شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 295
295 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا يحيى بن الربيع المكي ثنا سفيان عن الزهري عن أبي إدريس عن عبادة بن الصامت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لهم في بيعة النساء : تبايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا و لا تسرقوا و لا تزنوا ـ يعين الآية كلها ـ فمن وفى منكم فأجره على الله و من أصاب من ذلك شيئا فعوقب فهو كفارته و من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه فهو إلى الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة قال البيهقي رحمه الله : قوله في بيعة النساء أراد كما في بيعة النساء و هو في قوله عز و جل : { يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن ولا يعصينك في معروف } و قوله : من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه أراد به ما خلا الشرك كما أراد بقوله : فعوقب به ما خلا الشرك فجعل الحد كفارة لما صاب من الذنب بعد الشرك و جعل ما لم يحد فيه موكولا إلى مشيئة الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه ثم التعذيب لا يكون مؤبدا لدليل أخبار الشفاعة و ما ورد في معناها من كتاب الله عز و جل فإن قيل : المعنى أنه يغفر الصغائر لمجتنب الكبائر و لا يغفرها لمن لا يجتنب الكبائر كما قال في آية أخرى : { إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه نكفر عنكم سيئاتكم و ندخلكم مدخلا كريما } قيل : المراد بالكبائر التي شرط في المغفرة اجتنابها هي الشرك فهي في هذه الآية مطلقة و تكفير السيئات بها مطلقة و هما في الآية التي احتججنا بها في الموضعين مقيدتان فوجب الجمع بينهما و حمل المطلق على المقيد فإن قيل قد توعد أصحاب الكبائر بالنار و الخلود فيها و لم يستثن منهم إلا التائبين فقال : { ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق } إلى أن قال : { إلا من تاب } قيل : هذا الوعيد ينصرف إلى جميع ما تقدم ذكره فإن الله جل ثناؤه افتتح هذه الآية بذكر الشرك فقال : { و الذين لا يدعون مع الله إلها آخر } فانصرف قوله : { و من يفعل ذلك } إلى جميع ما تقدم ذكره و من جمع بين هذه الكبائر هذا الوعيد و الذين يدل على أنه قال : { يضاعف له العذاب } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أن من جمع بين الشرك و غيره من الكبائر جمع عليه مع عذاب الشرك عذاب الكبائر فيصير العذاب مضاعفا عليه ثم قال : { إلا من تاب و آمن و عمل عملا صالحا } فذكر في التوبة الإيمان و العمل الصالح و ذلك ليحبط الإيمان كفره و يحبط إصلاحه في الإيمان ما تقدم من إفساده في الكفر كما روينا فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم فإن قيل : و قد قيل : { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها } قيل : قد ذهل أهب التفسير إلى أن هذه الآية نزلت فيمن قتل و ارتد عن الإسلام و ذهب بعض أصحابنا إلى أن الآية مقصورة على سببها
ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ربیع مکی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے زھری سے ، انہوں نے اب ادریس سے، انہوں نے عبادہ بن صامت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا تھا: میرے ساتھ تم لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے۔ یعنی پوری آیت بیعت والی کا ذکر فرمایا۔ (پھر فرمایا کہ ) جو شخص تم میں سے ساری باتیں پوری کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا اور جو شخص ان باتوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا اور اس کو سزا دے دی گئی وہ سزا اس کے لئے کفارہ ہو گی اور جس نے کسی کام کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا (یعنی اس کا گناہ سامنے نہ آ سکا) وہ اللہ عزوجل کے حوالے ہو گا۔ اگر وہ چاہے گا معاف کر دے گا اور چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا۔ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اس حدیث کو سفیان بن عیینہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عبادہ بن صامت کا قول فی بیعۃ النسآء سے انہوں نے یہ مراد لی ہے کہ جیسے عورتوں کی بیعت میں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یا ایھا النبی اذا جآء ک المومنات یبا یعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئاً ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولا دھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وار جلھن ولا یعصینک فی معروف الخ (12) اے نبی جب تیرے پاس ایمان والی عورتیں تیرے ساتھ بیعت ہونے کے لئے آئیں تو (ان شرائط پر ان کی بیعت قبول کر لیجئے) کہ : (1)۔۔اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کریں گے۔ (2)۔۔چوری نہیں کریں گے۔ (3)۔۔زنا نہیں کریں گے۔ (4)۔۔اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ (5)۔۔اور بہتان نہیں باندھیں گی، جیسے وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے اگے اختراز کریں۔ (6)۔۔اور ہر اچھے کام میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی۔ (گزشتہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) یہ قول کرنا: "ومن اصاب من ذالک شیئاً فسترہ اللہ علیہ" کہ جو شخص ان مذکورہ گناہوں میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر پردہ ڈال دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اس سے شریک کے ماسوا باقی گناہ ہے۔ جیسے آپ کا یہ قول کرنا (فعوقب بہ) یعنی جس نے مذکورہ گناہوں میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اس کی سزا دی گئی۔ اس سے مراد بھی ماسوائے شرک کے گناہ مراد ہے۔ جبھی تو سزا اور حد کو کفارہ قرار دے دیا۔ اس غلطی کا اور گناہ شرک کے بعد جس کاارتکاب کیا اور جس گناہ کے ارتکاب کے بعد اس میں حد جاری نہیں کی گئی اس کو اللہ کی مشیت کے سپرد کیا۔ اگر چاہے تو اس کے لئے معافی فرما دے اگر چاہے تو اس کو عذاب دے۔ پھر عذاب دائمی نہیں ہو گا۔ اس بات کی دلیل شفاعت قبول کر کے جنت میں بھیجنے والی احادیث میں اور وہ آیات ہیں جو کتا ب اللہ میں اس معنی میں آئی ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیت مغفرت میں یہ فقرہ کہ جس کو چاہے بخش دے گا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے صغیرہ گناہ معاف کر دے گا جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو گا اور اس کے لئے بخشش نہیں کرے گا جو کبائر کا ارتکاب کرنے والا ہو گا جیسے کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے: " ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم وند خلکم مدخلا ً کریما (النسآء31) اگر تم کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو گے جس سے تم منع کئے گئے ہو تو مٹا دیں گے ہم تم سے تمہاری غلطیاں اور داخل کریں ہم تم کو با عزت مقام میں۔ تو جواب میں کہا جائے گا کہ وہ کبائر جن سے اجتناب کرنے کو مغفرت کے لئے شرط قرارد یا گیا ہے اس سے مراد شرک ہے اور یہ اس آیت میں مطلق ہے اور اس کے ساتھ سیئات کی تکفیر کرنا اور مٹنا بھی مطلق ہے اور وہ دونوں اس آیت میں جس کے ساتھ ہم نے حجت پکڑی ہے دونوں جگہ دونوں مفید ہیں۔ لہذا دونوں کے مابین جمع کرنا وجب ہے اور مطلق کو مقید پر محمول کرنا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کرنے والوں کو آگ کی اور اس میں ہمیشہ رہنے کی وعید اور دھمکی دی ہے اور ان سے توبہ کرنے والوں کےسوا کسی کو علیحدہ نہیں کیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ولا تقتلو النفس التی حرم اللہ الا بالحق (تا) الا من تاب (الفرقان 68 تا 70) یہ قتل کرو کسی نفس کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کی تائید کے ساتھ۔ (یہاں تک کہ فرمایا) مگر وہ شخص جو توبہ کرے تو جواب میں کہا جائے گا کہ اس وعید اور دھمکی کا تعلق صرف اسی سے نہیں بلکہ تما م ان امور سے اور اشیاء سے ہے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتداء شرک کے ذکر کے ساتھ کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا: "والذین لا ید عون مع اللہ الھا اخر (الفرقان 68) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکڑتے۔ (یعنی شرک کی نفی کی ہے) لہذا آیت میں یہ فقرہ : "ومن یفعل ذالک یلق اثاماً" جو شخص یہ کام کرے گا وہ ملے گا کئی کئی گناہوں کو بھرے گا۔ اور رجوع کرے گا ان تمام سابقہ چیزوں کی طرف جو پہلے مذکور ہوئی ہیں۔ جس نے ان کبائر اور اس وعید کے اور اس پر جو دلیل دلالت کرتی ہے وہ یہ قول ہے: "یضاعف لہ العذاب" کہ اس کے لئے دہرا عذاب ہے۔ کے درمیان جمع کیا ہے اس نے یہ ارادہ کیا ہے وہ شخص جس نے شرک اور اس کے علاوہ کبائر کے مابین جمع کیا ہے۔ اس پر جمع کر دئیے ہیں شرک کے عذاب کے ساتھ کبائر کے عذب ، لہذا اس پر عذاب دہرا ہو گیا ہے ۔ پھر فرمایا: "الا من تاب وامن وعمل عملا ً صالحاً " مگر جو شخص ایمان لایا اور نیک عمل کئے۔ تو یہ ایمان اور عمل صالح کا ذکر کیا ہے اور یہ اس لئے تاکہ ا س کا ایمان اس کے کفر کو تباہ کر دے اور ختم کر دے اور ایمان میں اس کی اصلاح اس کو تباہ کر دے جو پہلے سے کفر میں اس سے خرابی ہوئی جیسے ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا (النسآء 3) جو شخص کسی مؤمن کو قتل کرے گا اس کی جزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (جواب میں) کہا جائے گا کہ اہل تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے قتل کیا تھا اور مرتد ہو گیا تھا اسلام سے اور ہمارے بعض اصحاب اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت اپنے سبب یا شان نزول پر بند ہے۔
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 295
