شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان بالقرآن المنزل على نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و سائر الكتب المنزلة على الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين · حديث 168
168 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن كثير ثنا إسرائيل عن عثمان بن المغيرة عن سالم ـ يعني ابن أبي الجعد ـ عن جابر بن عبد الله قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعرض نفسه على الناس بالموسم فقال ألا رجل يحملني إلى قومه فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي عز و جل و روينا عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه : أنه لما قرأ سورة الروم على مشركي مكة فقالوا هذا مما أتى به صاحبك ؟ قال : لا و لكنه كلام الله عز و جل و قوله و في رواية أخرى : ليس بكلامي و لا كلام صاحبي و لكنه كلام الله عز و جل و روينا عن عامر بن شهر أنه قال : كنت عند النجاشي فقرأ ابن له آية من الإنجيل فضحك فقال أتضحك من كلام الله عز و جل ! و روينا عن خباب بن الأرت أنه قال : تقرب ما استطعت و اعلم أنك لن تتقرب إلى الله بشيء أحب إليه من كلامه و روينا عن ابن مسعود أنه قال : أصدق الحديث كلام الله عز و جل و عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : القرآن كلام الله عز و جل و عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال : لو أن قلوبنا طهرت لما شبعنا من كلام الله تعالى و عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال : ما حكمت مخلوقا إنما حكمت القرآن وعن ابن عباس : أنه صلى على جنازة فقال رجل اللهم رب القرآن العظيم اغفر له فقال ابن عباس ثكلتك أمك ! إن القرآن منه أن القرآن منه و قد ذكرنا أسانيد هذه الآثار في كتاب الصفات مع سائر ما ورد فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم و عن أصحابه و التابعين و أتباعهم
ہمیں خبر دی ہے ابو علی روز باری نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن داسہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن کثیر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل نے عثمان بن مغیرہ سے انہوں نے سالم سے یعنی ابن ابو جعد سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم موسم حج میں اپنے آپ کو لوگوں پر پیش فرماتے تھے کہ کیا ہے کوئی آدمی ؟ جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے ۔ اس لئے کہ قریش نے مجھے منع کر دیا ہے کہ میں اپنے رب کا کلام لے جاؤں ( یہاں بھی رب کا کلام کہا ۔ ) ایسے ہیں ) ہم نے حضرت ابو بکر صدیق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے جب مکہ کے مشرکوں کے سامنے سورۃ روم پڑھی تو انہوں نے کہا یہ تو وہی ہے جو تیرا دوست ( محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ) لایا ہے تو صدیق نے جواب دیا کہ ۔ لا کلمتہ کلام اللہ عزوجل نہیں بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ ( انہوں نے بھی کلام اللہ فرمایا ) ۔ اور ایک دوسری روایت میں ایسے الفاظ ہیں کہ یہ نہ تو میرا کلام ہے اور نہ ہی میرے ساتھی ( محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ) کا کلام ہے بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ ( یہاں بھی صدیق نے کلام اللہ فرمایا ) ۔ اور ہم نے عامر بن شہر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں شاہ حبشہ نجاشی کے پاس بیٹھا تھا اس کے ایک بیٹھے نے انجیل کی کوئی آیت پڑھ ڈالی اور پھر خود ہی ہنس پڑا ۔ تو نجاشی نے کہا کیا تم کلام اللہ پر ہنستے ہو ۔ ( نجاشی نے بھی کلام اللہ کہا ) ۔ اسی طرح ہم نے حضرت خباب بن ارت سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس قدر استطاعت رکھتے ہو اللہ کا قرب حاصل کرو اور یقین کرو تم ہر گز اللہ کے قریب نہیں ہو سکتے کسی بھی چیز کے ذریعے جو اللہ کو اس کلام سے زیادہ محبوب ہو۔ ( انہوں نے بھی کلام اللہ فرمایا ) اور ہم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اصدق الحدیث کلام اللہ کی سچی بات اللہ کا کلام ہے ( انہوں نے بھی اللہ کا کلام فرمایا ) ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا القران کلام اللہ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( لو ان قلوبنا طھرت لما شبعنا من کلام اللہ ) اگر ہمارے دل پاک ہوں تو ہم اللہ کے کلام سے کبھی سیر نہیں ہوں گے ۔ ( انہوں نے بھی کلام اللہ کہا ) ۔ اور حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( ماحکمت مخلوقا، انما حکمت القران ) کہ میں نے کسی مخلوق کو فیصل نہیں بنایا بلکہ میں نے تو قرآن کو فیصل بنایا ہے ۔ ( قرآن کہا جب کہ قرآن یہ وہ چیز ہے جو کلام اللہ ہونے کے یقین کے ساتھ پڑھی جاتی ہے ( وہی کلام اللہ فرمایا ) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک جنازہ کی نماز پڑھائی اور دعا میں ایک آدمی نے یوں کہا : ( اللھم رب القرآن العظیم اغفرلہ فقال لہ ابن عباس ثکلتک امک ان القران منہ ان القران منہ ) اے اللہ اے عظیم قرآن کے رب اس بندے کو معاف فرما دے تو حضرت عبداللہ بن عباس نے اس شخص کو کہا کہ بے شک قرآن اسی سے ہے بے شک قرآن اسی سے ہے ( یعنی اس کا کلام ہے اس کی صفت ہے ) ۔ ان مذکورہ اسناد کی ہم نے کتاب الصفات میں بیان کر دی ہیں ور اس بارے میں جو کچھ نبی کریم سے اور ان کے صحابہ و تابعین سے اور تبع تابعین سے مروی ہے وہ بھی ذکر کر دیا ہے ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all · Hadith 168
