شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9982
9982 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبو العباس محمد بن أحمد بن المحبوب الزاهد يقول : سمعت محمد بن المسيب يقول : سمعت عبد الله بن خبيق يقول : كان موسى بن طريف يقول : ـ ( إذا أبقت الدنيا على المرء دينه فما فاته منها فليس بضائر )
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب زاہد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن مسیب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن خبیق سے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ بن ظریف کہتے تھے ۔ شعر جس کا مفہوم یہ ہے۔ جب کسی شخص کا دین اس کی دنیا سے بچ جائے تو دنیا کا نقصان کتنا بھی ہو جائے وہ اس کے لئے کوئی نقصان نہیں ہے۔
إذا أبقت الدنيا على المرء دينه فما فاته منها فليس بضائر ← كان موسى بن طريف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ← أبو العباس محمد بن أحمد بن المحبوب الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9982
