نہ ہونے کی صفت کے ساتھ موصوف ہوتا۔ جیسے کہ اگر اللہ تعالیٰ غیر عالم ہوتا تو جھل و نادانی سے اور علم سے مانع آفت سے موصوف ہوتا۔ اگر بالفرض و المحال ایسے ہوتا تو ضرور ایسا وقت بھی اس پر گزرا ہوتا کہ وہ اس حال میں متکلم نہ ہوتا ۔ جیسے اگر وہ شروع سے ہی نہ جانتا ہوتا تو ، تو ایک ایسا وقت بھی اس پر گزرا ہوتا کہ وہ اس وقت علم سے موصوف نہ ہوتا ( تو یہ تمام صفات و کیفیات نقص ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ ہمہ قسم کے نقائص سے پاک ہے ) لہذا واجب ہوا کہ اللہ تعالیٰ ازل سے متکلم تھا اس لئے کہ اس کو کلام کی منافی صفات مثلاً سکوت گونگا پن ۔ بچپن لاحق نہیں ہوتیں۔ اگر آپ چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ کلام اللہ اگر مخلوق ہوتا تو ضروری ہوتا کہ اس کے پیدا کرنے سے قبل اللہ تعالیٰ اس کی ضد اور مخالف صفت سے بھی موصوف ہوتے ۔ اس لئے کہ یہ محال ہے کہ کوئی حی اور زندہ صفت کلام سے بھی خالی ہو اور اس کے عدم سے بھی خالی ہو اور اگر عدم کلام اللہ تعالیٰ کے لئے قدیم ہوتا تو اس کا عدم یعنی متکلم ہونا ممکن نہ ہوتا اور یہ مفروضہ یہاں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام ان صفات کا محال ہونا لازم آتا ہے جیسے امر ہوا نہی ہوئی خبر ہوئی اور یہ سب دین کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کا کلام اگر مخلوق ہوتا تو تین حال سے خالی نہ ہوتا یا تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات میں پیدا کیا ہوتا۔ یا اپنے ما سوا اور غیر میں ۔ یا بالکل لاشی میں ۔ جب کہ یہ تیسری صورت عقلا محال ہے یعنی کلام کو پیدا کرتا لاشئی میں ۔ اس لئے کہ یہ عرض ہے اور عرض قائم بذات نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی محال ہے کہ اس کو اپنی ذات میں پیدا کرتا اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اندر تغیر و تصرف کر رہا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی تغیر و حوادث کا محل نہیں ہے ( بلکہ اس سے پاک ہے ) اور یہ بھی محال ہے کہ وہ کلام و اپنے سوا اور غیر میں پیدا کرتا۔ کیونکہ کلام اگر اللہ کے ماسوا اور غیر میں پیدا ہوتا تو اس کی نسبت اور اضافت بھی اسی غیر کی طرف ہوتی اسی کے خاص اوصاف کے طور پر تمام اعراض کی طرح جیسے علم ہو قدرت ہوئی حیات ہوئی تو جب ان کو غیر اللہ اور ماسوا اللہ میں پیدا کرتا تو وہ کلام اللہ نہ ہوتا۔ (بلکہ کلام غیر اور کلام فلاں ہوتا اور اس صورت میں کوئی امر اللہ کاامر نہ ہوتا اور کوئی نہی اللہ کی ہی نہ ہوتی۔ تو مطلب یہ برآمد ہوا کہ اللہ کا کلام اللہ کی صفت ہے اور قدیم ہے حادث نہیں ہے مخلوق نہیں ہے اس کا مخلوق ہونا محال ہے ( مترجم ) اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ کا کلام ما سوا اللہ میں از راہ تفصل و عنایت ہو سکتا تھا جیسے اس کا فعل بطور تفض و عنایت اسی کا ہو سکتا ہے اگرچہ وہ غیر میں ہو۔ تو اس کا یہ جواب دیا جائے گا کہ تفضل اسم ہے کئی کئی جنسوں کو شامل ہے اور ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کے خصوصی اوصاف کے طور پر ۔ پس اگر ایک قوت ہو جو منسوب کی گئی ہو اسی مخلوق کی طرف جس میں وہ پیدا کی گئی ہے اگرچہ سمع یا بصر ہو تو بھی اسی طرح ہوگا تو کہہ دو کہ بایں طور کہ امر اور نہی کے نام کے ساتھ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا کہ یہ فلاں کا قول ہے یا فلاں کا کلام ہے پس اگر نہ منسوب کریں اس کو نہ خصوصی طور نہ عمومی طور پر نہ جملہ کی طرف اور نہ ہی محل و جگہ کی طرف تو دونوں میں معاملہ جدا ہو جائے گا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر اللہ کا کلام مخلوق نہ ہوتا تو ہمیشہ مخبر ہوتا۔ ( انا ارسلنا نوحا) ( نوح ا) ہم نے نوح علیہ السلام کو بھیجا ۔ ہمیشہ بھیجتا جب کہ یہ جھوٹ ہے جاب میں کہا جائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ؟ ( و قال الشیطان لما قضی الا مر ان اللہ و عد کم و عد الحق ) ( ابراہیم ۲۲) شیطان کہے گا اس وقت جب فیصلہ ہو چکے گا بیشک اللہ نے ہمیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تمہیں جھوٹا وعدہ دیا تھا۔ اور یہ نہیں کہا کہ بعد میں کیا وہ جھوٹ ہے ؟ اگر مقرض کہے اس کا معنی ہے عنقریب کہے گا تو جواب دیا جائے گا کہ یہی جواب ہے انا ارسلناک نوحا کا بھی ہے کہ اس کے ازل میں خبر تھی اس بارے میں کہ عنقریب ہم نوح کو رسول بنا کر بھیجیں گے ۔ یہ خبر نوح کو بھیجنے کے بارے پہلے تھی ۔ اگر لوگ یہ اعتراض کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ متکلم ہوتا تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ ہمیشہ امر کرنے والا ہوتا حالانکہ اس طرح مخلوق کو امر کرنا لازم آتا ہے جو کہ موجود ہی نہیں کیونکہ ازل میں مخلوق موجود نہیں تھی لہذا اس کو امر کرنا جو موجود ہی نہ ہو محال ہے ۔ جواب دیا جائے کہ ہمارے اصحاب میں سے جس نے یہ کہا ہے کہ ہمیشہ امر کرنے والا تھا ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امر اس کیفیت سے تھا کہ ( اے مامور ) جب تو پیدا ہوگا اور پھر بالغ ہو گا اور تیری عقل مکمل ہو جائے گی تو یہ امر ( تجھ پر لاگو ہو جائے گا پھر ) تم اس وقت ایسے ایسے کرنا ۔ اسی کی مثال ایسی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے وہ امر ہیں جو بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے ہیں ۔ اور ہمارے اصحاب میں سے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ازل میں غیر امر تھا یعنی امر کنے والا نہیں تھا تو یہ مطلب ہوگا کہ اس کا کلام امر ہو گا معنی اور مفہوم کے حدوث و وجود کے لئے ۔ تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ لازم نہیں ہے کہ جب ازل میں متکلم ہو تو ازل ہمیشہ امر کرنے والا بھی ہو اس لئے کہ کلام کی حقیت امر کی حقیقت کی غیر ہے اور مختلف ہے ۔ کلام نہیں تھا کیونکہ امرت تھا ۔ کلام اس لئے تھا کہ مسموع تھا ایسا مسموع جو متکلم کے معانی و مطالب کا فائدہ دیتا تھا۔ جو سکوت کی نفی کرتا ہے جو گونگے پن کی نفی کرتا ہے اور امر ہوگا یہ سمجھانے کے لئے کہ اس کو ایسا کرنا لازم ہوگا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے کلام کرنے والا اور ہمیشہ متکلم تھا کہ مطلب تو یہ ہوگا کہ وہ ایسی غیر مفید اور غیر ضروری باتیں کرنے والا تھا جس کو کوئی سننے والا ہی نہیں تھا ؟ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ کیا تسبیح کرنے والا ایسے ہی نہیں ہوتا ؟ کہ اس کے کلام کو کوئی نہیں سنتا اس کے باوجود وہ بے ہودہ بکواس اور بڑبڑانا نہیں کہلاتا ۔ اگر کہا جائے کہ اس کو تو اللہ سنتا ہے تو جواب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ تو ھذیان کو اور بکواس کو بھی سنتا ہے مگر اللہ کا سننا ھذیان کو ھذیان سے خارج نہیں کرتا کیونکہ ھذیان کا مطلب غیر مفید کلام ہے جب کہ اللہ کا کلام بڑے عظیم معنی کا فائدہ دیتا ہے ۔ اگر کوئی دلیل پکڑنے ولاا حروف سے دلل پکڑے کہ حروف حادث ہیں اور مخلوق ہیں اور ایک دوسرے سے اگے پیچھے موخر ہیں ۔ اس میں حادث اور مخلوق ہونے کی دلیل ہے تو یہ بات درست نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حروف نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ ایک ایسا معنی اور مفہوم ہے جو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہے جو سنا جاتا ہے اور جس کے معانی سمجھے جاتے ہیں ۔ جب کہ حروف اس معنی اور مفہوم پر دلیل ہوتے ہیں ۔ جیسے تحریر اور حکمت کلام کے علامات ہوتے ہیں اور اس پر دلالت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ جیسے وہ معانی بطور متکلم سمجھے جاتے ہیں ۔ جب کہ نہ اس کے مخارج ہوتے ہیں نہ ہی حروف ۔ اسی طرح اس کا کلام سمجھا جاتا ہے جب کہ وہ کلام حروف ہوتے ہیں نہ ہی آواز ہوتے ہیں ۔ باقی رہا اللہ کا یہ فرمان : ( ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث ) ( الانبیاء ۲) کہ نہیں آتا کافروں کے پاس کوئی نیا ذکر ان کے رب کی طرف سے ۔ اس آیت میں اللہ کی طرف سے جو کلام آتا ہے اس کو حادث اور نیا قرار دیا ہے ۔ اس سے بھی حادث اور مخلوق ہونے کی دلیل نکلتی ہے ۔ ( مترجم ) ہماری دلیل یہ ہے کہ اگر اذکار میں سے کوئی ذکر غیر محدث ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا س کی مثال ایسے ہو گی جیسے کوئی شخص کہے کہ میرے پاس آدمی آیا ہے جس کا سر ہے تو اس کلام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لئے کہ سر سے خالی تو کوئی بھی نہیں ہے ۔ ( اور یا یہ تو جیہ کی جائے گی کہ ) ذکر سے مراد کلام رسول ہے ۔ یا نفس رسول ہے اس لئے کہ اتیان یعنی آنے کا لفظ استعمال ہوا ہے جب کہ حقیقتا آنا تو رسول کا ہی ہوتا ہے ۔ اگر کلام اللہ کے مخلوق ہونے اور حادث ہونے پر کوئی شخص اس کے نسخ ور تبدیل اور حفاظت سے دلیل پکڑے اور کہے کہ ( منسوخ تبدیل اور قابل حفاظت چیز مخلوق ہوتی ہے اور حادث ہوتی ہے ) تو جواب یہ دیا جائے گا کہ یہ تمام باتیں احکام و قرآت کی طرف راجح ہے میں جو کلام پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ کلام کے عین کے طرف۔ اسی طرح ہے تبعیض یعنی کم کرنا یہ قرات میں ہوتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے اور باقی رہی قرآت غیر معرف جیسے کہ ذکر اللہ ۔ اللہ کا غیر اور ماسوا ہے اور اس آیت سے مخلوق ہونے اور حادث ہونے پر دلیل پکڑنا۔ ( انا جعلناہ قرانا عربیا) ( زحرف ۳) کہ ہم نے اس کو بنا دیا ہے قرآن عربی۔ اس سے دلیل پکڑنا کہ چونکہ اللہ نے بنایا ہے تو مطلب یہی ہوا کہ وہ مخلوق ہے تو جواب یہ ہے کہ بنانے سے مراد تخلیق کرنا۔ از سرے تو بنانا نہیں بلکہ اس سے مراد ہے سمیناہ کہ ہم نے اس کا یہی نام رکھا ہے ۔ جیسے اس آیت میں جعل سے مراد بنان نہیں بلکہ نام رکھنا مراد ہے ۔ ( و جعلوا الملائکہ الذین ھم عباد الرحمن اناثا ) کہ مشرکوں نے ملائکہ جو کہ رحمن کے بندے ہیں مشرکوں نے ان کا مونث کر دیا ہے اور بنا دیا ہے اس سے مراد بنانا تخلیق کرنا نہیں جب کہ مراد ہے کہ انہوں نے ملائکہ کو مونث ہونے کے ساتھ منسوب و موصوف کر دیا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ( انہ لقول رسول کریم ٭) ( الحاقتہ ۴۰) بے شک قرآن قول ہے عزت والے قاصد کا ۔ ( ولا بقول کا ھن ) ( الحاقہ ۴۲) نہیں ہے قول کسی کاہن کا ۔ ( انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین ) ( التکویر ۱۹-۲۱) بے شک قرآن قول ہے عزت والے قاصد کا طاقت ور ہے عرش والے کے پاس قرار پکڑنے والا ۔ وہاں اطاعت کیا ہوا۔ ان تینوں آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید عزت والے قاصد کا قول ہے یعنی جبرائیل نے اس کو بول کر اور پڑھ کر رسول اللہ کو سنایا ہے اور کسی کاہن کا قول نہیں ہے یعنی ایسے کسی نا پاک کے منہ اور زبان کے الفاظ نہیں ہیں ۔ بلکہ مقدس فرشتے نے اللہ سے حاصل کر کے سب سے پہلے اس کا نطق کیا ہے ( مترجم ) شیخ حلیمی فرماتے یں کہ اس کا معنی ہے کہ وہ عزت والے قاصد کا بولا ہوا اور نطق کیا ہوا ہے یعنی رسول اللہ نے قرآن کو عزت والے رسول سے اور قاصد سے حاصل کیا ہے ۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایسا قول جس کو حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے عزت والے قاصد اور نمائندنے سے سنا ہے جب وہ عزت والا رسول اور نمائندہ قرآن کو لے کر حضور پر اترا ہے اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ ) اور اگر مشرکوں میں سے کوئی ایک بھی آپ سے پناہ مانتگے تو اسے پناہ دے دیجئے جہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے ۔ شیخ حلیمی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ثابت فرما دیا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ بات نا ممکن ہے کہ اللہ کا کلام جبرائیل کا کلام بھی ہو ایک ساتھ یعنی خالق کا کلام بعینہ مخلوق کا کلام ہو ایسا ہونا ممکن نہیں لہذا ثابت ہوا کہ وہی معنی ہوگا جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ آیات سے مقصود مشرکین کی تکذیب ہے ان کے اس گمان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس قرآن کو ازخود وضع کر لیا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ قرآن وہی ہے حضرت جبرائیل امین نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے قلب اطہر پر اتار ہے اور جبرائیل نے اس کو اللہ کی طرف سے اتارا ہے ۔ دوسری وجہ : بہرحال دوسری وجہ یعنی ایمان بالقرآن کا دوسرا شعبہ وہ ہے اس بات کا اعتراف و اقرار کرنا کہ قران معجز نظم ہے ۔ چنانہ اس پر بات چیت گزر چکی ہے ۔ باقی قرآن کا اعجاز ہمارے اکثر اصحاب کے نزدیک قرآن کی قرآت میں واقع ہے ۔ قرآن کے حروف کی نظم اور اس کی دلالت عین کلام قدیم میں ہے جب جن اور انسان قرآن کی مثل لانے سے عاجز تھے اور فرشتے بھی اس کی مثل لانے سے عاجز تھے اس لئے کہ اکثر اہل علم کے قول کے مطابق قرآن نظم ہے مگر لوگوں کے منظوم کلام کی جنس میں سے نہیں ہے اور اس کی ذات یاٍ اس کی توجیہ کی طرف راہ بھی ٍنہیں پائی جا سکتی تانکہ اس کا مقابلہ کیا جا سکے اور اس کی مثال بنائی جا سکے ۔ اور وہ مثل ترکیب جواہر کے ہے تانکہ اجسام بن سکیں ۔ اور ذوات کی الٹ پھیر ہو سکے کیونکہ جس طرح جن و انس اس کی مثل لانے سے عاجز ہیں اسی طرح اس کی مثل لانے سے فرشتے بھی عاجز ہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چیلنج جو واقع ہوا ہے وہ حرف جنوں اور انسانوں کو ہے فرشتوں کو نہیں ہے ۔ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جنوں اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ۔ فرشتوں کی طرف نہیں ۔ اس قرآن میں وہ آیات موجود ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ قرآن کی نظم جبرائیل کی طرف سے بھی نہیں ہے لیکن یہ تکلیف اور خبیر کی طرف سے ہے ۔ یعنی باریک میں اور خبر رکھنے والی ذات کی طرف سے ہے یہی معنی ہے حلیمی رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کا۔ تیسری وجہ : یعنی ایمان بالقرآن کا تیسرا شعبہ ۔ اس کا یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کی خود ضمانت دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ : ( انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون ) ( الحجر ۹) بے شک ہم ہی نے اس ذکو کو اتارا ہے اور بیشک ہم ہی ہیں اس کی حفاظت کرنے والے ۔ ( و انہ لکتاب عزیز لا یاتیہ الباطل مین بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ) ( فصلت ۴۱-۴۲) بے شک وہ قرآن مجید ایک کتاب عزیز ہے جس کے پاس باطل نہیں آ سکتا نہ اس کے آگے اور نہ ہی اس کے پیچھے یہ حکمت والے اور حمد والے رب کا اتارا ہوا ہے ۔ جس شخص نے اس بات کا امکان مانا ہے کہ کسی کو قرآن میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنے کی قدرت حاصل ہے یا اس سے کچھ کم کرنے یا اس کی تحریف کرنے کی قدرت ہے اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کی ہے اس کی خبر کے اندر اور اس خبر کے خلاف کا جواز و امکان مانا ہے جب کہ یہ بات کفر ہے ۔ ( اور اس کے غلط ہونے کی ایک عقلی وجہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ ) اگر یہ بات ممکن ہوتی تو کوئی مسلمان شخص بھی اپنے دین کے معاملے وثوق اور یقین پر نہ ہوگا۔ جس جس چیز میں بھی وہ قرآن سے تمسک اور استدلال کرے گا۔ اس لئے کہ اس کے پاس اس بات کی کوئی گارنتٹی نہیں ہو گی کہ جو کچھ ہے وہ صحیح ہے اور درست ہے ۔ بلکہ امکان پیدا ہو جائے گا کہ کوئی مسئلہ اس میں نہ ہو جس میں کتمان ہوا ہے یا جو ضائع ہوا ہے یا کوئی احکام جو ثابت تھے اس میں کوئی نسخ یا تبدیلی ہو گئی ہو۔ وغیرہ وغیرہ تو گویا اس طرح پورا دین و ایمان مشکوک ہو جائے گا۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس میں تفصیلی کلام کیا ہے لہذا یہ صحیح ہے کہ ایمان کی تکمیل اسی میں ہے اور ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ پورا قران مجید یہی ہے جو خلفا عن سلف متوارث چلا ا رہا ہے نہ اس میں کوئی زیادتی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز کم ہے ۔

سُفْيَانَ، ← سلمة بن شبيب فذكره و كذلك رواه غير الحكم بن محمد ← أَبُو عَرُوبَةَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو منصور الفقيه

Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all · Hadith 170

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood