شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 171
171 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا بشر بن موسى ثنا الحسن بن موسى الأشيب عن إبراهيم بن سعد الزهري عن ابن شهاب ـ ح ـ و أخبرنا أبو نصر محمد بن محمد بن علي بن مقاتل الهاشمي الفروي ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا إبراهيم بن سعد ثنا ابن شهاب عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت قال : أرسل إلى أبو بكر الصديق رضي الله عنه بمقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالس عنده فقال أبو بكر : إن عمر جاءني فقال : إن القتل قد استحر بقراء القرآن يوم اليمامة و إني أخشى أن يستحر القتل بالقراء في المواطن فيذهب كثير من القرآن و إني أرى أن تأمر بجمع القرآن فقلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو و الله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله لذلك صدري و رأيت في ذلك الذي رأى عمر رضي الله عنه قال زيد : قال أبو بكر : إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك و قد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن و اجمعه قال زيد : فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمروني به من جمع القرآن قال قلت : و كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال هو و الله خير فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر و عمر قال فتتبعت القرآن اجمعه من الرقاع و العسب و صدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع أبي خزيمة و في رواية أبي الوليد مع خزيمة أو أبي خزيمة الأنصاري : لم أجدها مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } قال و كانت الصحف عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند حفصة بنت عمر أم المؤمنين انتهى حديث الأشيب و زاد أبو الوليد في روايته قال إبراهيم بن سعد حدثني ابن شهاب عن أنس بن مالك : أن حذيفة قدم على عثمان بن عفان و كان يغازي أهل الشام مع أهل العراق في فتح أرمينية و آذربيجان فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة فقال لعثمان يا أمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهود و النصارى فبعثت عثمان إلى حفصة : أن أرسلي المصحف أو قال الصحف نسخها في المصاحف ثم نردها إليك فبعث بها إليه فدعا زيد بن ثابت فأمره و أمر عبد الله بن الزبير و سعيد بن العاص و قال غير أبي الوليد و عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و أمرهم أن ينسخوا الصحف في المصاحف و قال لهم : ما اختلفتم أنتم و زيد بن ثابت في شيء فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم فكتبت الصحف في المصاحف فبعث إلى كل أفق بمصحف و أمر بما سوى ذلك من القرآن في كل صحيفة أو مصحف أن يمحى أو يحرف قال ابن شهاب و أخبرني خارجة بن زيد أنه سمع زيد بن ثابت يقول : فقدت آية من سورة الأحزاب حين نسخت الصحف كنا نسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأها فالتمستها فوجدتها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري : { من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه } فالحقتها به في سورتها في المصحف قال ابن شهاب فاختلفوا يومئذ في التابوت فقال زيد بن ثابت التابوه و قال ابن الزبير و سعيد بن العاص التابوت فرفع كلامهم إلى عثمان فقال اكتبوه التابوت رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن اسمعيل عن إبراهيم بن سعد دون قول ابن شهاب قال البيهقي رحمه الله و تأليف القرآن على عهد النبي صلى الله عليه و سلم روينا عن زيد بن ثابت أنه قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم نؤلف القرآن من الرقاع و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ تأليف ما نزل من الآيات المتفرقة في سورتها و جمعها فيها بإشارة النبي صلى الله عليه و سلم ثم كانت مثبتة في الصدور مكتوبة في الرقاع و اللخف و العسب فجمعت منها في صحف بإشارة أبي بكر و عمر و غيرهما من المهاجرين و الأنصار ثم نسخ ما جمع في الصحف في مصاحف بإشارة عثمان بن عفان على ما رسم المصطفى صلى الله عليه و سلم و روينا عن سويد بن غفلة أنه قال : قال علي بن أبي طالب : يرحم الله عثمان ! لو كنت أنا لصنعت في المصاحف ما صنع عثمان و قد ذكرنا في كتاب المدخل وفي آخر كتاب دلائل النبوة ما يقوي هذا الإجماع و يدل على صحته و الحمد لله على حفظ عباده كتابه و تركهم على الواضحة وفقنا لمتابعة السنة و مجانبة البدعة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافط نے کہ خبر دی ہمیں ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے بشر بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن موسیٰ اشیب نے ابراہیم بن سعدزہری سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن محمد بن علی بن مقاتل ہاشمی فروی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو خلیفۃ الفضل بن حیاب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الولید طیالسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن شہاب نے عبید بن سباق سے انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ : میرے پاس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اہل یمامہ ی شہادت کے موقع پر بلاوا بھیجا۔ میں حاضر ہوا تو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف فرما تھے ۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت عمر تشریف لائے ہیں کہ یمامہ کی جنگ قتل قرا کے ساتھ بڑی شدید ہوئی ہے ( کیونکہ اس جنگ میں قرآن مجید کے ستر قاری شہید ہو گئے تھے ) جس سے مجھے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر اسی طرح دیگر جنگوں میں بھی قراء قتل ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت سارا حصہ ضائع ہو سکتا ہے ( اس لئے کہ اس وقت تک قرآن مجید پورا ضبط تحریر میں ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا بلکہ قراء کے سینوں میں جمع تھا پھر الگ سورتوں کی صورت میں محفوظ تھا ) عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید جمع کرنے کا حکم فرمائیں گے ۔ مگر میں نے عمر سے جواباً یہ کہا ہے کہ میں اس کام کو کیسے کروں ؟ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا ۔ عمر نے جواب دیا ہے کہ یہ کام اللہ کی قسم خیر ہے ( بہتر ہے ) نے ہمیشہ اور بار بار میرے ساتھ اس بات پر حضرت عمر بات چیت اور بحث و تمحیص کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے میرا سینہ کھول دیا ہے لہذا اب اس بارے میں میری رائے بھی وہی ہے ۔ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ حضرت زید فرماتے ہیں ابو بکر صدیق نے فرمایا ( اے زید ) بے شک آپ جو ان آدمی ہو عقلمند ہو، ہم لوگ آپ کو تہمت بھی نہیں لگاتے ( یعنی آپ ہمارے نزدیک بدنام نہیں ہیں بلکہ با اعتماد ہیں) اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپ کے لئے وحی کی کتابت بھی کیا کرتے تھے ۔ لہذا آپ قرآن میں ڈھونڈ بھال کریں اور اسے جمع کریں ۔حضرت زید فرماتے ہیں ۔ اللہ کی قسم اگر یہ لوگ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی تکلیف اور ذمہ داری دیتے تو مجھ پر کوئی زیادہ بھاری نہ ہوتی اس ذمہ داری سے جس کا انہوں نے مجھے حکم دیا تھا یعنی قرآن مجید جمع کرنے کی ذمہ داری ہے۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے کہا آپ لوگ وہ کام کیونکر کرتے ہو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا اللہ کی قسم یہ کام خیر ہے ( یعنی بہتر ہے ) چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بار بار میرے سے مسلسل بات چیت اور بحث و تمحیص کرتے رہے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یرا سینہ بھی کھول دیا اس کام کے لئے جس کے لئے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمررضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے جستجو ڈھونڈھو بھال اور تلاش قرآن شروع کر دی ۔ میں اسے کاغذ کے ٹکڑوں سے اور کھجور کے پتوں سے اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرتا تھا۔ حتیٰ کہ سورۃ توبہ کا آخر میں نے حضرت ابو خزیمہ کے پاس لیا۔ اور ابو الولوید کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت خزیمہ کے ساتھ یا ابو خزیمہ انصاری کے پاس کہ نہیں پایا تھا میں نے اس کو کسی ایک کے پاس ان کے سوا یعنی یہ آیت : ( لقد جاء کم رسول من انفسکم ) یعنی خاتمہ سورۃ براۃ ، حضرت زید فرماتے ہیں کہ صحیفے ( قرآن مجید مرتب دمدون شدہ ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر ان کے بعد الم المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ۔ حدیث اشیب پوری ہوئی۔ ابو الولید نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابراہیم بن سعد نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ۔ کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح میں اہل عراق کے ساتھ مل کر اہل شام کے خلاف جنگ کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو قراۃ میں ان کے اختلاف نے خوف زدہ کر دیا تھا۔ لہذا انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین آپ اس امت کو بچا لیجئے اس سے پہلے کہ وہکتاب اللہ میں اختلاف کریں جیسے یہود و نصاریٰ نے اختلاف کر لیا تھا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المومنین سیدہ حفصۃ رضی اللہ عنہ کے پاس نمائندہ بھیجا ( اور گزارش کی کہ ) آپ مصحف ( صدیق و فاروق والا قرآنی نسخہ ) میرے پاس بھیجیں یا یہ کہا کہ صحیفے بھیجے ۔ ہم انہیں مصاحف ( قرآنوں ) میں لکھ لیں گے پھر وہ ( اصل نسخہ ) آپ کے پاس واپس لوٹا دیں گے ۔ چنانچہ ام المومنین سیدہ حفصۃ نے وہ مصحف حضرت عثمان کے پاس بھیج دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت کو بلایا اور انہیں حکم دیا اور عبداللہ بن زبیر کو اورسعید بن عاص کو ( یہاں تک کا اضافہ تو ابو الولید کی روایت کا تھا ) اورابو الولوید کے ماسوا نے اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے کہا ہے ۔ کہ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ) ان لگوں کو حکم دیا کہ ( مختلف ) صحیفوں کو مصاحف ( قرآنی نسخوں ) میں نقل کریں اور ان سے کہا کہ جس چیز میں تم لوگ اور زید بن ثابت اختلاف کرو و اس کو قریش کی لغت کے ساتھ لکھ لو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ قرآن انہیں کی زبان کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا تمام صحیفے ۔ مصاحف میں لکھ لئے گئے پھر حضرت عثمان نے ( مملکت اسلامی ) کے ہر کونے میں ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ اور باقی ماندہ مصحف یا صحیفوں اور قرآنی اوراق کے لئے یہ حکم دیا کہ یا تو انکو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے ۔ ( اور راکھ پہاڑوں میں دفن کرا دی گئی ۔ ) ابن شہاب نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے خارجہ بن زید نے کہ اس نے زید بن ثابت سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے سورۃ احزاب کی ایک آیت کم پائی جب صحیفے لکھے جا رہے تھے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنتے تھے آپ اس آیت کو پڑھتے رہتے تھے ۔ میں نے اسے تلاش کیا تو میں نے اسے خزیمہ بن ثابت انصاری کے ساتھ پا لیا ۔ وہ یہ آیت تھی ۔ ( من المومن رجال صدقوا ما عاھدو اللہ علیہ ) (الاحزاب ۲۳) لہذا میں نے اس کو قرآن میں اسی سورۃ کے ساتھ لاحق کر دیا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ اس دن لفظ تابوت کے بارے میں اختلاف ہوا حضرت زید بن ثابت نے فرمایا لفظ ہے التابوہ اور ابن زبیر اور سعید بن عاص نے التابوت کہا ان کا اختلاف حضرت عثمان کی خدمت میں لے جایا گیا آپ نے فرمایا اس کو التابوت لکھو اس کو بخاری نے صحیح میں موسیٰ بن اسماعیل سے انہوں نے ابراہیم بن سعد سے روایت کیا ہے ۔ سوائے قول ابن شہاب کے : امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تالیف و ترتیب عہد نبوی میں ہوئی تھی اور ہم نے زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( کنا عند رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نؤلف القران من الدقاع) ہم رسول اللہ کے پاس قرآن مجید کو ( کاغذ یا چمڑے ) کے ٹکڑوں سے جمع کرتے اور ترتیب دیتے تھے ۔ سوائے اس کے نہیں ہ زید بن ثابت کی مراد ہے ۔ جمع و ترتیب متفرق آیات کی جو نازل ہو چکی تھیں ان کی سورتوں میں اور ان کو جمع کرنا سورتوں میں نبی علیہ السلام کے اشارے سے تھا۔ اس کے بعد پھر سینوں میں محفوظ تھا ( کاغذ اور چمڑے کے ) ٹکڑوں میں اور سفید پتھروں اور کھجور کے پتوں میں لکھا ہوا تھا۔ تو ان تمام چیزوں سے صحیفوں میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان دونوں کے سواء مہاجرین و انصار کے اشارے سے صحیفوں میں جمع کیا گیا ۔ پھر جو کچھ صحیفوں میں لکھا گیا تھا اس کو مصاحف میں جمع کیا گیا تھا ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اشارے سے مصطفٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشان کے مطابق۔ اور ہم نے روایت کیا ہے سوید بن غفلہ سے کہ انہوں نے کہا علی بن ابی طالب نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اگر میں ہوتا تو میں بھی مصاحف میں وہی کچھ کرتا جو کچھ حضرت عثؐان نے کیا۔ تحقیق ہم ذکر کر چکے ہیں کتاب المدخل میں اور کتاب دلائل النبوۃ کے آخر میں ( وہ مواد ) جو اس اجماع کو تقویت دیتا ہے اور اس کی صحت پر دلالت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس بات پر اللہ کے بندوں نے اللہ کی کتاب کی حفاظت کی اور اس نے پوری امت کو واضح راستے پر چھوڑا اور ہمیں سنت کی متابعت کی توفیق عطا فرمائی اور بدعت سے اجتناب کی توفیق دی ۔
أَبُو بَکْرٍ ← أرسل إلى أبو بكر الصديق بمقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالس عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أبو نصر محمد بن محمد بن علي بن مقاتل الهاشمي الفروي ← و، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Hadith 171
