شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل فيمن كفر مسلما · حديث 81
81 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر و عبد الله بن نمير قالا ثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و في رواية عبد الله بن دينار عن ابن عمر : إن كان كما قال و إلا رجعت إليه قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : إذا قال ذلك مسلم لمسلم فهذا على وجهين إن أراد أن الدين الذي يعتقده كفر كفر بذلك و إن أراد أنه كافر في الباطن و لكنه يظهر الإيمان نفاقا لم يكفر و إن لم يرد شيئا لم يكفر أن ظاهره أنه رماه بما لا يعلم في نفسه مثله قال : البيهقي ـ رحمه الله : قد روينا عن عمر بن الخطاب ـ رضي الله تعالى عنه ـ أنه قال : في حاطب بن أبي بلتعة حين خان رسول الله صلى الله عليه و سلم بالكتابة إلى مكة : دعني أضرب عنق هذا المنافق فسماه عمر منافقا و لم يكن منافقا فقد صدقه النبي صلى الله عليه و سلم فيما أخبر عن نفسه و لم يصر به عمر كافرا لأنه أكفره بالتأويل و كان ما ذهب إليه عمر محتمل
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الولید فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اابی شبیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن بشران اور عبداللہ بن نمیر نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن عمر نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اذا کفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما ) جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے ایک اس کفر کے ساتھ رجو کرتا ہے ( یعنی ایک ضرور اس کا مصداق ہو جاتا ہے ) ۔ مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں ابو بکر بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے ۔ عبداللہ بن دینار کی ایک روایت میں ابن عمر سے مروی ہے ۔ ( ان کان کما قال و الا رجعت الیہ ) اگر وہ شخص ایسا ہے جیسے کہ اس نے کہا تو ( ٹھیک ہے ) اور نہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹتا ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ بات جبکوئی مسلمان مسلمان کے بارے میں کہتا ہے تو یہ دو وجوہ پر ہوتا ہے ۔ اگر کہنے والے کی مراد یہ ہو کہ وہ دین جس کا یہ معتقد ہے وہ کفر ہے تو یہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اگر اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ و ہ باطنی طور پر کافر ہے لیکن ظاہری طور پر بطور منافقت ایمان کا اظہار کرتا ہے تو کہنے والا کافر نہیں ہو گا اور اگر کسی بات کا ارادہ نہ کرے تب بھی کافر نہیں ہو گا۔ اس لئے کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس نے اس کو تمہت لگائی ہے اس چیز کے بارے میں جس کو وہ فی نفسہ خود نہیں جانتا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں اس وقت کہا تھا جب انہوں نے مکہ خط بھیج کر رسول اللہ کا راز افشا کیا تھا۔ ( دعنی اضرب عنق ھذا المنافق ) چھوڑ ئیے مجھے میں اس منافق کی گردن مار دوں ۔ حضرت عمر نے اس کو منافق قرار دیا تھا جب کہ وہ درحقیقت منافق نہیں تھے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کی تصدیق فرمائی تھی اس کی اس بات کے بارے میں جو اس نے اپنی ذات کے بارے میں خبر د تھی ۔ اور حضرت عمر اس کی وجہ سے کافر نہیں ہوئے تھے ۔ اس لئے کہ انہوں نے حاطب کو کفر کی نسبت ناویل کے ساتھ کی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف وہ تھا جس احتمال تھا۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن بشر و عبد الله بن نمير ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان
Hadith 81
