Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 171

171 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا بشر بن موسى ثنا الحسن بن موسى الأشيب عن إبراهيم بن سعد الزهري عن ابن شهاب ـ ح ـ و أخبرنا أبو نصر محمد بن محمد بن علي بن مقاتل الهاشمي الفروي ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا إبراهيم بن سعد ثنا ابن شهاب عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت قال : أرسل إلى أبو بكر الصديق رضي الله عنه بمقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالس عنده فقال أبو بكر : إن عمر جاءني فقال : إن القتل قد استحر بقراء القرآن يوم اليمامة و إني أخشى أن يستحر القتل بالقراء في المواطن فيذهب كثير من القرآن و إني أرى أن تأمر بجمع القرآن فقلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو و الله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله لذلك صدري و رأيت في ذلك الذي رأى عمر رضي الله عنه قال زيد : قال أبو بكر : إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك و قد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن و اجمعه قال زيد : فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمروني به من جمع القرآن قال قلت : و كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال هو و الله خير فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر و عمر قال فتتبعت القرآن اجمعه من الرقاع و العسب و صدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع أبي خزيمة و في رواية أبي الوليد مع خزيمة أو أبي خزيمة الأنصاري : لم أجدها مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } قال و كانت الصحف عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله عز و جل ثم عند حفصة بنت عمر أم المؤمنين انتهى حديث الأشيب و زاد أبو الوليد في روايته قال إبراهيم بن سعد حدثني ابن شهاب عن أنس بن مالك : أن حذيفة قدم على عثمان بن عفان و كان يغازي أهل الشام مع أهل العراق في فتح أرمينية و آذربيجان فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة فقال لعثمان يا أمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهود و النصارى فبعثت عثمان إلى حفصة : أن أرسلي المصحف أو قال الصحف نسخها في المصاحف ثم نردها إليك فبعث بها إليه فدعا زيد بن ثابت فأمره و أمر عبد الله بن الزبير و سعيد بن العاص و قال غير أبي الوليد و عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و أمرهم أن ينسخوا الصحف في المصاحف و قال لهم : ما اختلفتم أنتم و زيد بن ثابت في شيء فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم فكتبت الصحف في المصاحف فبعث إلى كل أفق بمصحف و أمر بما سوى ذلك من القرآن في كل صحيفة أو مصحف أن يمحى أو يحرف قال ابن شهاب و أخبرني خارجة بن زيد أنه سمع زيد بن ثابت يقول : فقدت آية من سورة الأحزاب حين نسخت الصحف كنا نسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأها فالتمستها فوجدتها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري : { من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه } فالحقتها به في سورتها في المصحف قال ابن شهاب فاختلفوا يومئذ في التابوت فقال زيد بن ثابت التابوه و قال ابن الزبير و سعيد بن العاص التابوت فرفع كلامهم إلى عثمان فقال اكتبوه التابوت رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن اسمعيل عن إبراهيم بن سعد دون قول ابن شهاب قال البيهقي رحمه الله و تأليف القرآن على عهد النبي صلى الله عليه و سلم روينا عن زيد بن ثابت أنه قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم نؤلف القرآن من الرقاع و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ تأليف ما نزل من الآيات المتفرقة في سورتها و جمعها فيها بإشارة النبي صلى الله عليه و سلم ثم كانت مثبتة في الصدور مكتوبة في الرقاع و اللخف و العسب فجمعت منها في صحف بإشارة أبي بكر و عمر و غيرهما من المهاجرين و الأنصار ثم نسخ ما جمع في الصحف في مصاحف بإشارة عثمان بن عفان على ما رسم المصطفى صلى الله عليه و سلم و روينا عن سويد بن غفلة أنه قال : قال علي بن أبي طالب : يرحم الله عثمان ! لو كنت أنا لصنعت في المصاحف ما صنع عثمان و قد ذكرنا في كتاب المدخل وفي آخر كتاب دلائل النبوة ما يقوي هذا الإجماع و يدل على صحته و الحمد لله على حفظ عباده كتابه و تركهم على الواضحة وفقنا لمتابعة السنة و مجانبة البدعة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافط نے کہ خبر دی ہمیں ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے بشر بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن موسیٰ اشیب نے ابراہیم بن سعدزہری سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن محمد بن علی بن مقاتل ہاشمی فروی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو خلیفۃ الفضل بن حیاب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الولید طیالسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن شہاب نے عبید بن سباق سے انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ : میرے پاس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اہل یمامہ ی شہادت کے موقع پر بلاوا بھیجا۔ میں حاضر ہوا تو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف فرما تھے ۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت عمر تشریف لائے ہیں کہ یمامہ کی جنگ قتل قرا کے ساتھ بڑی شدید ہوئی ہے ( کیونکہ اس جنگ میں قرآن مجید کے ستر قاری شہید ہو گئے تھے ) جس سے مجھے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر اسی طرح دیگر جنگوں میں بھی قراء قتل ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت سارا حصہ ضائع ہو سکتا ہے ( اس لئے کہ اس وقت تک قرآن مجید پورا ضبط تحریر میں ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا بلکہ قراء کے سینوں میں جمع تھا پھر الگ سورتوں کی صورت میں محفوظ تھا ) عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید جمع کرنے کا حکم فرمائیں گے ۔ مگر میں نے عمر سے جواباً یہ کہا ہے کہ میں اس کام کو کیسے کروں ؟ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا ۔ عمر نے جواب دیا ہے کہ یہ کام اللہ کی قسم خیر ہے ( بہتر ہے ) نے ہمیشہ اور بار بار میرے ساتھ اس بات پر حضرت عمر بات چیت اور بحث و تمحیص کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے میرا سینہ کھول دیا ہے لہذا اب اس بارے میں میری رائے بھی وہی ہے ۔ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہے ۔ حضرت زید فرماتے ہیں ابو بکر صدیق نے فرمایا ( اے زید ) بے شک آپ جو ان آدمی ہو عقلمند ہو، ہم لوگ آپ کو تہمت بھی نہیں لگاتے ( یعنی آپ ہمارے نزدیک بدنام نہیں ہیں بلکہ با اعتماد ہیں) اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپ کے لئے وحی کی کتابت بھی کیا کرتے تھے ۔ لہذا آپ قرآن میں ڈھونڈ بھال کریں اور اسے جمع کریں ۔حضرت زید فرماتے ہیں ۔ اللہ کی قسم اگر یہ لوگ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی تکلیف اور ذمہ داری دیتے تو مجھ پر کوئی زیادہ بھاری نہ ہوتی اس ذمہ داری سے جس کا انہوں نے مجھے حکم دیا تھا یعنی قرآن مجید جمع کرنے کی ذمہ داری ہے۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے کہا آپ لوگ وہ کام کیونکر کرتے ہو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا اللہ کی قسم یہ کام خیر ہے ( یعنی بہتر ہے ) چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بار بار میرے سے مسلسل بات چیت اور بحث و تمحیص کرتے رہے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یرا سینہ بھی کھول دیا اس کام کے لئے جس کے لئے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمررضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے جستجو ڈھونڈھو بھال اور تلاش قرآن شروع کر دی ۔ میں اسے کاغذ کے ٹکڑوں سے اور کھجور کے پتوں سے اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرتا تھا۔ حتیٰ کہ سورۃ توبہ کا آخر میں نے حضرت ابو خزیمہ کے پاس لیا۔ اور ابو الولوید کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت خزیمہ کے ساتھ یا ابو خزیمہ انصاری کے پاس کہ نہیں پایا تھا میں نے اس کو کسی ایک کے پاس ان کے سوا یعنی یہ آیت : ( لقد جاء کم رسول من انفسکم ) یعنی خاتمہ سورۃ براۃ ، حضرت زید فرماتے ہیں کہ صحیفے ( قرآن مجید مرتب دمدون شدہ ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ پھر ان کے بعد الم المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ۔ حدیث اشیب پوری ہوئی۔ ابو الولید نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابراہیم بن سعد نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ۔ کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح میں اہل عراق کے ساتھ مل کر اہل شام کے خلاف جنگ کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو قراۃ میں ان کے اختلاف نے خوف زدہ کر دیا تھا۔ لہذا انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین آپ اس امت کو بچا لیجئے اس سے پہلے کہ وہکتاب اللہ میں اختلاف کریں جیسے یہود و نصاریٰ نے اختلاف کر لیا تھا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المومنین سیدہ حفصۃ رضی اللہ عنہ کے پاس نمائندہ بھیجا ( اور گزارش کی کہ ) آپ مصحف ( صدیق و فاروق والا قرآنی نسخہ ) میرے پاس بھیجیں یا یہ کہا کہ صحیفے بھیجے ۔ ہم انہیں مصاحف ( قرآنوں ) میں لکھ لیں گے پھر وہ ( اصل نسخہ ) آپ کے پاس واپس لوٹا دیں گے ۔ چنانچہ ام المومنین سیدہ حفصۃ نے وہ مصحف حضرت عثمان کے پاس بھیج دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت کو بلایا اور انہیں حکم دیا اور عبداللہ بن زبیر کو اورسعید بن عاص کو ( یہاں تک کا اضافہ تو ابو الولید کی روایت کا تھا ) اورابو الولوید کے ماسوا نے اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے کہا ہے ۔ کہ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ) ان لگوں کو حکم دیا کہ ( مختلف ) صحیفوں کو مصاحف ( قرآنی نسخوں ) میں نقل کریں اور ان سے کہا کہ جس چیز میں تم لوگ اور زید بن ثابت اختلاف کرو و اس کو قریش کی لغت کے ساتھ لکھ لو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ قرآن انہیں کی زبان کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا تمام صحیفے ۔ مصاحف میں لکھ لئے گئے پھر حضرت عثمان نے ( مملکت اسلامی ) کے ہر کونے میں ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ اور باقی ماندہ مصحف یا صحیفوں اور قرآنی اوراق کے لئے یہ حکم دیا کہ یا تو انکو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے ۔ ( اور راکھ پہاڑوں میں دفن کرا دی گئی ۔ ) ابن شہاب نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے خارجہ بن زید نے کہ اس نے زید بن ثابت سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے سورۃ احزاب کی ایک آیت کم پائی جب صحیفے لکھے جا رہے تھے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنتے تھے آپ اس آیت کو پڑھتے رہتے تھے ۔ میں نے اسے تلاش کیا تو میں نے اسے خزیمہ بن ثابت انصاری کے ساتھ پا لیا ۔ وہ یہ آیت تھی ۔ ( من المومن رجال صدقوا ما عاھدو اللہ علیہ ) (الاحزاب ۲۳) لہذا میں نے اس کو قرآن میں اسی سورۃ کے ساتھ لاحق کر دیا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ اس دن لفظ تابوت کے بارے میں اختلاف ہوا حضرت زید بن ثابت نے فرمایا لفظ ہے التابوہ اور ابن زبیر اور سعید بن عاص نے التابوت کہا ان کا اختلاف حضرت عثمان کی خدمت میں لے جایا گیا آپ نے فرمایا اس کو التابوت لکھو اس کو بخاری نے صحیح میں موسیٰ بن اسماعیل سے انہوں نے ابراہیم بن سعد سے روایت کیا ہے ۔ سوائے قول ابن شہاب کے : امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تالیف و ترتیب عہد نبوی میں ہوئی تھی اور ہم نے زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ( کنا عند رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نؤلف القران من الدقاع) ہم رسول اللہ کے پاس قرآن مجید کو ( کاغذ یا چمڑے ) کے ٹکڑوں سے جمع کرتے اور ترتیب دیتے تھے ۔ سوائے اس کے نہیں ہ زید بن ثابت کی مراد ہے ۔ جمع و ترتیب متفرق آیات کی جو نازل ہو چکی تھیں ان کی سورتوں میں اور ان کو جمع کرنا سورتوں میں نبی علیہ السلام کے اشارے سے تھا۔ اس کے بعد پھر سینوں میں محفوظ تھا ( کاغذ اور چمڑے کے ) ٹکڑوں میں اور سفید پتھروں اور کھجور کے پتوں میں لکھا ہوا تھا۔ تو ان تمام چیزوں سے صحیفوں میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان دونوں کے سواء مہاجرین و انصار کے اشارے سے صحیفوں میں جمع کیا گیا ۔ پھر جو کچھ صحیفوں میں لکھا گیا تھا اس کو مصاحف میں جمع کیا گیا تھا ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اشارے سے مصطفٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشان کے مطابق۔ اور ہم نے روایت کیا ہے سوید بن غفلہ سے کہ انہوں نے کہا علی بن ابی طالب نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اگر میں ہوتا تو میں بھی مصاحف میں وہی کچھ کرتا جو کچھ حضرت عثؐان نے کیا۔ تحقیق ہم ذکر کر چکے ہیں کتاب المدخل میں اور کتاب دلائل النبوۃ کے آخر میں ( وہ مواد ) جو اس اجماع کو تقویت دیتا ہے اور اس کی صحت پر دلالت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس بات پر اللہ کے بندوں نے اللہ کی کتاب کی حفاظت کی اور اس نے پوری امت کو واضح راستے پر چھوڑا اور ہمیں سنت کی متابعت کی توفیق عطا فرمائی اور بدعت سے اجتناب کی توفیق دی ۔

أَبُو بَکْرٍ ← أرسل إلى أبو بكر الصديق بمقتل أهل اليمامة فإذا عمر جالس عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أبو نصر محمد بن محمد بن علي بن مقاتل الهاشمي الفروي ← و، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Hadith 171

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 172

172 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى أنا الفضل بن محمد بن المسيب ثنا النفيلي ثنا سفيان بن عيينة عن عبد العزيز بن رفيع قال : دخلت مع شداد بن معقل على ابن عباس فسألناه هل ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا سوى القرآن ؟ قال : ما ترك سوى ما بين هذين اللوحين و دخلنا على محمد بن الحنفية فسألناه فقال مثل ذلك رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة عن سفيان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدحافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر محمد بن مومل بن حسن بن عیسیٰ نے کہ خبر دی ہے فضل بن محمد بن مسیب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے نفیلی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے کہ انہوں نے کہا کہ میں شداد بن معقل کے ساتھ حضرت ابن عباس کے پاس گیا۔ اور ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے قرآن کے سوا کوئی اور شے بھی چھوڑی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ( ما ترک سوی ما بین ھذین اللوحین ) کہ نہیں بس جو کچھ ان دو تختیوں کے درمیان ہے اس کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ۔ پھر ہم محمد بن حنیفہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کی مثل جواب دیا ۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں قتیبہ سے انہوں نے سفیان سے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 172

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 173

173 - أخبرنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي ثنا أبو حامد أحمد بن الحسن الحافظ ثنا محمد بن يحيى الذهلي و أبو حاتم الرازي قالا ثنا محمد بن يزيد بن سنان الرهاوي ثنا يزيد بن سنان يعني أباه عن عطاء قال سمعت أبا الحجاج مجاهد بن جبر يقول سمعت سعيد بن المسيب يقول سمعت صهيبا يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما آمن بالقرآن من استحل محارمه

ہمیں خبر دی ہے سید ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو حامد احمد بن حسن حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ ذھلی نے اور ابو حاتم رازی نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یزید بن سنان رھاوی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن سنان نے یعنی اس کے باپ نے عطاء سے انہوں نے کہا میں نے سنا تھا ابو الحجاج مجاہدین جبر سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا صھیب سے وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے سنا تھا : ( ما امن بالقران من استحل محارمہ ) جو شخص قرآن کے حرام کردہ امور و حلال سمجھے اس کا قرآن پر ایمان نہیں ہے ۔

ما آمن بالقرآن من استحل محارمه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← صُهَيْبًا، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أبا الحجاج مجاهد بن جبر ← عَطَاءٍ، ← يزيد بن سنان يعني أباه ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ ← محمد بن يحيى الذهلي و أبو حاتم الرازي ← أبو حامد أحمد بن الحسن الحافظ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي

Hadith 173

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 174

174 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن ثنا محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا أحمد بن سعيد الرباطي ثنا صدقة بن صادق مولى بني هاشم ثنا مفضل بن مهلهل عن مجاهد عن سعيد بن المسيب قال : سمعت صهيبا يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما آمن بالقرآن من استحل حرامه و في رواية أحمد محارمه قال البيهقي رحمه الله و أما الإيمان بسائر الكتب مع الإيمان بالقرآن فهو نظير الإيمان بسائر الرسل مع الإيمان بنبينا صلى الله عليه و سلم و عليهم أجمعين و الذي يحق علينا معرفته في كلام الله عز و جل أن نعرف أن كلامه صفة من صفات ذاته يقوم به و كلامه مقروء في الحقيقة بقراءتنا محفوظ في قلوبنا مكتوب في مصاحفنا غير حال فيها كما أن الله تعالى مذكور في الحقيقة بألسنتنا معلوم في قلوبنا معبود في مساجدنا غير حال فيها و كلام الله تعالى و لا حد لاختلاف فيه و لا تعداد و لا حصر و لا قليل و لا كثير غير أنه إذا قرئ بالعربية سمي قرآنا وإذا قرئ بالسريانية سمي إنجيلا و إذا قرئ بالعبرانية سمي توراة و إنما سمي في هذه الشريعة قراءة ما سمي قرانا دون ما سمي توراة و إنجيلا لأن الله تعالى كذب أهل التوراة و الإنجيل الذين كانوا على عهد نبينا صلى الله عليه و سلم و أخبر عن خيانتهم و تحريفهم الكلام عن مواضعه و وضعهم الكتاب ثم يقولون هذا من عند الله و ما هو من عند الله و يقولون على الله الكذب و هم يعلمون فلا يأمن المسلم إذا قرأ شيئا من كتبهم أن يكون ذلك من وضع اليهود و النصاري

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو احمد بن ابو الحسن نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحق بن خزیمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن سعید باطی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے صدقہ بن صادق نے جو مولیٰ ہے بنی ہاشم کے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مفضل بن مھلھل نے مجاہد سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے کہا میں نے صھیب سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا فرماتے تھے : ( ما امن بالقران من استحل حرامہ ) جو شخص قرآن کے حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے وہ قرآن پر ایمان نہیں لایا۔ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں محارمہ ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمام کتابوں کے ساتھ قرآن سمیت ایمان لانا ایسا ہے جیسے تمام رسولوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سمیت ایمان لانا ہے اور کلام اللہ کے بارے میں ہمارے اوپر جس چیز کی معرفت لازم ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں اور جانیں کہ اللہ کا کلام اس کی صفت ہے ۔ اس کی صفات ذاتیہ میں سے ہے جو اسی کے ساتھ قائم ہے اور اس کا کلام پڑھا ہوا ہے فی الحقیقت ہماری قرآت کے ساتھ محفوظ ہے ہمارے قلوب میں لکھا ہوا ہے ہمارے مصاحف میں ان میں حلول و دکول کیا ہوا نہیں ہے ۔ اس کی مثال اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فی الحقیقت مزکور ہے ہماری زبانوں کے ساتھ معلوم ہمارے قلوب میں ۔ معبود ہے ہمارے سجدوں میں اور مساجد میں ان میں حلول و دخول کیا ہوا نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے کلام کے مختلف ہونے کی کوئی حد نہیں اور نہ ہی کوئی تعداد ہے نہ ہی کوئی حصر ہے ۔ اور نہ ہی قلیل یا کثیر ہے بلکہ وہ کلام جب عربی میں پڑھا جاتا ہے تو قرآن نام رکھا جاتا ہے اور جب سریانی میں پڑھا جائے تو انجیل نام رکھا جاتا ہے اور جب وہ عبرانی میں پڑھا جائے تو توراۃ رکھا جاتا ہے اور ہماری اس شریعت میں قرآت کا نام اسی کا رکھا جاتا جس کا نام قرآن رکھا جاتا ہے توراۃ ، انجیل کا نام قرآت نہیں رکھا جاتا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب کی تکذیب فرمائی ہے ۔ جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے عہد میں تھے ۔ اور کتاب اللہ میں ان کی خیانت کی خبر دی ہے اور کلام اللہ کو اپنے موقف اور اپنے مقام سے بدلنے اور تحریف کرنے کی خبر دی ہے ۔ پھر وہ کہتے ہیں ۔ ( تحریف کرنے کے باوجود کہ ) یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ حالانکہ وہ نہیں ہے اللہ کی طرف سے ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کہتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں ( کہ جھوٹ کہہ رہے ہیں ) اس لئے کسی مسلمان کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے ۔ کہ جب ان کی کتابوں سے کوئی شئی پڑھے وہی یہود و نصاری کی وضع کردہ گھڑی ہوئی ہو۔

صُهَيْبًا، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُجَاهِدٍ ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← صدقة بن صادق مولى بني هاشم ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 174

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 175

175 - و قد أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار عن عبد الله بن الصقر بن نصر السكري ثنا أبو مروان ثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال : كيف تسألون أهل الكتاب عن شيء و كتابكم الذي أنزل الله عز و جل على نبيه صلى الله عليه و سلم أحدث الأخبار تقرؤونه محضا لم يشب ثم يخبركم الله في كتابه أنهم قد غيروا كتاب الله و بدلوه و كتبوا الكتاب بأيديهم ثم قالوا هو من عند الله ليشتروا به ثمنا قليلا ألا ينهاكم العلم الذين جاءكم عن مسألتهم و الله ما رأينا رجلا منهم قط سألكم عما أنزل الله إليكم

تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے احمد بن عبید صفار نے عبداللہ بن بن صقر بن نصر سکری سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مروان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے زھری سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : تم لوگ کس چیز کے بارے میں اہل کتاب سے کیوں پوچھتے ہو ؟ حالانکہ تمہاری وہ کتاب جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر نازل فرمایا ہے تمام چیزوں سے ( اللہ کی طرف سے آنے والی ) جدید ترین خبر ہے تم اسے خود پڑھتے ہو وہ کتاب بوڑھی نہیں ہوئی ( پرانی نہیں ہوئی ) پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ یہود و نصاریٰ نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا تھا اور اس میں تبدیلی کر ڈالی تھی ۔ اور وہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے پھر کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ہے تانکہ وہ اس کے ذریعے حقیر سا معاوضہ خرید سکیں اور حاصل کر سکیں ۔ کیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے منع نہیں کر دیا ایسے علم سے جو تمہارے پاس ان سے پوچھنے سے آئے ۔ اللہ کی قسم ہم نے ان میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا کبھی بھی جو تمہاری طرف نازل ہونے والی کتاب قران میں سے کچھ مسئلہ پوچھے ۔

کَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْکِتَابِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أبو مروان ← عبد الله بن الصقر بن نصر السكري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و قد

Hadith 175

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 176

176 - و أخبرنا علي عن أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن بشر ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن يونس عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال : يا معشر المسلمين كيف تسألون أهل الكتاب عن شيء و كتابكم الذي أنزل الله على نبيكم أحدث الأخبار بالله تقرؤونه فذكر نحوه رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير و عن موسى بن إسماعيل عن إبراهيم بن سعد و قد روينا عن مجالد عن الشعبي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم أن عمر أتاه فقال : إنا نسمع أحاديث من اليهود تعجبنا أفتى أن نكتب بعضها ؟ فقال : أمتهوكون أنتم كما تهوكت اليهود و النصارى ؟ لقد جئتكم بها بيضاء نقية و لو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي

ہمیں خبر دی ہے علی احمد بن عبید سے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید بن بشر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن بکیر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث نے یونس سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : اے مسلمانوں کی جماعت تم کسی شئی کے بارے میں اہل کتاب سے کیسے سوال کرتے ہو حالانکہ تمہاری کتاب جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جدید ترین خبر ہے جسے تم خود پڑھتے ہو ۔ پھر آگے مذکورہ روایت کی مثل نقل کیا ہے ۔ اس کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر سے اور موسیٰ بن اسماعیل سے روایت کیا ہے انہوں نے ابراہیم بن سعد سے اور تحقیق ہم نے روایت کیا ہے مجالد شعبی سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ بے شک ہم یہودیوں سے باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی اچھی لگتی ہیں ۔ آپ کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ ان میں سے کچھ کو ہم لکھ لیا کریں ۔ آپ نے جواب دیا ۔ کیا تم لوگ ( اپنے دین کے بارے میں ) ایسے حیران و پریشان ہو جیسے یہود نصاریٰ حیران و پریشان تھے ؟ حالانکہ میں تمہارے پاس اسے چمکتا ہوا صاف ستھرا لے کر آیا ہوں ۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔

نسمع أحاديث من اليهود تعجبنا أفتى أن نكتب بعضها ← النبي صلى الله عليه و سلم أن عمر أتاه ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← إبراهيم بن سعد و قد روينا ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← يحيى بن بكير و ← نحوه رواه البخاري في الصحيح ← شيء و كتابكم الذي أنزل الله على نبيكم أحدث الأخبار بالله تقرؤونه ← يا معشر المسلمين كيف تسألون أهل الكتاب ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عبيد بن بشر ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيٍّ، ← و،

Hadith 176

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 177

177 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد ثنا هشيم أنا مجالد : فذكره نحوه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبدالرحمن سلمی نے خبر دی ہے ابو الحسن کا رزی نے کہ خبر دی ہے علی بن عبدالعزیز نے ابی عبید سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ھشیم نے کہ خبر دی ہے مجالد نے پھر اسی مذکورہ کی مثل ذکر کیا ہے ۔

مجالد فذكره نحوه ← هُشَيْمٌ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 177

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 178

178 - قال أبو عبيد : و حدثنا معاذ عن ابن عون عن الحسن يرفعه نحو ذلك و قال : قال ابن عون فقلت للحسن متهوكون ؟ قال : متحيرون

ابو عبید نے کہا اور ہمیں حدیث بیان کی ہے معاذ نے ابن عون سے انہوں نے حسن سے وہ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں اسی سابق کی مثل اور کہا کہ ابن عون نے کہا کہ میں نے حسن سے کہا کہ متھو کون ؟ کا کیا مطلب ہے انہوں نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے متحرون ۔ حیران و پریشان ۔

متحيرون ← ابن عون فقلت للحسن متهوكون ← الحسن يرفعه نحو ذلك و ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذٌ، ← أبو عبيد و

Hadith 178

شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 179

179 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني إملاء أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا الهيثم بن سهل التستري ثنا حماد بن زيد ثنا مجالد بن سعيد و أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو علي حامد بن محمد الرفاء ثنا محمد بن شاذان الجوهري ثنا زكريا بن عدي ثنا حماد بن زيد عن مجالد عن الشعبي عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم لن يهدوكم و قد ضلوا زاد القاضي في روايته و الله لو كان موسى عليه السلام حيا ما حل له إلا أن يتبعني و روى عن جبير بن نفير عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه و سلم في محو ما كتب من قول اليهود بريقه و النهي عن ذلك

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے الھثیم بن سہل تستری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمد بن زید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مجالد نے بن سعید نے اور ہمیں خبر دی ہے احمد بن حسن قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو علی حامد بن محمد رفاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن شاذان جوہری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن عدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے مجاد سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے حضرت جابر سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب سے کسی شئی ( یعنی کسی مسئلے ) کے بارے میں مت پوچھو وہ تمہیں ہدایت نہیں دیں گے بلکہ وہ تو خود گمراہ ہیں ۔ قاضی نے اپنی روایت میں یہ اٖافہ کیا ہے ۔ اللہ کی قسم اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کے لئے بھی حلال نہ تھا مگر میری اتباع کرنا۔ اور روایت کیا گیا ہے جبیر بن نصیر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے مٹا دینے کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا ہے یہودیوں کی قول سے اپنی تھوک ہے اور اس سے نہی کے بارے میں ۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أبو علي حامد بن محمد الرفاء ← أحمد بن الحسن القاضي، ← مجالد بن سعيد و ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الهيثم بن سهل التستري ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أبو محمد بن يوسف الأصبهاني إملاء

Hadith 179

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood