Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 82

82 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ يوسف بن يعقوب ثنا نصر بن علي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و عن عروة بن الزبير رضي الله عنه و صلب الحديث عن أبي بكر بن عبد الرحمن عن أم سلمة ـ زوج النبي صلى الله عليه و سلم ـ قالت : أن النبي صلى الله عليه و سلم ـ لما فتن أصحابه بمكة ـ أشار عليهم أن يلحقوا بأرض الحبشة ـ فذكر الحديث بطوله إلى أن قال : فكلمه جعفر ـ يعني النجاشي قال : كنا على دينهم ـ يعني دين أهل مكة ـ حتى بعث الله عز و جل فينا رسولا نعرف نسبه و صدقه و عفافه فدعانا إلى أن نعبد الله وحده و لا نشرك به شيئا و نخلع ما يعبد قومنا و غيرهم من دونه و أمرنا بالمعروف و نهانا عن المنكر و أمرنا بالصلاة و الصيام و الصدقة و صلة الرحم و كل ما يعرف من الأخلاق الحسنة و تلا علينا تنزيلا جاءه من الله عز و جل لا يشبهه شيء غيره فصدقناه و آمنا به و عرفنا أن ما جاء به هو الحق من عند الله عز و جل قال : ففارقنا عند ذلك قومنا و آذونا و فتنونا فلما بلغ منا ما يكره و لم نقدر على الامتناع أمرنا نبينا صلى الله عليه و سلم بالخروج إلى بلادك اختيارا لك على من سواك لتمنعنا منهم فقال النجاشي : هل معكم مما أنزل عليه شيء تقرأونه علي ؟ قال جعفر : نعم فقرأ { كهيعص } فلما قرأها بكى النجاشي حتى أخضل لحيته و بكت أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم و قال النجاشي : إن هذا الكلام و الكلام الذي جاء به عيسى ليخرجان من مشكاة واحدة

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے نصر بن علی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے وہب بن جریر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے میرے باپ نے محمد بن اسحق سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے زہری نے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور حدیث بیان کی ہے انہوں نے ابو بکر بن حارث بن ہشام سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور حدیث بیان کی ہے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمن سے انہوں نے ام سلمہ زوجہ رسول سے فرماتی ہیں کہ اہل مکہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو پریشان کیا ۔ اور اس کے اصحاب بھی پریشان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے انہیں ارض حبشہ کی طرف چلے جانے کا اشارہ دیا۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی ہے ۔ یہاں تک کہ فرمایا ۔ کہ نجاشی ( شا حبشہ ) نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے بات کی اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا ۔ ہم ان کے دین پر تھے یعنی اہل مکہ کے دین پر۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر ایک رسول بھیجا ہم جس کا نسب پہچانتے ہیں اور اس کی سچائی ، اس کی پاک دامنی پہچانتے ہیں ۔ اس نے ہمیں یہ دعوت دی کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کریں ۔ اور ہماری قوم اور دیگر لوگ جو اللہ کے سوا عبادت کرتے ہم وہ سب کچھ چھوڑ دیں ۔ اس رسول نے ہمیں اچھائی اور نیکی کرنے کا حکم دیا ۔ برائی سے ہمیں روکا ہمیں نماز کا حکم دیا۔ روزہ کے رکھنے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا۔ اور اخلاق حسنہ کی تمام اقدار کا حکم دیا۔ اور ہمارے سامنے اس نے قرآن کی تلاوت کی جسے وہ اللہ کی طرف سے لائے ہیں جس کے مشابہ کوئی شئی نہیں ہے ۔ ہم نے اس رسول کی تصدیق کی اور اس کو سچا مان لیا ہے ۔ اور ہم اس کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ۔ اور ہم نے پہچان لیا ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ اللہ عزوجل کی طرف سے حق سچ ہے ۔ اس کے بعد ہماری قوم نے ہم سے بائیکاٹ کر لیا ہے اور ہمیں ایذا اور آزمائش سے دو چار کر دیا ہے جب ہمیں اتنا ستایا گیا جس کی برداشت کی ہمارے اندر سکت نہ تھی تو ہم نے ہمارے نبی نے تمہارے ملک کی طرف نکل جانے اور ہجرت کر جانے کا حکم دیا ہے ۔ آپ کو انہوں نے آپ کے ما سوا پر ترجیح دی ہے تانکہ آپ ہمیں ان کے مظالم سے نجات دلائیں ۔ نجاشی نے پوچھا کیا تمہارے پاس اس کتاب میں سے کچھ ہے جو ان پر نازل ہوئی ہے تانکہ تم میرے سامنے اس میں سے کچھ پڑھو۔ حضرت جعفر نے جواب دیا ۔ ہاں ہے چنانچہ انہوں نے سورہ مریم ان کے سامنے پڑھی۔ حضرت جعفر کی تلاوت کے بعد نجاشی رو پڑے ۔ یہاں تک کہ روتے روتے اس کی داڑھی بھیگ گئی اور اس کے ارکان سلطنت بھی رو پڑے اور ان کے صحیفے بھیگ گئے ۔ پھر نجاشی نے کہا بے شک یہ کلام اور وہ کلام جو عیسیٰ علیہ السلام لائے تھے ایک ہی منبع سے نکلے ہیں ۔

أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عروة بن الزبير و صلب الحديث ← عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و ← أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 82

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 83

83 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري ثنا فضيل بن عبد الوهاب ثنا شريك عن سماك عن أبي ظبيان عن ابن عباس قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : بم كنت نبيا ؟ قال : أرأيت إن دعوت شيئا من هذه النخلة فأجابني تؤمن بي ؟ قال : نعم فدعاه فأجابه فآمن به و أسلم و كذا رواه محمد بن سعيد بن الأصبهاني عن شريك و أتم من هذا و رواه أيضا عن الأعمش عن أبي ظبيان و قد ذكرنا شواهد هذا في كتاب دلائل النبوة و ذكرنا فيه من إيمان من آمن حين وقف على صدق النبي صلى الله عليه و سلم و معجزته ما يكشف عن صحة ما قاله الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے عباس بن محمد دوری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے فضیل بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شریک نے سماک سے انہوں نے ابو ضبیان سے انہوں نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا ۔ آپ کیونکر نبی بن گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ بتا کہ اگر میں ان کھجوروں میں سے کسی کو بلاؤں اور وہ میری بات مان لے تو تم مجھ پر ایمان لے آؤ گے ؟ بولا ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ایک کھجور کے درخت کو بلایا ۔ کھجور نے آپ کی بات مان لی ۔ پھر وہ شخص یہ معجزہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر ایمان لے آیا اور اسلام لے آیا ۔ اس حدیث کو محمد بن سعید اصفہانی نے اسی طرح روایت کیا ہے شریک سے جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور اس کو اعمش ابیض بیان سے بھی روایت کیا ہے ۔ ہم نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں اس کے کئی شواہد ذکر کئے ہیں ۔ اور ہم نے اس شخص کا ایمان ذکر کیا ہے ۔ جو اس وقت ایمان لایا جب وہ نبی کریم کی سچائی پر واقف ہو گیا اور آپ کے معجزے پر جس سے آپ کے فرمان کی سچائی کھل جاتی ہے ۔

أَرَأَيْتَ ← بم كنت نبيا ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 83

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 84

84 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان أنبأ أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا سفيان عن جعفر بن برقان عن عمر بن عبد العزيز ـ رضي الله عنه أنه سأله رجل من شيء من الأهواء فقال : عليك بدين الأعرابي و الغلام في الكتاب واله عمن سواه قال الإمام البيهقي ـ رحمه الله ـ : و هذا الذي قاله عمر بن عبد العزيز قاله غيره من السلف ـ في النهي عن الخوض في مسائل الكلام ـ فإنما هو لأنهم رأوا أنه لا يحتاج إليه لتبيين صحة الدين في أصله إذ كان رسول الله إنما بعث مؤيدا بالحجج فكانت مشاهدتها للذين شاهدوها و بلاغها المستفيض و من بلغه كافيا في إثبات التوحيد و النبوة معا عن غيرها و لم يأمنوا أن يوسع الناس في علم الكلام و أن يكون فيهم من لا يكمل عقله و يضعف رأيه فيرتبك في بعض ضلالة الضالين و شبه الملحدين و لا يستطيع منها مخرجا كالرجل الضعيف غير الماهر بالسباحة إذا وقع في ماء غامر قوي لم يؤمن أن يغرق فيه و لا يقدر على التخلص منه و لم ينهوا عن علم الكلام لأن عينه مذموم أو غير مفيد و كيف يكون العلم الذي يتوصل به إلى معرفة الله عز و جل وعلم صفاته و معرفة رسله و الفرق بين النبي الصادق و بين المتنبئ الكاذب عليه مذموما أو مرغوبا عنه ؟ و لكنهم لإشفاقهم على الضعفاء لئلا يبلغوا ما يريدون منه فيضلوا نهوا عن الاشتغال به ثم بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في التحريض على تعلمه إعدادا لأعداء الله عز و جل و قال غيره في نهيهم عن ذلك إنما هو لأن السلف من أهل السنة و الجماعة كانوا يكتفون بمعجزات الرسل صلوات الله عليهم على الوجه الذي بينا و إنما يشتغل في زمانهم بعلم الكلام أهل الأهواء فكانوا ينهون عن الاشتغال بكلام أهل الأهواء ثم إن أهل الأهواء كانوا يدعون على أهل السنة أن مذاهبهم في الأصول تخالف المعقول فقيض الله تعالى جماعة منهم للاشتغال بالنظر و الاستدلال حتى تبحروا فيه و بينوا بالدلائل النيرة و الحجج الباهرة أن مذاهب أهل السنة توافق المعقول كما هي موافقة لظاهر الكتاب و السنة إلا أن الإيجاب يكون بالكتاب و السنة فيما يجوز في العقل أن يكون غير واجب دون العقل و قد كان من السلف من يشرع في علم الكلام و يرد به على أهل الأهواء

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن حسین قطان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے احمد بن یوسف سلمی نے وہ کہتے ہیں ۔ حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف فریابی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے جعفر بن برقان نے عمر بن عبدالعزیز سے کہ ایک آدمی نے ان سے کھجور کی بابت سوال کیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : ( علیک بدین الا عرابی و الغلام فی الکتاب و الہ عمن سواہ ) لازم پکڑو دیہاتی کا ایمان اور لڑکے کا ایمان کتاب میں اور چھوڑے دے اس کو جو اس کے سوا ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا اور ان کے سوا سلف نے علم کلام کے مسائل میں غور کرنے سے نہی کے بارے میں یہ اس لئے کہا کہ انہوں نے دیکھا سمجھا کہ مسائل کلام میں گھسنے کی ضرورت اور احتیاج نہیں ہے دین کی صحت کی تبین اور توضیح کے لئے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم دلائل و براہین کے ساتھ تائید یافتہ بنا کر بھیجے گئے تھے اور ان صحیح براہین کا مشاہدہ انہیں لوگوں کے لئے تھا جنہوں نے ان کا مشاہدہ کیا اور ان کا مکمل پیغام اور وہ لوگ جن کو وہ بھیجا وہ ایک ساتھ اثبات توحید و نبوۃ کے لئے کافی وافی تھا دوسری چیزوں کی نسبت سے انہوں نے امن اور سلامتی نہیں سمجھی کہ لوگ علم کلام میں فراخی پیدا کریں اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہوگا جس کی عقل کامل نہ ہوگی اور رائے کمزور ہو گی لہذا بعض گمراہوں کی گمراہی کے جال میں پھنس جائے گا اور بے دینوں کے شبہات میں اور اس سے نکلنے کی استطاعت بھی نہ رکھے گا جیسے کمزور آدمی جو تیرنے میں ماہر نہ ہو جب گہرے پانی میں گر جائے غرق ہونے سے محفوظ نہیں ہوتا اور اس سے چھٹکارے پر قدرت بھی نہیں رکھتا ۔ اور علم کلام سے منع بھی نہیں کیا کہ ذاتی طور پر وہ مذمومو ہے یا غیر مفید ہے ۔ اور وہ علم کیسے مذموم اور تامل نفرت ہو سکتا ہے ؟ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک رسائی حاصل کی جائے اور اللہ کی صفات کے علم اور اس کے رسولوں کی معرفت حاصل کی جائے اور سچے نبی اور جھوٹے نبوت کے دعویدار ہیں جس کے ذریعے فرق کیا جائے ۔ لیکن کمزوروں پر ان کے ڈر نے اور شفقت کرنے کی وجہ سے منع کیا تانکہ ایسا نہ ہو کہ وہ جو چاہتے ہیں علم کلام سے وہاں تک نہ پہنچ سکیں اور گمراہ ہو جائیں ۔ لہذا اس علم کے ساتھ اشتعال سے روکا اور منع کیا ہے ۔ سیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اللہ کے دشمنوں کے خلاف تیاری کرنے کے لئے علم کلام سیکھنے پر ابھارنے اور برا نگخیتہ کرنے کے لئے تفصیلی بحث کی ہے ۔ شیخ حلیمی کے علاوہ بعض اہل علم کا لوگوں کو علم کلام میں اشتعال سے روکنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل السنت و الجماعت کے اسلاف رسولوں کے معجزات کے ساتھ اکتفا کرتے تھے جس طریقے سے ہم بیان کر چکے ہیں ۔ سلف اہل السنت کے زمانے میں علم کلام کے ساتھ اہل بدعت اشتعال رکھتے تھے ۔ لہذا اہل السنت اہل بدعت کے کلام کے ساتھ اشتعال رکھنے و مصروف ہونے سے منع کرتے تھے پھر اس پر طرہ یہ کہ اہل بدعت اس بات کے دعویدار تھے کہ اہل السنت کے مذہب اپنے اصول میں عقل کے خلاف ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں میں سے ایک جماعت کو غور و فکر کرنے اور استدلال کے لئے مقرر فرما دیا انہوں نے کلام میں مہارت حاصل کی اور روشن دلائل اور حجت باہرہ کے ساتھ بیان کر دیا کہ اہل السنت کے مسالک عقل کے موافق ہیں مخالف نہیں ہیں جیسے کہ وہ ظاہر کتاب و سنت کے موافق ہیں ۔ صرف فرق اس قدر ہے کہ ہر چیز کا اثبات و ایجاب کتاب و سنت سے ہوتا ہے ان امور میں بھی جن میں عقلا جائز ہے کہ غیر واجب ہوں ۔ عقل سے اثبات و ایجاب نہیں ہوتا۔ یہ پکی بات ہے کہ سلف میں وہ لوگ بھی تھے جو علم کلام میں مہارت حاصل کرتے اور اس کے ذریعے اہل بدعت کا رد کرتے تھے ۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 84

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 85

85 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل ثنا إبراهيم بن معقل ثنا حرملة ثنا ابن وهب ثنا مالك أنه دخل يوما على عبد الله بن يزيد بن هرمز فذكر قصة ـ ثم قال : و كان ـ يعني ابن هرمز ـ بصيرا بالكلام و كان يرد على أهل الأهواء و كان من أعلم الناس بما اختلفوا فيه من هذا الأهواء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے احمد بن سہل نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن معقل نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے حرملہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابن وہب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے مالک نے کہ وہ ایک دن عبداللہ بن یزید بن ہرمز کے پاس داخل ہوئے ۔ اور قصہ ذکر کیا ۔ پھر کہا کہ ابن ہرمز کلام میں بصیرت والا اور وہ اہل بدعت کا رد کرتا تھا اور بڑے علم والے لوگوں میں سے تھا خصوصا جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے اہل بدعت میں سے ۔

قصة ثم ← مالك أنه دخل يوما على عبد الله بن يزيد بن هرمز ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 85

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood