شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 82
82 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ يوسف بن يعقوب ثنا نصر بن علي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و عن عروة بن الزبير رضي الله عنه و صلب الحديث عن أبي بكر بن عبد الرحمن عن أم سلمة ـ زوج النبي صلى الله عليه و سلم ـ قالت : أن النبي صلى الله عليه و سلم ـ لما فتن أصحابه بمكة ـ أشار عليهم أن يلحقوا بأرض الحبشة ـ فذكر الحديث بطوله إلى أن قال : فكلمه جعفر ـ يعني النجاشي قال : كنا على دينهم ـ يعني دين أهل مكة ـ حتى بعث الله عز و جل فينا رسولا نعرف نسبه و صدقه و عفافه فدعانا إلى أن نعبد الله وحده و لا نشرك به شيئا و نخلع ما يعبد قومنا و غيرهم من دونه و أمرنا بالمعروف و نهانا عن المنكر و أمرنا بالصلاة و الصيام و الصدقة و صلة الرحم و كل ما يعرف من الأخلاق الحسنة و تلا علينا تنزيلا جاءه من الله عز و جل لا يشبهه شيء غيره فصدقناه و آمنا به و عرفنا أن ما جاء به هو الحق من عند الله عز و جل قال : ففارقنا عند ذلك قومنا و آذونا و فتنونا فلما بلغ منا ما يكره و لم نقدر على الامتناع أمرنا نبينا صلى الله عليه و سلم بالخروج إلى بلادك اختيارا لك على من سواك لتمنعنا منهم فقال النجاشي : هل معكم مما أنزل عليه شيء تقرأونه علي ؟ قال جعفر : نعم فقرأ { كهيعص } فلما قرأها بكى النجاشي حتى أخضل لحيته و بكت أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم و قال النجاشي : إن هذا الكلام و الكلام الذي جاء به عيسى ليخرجان من مشكاة واحدة
ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے نصر بن علی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے وہب بن جریر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے میرے باپ نے محمد بن اسحق سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے زہری نے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور حدیث بیان کی ہے انہوں نے ابو بکر بن حارث بن ہشام سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور حدیث بیان کی ہے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمن سے انہوں نے ام سلمہ زوجہ رسول سے فرماتی ہیں کہ اہل مکہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو پریشان کیا ۔ اور اس کے اصحاب بھی پریشان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے انہیں ارض حبشہ کی طرف چلے جانے کا اشارہ دیا۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی ہے ۔ یہاں تک کہ فرمایا ۔ کہ نجاشی ( شا حبشہ ) نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے بات کی اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا ۔ ہم ان کے دین پر تھے یعنی اہل مکہ کے دین پر۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر ایک رسول بھیجا ہم جس کا نسب پہچانتے ہیں اور اس کی سچائی ، اس کی پاک دامنی پہچانتے ہیں ۔ اس نے ہمیں یہ دعوت دی کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کریں ۔ اور ہماری قوم اور دیگر لوگ جو اللہ کے سوا عبادت کرتے ہم وہ سب کچھ چھوڑ دیں ۔ اس رسول نے ہمیں اچھائی اور نیکی کرنے کا حکم دیا ۔ برائی سے ہمیں روکا ہمیں نماز کا حکم دیا۔ روزہ کے رکھنے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا۔ اور اخلاق حسنہ کی تمام اقدار کا حکم دیا۔ اور ہمارے سامنے اس نے قرآن کی تلاوت کی جسے وہ اللہ کی طرف سے لائے ہیں جس کے مشابہ کوئی شئی نہیں ہے ۔ ہم نے اس رسول کی تصدیق کی اور اس کو سچا مان لیا ہے ۔ اور ہم اس کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ۔ اور ہم نے پہچان لیا ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ اللہ عزوجل کی طرف سے حق سچ ہے ۔ اس کے بعد ہماری قوم نے ہم سے بائیکاٹ کر لیا ہے اور ہمیں ایذا اور آزمائش سے دو چار کر دیا ہے جب ہمیں اتنا ستایا گیا جس کی برداشت کی ہمارے اندر سکت نہ تھی تو ہم نے ہمارے نبی نے تمہارے ملک کی طرف نکل جانے اور ہجرت کر جانے کا حکم دیا ہے ۔ آپ کو انہوں نے آپ کے ما سوا پر ترجیح دی ہے تانکہ آپ ہمیں ان کے مظالم سے نجات دلائیں ۔ نجاشی نے پوچھا کیا تمہارے پاس اس کتاب میں سے کچھ ہے جو ان پر نازل ہوئی ہے تانکہ تم میرے سامنے اس میں سے کچھ پڑھو۔ حضرت جعفر نے جواب دیا ۔ ہاں ہے چنانچہ انہوں نے سورہ مریم ان کے سامنے پڑھی۔ حضرت جعفر کی تلاوت کے بعد نجاشی رو پڑے ۔ یہاں تک کہ روتے روتے اس کی داڑھی بھیگ گئی اور اس کے ارکان سلطنت بھی رو پڑے اور ان کے صحیفے بھیگ گئے ۔ پھر نجاشی نے کہا بے شک یہ کلام اور وہ کلام جو عیسیٰ علیہ السلام لائے تھے ایک ہی منبع سے نکلے ہیں ۔
أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عروة بن الزبير و صلب الحديث ← عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و ← أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ
Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 82
