Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 350

350 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن مهرويه الرازي ثنا عمرو بن تميم ثنا أبو نعيم ثنا سفيان الثوري عن سليمان التيمي عن أسلم العجلي عن بشر بن شغاف عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الصور قال : قرن ينفخ فيه

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے، ان کو ابو بکر محمد بن مہرویہ رازی نے ، ان کو عمرو بن تیم نے، ان کو ابو نعیم نے، ان کو سفیان ثوری نے ، ان کو سلیمان تیمی نے ، ان کو اسلم عجلی نے، ان کو بشر بن شغاف نے ، ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صور کے بارے میں پوچھاگیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک قرن (یعنی سینگ) ہے۔ اس میں پھونک ماری جائے گی۔

«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ» ← الصور، ← سئل النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← أبو بكر محمد بن مهرويه الرازي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 350

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 351

351 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال : سمعت يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود قال : سمعت رجلا قال لعبد الله بن عمرو : إنك تقول الساعة تقوم كذا و كذا فقال : لقد هممت ألا أحدثكم بشيء إنما قلت إنكم ترون بعد قليل أمرا عظيما فكان حريق البيت فقال شعبة هذا أو نحوه قال عبد الله بن عمرو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج الدجال في أمتي فيمكث فيهم أربعين لا ندري أربعين يوما أو أربعين شهرا أو أربعين عاما فيبعث الله عز و جل عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفي فيطلبه فيهلكه ثم يلبث الناس بعده سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله عز و جل ريحا باردا من قبل الشام فلا يبقى أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه قال سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم و يبقى شرار الناس في خفة الطير و أحلام السباع لا يعرفون معروفا و لا ينكرون منكرا فيتمثل لهم الشيطان فيقول ألا تستحيون فيأمرهم بالأوثان فيعبدونها و هم في ذلك دارة أرزاقهم حسن عيشهم ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ـ و رفع فيدار ( و هو خطأ ) إحدى منكبيه ـ و أول من يسمعه يلوط حوضه فيصعق ثم لا يبقى أحد إلا صعق ثم يرسل أو ينزل الله مطرا كأنه الطل أو الظل ـ النعمان الشاك ـ فينبت منه أجساد الناس ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون ثم يقال يا أيها الناس هلموا إلى ربكم عز و جل وقفوهم إنهم مسؤولون ثم يقال أخرجوا بعث النار فيقال كم ؟ فيقال من كل ألف تسعمائة و تسعة و تسعون قال محمد بن جعفر و حدثني شعبة بهذا الحديث مرات و عرضته عليه رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار قال البيهقي رحمه الله و لم يذكر عبد الله بن عمرو في هذا الحديث سائر الاعلام من خروج يأجوج و مأجوج و الدابة و طلوع الشمس من مغربها و قد ذكر غيره خروج يأجوج و مأجوج بعد نزول عيسى بن مريم و إرسال الله عليهم النغف و موتهم في قيام الساعة بعد ذلك و ذكر هو عن النبي صلى الله عليه و سلم أن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها و خروج الدابة على الناس ضحى فأيهما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها و قال من قبل نفسه : فأظن أولها خروجا طلوع الشمس من مغربها و إنما قال ذلك عبد الله بن عمرو حين أخبر بقول مروان بن الحكم أن أول الآيات خروجا الدجال فإذا كان حديث عبد الله صحيحا فهو أولى من غيره و هو صحيح لا شك فيه لصحة إسناده و الله أعلم و لا شك في كون هذه الآيات قبل النفخ في الصور تقدم بعضها أو تأخر و كلما هو آت قريب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ، ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے ، ان کو شعبہ نے ان کو نعمان بن سالم نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ایک آدمی سے اس نے کہا میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت ایسے ایسے قائم ہو گی۔ انہوں نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ میں کہتا ہوں کہ تم لوگ تھوڑے ہی دنوں کے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے (تھوڑے ہی دنوں کے بعد ) بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ پیش آ گیا ۔ شعبہ نے کہا یہ بات یہ اس جیسی بات۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دجال نکلے گا اور وہ چالیس رہے گا ان میں۔ میں نہیں جانتا کہ دن، مہینے یا سال۔ پھر اللہ تعالیٰ ان میں عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے ۔ وہ عروہ بن مسعود ثقفی جیسے ہوں گے۔ آ کر دجال کو تلاش کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے۔ پھر سات برس تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں بھی جھگڑا نہیں ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلائیں گے۔ جس سے ہر وہ آدمی انتقال کر جائے گا۔ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر ایمان ہو گا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں داخل ہو جائے تو وہ ہوا اس پر بھی پہنچ جائے گی۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اور بدترین لوگ زندہ باقی رہ جائیں گے۔ پرندوں کے ہلاک ہونے میں اور درندوں کے خوابوں میں (یعنی برائیوں کی طرف پرندوں کی طرح اڑ کر جائیں، اخلا میں درندوں کی طرح ) جو کسی نیکی کو نیکی نہیں سمجھیں گے اور کسی برائی کو برائی نہیں جانیں گے۔ شیطان ان کے سامنے بھیس بدل کر آئے گا اور ان سے کہے گا کیا تم لوگ شرم نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو کہے گا اور وہ بتوں کی عیادت کریں گے ۔ وہ اس کیفیت میں رزق کی فراوانی میں ہوں گے ، زندگی عیش کی ہو گی۔ اس کےبعد صور پھونک دیا جائے گا جو بھی سنے گا وہی کان لگائے گا اور کان لگاتے ہی مر جائے گا ۔ جو نظر اُٹھائے گا نیچے کرنے سے پہلے مر جائے گا جو کروٹ پھرے گا مڑنے سے پہلے مر جائے گا۔ پہلا شخص جو اس کی آواز سنے گا وہ پانی کو حوض پلاستر کر رہاہو گا سن کر بے ہوش ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی باقی نہیں رہےگا۔ سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش کریں گے۔ پھنوار کی طرح یا سائے کی طرح۔ نعمان کو شک ہے۔ اس بارش سے لوگوں کے جسم اگیں گے۔ اس کے بعد دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ (جس کے نتیجے میں لوگ) اچانک کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ (زندہ ہو کر) اس کے بعد لوگوں سے کہا جائے گا چلو تم اپنے رب کے پاس (اعلان ہو گا) روکو، ان کو ان کا حساب ہو گا۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ آگ اور جہنم کے لئے لوگوں کو نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنی تعداد میں؟ جواب آئے گا ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں بھیجو۔ محمد بن جعفر نے کہا کہ شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار بیان کی اور میں نے اس کو اس پر پیش بھی کیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن بشار سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو نے اس حدیث میں تمام بڑی بڑی نشانیاں ذکر نہیں فرمائیں جیسے یا جوج ماجوج کا نکلنا۔ دلبۃ الارض کا ظہور۔ سورج کا مغرب سے طلوع ۔ عبداللہ بن عمرو کے سوا باقیوں نے عیسیٰ بن مریم کے نزول کے بعد یا جوج ماجوج کا خروج ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یاجوج ماجوج پر وبائی مرض کے ساتھ موت بھیجناقیامت قائم ہونے پر اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے اور دلبۃ الارض کا ظہور صبح چاشت کے وقت ہو گا۔ دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہو ئی دوسری چیز اس کے پیچھے ہو گی۔ پھر انہوں نے اپنی طرف سے یہ بات کہی کہ میرا گمان ہے کہ ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا ہو گا۔ ہاں یہ بات عبداللہ بن عمرو نے اس وقت کہی تھی جب انہوں نے مروان بن حکم کے قوم کے بارے میں خبر دی تھی کہ خروج کے اعتبار سے پہلی نشانی دجا ل کا ظہور ہو گا۔ جب حدیث عبداللہ صحیح ہے تو وہ اپنے ماسوا سے اولیٰ ہے۔ اور وہ صحیح ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ان نشانیوں کے صور پھونکنے سے قبل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ بعض پہلے یا بعض بعد میں ہوں گی۔ مگر جو چیز آنے ولی ہے وہ قریب ہے۔

رَجُلًا ← يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 351

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 352

352 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا أبو عمرو سعيد بن حفص خال النفيلي ثنا موسى بن أعين عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد و عن عمران يعني البارقي عن عطية عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أنعم و صاحب القرن قد التقمه فأصغى سمعه و حنا جبينه ينتظر متى يؤمر فينفخ قالوا يا رسول الله كيف نقول قال : قولوا حسبنا الله و نعم الوكيل على الله توكلنا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے، ان کو احمد بن عبید صفار نے ، ان کو جعفر بن محمد فریابی نے، ان کو ابو عمر و سعید بن حفص خالد نفیلی نے ، ان کو موسیٰ بن اعین نے اعمش سے، انہوں نے ابو صالح سے ، انہوں نے ابی سعید سے اور عمران بارقی سے، انہوں نے عطیہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کیسی لگی ہیں یہ نعمتیں، حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے اسے منہ میں لے لیا ہے اور حکم سننے کے لئے کان لگا لیا ہے اور جبین جھکائے منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ پھونک مار دے۔ لوگوں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، تم یوں کہو: " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا " ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ، ہم نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← عمران يعني البارقي ← أبي سعيد و ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أبو عمرو سعيد بن حفص خال النفيلي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 352

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 353

353 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بالويه المزكي أخبرنا أبو وليد الفقيه ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى ثنا موسى بن أعين : فذكر حديث أبي صالح بمعناه قال البيهقي رحمه الله فإذا نفخ في الصور فصعق من في السموات و من في الأرض كما قال الله عز و جل : { و نفخ في الصور فصعق من في السموات و من في الأرض إلا من شاء الله } و اختلفوا في هذا الاستثناء فروي عن جابر بن عبد الله أنه قال : موسى فيمن استثنى الله فإنه صعق مرة و هذا لما في الحديث الثابت عن أبي هريرة في قصة المسلم الذي لطم اليهودي حين قال : و الذي اصطفى موسى على البشر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تفضلوا بين أنبياء الله فإنه ينفخ في الصور فصعق من في السموات و من في الأرض إلا من شاء الله ثم ينفخ فيه أخرى فأكون أول من بعث أو في أول من بعث فإذا موسى آخذ بالعرش فلا أدري أحوسب بصعقة يوم الطور أو بعث قبلي و هذا حديث صحيح قال البيهقي رحمه الله و وجهه عندي أن نبينا صلى الله عليه و سلم أخبر عن رؤية جماعة من الأنبياء ليلة المعراج و إنما يصح ذلك على تقدير أن الله تعالى رد إليهم أرواحهم فهم أحياء عند ربهم فإذا نفخ في الصور النفخة الأولى صعقوا فيمن صعق ثم لا يكون ذلك موتا في جميع معانيه إلا في ذهاب الاستشعار فإن كان موسى ممن استثنى عز و جل بقوله : { إلا من شاء الله } فإنه لا يذهب استشعاره في تلك الحالة و الله أعلم وروينا عن سعيد بن جبير أنه قال هم الشهداء ثنية الله عز و جل مقلدي السيوف حول العرش و روي فيه حديث مرفوع عن زيد بن أسلم عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سأل جبريل عليه السلام عن هذه الآية و قال : و من الذي لم يشأ الله عز و جل أن يصعقوا ؟ قال هم شهداء الله عز و جل و هذا لأن الله عز و جل أخبر في كتابه أنهم { أحياء عند ربهم يرزقون } فلا يموتون في النفخة الأولى فيمن يموت من الأحياء و الله أعلم و روينا عن زيد بن أسلم أنه قال : الذين استثنى الله عز و جل اثنا عشر جبريل و ميكائيل و إسرافيل و ملك الموت و حملة العرش ثمانية و ذهب الحليمي رحمه الله إلى اختيار قول من قال إن الاستثناء لأجل الشهداء و رواه عن ابن عباس و حمل قول النبي صلى الله عليه و سلم في موسى عليه السلام على أنه لم يدر أبعث قبل غيره من الأنبياء تخصيصا له عليه السلام كما فضل في الدنيا بالتكليم أو قدم بعثه على بعث غيره من الأنبياء عليهم السلام بقدر صعقته عندما تجلى ربه للجبل إلى أن أفاق ليكون هذا جزاء له بها و ليس فيه أن يموت عند النفخة الأولى و ضعف قول من زعم الاستثناء لأجل الملائكة الذين سماهم لأنهم ليسوا من سكان السموات و الأرض لأن العرش فوق السموات كلها و جبريل و ميكائيل من الصافين المسبحين حول العرش فلم يدخلوا في الآية و كذلك لا يدخل فيها الولدان و الحور لأن الجنة فوق السموات و الآية في سكان السموات و الأرض ثم قد ورد في بعض الآثار : أنه يميت حملة العرش و يميت جبريل و ميكائيل و ملك الموت ثم ينادي لمن الملك اليوم فلا يجبه أحد فيقول هو : لله الواحد القهار و قد روي فيه حديث مرفوع في إسناده ضعف و قد ذكرناه في كتاب البعث و أما الجنة و ما فيها من الحور الحيوان فإنها خلقت للبقاء لا للفناء و هي دار لذة و سرور و لم يأتنا خبر بموت من فيها فإن قيل : قد قال الله عز و جل : { كل نفس ذائقة الموت } { كل شيء هالك إلا وجهه } قال الحليمي رحمه الله : يحتمل أن يكون معناه ما من شيء إلا و هو قابل للهلاك فيهلك إن أراد الله به ذلك إلا وجهه أي إلا هو فإنه تعالى جده قديم و القديم لا يجوز عليه الفناء و ما عداه محدث و المحدث إنما يبقى قدر ما يبقيه محدثه فإذا حبس البقاء عني خطأ فني و لم يبلغنا في خبر أنه يهلك العرش و يفنيه فلتكن الجنة مثله و الله أعلم قال البيهقي رحمه الله و رويناه عن سفيان الثوري أنه قال : في تفسير هذه الآية كل شيء هالك إلا ما أريد به وجهه و في رواية إلا ما ابتغى به وجهه من الأعمال الصالحة فإذا مات الأحياء كلهم و جاء وقت النفخة الأخرى فقد جاء في حديث الصور و هو حديث روي عن محمد بن كعب عن رجل عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و في إسناده مقال فذكر قصة في النفخة الأولى و ما بعدها و ذكر موت جبريل و ميكائيل ثم موت حملة العرش و موت إسرافيل ثم موت ملك الموت ثم ينزل ماء من تحت العرش كمني الرجال ثم يأمر السماء أن تمطر أربعين يوما و يأمر الأجساد أن تنبت كنبات الطراثيث أو كنبات البقل حتى إذا تكاملت أجسادهم قال الله تعالى ليحيى حملة العرش فيحيون ثم يقول ليحيى جبريل و ميكائيل أظنه و ذكر معهما غيرهما فيحيون فيأمر الله عز و جل إسرافيل فيأخذ الصور فيضعه علي فيه ثم يدعو الله بالأرواح فيؤتى بها تتوهج أرواح المؤمنين نورا و الأخرى ظلمة فيلقيها في الصور ثم يأمر الله إسرافيل أن ينفخ فيه نفخة البعث فتخرج الأرواح كأنها النحل قد ملأت ما بين السماء و الأرض فيقول الله و عزتي و جلالي ليرجعن كل روح إلى جسده فتدخل الأرواح في الخياشيم ثم تمشي في الأجساد مشي السم في اللديغ ثم تنشق الأرض عنهم سراعا 353 - و هذا فيما قرئ إسناده على الأستاذ أبي إسحاق الاسفرايني و أنا أسمع أن أبا بكر محمد بن عبد الله الشافعي أخبرهم ثنا أبو قلابة الرقاشي ثنا أبو عاصم ثنا إسماعيل بن رافع عن محمد بن يزيد بن أبي زياد عن محمد بن كعب القرظي عن رجل من الأنصار عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم و روينا في حديث آخر بإسناد ضعيف عن ابن عباس في صفة القيامة فذكر فيه صفة الصور و عظمه و عظم إسرافيل ثم قال : فإذا بلغ الوقت الذي يريد الله أمر إسرافيل فينفخ في الصور النفخة الأولى فتهبط النفخة من الصور إلى السموات فيصعق سكان السموات بحذافيرها و سكان البحر بحذافيرها ثم تهبط النفخة إلى الأرض فيصعق سكان الأرض بحذافيرها و جميع عالم الله و بريته فيهن من الجن و الإنس و الهوام و الأنعام قال و في الصور من الكوى بعدد من يذوق الموت من جميع الخلائق فإذا صعقوا جميعا يقول الله عز و جل يا إسرافيل من بقي ؟ فيقول : بقي إسرافيل عبدك الضعيف فيقول مت يا إسرافيل ! فيموت ثم يقول الجبار تعالى : لمن الملك اليوم فلا هميس و لا حسيس و لا ناطق يتكلم و لا مجيب يفهم و قد مات حملة العرش و إسرافيل و ملك الموت و كل مخلوق فيرد الجبار على نفسه { لله الواحد القهار * اليوم تجزى كل نفس بما كسبت لا ظلم اليوم إن الله سريع الحساب } و ذلك حين تمت كلمة ربك صدقا و عدلا لا مبدل لكلماته { و هو السميع العليم } فيتم كلمته بإنفاذ قضائه على أرضه و سمائه لقوله تعالى { كل شيء هالك إلا وجهه له الحكم و إليه ترجعون } فإما إسرافيل فيموت ثم يحيى في طرفة عين و إما حملة العرش فيحيون في أسرع من طرفة عين فيأمر الله تعالى إسرافيل بعد النفخة الأولى بأربعين و كذلك هو في التوراة بين النفختين أربعون لا يدري ما هو فإذا انقضت الأربعون نظر الله إلى أهل السموات و إلى أهل الأرضين فيقول و عزتي لأعيدنكم كما بدأتكم و لأحيينكم كما أمتكم ثم يأمر إسرافيل فينفخ النفخة الثانية و قد جمعت الأرواح كلها في الصور فإذا نفخ خرج كل روح من كوة معلومة من كوى الصور فإذا الأرواح تهوش بين السماء و الأرض لها دوي كدوي النخل فينادي إسرافيل : يا أيتها الجلود المتمزقة ! و يا أيتها الأعضاء المتهشمة ! و يا أيتها العظام البالية ! و يا أيتاها الأجسام المتفرقة ! و يا أيتها الأشعار المتمرطة ! قوموا إلى موقف الحساب و العرض الأكبر فيدخل كل روح في جسده قال : و يمطر الله طيشا من تحت العرش على جميع الموتى فيحيون كما تحيى الأرض الميتة بوابل السماء فيبعث الله الأجساد التي كانت في الدنيا من حيث كانت بعضها في بطون السباع و بعضها من حواصل الطير و بنيان البحور و بطون الأرض و ظهورها فيدخل كل روح في جسده فإذا هم قيام ينظرون فيبعث الله نارا من المشارق فتحشر الناس إلى المغارب إلى أرض تسمى الساهرة من وراء بيت المقدس أرض طاهرة لم يعمل عليها سيئة و لا خطيئة فذلك قوله : { فإنما هي زجرة واحدة * فإذا هم بالساهرة } { يوم يقوم الناس لرب العالمين } { و حشرناهم فلم نغادر منهم أحدا } { ونفخ في الصور فجمعناهم جمعا * وعرضنا جهنم يومئذ للكافرين عرضا * الذين كانت } الآية

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبدالرحمٰن بن محمد بن بالویہ مزکی نے، ان کو ابو ولید فقیہ نے، ان کو ابراہیم بن علی نے ، ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے،ان کو موسیٰ بن اعین نے، اس نے ابو صالح والی حدیث اس کے معنی کے ساتھ ذکر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جب صور پھونکا جائے گا تو اہل زمین اور اہل آسمان سب بے ہوش ہو جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الا من شاء اللہ " (الزمر 68) قرن میں پھونک ماری جائے گی۔ پس بے ہوش ہو جائیں گے وہ سب جو آسمان میں اور زمین میں ہیں۔ مگر جس کو اللہ چاہے گا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ جسے بے ہوشی سے بچانا چاہیں گے وہ بے ہوش نہیں ہو گا اور بے ہوشی سے محفوظ رہے گا)۔ (مترجم) الامن شآ ء اللہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے صور پھونکنے کے وقت اہل ارض و سمآ ء پر ہونے والی بے ہوشی سے کن لوگوں کو مستثنیٰ کیا ہے؟ وہ کون عظیم ہستیاں ہوں گی؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان ہستیوں میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہوں گے۔ وہ ایک بار کوہ طور پر تجلیات الٰہی کو دیکھ کر بے ہوش ہو گئے تھے۔ اس لیے کہ حدیث ثابت میں حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلمان کے قصے میں ہے جس نے یہودی کو تھپڑ مار دیا تھا۔ جب یہودی نے یہ کہا تھا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو بشر پر برگزیدہ بنا لیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم لوگ اللہ کے نبیوں کے درمیان کسی کو فضیلت دینے کا عمل نہ کیا کرو۔ کیونکہ جس وقت صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات سب بے ہوش ہو جائیں گی، مگر جسے اللہ تعالیٰ بے ہوش نہ کرنا چاہیں گے وہ نہیں ہو گا۔ پھر دوسری بار اس میں پھونک ماری جائے گی اور میں پہلا شخص ہوں گا جو اٹھایا جائے گا۔ یا فرمایا تھا کہ میں بھی ان میں سے ہوں گا جو پہلے اٹھائے جائیں گے۔ (تو میں کیا دیکھوں گا کہ) موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کو پکڑے کھڑے ہوں گے ۔ پس میں نہیں جانتا کہ کیا یوم طور والی بے ہوشی کے ساتھ حساب چکا دئیے گئے یا بے ہوش ہو ئے مگر مجھ سے پہلے اٹھا لیے گئے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول " امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج میں انبیاء کی ایک جماعت کو دیکھنے کی خبر دی تھی۔ سوائے اس کے نہیں کہ یہ انبیاء کو دیکھنا اس تقدیر پر صحیح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ارواح کو ان کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، جب صور پھونکا جائے گا تو نفحہ اولیٰ کے وقت وہ بھی ہے ہوش ہونے والوں کے ساتھ بے ہوش ہوں گے۔ پھر یہ موت نہیں ہو گی اپنے تمام مفہومات کے ساتھ مگر صرف شعور اور سمجھنے کی قوت چلی جانے کے مفہوم میں۔ پھر اگر موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ہوں جنہیں اللہ تعالیٰ نے الامن شآ ء اللہ کے ساتھ مستثنیٰ کیا ہے تو آپ کا شعور اور سمجھ اس حالت میں نہیں جائے گا۔ اور ہم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ کیا ہے وہ شہداء ہوں گے جو تلواریں حمائل کیے عرش کے گرد کھڑے ہوں گے۔ اس بارے میں زید بن اسلم سے مرفوع حدیث مروی ہے۔ انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے جبریل امین سے ا س آیت کے بارے میں سوال کیا کہ الا من شآء اللہ سے وہ کون لوگ مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بے ہوش کرنا نہیں چاہیں گے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ وہ اللہ کے نام پر ہونے والے شہداء ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ : "احیاء عند ربھم یرزقون " (آل عمران 129) وہ زندہ ہیں ، اپنے رب کے پاس رزق دئیے جاتے ہیں۔ لہذا وہ نفخہ اولیٰ (پہلی دفعہ صور پھونکنے میں) ان لوگوں کے ساتھ نہیں مریں گی جو اس وقت مریں گے زندوں میں سے۔ اور ہم نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے صور پھونکنے کے وقت بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ کیا ہے وہ بار ہ عدد ہوں گے: (1)۔۔جبریل علیہ السلام ۔ (2) ۔۔میکائیل علیہ السلام۔ (3)۔۔اسرافیل علیہ السلام۔ (4)۔۔ملک الموت ۔ اور آٹھ حملۃ العرش (عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے)۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان لوگوں کے قول کو اختیار کیا ہے جن کا موقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ کیا ہے وہ شہداء ہیں اور انہوں نے اس بات کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اور شیخ حلیمی نے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کو جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ دیگر انبیاء سے پہلے اٹھائے گئے ہیں یا بے ہوش ہی نہیں ہوئے۔ اس کو تخصیص پر محمول کیا ہے کہ ان کو خصوصیت ہے جیسے دنیا میں ان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی ان کی فضیلت و خصوصیت تھی۔ یا ان کو اٹھانا دیگر انبیاء پر مقدم کیا گیا ہے۔ صرف اسی قدر جتنی وہ کوہ طور پر بے ہوش ہو ئے تھے۔ جب ان کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تھی تا آنکہ وہ ہوش میں آ گئے تھے۔ پہلے ہوش میں لانا اس لیے ہو گا تاکہ ان کے لئے اس ذریعہ سے اس بے ہوشی کا بدلہ اور جزا ہو جائے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ نفخہ اولیٰ کی وقت وہ مریں گے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان لوگوں کے موقف کو ضعیف اور کمزور قرار دیا ہے جن کا خیال ہے کہ الا من شآ ء اللہ کا استثناء فرشتوں کے لئے۔ یعنی جبریل ، میکائیل ، اسرافیل ، ملک الموت اور آٹھ حاملین عرش۔ یہ موقف اس لئے کمزور ہے کہ آیت نے یہ خبر دی ہے کہ زمین و آسمان کے رہنے والے بے ہو ش ہو جائیں گے۔ جبکہ یہ فرشتے زمین و آسمان کے ساکن نہیں ہیں۔ اس لئے کہ عرش تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور جبریل اور میکائیل ان فرشتوں میں سے ہیں جو صف باندھنے والے تسبیح کرنے والے ہیں عرش کے گرد۔ لہٰذا آیت کے مدلول کے تحت داخل ہی نہیں ہے۔ اور اسی طرح آیت کے تحت معصوم بچے جو جنت میں ہیں وہ اور حوریں بھی داخل نہیں ہیں جو جنت میں ہیں۔ اس لئے کہ جنت آسمانوں سے اوپر ہے، جبکہ آیت اہل زمین و اہل آسمان کے بارے میں ہے۔ پھر بعض آثار میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاملین عرش کو موت دے دے گا اور جبریل کو اور میکائیل اور ملک الموت کو سب کو مت دے کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ: "لمن الملک الیوم " آج بادشاہی کس کی ہے؟ لہذا اسے کوئی جواب نہیں دے گا۔ لہذا وہ خود فرمائے گا: " للہ الواحد القھار" آ ج بادشاہی اکیلے اللہ زبردست کے لئے ہے۔ نیز ایک مرفوع حدیث میں روایت ہے کہ گو کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے اس لئے ہم نے کتا ب البعث والنشور میں ذکر کیا ہے۔ باقی رہی جنت کے بات تو جنت اور جو کوئی اس میں ہے حوریں وغیرہ وہ سب کچھ بقا کے لئے بنا یا گیا ہے فنا کے لئے نہیں۔ جنت لذت و سرور کی جگہ ہے اس میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے مرنے حدیث او ر خبر ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ: "کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران) ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ "کل شیء ھالک الا وجھہ (القصص 88) ہر شے ہلاک ہونے والی ہے اللہ کی ذات کے سوا۔ شیخ حلیمی نے اس کا جواب دیا ہے کہ احتمال ہے کہ اس کا یہ معنی ہو کہ ہر شے ہلاکت کے قابل ہے۔ مطلب ہے جب ہلاکت کے قابل ہے تو اگر اللہ تعالیٰ اس کی ہلاکت کا ارادہ کریں گے تو وہ ہلاک ہو گی، مگر اللہ کی ذات۔ وہ برتر ہے، اس کی ذات قدیم ہے، ہلاکت و زوال سے پاک ہے اور وہ قدیم ہے تو قدیم وہی ہو سکتا ہے جس کے اوپر فنا جائز نہ ہو۔ ممکن نہ ہو۔ اور اللہ کے ماسوا ہر شے محدث ہے عدم سے وجود میں آئی ہے اور حادث شے عدم سے وجود میں آنے والی شے اسی وقت تک باقی رہ سکتی ہے جب تک اس کو باقی رکھنے والا اور ایجاد کرنے والا باقی رکھے۔ جب وہ بقا کر روکت لے گا وہ چیز فنا ہو جائے گی اور ہمارے پاس اس بات کی بھی کوئی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ عرش کو ہلاک کرے گا اور فنا کرے گا۔ لہذا چاہیے کہ جنت بھی اسی کی مثل ہے۔ واللہ اعلم۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو روایت کیا ہے سفیان ثوری سے کہ انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : " کل شیء ھالک الا وجھہ۔۔ یعنی ھالک الامایرید بہ وجھہ " ہر شے ہلاک ہونے والی ہے مگر میں جس چیز کے ساتھ میں ارادہ کروں بقا کا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ہر شے فنا ہونے والی ہے ۔ مگر وہ اعمال جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اعمال صالحہ میں سے وہ ہلاک و تباہ نہیں ہوں گے۔ جب تمام زندے مر جائیں گے اور دوسرے نفخہ یعنی دوسری بار صور پھونکنے کا وقت آ جائے گا تو حدیث صور میں آیا ہے اور وہی حدیث ہے جو محمد بن کعب سے مروی ہے ایک رجل سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مگر اس کی سند میں مقال ہے۔ راوی نے اس میں قصہ ذکرکیا ہے۔ نفخہ اولیٰ کے بارے میں اور اس کے مابعد کے بارے میں اور اس نے جبریل ، میکائیل کی موت کا ذکر بھی کیا ہے۔ پھر حاملین عرش کی موت کا اسرافیل کی موت کا۔ پھر ملک الموت کی موت کا۔ پھر کہا کہ عرش کے نیچے سے انسانوں کی منی کی مثل پانی اترے گا۔ پھر آسمان کو حکم ہو گا کہ بارش برسا، چالیس دن تک اور تمام جسموں کو حکم دے گا کہ تم اُگو جیسے کھمبی اگتی ہے یا جیسے سبزہ کی انگوری اگتی ہے۔ یہان تک کہ جب ان کے جسم پورے ہو چکیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ حملۃ العرش کو چاہیے کہ وہ زندہ ہو جائیں سو وہ زندہ ہو جائیں گے۔ پھر جبریل اور میکائیل کو زندہ ہونے کا حکم ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ دونوں کا اکٹھے ذکر کیا تھا، ان کو ان کے ماسوائے کے ساتھ۔ سو سب زندہ ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دیں گے وہ صور اٹھائے گا اور اس کے منہ میں رکھے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو بلائیں گے۔ وہ حاضر کیے جائیں گے۔ اہل ایمان کے ارواح چمک رہے ہوں گے نور سے اور اہل کفر سے تاریک ہوں گے ان اروح کو رکھے گا۔ قرن میں پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دے گا کہ آب وہ اس میں نغمہ ثانیہ کےلئے دوبارہ جی اٹھنے کی پھونک مارے گا۔ چنانچہ روحیں ایسے نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیان نکلتی ہیں۔ ان ارواح سے زمین و آسمان کے درمیان کی فضاء بھر چکی ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے مجھے اپنی عزت کی قسم اور اپنے جلال کی قسم ہے۔ ہر روح ضرور ضرور اپنے اپنے جسم کی طرف لوٹ جائے گی۔ لہٰذا روحیں ناکوں میں داخل ہو جائیں گی پھر جسموں میں ایسے چلیں گی۔ جیسے زہریلے جانور کے ڈنسے ہوئے کے جسم میں زہر چلتا ہے پھر ان سے جلدی جلدی زمین پھٹ پڑے گی۔ یہ حدیث ان میں ہے جن کی اسناد استاذ ابو اسحاق اسفرائنی کے سامنے پڑھی گئی تھی اور میں سن رہا تھا۔ یہ کہ ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو خبر دی ۔ ان کو ابو قلابہ رقاشی نے ان کو ابو عاصم نے ان کو اسماعیل بن رافع نے محمد بن یزید بن ابو زیاد سے انہوں نے محمد بن کعب قرظی سے اس نے انصار کے ایک آدمی سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور ہم نے روایت کیا ہے ایک دوسری حدیث میں ضعیف اسناد کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قیامت کے بیان میں اس میں صور اور قرن کی وضاحت اور اسکے بڑے ہونے کی اور اسرافیل کے بڑے ہونے کی بھی ہے، پھر اس میں کہا ہے کہ جب وہ وقت آ جائے گا جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرے گا۔ اسرافیل کو حکم ہو گا۔ وہ قرن میں پہلی بار پھونک مارے گا۔ لہذا قرن سے پھونک تمام آسمانوں کی طرف نیچے آئے گی اور آسمانوں کے رہنے والے سارے اپنی کثرت سمیت بے ہوش ہو جائیں گے اور سمندر کے رہنے والی مخلوقات اپنی کثرت سمیت بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر وہ پھونک زمین کی طرف اترے گی۔ لہذا دھرتی پر رہنے والی تمام مخلوقات بے ہوش ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کا سارا جہان اور اس کی ساری مخلوقات جن انسان ،زمین کے اندر کے جانور اورمویشی سب بے ہوش ہو جائیں گے۔ اور فرمایا کہ قرن میں بہت سارے سراخ ہیں ان کی تعداد اتنی ہے کہ جنتی مخلوقات موت کامزہ چکھیں گے جب سب بے ہوش ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ اسرافیل سے کہیں گے کہ اے اسرافیل کون زندہ باقی رہ گیا ہے۔ وہ کہے گا صرف اسرافیل ہے اور بس جو کہ تیر ا کمزور غلام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو بھی مر جا اے اسرافیل۔ وہ بھی مر جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج کس کی بادشاہت ہے؟ نہ کہیں سے آواز سنائی دے گی نہ آہٹ ہلکی سی اور نہ کوئی بولنے والا ہو گا جو کلام کرے۔ نہ ہی کوئی جواب دینے والا جو سمجھا جائے اور عرش کو اٹھانے والے فرشتے بھی مر چکے ہوں گے اور اسرافیل بھی اور ملک الموت بھی اور ہر مخلوقات پھر جبار خود اپنے آپ کو جواب دے گا: " للہ الواحد القھار الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب'' (غافر12) صرف ایک اکیلے اللہ زبردست کا اقتدار ہے آج۔ آ ج ہر نفس کو ا س کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا تھا۔ آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جلدی حساب لینے والا ہے۔ یہ وہ وقت ہو گا۔ " تمت کلمۃربک صدقا وعد لا لامبدل لکلماتہ وھو السمیع العلیم" تیرے رب کا کلمہ پورا ہو چکے گا سچائی اورانصاف کا اس کے کلمات کو اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اور اس کا کلمہ اور کلام پورا ہو گا۔ اہل ارض پر اور اہل آسمان پر اس کی قضا اور فیصلے کے نافذ کرنے کی بات اس کے ارشاد کے مطابق کہ: " کل شیء ھالک الا وجھہ لہ الحکم والیہ ترجعون'' ( القصص 86) ہر شے ہلاک ہونے والی ہے۔ مگر صرف اس کی ذات ہی باقی رہے گی، اسی کا حکم ہو گا اور اس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ (سورہ قصص 86) بہر حال اسرافیل تو مریں گے پھر زندہ ہو جائیں گے آنکھ جھپکنے کی دیر میں اور حاملین عرش تو اس پلک جھپکنے سے بھی جلدی زندہ ہو جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نغمہ اولیٰ کے بعد اسرافیل کو حکم دیں گے۔ چالیس کا۔ اور اسی طرح تو راۃ میں ہے کے دو نفخوں کے درمیان (بھی اسرافیل کے دوبار قرن میں پھونک مارنے کا درمیانی وقفہ) چالیس ہو گا۔ معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے۔ جب چالیس پورا ہو جائےگا تو اللہ تعالیٰ اہل آسمان اور اہل زمین کو دیکھیں گے اور فرمائیں گے مجھے اپنی عز ت کی اور غلبے کی قسم ہے، میں تم سب کو دوبارہ پیدا کروں گا جیسے کہ میں نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور البتہ ضرور میں تمہیں زندہ کروں گا جیسے کہ میں نے تمہیں مارا ہے۔ پھر اسرافیل کو حکم دیں گے، وہ دوسری بار پھونک مارے گا۔ حالانکہ تمام ارواح اس قرن میں جمع کر دئیے گئے ہوں گے۔ جب پھونک ماری جائے گی تو ہر روح اس کے مخصوص سوراخ اور روشندان سے نکلے گی۔ پس اچانک روحیں آسمان و زمین کے درمیان حیران ہو کر بھٹکیں گی اور ان کی بھنبھناہٹ ہو گی جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ (اس لیے کہ اپنے اپنے جسموں کو ڈھونڈیں گی اور جسم توگل سڑکر ختم ہو چکے ہوں گے، کچھ بھی نہیں ہو گا زمین پر) لہذا اسرافیل پکارے گا اے ٹکڑے ٹکڑے ہونے والی کھالو۔۔۔ اے چورا چورا ہو جانے والے اعضاء ۔۔۔اے بوسیدہ ہو جانے والی ہڈیوں۔۔۔۔ اے بکھر جانے والے جسموں۔۔۔۔ اے گل جانے والے بالوں۔۔۔۔ حساب و کتاب کی جگہ اکٹھے ہو نے کے لئے اور بڑی پیشی کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ سو ہر روح اپنے اپنے جسموں میں داخل ہو جائے گی۔ فرمایا کہ اللہ بارش کریں گے عرش کے نیچے سے تمام موتی پر۔ لہذا ایسے زندہ ہو جائیں گے جیسے مردہ زمین بارش سے زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام اجسام کو اسی حالت میں اٹھائیں گے جس حالت میں وہ دنیا میں تھے اور ہر ہر جگہ سے اٹھائیں گے جہاں کہیں بھی تھے۔ بعض کو درندوں کے پیٹ سے بعض کو پرندوں کے پو ٹوں میں سے۔ بعض کو سمندر کی تہہ میں بعض کو زمین کے پیٹ میں اور بعض زمیں کی پشت پر تو ہر طرح اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی۔ پس اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرقوں کی طرف سے آگ بھیجیں گے جو لوگوں کو مغربوں کی طرف ہانکے گی اور لوگ اس زمین پر جمع ہو ں گے، جس کا نام ساہرہ ہے۔بیت المقدس کی پاک سر زمین ہے۔ جس پر نہ کوئی گناہ ہو ہے اور نہ ہی کوئی غلطی ہوئی ہے۔ یہی بات اس آیت میں مذکور ہے۔ (1)۔۔"فانما ھی زجرۃ واحدۃ فاذاھم بالساھرۃ" (النازعات 13) سوا اس کے نہیں کہ بس وہ ایک ڈانٹ ہے۔ پس اچانک وہ میدان ساہرہ میں ہوں گے۔ (2) یوم یقوم الناس لرب العٰلمین" (المصطفیین 6) اس دن لوگ کھڑے ہوں گے رب العلمین کے لئے۔ (3)۔۔ وحشر ناھم فلم نغادر منھم احدا (الکھف 47) ہم لوگوں کو جمع کریں گے، ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ (4)۔۔ونفخ فی الصور فجمعنا ھم وعرضنا جھنم یومئذ اللکافرین عرضا الذین کانت اعینھم فی غطاء دن ذکری (الکہف 99) قرن میں پھونک ماری جائے گی۔ سو ہم لوگوں کو جمع کر لیں گے اور اسی دن کافروں کے سامنے کر دیں گے جہنم کو جو لوگ کہ ہمارے ذکر سے ان کی آنکھیں پردے میں تھیں۔

مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أبو وليد الفقيه ← أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بالويه المزكي

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 353

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 354

354 - و هذا فيما أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن طلحة ابن منصور القطان ثنا إبراهيم بن الحارث البغدادي ثنا أبو الحسن علي بن قدامة النحوي ثنا مجاشع بن عمرو عن ميسرة عن عبد الكريم الجزري قال : حدثني سعيد بن جبير : أنه سأل ابن عباس عن القيامة و ما فيها فحدثه و ذكر ما كتبناه فيه و هذا إسناد ضعيف بمرة غير أنا قد روينا في الحديث الثابت عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بين النفختين أربعون : قالوا يا أبا هريرة : أربعون يوما ؟ قال : أبيت قالوا أربعون شهرا ؟ قال : أبيت قالوا : أربعون سنة ؟ قال أبيت قال ثم ينزل الله عز و جل من السماء ماء فينبتون كما ينبت البقل قال : و ليس من الإنسان بشيء إلا يبلي إلا عظما واحدا و هو عجب الذنب و فيه تركيب الخلق يوم القيامة

اور یہ حدیث ان میں سے ہے جس کی ہمیں ابو عبداللہ حافظ نے خبر دی۔ ان کو ابو بکر محمد بن طلحہ ابن منصور قطان نے ، ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ، ان کو ابو الحسن علی ابن قدامہ نحوی نے، ان کو مجاشع بن عمرو نے میسرہ عبدالکریم جزری نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے سعید بن جبیر نے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا اور قیامت میں جو کچھ ہو گا آپ نے ان کو حدیث بیان کی اور وہ سب کچھ ذکر کیا ۔ اس روایت میں ہم جو کچھ پیچھے لکھا ہے اور یہ اسناد ضعیف ہےایک بار مگر جو کچھ ہم نے حدیث ثابت میں اعمش سے، ابو صالح سے ، ابو ہریرہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے وہ صحیح ہے۔ صور پھونکنے کے دو نفخوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا اے ابو ہریرہ کیا چالیس دن؟ انہوں نے فرمایا ، میں نہیں جانتا۔ لوگوں نے کہا کیا چالیس مہینے؟ انہوں نے فرمایا میں اس کو بھی نہیں جانتا۔ لوگوں نے پھر کیا چالیس سال؟ انہوں نے فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ فرمایا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش اتاریں گے۔ جس سے لوگ اگیں گے جیسے سبزہ اگتا ہے اور فرمایا کہ انسانی اعضاء میں سے ہر شے بوسیدہ ہو کر گل جائے گی مگر ایک ہڈی وہ ہے جو دمچی کی ہڈی ہے، اسی میں قیامت کے روز مخلوق کی ترکیب ہو گی۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَيْسَرَةَ ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ قُدَامَةَ النَّحْوِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أبو بكر محمد بن طلحة ابن منصور القطان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و هذا فيما

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 354

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 355

355 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا موسى بن إسحق ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا أبو معاوية عن الأعمش : بهذا الحديث رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش قال : البيهقي رحمه الله و روينا عن أبي غالب عن أنس بن مالك مرفوعا : يبعث الناس يوم القيامة و السماء تطش عليهم و روينا بإسناد صحيح عن عبد الله بن مسعود في أشراط الساعة في النفخة الأولى ثم في إرسال الله ماء من تحت العرش منيا كمني الرجال حتى تنبت جسمانهم و لحمانهم من ذلك الماء ثم قيام ملك الصور نفخه فيه مرة أخرى و انطلاق كل نفس إلى جسمها و دخولهم فيه ثم قيامهم لرب العالمين ما يؤكد جميع ما نقلنا و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے، ان کو موسیٰ بن اسحٰق نے، ان کو عبداللہ بن ابی شیبہ نے، ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے اسی حدیث کے بارے میں، اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو کریب سے ،انہوں نے ابو معاویہ سے اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے ایک دوسرے طریق سے اعش سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے مرفوعا روایت کیا ہے ابو غالب سے ، انس بن مالک سے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائیں گے ، حالانکہ آسمان ان پر آگ برسا رہا ہو گا۔ ہم نے صحیح اسناد کے سان عبداللہ بن مسعود سے قیامت کے اشراط کے بارے میں نفخہ اولیٰ کی بابت روایت کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا عرش کے نیچے سے انسانوں کی منی کی طرھ پانی اتارنا، یہاں تک کہ ان کے جسم اور گوشت اس پانی سے اگیں گے۔ پھر صور پھونکنے والے فرشتے کا کھڑا ہونا اور اس میں دوسری بار صور پھونک مار نا اور ہر روح کا اپنے جسم کی طرف جانا، اس میں داخل ہونا،پھر لوگوں کا رب العالمین کے آگے پیش ہونے کے لئے کھڑا ہونا۔ یہ روایت ان تمام امور کی تائید کرتی ہے جن کو ہم نقل کیا ہے۔ واللہ اعلم۔

أَبِي غَالِبٍ ← البيهقي و روينا ← الْاَعْمَشِ ← أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر ← أَبِي كُرَيْبٍ ← الأعمش بهذا الحديث رواه مسلم في الصحيح ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 355

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 356

356 - أخبرنا أبو عبد الرحمن بن محبوب أنا الحسين بن محمد بن هارون ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس : ـ { و يقولون } يعني أهل مكة { متى هذا الوعد } يعني القيامة يقول الله عز و جل { ما ينظرون } كفار قريش إذ كذبوا { إلا صيحة واحدة } لا تثنى { تأخذهم و هم يخصمون } يتكلمون في أسواقهم يتبايعون { فلا يستطيعون } لا يقدرون { توصية } كلاما { و لا إلى أهلهم يرجعون } فيخيرون الكلام إليهم { و نفخ في الصور } و هي النفخة الآخرة { فإذا هم من الأجداث } يعني القبور { إلى ربهم ينسلون } يخرجون من قبورهم { قالوا يا ويلنا من بعثنا من مرقدنا } يقول من منامنا يقول هذا بعضهم لبعض إذا خرجوا من القبور و ظنوا أنهم كانوا نياما و ذلك أنه يرفع عنهم العذاب بين النفختين و بينهما أربعون سنة نسوا العذاب فقالت لهم الملائكة { هذا ما وعد الرحمن و صدق المرسلون } يعني وتصديق المرسلين البعث يقول الله عز و جل : { إن كانت إلا صيحة واحدة } نفخة واحدة { فإذا هم جميع لدينا محضرون } الحساب قال : البيهقي رحمه الله و قد روينا عن أسامة بن زيد عن الزهري عن أنس بن مالك قال : لما كان يوم أحد مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بحمزة بن عبد المطلب و قد جدع و مثل به فقال : لولا أن تجد صفية لتركته حتى يحشره الله من بطون الطير و السباع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن بن محبوب نے ، ان کو حسین بن محمد بن ہارون نے ، ان کو احمد بن محمد بن نصر نے ، ان کو یوسف بن ہلال نے ، ان کومحمد بن مروان نے کلبی سے، انہوں نے ابو صالح سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ (اس آیت کی تشریح یوں ہے) ویقولون ۔۔۔ وہ کہتے ہیں ۔ یعنی اہل مکہ ۔۔۔۔ متیٰ ھذا الوعد ۔۔۔ کب ہو گا وعدہ۔ یعنی قیامت کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔۔۔ ماینظرون۔۔۔ نہیں انتظار کرتے۔ کفار قریش جب جھٹلاتے ہیں۔۔۔۔ الا صیحۃ واحدۃ۔۔۔۔ مگر صرف ایک چنگھاڑ کا ۔ جو دوبارہ نہیں ہو گا۔۔۔ تاخذھم وھم یخصمون۔۔۔ جو پکڑلے گی ان کو حالانکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ یعنی بات کررہے ہوں گے، اپنے بازاروں میں خرید و فروخت کر رہے ہوں گے۔۔۔ فلا یستطیعون ۔۔۔۔ پس نہیں طاقت رکھیں گے۔۔۔ یعنی نہیں قادر ہوں گے۔۔۔ توصیۃ ۔۔۔ وصیت کرنے پر۔ یعنی کلام کرنے پر۔۔۔ ولا الیٰ اھلھم یرجعون ۔۔۔ اور نہ ہی وہ اپنے اہل خانہ کی طرف لوٹ کر آئیں گے۔ یعنی واپس آ کر ان کے ساتھ بات کرنے کلام کر نے کا اختیار دئیے جائیں ۔۔۔۔۔ ونفخ فی الصور۔۔۔۔ اور قرن میں پھونک ماری جائے گی۔۔۔۔۔ یہ نفخہ ثانیہ یعنی دوسری بار پھونک ہو گی۔۔۔ فاذاھم من الاجداث ۔۔۔۔ پس اچانک وہ اپنی قبروں سے ۔۔۔ الیٰ ربھم ینسلون۔۔۔۔ اپنے رب کی طرف دوڑیں گے۔ یعنی اپنی قبروں سے نکلیں گے۔۔۔۔قالو یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا۔۔۔۔ اور بولیں گے اے ہماری ہلاکت کس نے اٹھایا ہمیں ہماری آرام گاہوں سے۔ یہ کہیں گےکہ ہماری نیند سے۔ یہ اس وقت کہیں گے جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور یہ گمان کریں گےکہ وہ سو رہے تھے اور نیند میں تھے۔ اور یہ اس لئے کہیں گے کہ دونوں نفخوں کےدرمیانی مدت میں ان سے عذاب اٹھا لیا جائے گا۔ اور دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہو گا۔ لہذا وہ عذاب کو بھول جائیں گے۔ فرشتے ان سے کہیں گے۔۔۔ ھذا ما وعد الرحمٰن وصدق المرسلون ۔۔۔ یہی ہے وہ وقت جو رحمٰن نے وعدہ دیا تھا۔۔۔۔ اور سچ کہا تھا رسولوں نے۔ یعنی رسولوں نے قبروں سے اٹھنے کی تصدیق کی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔۔۔۔ ان کانت الا صیحۃ واحدۃ ۔۔۔۔۔ نہیں ہو گی یہ مگر ایک چنگھاڑ۔ یعنی ایک پھونک ۔۔۔۔ فاذاھم جمیع لدینا محضرون۔۔۔۔ پس اچانک وہ ہمارےپا س حاضر کئے ہوئے ہوں گے۔ حساب کے لئے۔ (سورہ یٰس،آیات 48 تا 53) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ہم نے اسامہ بن زید سے انہوں نے زہری سے، انہوں نے انس بن مالک سے ، انہوں نے فرمایا جب جنگ احد کا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کی لاش کے پاس آئے اور ان کے کان کٹے پڑے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اگر مجھے صفیہ کے رنجیدہ خاطر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسی حالت میں لاش کو چھوڑ دیتا (اور پرندے اور جانور کا جاتے) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے اٹھاتے۔

ابن عباس يعني أهل مكة يعني القيامة ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أبو عبد الرحمن بن محبوب

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 356

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 357

357 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن الحسين القاضي ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا روح ثنا أسامة : فذكره قال البيهقي رحمه الله و روينا في حديث مقسم عن ابن عباس غير أنه قال : لولا جزع النساء لتركته يحشر من حواصل الطيور و بطون السباع و في هذا كله دليل على أن ما أكله الناس بعضهم من بعض صار غذاء له فقد زعم الحليمي رحمه الله أنه لا يرد إلى أصله لكن صاحبه يعرض منه و قد فرق بينهما بأنه قال انقلب من مكلف إلى مكلف و رده يؤدي إلى إدخال جزء من الكافر الجنة أو جزء من المؤمن النار و ليس كذلك في غير المكلف و إنما هو في معنى ما تأكله الأرض فيعاد و بسط الكلام فيه و إذا أحي الله تبارك و تعالى الناس كلهم قاموا عجلين ينظرون ما يراد بهم لقوله تعالى : { ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون } و قد أخبر الله عز و جل عن الكفار أنهم يقولون : { يا ويلنا من بعثنا من مرقدنا } و أنهم يقولون : { هذا يوم الدين } فيقول لهم الملائكة : { هذا يوم الفصل الذي كنتم به تكذبون } ثم يحشر الناس إلى موقف العرض و الحساب و هو الساهرة فقال الله عز و جل : { فإنما هي زجرة واحدة * فإذا هم بالساهرة } قال البيهقي رحمه الله وروينا عن وهب بن منبه أنه قرأ هذه الآية و هو يومئذ ببيت المقدس فقال : ها هنا الساهرة يعني بيت المقدس و روينا عن ابن عباس موقوفا و مرفوعا ما دل على أن الشام أرض المحشر و قال الفراء : الساهرة وجه الأرض كأنها سميت بهذا الاسم لأن فيه الحيوان نومهم و سهرهم و روى بإسناده عن ابن عباس قال : الساهرة الأرض قال الحليمي رحمه الله : و معناه فأذاهم قد صاروا على وجه الأرض بعد أن كانوا في جوفها و قيل : الساهرة صحراء و قرب شفير جهنم و الله أعلم و روينا في الحديث الثابت عن سهل بن سعد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يحشر الناس يوم القيامة على أرض بيضاء عفراء كقرصة النقي ـ و في رواية كالقرصة النقي ـ ليس فيها لأحد علم و النقي : الخبز الحواري و قوله ليس فيها علم يريد أرضا مستوية ليس فيها جدب و لا بناء و أما صفة الحشر فقد قال الله عز و جل : { يوم نحشر المتقين إلى الرحمن وفدا * ونسوق المجرمين إلى جهنم وردا } روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس أنه قال : في قوله وفدا ركبانا و في قوله وردا عطاشا و روينا عن النعمان بن سعد عن علي أنه قال في هذه الآية : أما و الله ما يحشر الوفد على أرجلهم و لا يساقون سوقا و لكنهم يؤتون بنوق لم تر الخلائق مثلها عليها رحال الذهب و أزمتها الزبرجد فيركبون عليها حتى يضربوا أبواب الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو عبداللہ بن حسین قاضی نے، ان کو حارث بن ابی اسامہ نے ، ان کو روح نے ، ان کو اسامہ نے، پھر اسی اوپر والی حدیث کو ذکر کیا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ہم نے مقسم کی حدیث میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے (اسی مذکورہ حدیث کو) اس کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر عورتوں کے بے صبری کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس کی لاش کو یوں ہی چھوڑ دیتا (قیامت کے دن ) یہ پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے اٹھایا جاتا۔ ان مذکورہ احادیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کچھ لوگ کھا جاتے ہیں ایک دوسرے کو اور وہ ان کا جزو بدن بن جاتا ہے۔ تحقیق شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ اپنے اصل کی طرف نہیں لوٹا جائے گا۔ لیکن جس میں وہ جز ہو گا اس سے وہی جز پیش کیا جائے گا اور شیخ نے دونوں کے مابین فرق کیا ہے۔ بایں طور کہ وہ حصہ ایک مکلف سے دوسرے مکلف کی طرف منتقل ہوا ہے۔ لہذا اس کو واپس لوٹانا سبب ہو گا کافر کی ایک جز کو جنت میں داخل کرنے اور مومن کی ایک کو آگ میں داخل کرنے کا۔ جبکہ غیر مکلف میں ایسی بات نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ ایسے ہو گا جیسے کہ اس کو زمین کھا گئی ہو پھر وہاں سے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ شیخ نے اس بارے میں بڑی تفصیلی بات کی ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو زندہ فرمائیں گے تو سب کھڑے ہو جائیں گے جلدی جلدی۔ اور وہ دیکھیں گے کہ ان کے بارے میں کیا ارادہ کیا گیا۔ یہی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ " ثم نفخ فیہ اخری فاذاھم قیام ینظرون (الزمر 68) پھر قرن میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی۔ پس اچانک سب لوگ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں یہ خبر دی ہے کہ وہ کہیں گے: یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا (یٰس 52) اور ہماری ہلاکت ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا یا ہے؟ اور یہ بھی کہیں گے: " ھذا یوم الدین" یہی ہے جزا کا دن۔ اور فرشتے ان سے کہیں گے: ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون (صافات 20-21) یہی ہے فیصلے کا دن جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ مقام حشر یا میدان ساہرہ پھر حساب اور پیشی کے مقام کی طرف لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ ساہرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فانما ھی زجرۃ واحدۃ فاذاھم بالساحرۃ ( النازعات 13) بس وہ تو ایک ڈانٹ ہو گی ، صرف ایک ہی بار بس اچانک سب لوگ مقام ساھرہ میں (پہنے ) ہوں گے۔ وہب بن منبہ کا قول کہ ساہر ہ بیت المقدس ہے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ ہم نے وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اسی مذکورہ آیت کو تلاوت کیا اور وہ اس دن بیت المقدس تھے ۔ پھر فرمایا کہ اس آیت میں جو لفظ ساہرہ آیا ہے اس سے مراد یہی بیت المقدس ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ ارض شام میدان حشر ہے : اور ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوف روایت کے ساتھ نقل کیا ہے اور مرفوع روایت کے ساتھ بھی جو دلالت کرتی ہیں کہ شام کی سرزمین میدان حشر ہو گی۔ امام نحوفر ا کا قول ہے کہ ساہرۃ سے مراد روئے زمین ہے : امام فرا نے فرمایا کہ ۔۔۔۔ الساھرۃ۔۔۔۔ روئے زمین ہے۔گویا کہ یہی نام رکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ اس میں تمام جاندار جمع ہو ں گے۔ ان کی نیند اور جاگنا بھی وہیں ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ساہرہ روئے زمین ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: الساہرۃ ۔۔۔۔زمین ہی ہے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ لوگ زمین کے پیٹ میں ہونے کے بعد اچانک زمین کی پشت پر ہوں گے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ : ساہرہ ۔۔۔۔ صحرا ہے اور وہ کنارہ جہنم کے قریب ہے۔ واللہ اعلم ۔ اور ہم نے حدیث ثابت میں سھل بن سعد کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگ قیامت کے دن سفید سر زمین پر جمع کئے جائیں گے جوصاف اور روئی کی طرح (گول ہے) اور صاف ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ صاف روئی کی مثل ہے۔ جس کے اوپر کسی قسم کا کوئی نشان نہیں ہے۔ نقی صاف ستھری روٹی جس پر نشان اور دھبہ نہ ہو ۔ زمین پر نشان نہ ہونے کا مطلب ہے ہموار اور سیدھی زمین جس میں کوئی ٹیلہ نہ ہو چٹان نہ ہی کوئی عمارت ۔ حشریعنی لوگوں کو جمع کرنے کی کیفیت : حشر کی کیفیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یوم نحشر المتقین الیٰ الرحمٰن وفدا ، ونسوق المجرمین الی جہنم وردا (سورۃ مریم ،آیت 85—86) جس دن ہم اہل تقویٰ کو رحمٰن کی طرف جمع کریں گے بطور مہمان اور مجرموں کو ہانکیں گے جہنم کی طرف پیاسے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول: ہم نے علی بن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مذکورہ آیت میں لفظ وفد آیا ہے۔ اس کا مطلب اکبانا ہے۔ یعنی ہم تقویٰ کو سوار کر کے لائیں گے اور دردا کا مطلب ہے پیاسے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول : ہم نے روایت کی ہے نعمان بن سعد سے۔ انہوں ے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے مذکورہ آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم مہمانوں کو پیدل جمع نہیں جائے گا اور نہ ہی وہ ہانکے جائیں گے بلکہ ان کو سواری کے لئے ایسی ایسی اونٹنیاں دی جائیں گی کہ مخلوق نے جن کی مثل کبھی نہ دیکھی ہو گی۔ ان پر سونے کے پالان ہو ں گے اورا ن کے مہار زبرجد کے ہوں گے۔ ان پر وہ سوار رہیں گے، یہاں تک کہ جنت کے دروازوں تک پہنچ جائیں گے۔

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 357

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 358

358 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب ثنا يعلى بن عبيد ثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن سعد عن علي رضي الله عنه : فذكره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبدالوہاب نے، ان کویعلی بن عبید نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے نعمان بن سعد سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔

علي فذكره ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 358

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 359

359 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم ثنا السري بن خزيمة ثنا وهيب عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين اثنان على بعير و ثلاثة على بعير و أربعة على بعير و عشرة على بعير و تحشر بقيتهم النار تقيل معهم حيث قالوا و تبيت معهم حيث باتوا و تصبح معهم حيث أصبحوا و تمسي معهم حيث أمسوا ورواه البخاري عن معلى بن أسد و أخرجه مسلم من وجه آخر عن وهيب قال الحليمي رحمه الله : فيحتمل أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم : يحشر الناس على ثلاث طرائق أشار إلى الأبرار و المخلطين و الكفار فالأبرار الراغبون إلى الله جل ثناءه فيما أعد لهم من ثوابه و الراهبين الذين هم بين الخوف و الرجاء فأما الأبرار فإنهم يؤتون بالنجائب كما روي في حديث علي و أما المخلطون فهم الذين أريدوا في هذا الحديث أنهم يحلمون على الأبعرة و الأشبه أنها لا تكون من نجائب الجنة لأن من هؤلاء من لا يغفر له ذنوبه حتى يعاقب بها بعض العقوبة و من أكرم بشيء من نعيم الجنة لم يهن بعده بالنار قال البيهقي رحمه الله : و روى علي بن زيد بن جدعان و ليس بالقوي عن أوس بن خالد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم : يحشر الناس يوم القيامة على ثلاثة أصناف ركبانا و مشاة و على وجوههم فقال رجل يا رسول الله ! و يمشون على وجوههم ؟ قال : الذي أمشاهم على أقدامهم قادر أن يمشيهم على وجوههم و هذا إن صح فكأن بعض المخلطين من المؤمنين يكون راكبا كما جاء في الحديث الأول و بعضهم يكون ماشيا كما جاء في الحديث أو يركب في بعض الطريق و يمشي في بعض و أما المشاة على وجوههم فهم الكفار و يحتمل أن يكون بعضهم أعتى من بعض فؤلاء يحشرون على وجوههم و الذين هم أتباع يمشون على أقدامهم فإذا سيقوا من موقف الحساب إلى جهنم سحبوا على وجوههم قال الله عز و جل : { يوم يسحبون في النار على وجوههم } و قال : { الذين يحشرون على وجوههم إلى جهنم أولئك شر مكانا وأضل سبيلا } و يكونون في تلك الحالة عميا و بكما و صما قال الله تعالى : { ونحشرهم يوم القيامة على وجوههم عميا وبكما وصما مأواهم جهنم } و قبل ذلك يكونون كاملي الحواس و الجوارح لقوله تعالى : { يتعارفون بينهم } و قوله : { يتخافتون بينهم إن لبثتم إلا عشرا } و سائر ما أخبر الله عز و جل عنهم من أقوالهم و نظرهم و سمعهم فإذا أدخلوا النار ردت إليهم حواسهم ليشاهدوا النار و ما أعد لهم فيها من العذاب قال الله تعالى : { كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير * قالوا بلى قد جاءنا نذير فكذبنا } و سائر ما أخبر الله عنهم من أقوالهم و سمعهم و نظرهم فإذا نودوا بالخلود سلبوا أسماعهم قال الله عز و جل : { لهم فيها زفير و هم فيها لا يسمعون } و قد قيل إنهم يسلبون أيضا الكلام لقوله تعالى : { اخسؤوا فيها ولا تكلمون } و روينا عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قام في الناس فوعظهم فقال : أيها الناس إنكم تحشرون إلى الله حفاة عراة غرلا ثم قرأ : { كما بدأنا أول خلق نعيده } و إن أول من يكسى يوم القيامة إبراهيم عليه السلام و عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تخشرون يوم القيامة حفاة عراة غرلا فقلن : يا رسول الله الرجال من النساء ؟ فقال يا عائشة ! الأمر يومئذ أشد من ذلك و الذي يدل عليه ما قدمناه ذكره أن ذلك يكون حال خروجهم من قبورهم ثم يكرم المتقون و من شاء من المخلطين المؤمنين بالكسوة و الركوب كما قدمنا ذكره و الله أعلم و الذي روي في حديث أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم يبعث الميت في ثيابه التي يموت فيها يحتمل أن يكون المراد في أعماله التي يموت عليها من خير أو شر كقوله صلى الله عليه و سلم في رواية جابر يبعث كل عبد على ما مات عليه و قد يحتمل أن يبعث في ثيابه التي يموت فيها ثم تتناثر عنه أو عن بعضهم ثم يحشر إلى موقف الحساب عاريا ثم يكسى بعد ذلك من ثياب الجنة و الله أعلم و أما قول الله عز و جل في صفة الكفار يوم القيامة : { خاشعة أبصارهم } و قوله : { خشعا أبصارهم } فإن المراد بذلك و الله أعلم حال مضيهم إلى الموقف و قوله : { مهطعين مقنعي رؤوسهم } و إنما هو إذا طال القيام عليهم في الموقف فيصيرون في الحيرة كأنهم لا قلوب لهم و يرفعون رؤوسهم فينظرون النظر الطويل الدائم و لا يرتد إليه طرفهم كأنهم قد نسوا الغمض أو جهلوه و الناس في القيامة لهم أحوال و مواقف و اختلف الأخبار عنهم لاختلاف مواقفهم و أحوالهم و أما قول الله عز و جل : { فلا أنساب بينهم يومئذ ولا يتساءلون } فقد روينا عن أنه قال : هذا في النفخة الأولى ينفخ في الصور فيصعق من في السموات و من في الأرض إلا من شاء الله { فلا أنساب بينهم يومئذ ولا يتساءلون } ثم إذا نفخ في النفخة الأخرى قاموا { فأقبل بعضهم على بعض يتساءلون }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے، ان کو سری بن خزیمہ نے ، ان کو معلیٰ بن اسد نے ، ان کو وھیب نے ، ان کو عبداللہ بن طاؤس نے ، ان کو ان کے باپ نے ، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ تین طریقوں پر جمع کیے جائیں گے۔ امید کرنے والے اور خوف کرنے والے ۔ ایک اونٹ پر دودو ۔ ایک اونٹ پر تین تین ۔ ایک اونٹ پر چار چار ۔ ایک اونٹ پر دس دس ۔ اور باقیوں کو آگ جمع کرے گی، جہاں وہ دوپہر کا آرام کریں گے اور رکیں گے ، وہ بھی رکے گی جہاں وہ رات گذاریں گے۔ وہ بھی رات گذارے گی جہاںوہ صبح کریں گے وہ بھی صبح کرے گی جہاں وہ شام کریں گے ، وہ بھی شام کرے گی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے معلیٰ بن اسد سے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قو ل اور مذکورہ حدیث کی وضاحت: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کا مطلب کہ لوگ تین طریقوں پر جمع کئے جائیں گے ارشاد مقصود ہے۔ (1) ابرار (2) مخلط یعنی ملے جلے۔ (3) کفار۔ کفر کی طرف سے ابرار وہ ہوں گے جو اللہ عزوجل کی طرف مشتاق ہوں گے اس ثواب کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے ن کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ اور ڈرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو خو ف اور امید کی کیفیت میں ہوں گے ۔ لہذا ابرار لوگ (نیک لوگ) بہترین سواریاں دئیے جائیں گے ، جیسا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے اور مخلط اور ملے جلے وہ ہوں گے جو اس حدیث میں بایں طور مذکور ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار کئے جائیں گے۔ غالب گمان ہے کہ وہ اونٹنیا جنت کی اونٹنیاں نہیں ہوں گی۔ اس لئے کہ ان لوگوں میں سے بعض وہ بھی ہوں گے جس کی گناہ ابھی معاف نہیں کئے گئے ہوں گے۔ یہاں تک کہ ان کو کچھ سزا نہ دے دی جائے۔ اور جس شخص کا جنت کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کے ساتھ اکرام کیاجائے، اس کے بعد اس کی جہنم کی آگ کے ساتھ توہین رسوائی نہیں کی جائے گی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ علی بن زید بن جدعان سے روایت کی گئی ہے ، وہ قوی نہیں ہے اور اوس بن خالد سے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ لوگ قیامت کے دن تین اقسام پر جمع کئیے جائیں گے۔ سوار ۔۔۔ پیدل ۔۔۔ اور منہ کے بل۔ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس ذات نے ان کو ان کے قدموں پر چلایا ہے وہ ان کو منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ یہ تین اقسام والی روایت اگر صحیح ہے تو پھر گویا کہ بعض ملے جلے اعمال والے مومن سوار ہوں گے، جیسے پہلی حدیث میں آیا ہے اور ان میں سے کچھ پیدل ہوں گے جیسے اس حدیث میں آیا ہے ۔ یا کچھ راستہ سوار ہوں گے اور کچھ راستہ پیدل چلیں گے۔ اور باقی رہے منہ کے بل چلنے ولے تو وہ کفار ہی ہوں گے اور احتمال ہے کہ بعض ان کے بعض سے سرکش متکبر ہوں گے تو وہ اپنے منہ کے بل اکٹھے کئے جائیں گے اور ان متکبرین کے تابعدا ر ہوں گے وہ اپنے قدموں پر پیدل چلیں گے اور جب وہ حساب کے موقف سے آگے جہنم کی طرف بڑھ جائیں گے تو پھر وہ منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم " (القمر 48) جس دن وہ اپنے منہ کے بل جہنم میں گھسیٹے جائیں گے گے۔ دوسرا ارشاد یوں ہے: "الذین یحشرون علی وجوھھم الیٰ جھنم اولٰئک شرمکا نا واضل سبیلا (الفرقان 34) وہی لوگ ہیں جو اپنے مونہوں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کئے جائیں گے ۔ وہی لوگ بد تر ہیں جگہ کے اعتبار سے اور گمراہ تر ہیں راستے کے اعتبار سے۔ کافروں کا حشر قیامت کے دن اندھا کر کے ہو گا: اور کفار اس حالت میں اندھے ، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " ونحشرھم یوم القیٰمۃ علی وجوھھم عمیا وبکما وصما ماوھم جھنم " (اسراء 97) ہم ان کفار کو قیامت کے دن ان کے مونہوں کے بل اندھے ، گونگے اور بہرے کر کے جمع کریں گے۔ ٹھکانہ ان کو جہنم ہو گا۔ جب کہ وہ اس حالت سے قبل کا مل الحواس ہوں گے اور کامل الااعضاء ہوں گے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "یتعارفون بینھم "(یونس 45) باہم ایک دوسرے کو وہ پہچانیں گے۔ اور ارشاد ہے: " یتخافتون بینھم ان لبثتم الاعشراً " (طٰہ 103) یہ لوگ چپکے چپکے ایک دوسرے سے کہیں گے ، نہیں ٹھہرے تھے تم دنیا میں مگر دس دن ۔ علاوہ ان آیات کے وہ تمام آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے بارے میں ان کے اقوال ، ان کی نظر ، ان کی سمع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو خبر یں دیں ہیں وہ سب دلالت کرتی ہیں کہ پہلے وہ کامل الحواس ہوں گے۔ مگر اب حشر کے وقت اندھے ، گونگے ، بہرے کر دئیے جائیں گے۔ پھر جب وہ آگ میں داخل کئے جائیں گے تو ان کے حواس واپس لوٹا دئیے جائیں گے تاکہ و ہ آگ کا مشاہدہ کر سکیں اور اس عذاب کا بھی جو جہنم میں ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر قالو ا بلیٰ قد جاء نا نذیر فکذبنا " (الملک 8-9) جب بھی جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا جہنم کے رباران سے سوال کریں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ۔ وہ بولیں گے ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم نے اس کو جھوٹا کہہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر وہ تمام آیات بھی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے بارے میں ان کے اقوال اور ان کے سننے اور دیکھنے کی بابت اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی ہے وہ سب دلالت کرتی ہیں کہ جہنمی جہنم میں پہنچ کر کامل الحواس ہوں گے اور عذاب کو پائیں گے۔ پھر جب وہ جہنم میں ہمیشہ رہنے کی منادی اور اعلان کئے جائیں گے،پھر وہ اپنے کان چھین لئے جائیں گے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: "لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون " (الانبیاء 100) جہنم میں جہنمیوں کے لئے شور اور چلانا ہو گا، مگر وہ نہیں سن سکیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت ان سے قوت گویائی بھی چھین لی جائے گی۔ اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اخسئو ا فیھا ولا تکلمون " (المؤمنون 108) ذلیل ہو جاؤ جہنم میں اور تم لوگ مجھ سے کلام بھی نہ کرو۔ (علاوہ ازیں ) ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان کو وعظ فرمایا اور فرمایا : لوگو! تم اللہ کی طرف جمع کئے جاؤ گے اس حال میں کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر ختنہ شدہ ہو گے۔ پھر آپ نے اپنی تائید میں یہ آیت تلاوت کی: "کما بداً نا اول خلق نعیدہ " (الانبیاء 104) جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اسی نہج پر دوبارہ اس کو لوٹائیں گے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ : پہلا شخص جو قیامت کے دن کپڑے پہنا یا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں اور ننگے بدن بغیر ختنہ کے جمع کئے جائیں گے۔ تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرد عورتوں سے کہا ں جائیں گے؟ یعنی اس حالت میں لباس و حجاب کے بغیر کیسے ساتھ رہنا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن معاملہ مرد و عورت کے خیال و تصور سے بہت ہی زیادہ سنگین ہو گا۔ (یعنی کسی کو اس حالت کا ہوش تک نہیں ہو گا۔ خوف کے عالم میں لوگ حیران اور گھبراہٹ سے پریشان ہوں ہوں گے)۔یہ کیفیت ننگے پاؤں ، ننگے بدن والی جس کو ہم نے ذکر کیا ہے ، جس پر مذکورہ نصوص دلالت کرتی ہیں ، یہ ان کا حال ان کی قبروں سے نکلتے وقت ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کا اور جس کے ملے جلے اعمال والوں میں سے چاہیں گے کپڑا پہنا نے اور سواری کروانے کے ساتھ اکرام کریں گے ۔ جیسے اس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ باقی رہی حدیث جو ابو سعید خدری و ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میت کو ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرا تھا۔ احتمال ہے کہ لباس سے مراد یہاں اعمال ہوں۔ یعنی خیر و شر کے جن اعمال میں مرا تھا انہیں اعمال میں اٹھایا جائے گا۔ جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بندہ اس حالت پر اٹھایا جائے گا۔ جس حالت پر مرا تھا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جس میں وہ مرا تھا۔ پھر وہ اس سے جھڑ جائیں گے جا کچھ لوگوں سے جھڑ کر ختم ہو جائیں گے ۔ پھر حساب کے موقف کی طرف ننگے حالت میں جمع کئے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد جنت کے لباس میں سے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اور کفار کی کیفیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "(1) ۔۔۔ خاشعۃ ابصارھم (القلم 43) " ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ اور دوسرا ارشاد ہے: " (2)۔۔۔ خشعا ابصارھم (القمر 7) ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی۔ واللہ اعلم ا س سے مراد حساب و کتاب کے موقف کی طرف جاتے ہوئے ان کی یہ حالت ہو گی کا بیان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "(1)۔۔۔ مھطعین مقنعی رؤسھم الخ (ابراہیم 43) دوڑتے ہوں گے اوپر اٹھائے اپنا سر پھر لوٹ کر نہیں آئیں گی ان کی طرف ان کی آنکھیں اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے۔ یہ وہ کیفیت ہو گی جب ان پر قیام طویل ہو جائے گا۔ موقف میں انتظار کرتے کرتے حیرانی اور پریشانی میں ہوں گے۔ ایسے جیسے کہ ان کے دل میں یہ نہیں۔ لہذا جب وہ سر اٹھائیں گے ازراہ پریشانی تو طویل اور دائمی نظر سےدیکھیں گے اور ان کی نظر ان کی طرف پلٹ کر نہیں آئے گی اور وہ ایسے ہو جائیں گے گویا کہ وہ نظریں جھکانا بھول چکے ہیں یا نیچے دیکھنا سرے سے جانتے ہی نہیں۔ پریشانی سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور قیامت کے دن لوگوں کے مختلف احوال ہوں گے۔ اور مختلف موقف اور ٹھکانے ہوں گے۔ مختلف ٹھکانوں اور مختلف احوالوں کی وجہ سے ان کی خبریں بھی مختلف ہوں گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: " فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسا ء لون "(المومنون 101) جب صور پھونکا جائے گا تو گویا کہ نہ قرابتیں ہوں گی ان کے درمیان اس دن اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ توا س بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ی نفخہ اولیٰ ہو گا صور پھونکا جائے گا۔ لہذا وہ مخلوقات جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں سب بےہوش ہو جائیں گے، مگر اللہ جس کو چاہے گا بے ہوشی سے بچا لے گا۔ لہذا اس وقت ان کے درمیان نہ کوئی رشتے ناتے ہوں گے اور نہ ہی وہ اس وقت ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ بلکہ مارے خوف اور دہشت کے سب ایک دوسرے کو بھول جائیں گے۔ پھر جس وقت دوسری بار صور پھونکا جائے گا پھر وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر بعض ان کے بعض کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس وقت ایک دوسرے سے احوال بھی پوچھیں گے۔ فصل۔۔۔ مجرم جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جائیں گے:تحقیق ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارےمیں فرمایا: " ونسوق المجرمین الی جھنم رداً "ہم مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔ وردا بمعنی عطاشا۔۔۔ حالانکہ احادیث دلالت کرتی ہین کہ اس دن پیاس عام ہو گی (یعنی سب لوگوں کو پیاس ہو گی) مگر مجرموں کی پیاس نہیں بجھے گی، بلکہ بڑھتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔ وہاں جا کر کھولتا ہوا پانی پیاسے اونٹ کی طرح پیئں گے ۔ ہم اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں اللہ کے عذاب سے۔ اہل تقویٰ نبی علیہ السلام کے حوض سے پلائے جائیں گے: بہر حال متقی لوگ اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہیں گے ملے جلے اعمال والے مؤمنین وہ سب ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض سے پلائیے جائیں گے۔ حوض کی کیفیت اور اس کے پانی کی تعریف ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 359

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood