Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 295

295 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا يحيى بن الربيع المكي ثنا سفيان عن الزهري عن أبي إدريس عن عبادة بن الصامت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لهم في بيعة النساء : تبايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا و لا تسرقوا و لا تزنوا ـ يعين الآية كلها ـ فمن وفى منكم فأجره على الله و من أصاب من ذلك شيئا فعوقب فهو كفارته و من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه فهو إلى الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة قال البيهقي رحمه الله : قوله في بيعة النساء أراد كما في بيعة النساء و هو في قوله عز و جل : { يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن ولا يعصينك في معروف } و قوله : من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه أراد به ما خلا الشرك كما أراد بقوله : فعوقب به ما خلا الشرك فجعل الحد كفارة لما صاب من الذنب بعد الشرك و جعل ما لم يحد فيه موكولا إلى مشيئة الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه ثم التعذيب لا يكون مؤبدا لدليل أخبار الشفاعة و ما ورد في معناها من كتاب الله عز و جل فإن قيل : المعنى أنه يغفر الصغائر لمجتنب الكبائر و لا يغفرها لمن لا يجتنب الكبائر كما قال في آية أخرى : { إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه نكفر عنكم سيئاتكم و ندخلكم مدخلا كريما } قيل : المراد بالكبائر التي شرط في المغفرة اجتنابها هي الشرك فهي في هذه الآية مطلقة و تكفير السيئات بها مطلقة و هما في الآية التي احتججنا بها في الموضعين مقيدتان فوجب الجمع بينهما و حمل المطلق على المقيد فإن قيل قد توعد أصحاب الكبائر بالنار و الخلود فيها و لم يستثن منهم إلا التائبين فقال : { ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق } إلى أن قال : { إلا من تاب } قيل : هذا الوعيد ينصرف إلى جميع ما تقدم ذكره فإن الله جل ثناؤه افتتح هذه الآية بذكر الشرك فقال : { و الذين لا يدعون مع الله إلها آخر } فانصرف قوله : { و من يفعل ذلك } إلى جميع ما تقدم ذكره و من جمع بين هذه الكبائر هذا الوعيد و الذين يدل على أنه قال : { يضاعف له العذاب } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أن من جمع بين الشرك و غيره من الكبائر جمع عليه مع عذاب الشرك عذاب الكبائر فيصير العذاب مضاعفا عليه ثم قال : { إلا من تاب و آمن و عمل عملا صالحا } فذكر في التوبة الإيمان و العمل الصالح و ذلك ليحبط الإيمان كفره و يحبط إصلاحه في الإيمان ما تقدم من إفساده في الكفر كما روينا فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم فإن قيل : و قد قيل : { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها } قيل : قد ذهل أهب التفسير إلى أن هذه الآية نزلت فيمن قتل و ارتد عن الإسلام و ذهب بعض أصحابنا إلى أن الآية مقصورة على سببها

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ربیع مکی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے زھری سے ، انہوں نے اب ادریس سے، انہوں نے عبادہ بن صامت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا تھا: میرے ساتھ تم لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے۔ یعنی پوری آیت بیعت والی کا ذکر فرمایا۔ (پھر فرمایا کہ ) جو شخص تم میں سے ساری باتیں پوری کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا اور جو شخص ان باتوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا اور اس کو سزا دے دی گئی وہ سزا اس کے لئے کفارہ ہو گی اور جس نے کسی کام کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا (یعنی اس کا گناہ سامنے نہ آ سکا) وہ اللہ عزوجل کے حوالے ہو گا۔ اگر وہ چاہے گا معاف کر دے گا اور چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا۔ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اس حدیث کو سفیان بن عیینہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عبادہ بن صامت کا قول فی بیعۃ النسآء سے انہوں نے یہ مراد لی ہے کہ جیسے عورتوں کی بیعت میں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یا ایھا النبی اذا جآء ک المومنات یبا یعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئاً ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولا دھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وار جلھن ولا یعصینک فی معروف الخ (12) اے نبی جب تیرے پاس ایمان والی عورتیں تیرے ساتھ بیعت ہونے کے لئے آئیں تو (ان شرائط پر ان کی بیعت قبول کر لیجئے) کہ : (1)۔۔اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کریں گے۔ (2)۔۔چوری نہیں کریں گے۔ (3)۔۔زنا نہیں کریں گے۔ (4)۔۔اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ (5)۔۔اور بہتان نہیں باندھیں گی، جیسے وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے اگے اختراز کریں۔ (6)۔۔اور ہر اچھے کام میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی۔ (گزشتہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) یہ قول کرنا: "ومن اصاب من ذالک شیئاً فسترہ اللہ علیہ" کہ جو شخص ان مذکورہ گناہوں میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر پردہ ڈال دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اس سے شریک کے ماسوا باقی گناہ ہے۔ جیسے آپ کا یہ قول کرنا (فعوقب بہ) یعنی جس نے مذکورہ گناہوں میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اس کی سزا دی گئی۔ اس سے مراد بھی ماسوائے شرک کے گناہ مراد ہے۔ جبھی تو سزا اور حد کو کفارہ قرار دے دیا۔ اس غلطی کا اور گناہ شرک کے بعد جس کاارتکاب کیا اور جس گناہ کے ارتکاب کے بعد اس میں حد جاری نہیں کی گئی اس کو اللہ کی مشیت کے سپرد کیا۔ اگر چاہے تو اس کے لئے معافی فرما دے اگر چاہے تو اس کو عذاب دے۔ پھر عذاب دائمی نہیں ہو گا۔ اس بات کی دلیل شفاعت قبول کر کے جنت میں بھیجنے والی احادیث میں اور وہ آیات ہیں جو کتا ب اللہ میں اس معنی میں آئی ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیت مغفرت میں یہ فقرہ کہ جس کو چاہے بخش دے گا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے صغیرہ گناہ معاف کر دے گا جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو گا اور اس کے لئے بخشش نہیں کرے گا جو کبائر کا ارتکاب کرنے والا ہو گا جیسے کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے: " ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم وند خلکم مدخلا ً کریما (النسآء31) اگر تم کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو گے جس سے تم منع کئے گئے ہو تو مٹا دیں گے ہم تم سے تمہاری غلطیاں اور داخل کریں ہم تم کو با عزت مقام میں۔ تو جواب میں کہا جائے گا کہ وہ کبائر جن سے اجتناب کرنے کو مغفرت کے لئے شرط قرارد یا گیا ہے اس سے مراد شرک ہے اور یہ اس آیت میں مطلق ہے اور اس کے ساتھ سیئات کی تکفیر کرنا اور مٹنا بھی مطلق ہے اور وہ دونوں اس آیت میں جس کے ساتھ ہم نے حجت پکڑی ہے دونوں جگہ دونوں مفید ہیں۔ لہذا دونوں کے مابین جمع کرنا وجب ہے اور مطلق کو مقید پر محمول کرنا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کرنے والوں کو آگ کی اور اس میں ہمیشہ رہنے کی وعید اور دھمکی دی ہے اور ان سے توبہ کرنے والوں کےسوا کسی کو علیحدہ نہیں کیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ولا تقتلو النفس التی حرم اللہ الا بالحق (تا) الا من تاب (الفرقان 68 تا 70) یہ قتل کرو کسی نفس کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کی تائید کے ساتھ۔ (یہاں تک کہ فرمایا) مگر وہ شخص جو توبہ کرے تو جواب میں کہا جائے گا کہ اس وعید اور دھمکی کا تعلق صرف اسی سے نہیں بلکہ تما م ان امور سے اور اشیاء سے ہے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتداء شرک کے ذکر کے ساتھ کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا: "والذین لا ید عون مع اللہ الھا اخر (الفرقان 68) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکڑتے۔ (یعنی شرک کی نفی کی ہے) لہذا آیت میں یہ فقرہ : "ومن یفعل ذالک یلق اثاماً" جو شخص یہ کام کرے گا وہ ملے گا کئی کئی گناہوں کو بھرے گا۔ اور رجوع کرے گا ان تمام سابقہ چیزوں کی طرف جو پہلے مذکور ہوئی ہیں۔ جس نے ان کبائر اور اس وعید کے اور اس پر جو دلیل دلالت کرتی ہے وہ یہ قول ہے: "یضاعف لہ العذاب" کہ اس کے لئے دہرا عذاب ہے۔ کے درمیان جمع کیا ہے اس نے یہ ارادہ کیا ہے وہ شخص جس نے شرک اور اس کے علاوہ کبائر کے مابین جمع کیا ہے۔ اس پر جمع کر دئیے ہیں شرک کے عذاب کے ساتھ کبائر کے عذب ، لہذا اس پر عذاب دہرا ہو گیا ہے ۔ پھر فرمایا: "الا من تاب وامن وعمل عملا ً صالحاً " مگر جو شخص ایمان لایا اور نیک عمل کئے۔ تو یہ ایمان اور عمل صالح کا ذکر کیا ہے اور یہ اس لئے تاکہ ا س کا ایمان اس کے کفر کو تباہ کر دے اور ختم کر دے اور ایمان میں اس کی اصلاح اس کو تباہ کر دے جو پہلے سے کفر میں اس سے خرابی ہوئی جیسے ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا (النسآء 3) جو شخص کسی مؤمن کو قتل کرے گا اس کی جزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (جواب میں) کہا جائے گا کہ اہل تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے قتل کیا تھا اور مرتد ہو گیا تھا اسلام سے اور ہمارے بعض اصحاب اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت اپنے سبب یا شان نزول پر بند ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 295

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 296

296 - أخبرنا أبو عبد الرحمن بن محبوب الدهان ثنا الحسين بن محمد بن هارون ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان حدثني الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : أن مقيس بن ضبابة وجد أخاه هشام بن ضبابه مقتولا في بني النجار و كان مسلما فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فأرسل إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم رسولا من بني فهر و قال له : ائت بني النجار فأقرئهم مني السلام و قل لهم : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمركم إن علمتم قاتل هشام أن تدفعوه إلى أخيه فيقتص منعه و إن لم تعلموا له قاتلا أن تدفعوا إليه ديته فأبلغهم الفهري ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا سمعا و طاعة لله و لرسوله و الله ما نعلم له قاتلا و لكنا نؤدي إليه ديته قال : فأعطوه مائة من الإبل ثم انصرفنا راجعين نحو المدينة و بينهما و بين المدينة قريب فأتى الشيطان مقيس بن ضبابة فوسوس إليه فقال : أي شيء صنعت ؟ تقبل دية أخيك فيكون عليك سبة أقتل الذي معك فيكون نفس مكان نفس و فضل بالدية قال : فرمى إلى الفهري بصخرة فشدخ رأسه ثم ركب بعيرا منها و ساق بقيتها راجعا مكة كافرا فجعل يقول في شعره ( قتلت به فهرا و حملت عقله سراة بني النجار أرباب قارع ) ( و أدركت ثاري و اضطجعت موسدا و كنت إلى الأوثان أول راجع ) قال فنزلت فيه هذه الآية : { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم } قال البيهقي رحمه الله : و جواب آخر و هو ما روينا عن أبي مجلز لاحق بن حميد و هو من كبار التابعين أنه قال في قوله : { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم } قال : هي جزاؤه فإن شاء الله أن يتجاوز عن جزائه فعل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن بن محبوب دھان نے ہمیں حدیث بیان کی ہے حسین بن ہارون نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن محمد نضر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن مروان نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے کلبی نے ابو صالح سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا مقیس بن ضبابہ نے اپنے بھائی ھشام بن ضبابہ کو بنی نجار کے محلہ میں مقتول پایا جبکہ ھشام مسلمان تھا۔ مقیس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کی خدمت میں اس بات کا تذکرہ کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی فہر کے ایک آدمی کو نمائندہ بنا کر بھیجا اور اسکوفرمایا کہ تم بنی نجار کے پاس جاؤ اور جا کر میر سلام کہو اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اگر تم ہشام کے قاتل کو جانتے ہو تو اس کے بھائی ہشام کا قاتل حوالے کر دو کہ وہ اس سے (بدلہ) قصاص لے گا۔ اور اگر تم نہیں جانتے تو تم لوگ اس قتل کی دیت اس کے حوالے کرو۔ چنانچہ فہری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اس کو یہ پیغام پہنچایا۔ بنی نجار والوں نے کہا سمع اور طاعت ہے اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے۔ (یعنی ہم یہی کچھ کریں گے جو آپ نے فرمایا) اللہ کی قسم ہم ہشام کے قاتل کو نہیں جانتے ۔ لیکن ہم اس کے بھائی کو دیت دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے مقیس کو سو اونٹ دیئے۔ پھر وہ فہری اور مقیس وہاں سے ہٹے اور مدینے کی طرف چلے۔ جب مدینے کے قریب پہنچے تو مقیس بن ضبابہ کے پاس شیطان آیا اور اس نے مقیس کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا کہ کیا کیا تم نے؟ تم نے اپنے بھائی کی دیت (اس کا خون بہا) قبول کر لیا۔ یہ تو تیرے اوپر گالی ہوگی۔ ایسا کرکہ تیرے ساتھ جو آدمی ہے اس کوقتل کر دے۔ لہذا نفس کا بدلہ نفس ہو جائے گا اور دیت بھی اضافی طور پر بچے گی۔ لہذا اس نے پتھر اٹھا یا اور فہری کو دے مارا اور اس کا سر کچل دیا ۔ پھر وہاں سے اونٹ پر سوار ہوا اور اونٹ ہانک کر مکہ کی طرف کافر ہو کر روانہ ہو گیا اور اپنے شعروں میں یہ کہنے لگا: میں نے اپنے بھائی کے بدلے فہری کو قتل کر دیا اور میں نے اس کا خون بہا بنو نجار کے ارباب شوریٰ کی پیٹھ پر لا د د یا۔ اور میں نے اپنے بھائی کا قصاص بھی پا لیا اور تکیہ لگا کر لیٹ گیا ہوں اور میں پہلا شخص ہوں جو بتوں کی طرف لوٹ گیا ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت اسی واقعہ میں اسی مقیس کے بارے میں نازل ہوئی تھی: "ومن یقتل مؤمنا متعمد فجزاء ہ جھنم الخ "(النساء 93) جو شخص کسی کو مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی جزا جہنم میں ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک دوسرا جواب بھی ہے ، وہ وہ ہے جو ہم نے روایت کیا ہے ابو مجلز لاحق بن حمید سے اور وہ بڑے بڑے تابعین میں سے تھے۔ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس کی جزا ہے۔ اگر اللہ چاہے گا کہ اس کی جزا سے در گذر کرے تو وہ خود کرے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 296

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 297

297 - أخبرناه أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا محمد بن بكر ثنا أبو داود حدثنا أحمد بن يونس ثنا أبو شهاب عن سليمان التيمي عن أبي مجلز لاحق بن حميد : فذكره و قد روي هذا عن النبي صلى الله عليه و سلم و لم يثبت إسناده قال البيهقي رحمه الله و بلغني عن أبي سليمان الخطابي البستي رحمه الله أنه قال : القرآن كله بمنزلة الكلمة الواحدة و ما تقدم نزوله و ما تأخر في وجوب العمل به سواء ما لم يقع بن الأول و الآخر منافاة و لو جمع بين قوله : { ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء } و بين قوله : { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها } و ألحق به قوله : { لمن يشاء } لم يكن متناقضا فشرط المشيئة قائم في الذنوب كلها ما عدا الشرك و أيضا فإن قوله : { فجزاؤه جهنم } يحتمل أن يكون معناه { فجزاؤه جهنم } إن جازاه الله و لم يعف عنه فالآية الأولى خبر لا يقع فيه الخلف و الآية الأخرى وعد يرجى فيه العفو و الله أعلم

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی حسین بن محمد روذباری نے کہ خبر دی ہے محمد بن بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیا ن کی ہے احمد بن یونس نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو شہاب نے سلیمان تمیمی سے ، انہوں نے ابو مجلز لاحق بن حمید سے، پھر اس نے اس بات کو ذکر کیا ہے اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے ابو سلیمان خطابی بستی رحمۃ اللہ علیہ سے سے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ : پورا قرآن مجید بمنزلہ ایک کلمہ کے ہے۔ جس کا نزول پہلے ہوا اور جس کابعد میں ہوا اس پر عمل کے وجوب میں سب برابر ہے جب تک اول اور آخر میں منافات واقع نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر اس قول :"ویغفر مادون ذالک لمن یشاء میں اور ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاء ہ جھنم خالدا فیھا (نساء 193) میں جمع کیا جائے اور اس کے ساتھ لمن یشاء کو لاحق کیا جائے۔ یہ باہم متناقض و مخالف نہیں ہو گا۔ مشیت کی شرط قائم ہے سب کے سب گناہوں میں ماسوائے شرک کے اور اسی طرح ہے یہ بھی فجزاءہ جہنم و احتمال رکھا ہے کہ اس کا معنی یہ ہوا فجزاء جہنم اس کی جزا جہنم ہے۔ اگر اللہ اس کو جزا دینے پر آئے اور اس کو معاف نہ کرے تو اس طرح پہلی آیت خبر ہے اس میں کوئی خلاف نہیں ہے اور دوسری آیت وعدہ ہے جس میں عفو و درگذر کی امید ہے ۔ واللہ اعلم۔

أبي سليمان الخطابي البستي أنه ← البيهقي و بلغني ← النبي صلى الله عليه و سلم و لم يثبت إسناده ← أبي مجلز لاحق بن حميد فذكره و قد روي هذا ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 297

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 298

298 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : سمعت عمر بن محمد الوكيل يقول : حدثني معاذ بن المثنى ثنا سوار بن عبد الله ثنا الأصمعي قال : جاء عمرو بن عبيد إلى أبي عمرو بن أبي العلاء فقال له : يا أبا عمرو ! الله يخلف وعده ؟ قال : لن يخلف الله وعده قال عمرو : فقد قال : قال أين ؟ فذكر آية وعيد لم يحفظها عمرو فقال أبو عمرو : من العجمة أتيت و الوعد غير الإيعاد ثم أنشد أبو عمرو : ( و إني و إن أوعدته أو وعدته سأخلف إيعادي و أنجز موعدي ) قال البيهقي رحمه الله فإن قيل : فقد قال الله سبحانه : { و من يعص الله و رسوله و يتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها } قيل هكذا نقول الحدود اسم جمع و إنما يصير متعديا لحدود الله تعالى اجمع بترك الإيمان و تارك الإيمان يخلد في النار فإن قيل : قد قال : { وإن الفجار لفي جحيم * يصلونها يوم الدين * وما هم عنها بغائبين } قيل : و قد قال : { إن الأبرار لفي نعيم } و الفاسق المؤمن بر بإيمانه فإن قيل ليس برا مطلقا فإن قيل : فجوره أحبط إيمانه قيل : لي الفصل بين هذا قول و بين من يقول من المرجئة أن إيمانه أحبط فجوره فدل أنه أراد بالفجار الذين قابل بنيهم وبين الأبرار الكفار لأن رأس البر الإيمان و كذلك رأس الفجور الكفر و الذي يدل على صحة ما ذهبنا إلى قوله الله عز و جل : { إنا لا نضيع أجر من أحسن عملا } و قوله : { لا أضيع عمل عامل منكم } و قوله : { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها و يؤت من لدنه أجرا عظيما } و قوله : { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره } و قوله : { يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرا } و قوله : { فالذين آمنوا منكم و أنفقوا لهم أجر كبير } و قوله : { وعد الله المؤمنين والمؤمنات جنات } و قوله : { هل جزاء الإحسان إلا الإحسان } فهذه الآيات و ما ورد منها في معناها كلها تدل على أن الله تعالى لا يضيع أجر من أحسن عملا و أحسن إلأعمال الإيمان بالله و برسوله و من قال : بتخليد المؤمن في النار كان قد أضاع أجر عمله و لم يجعل له عوضا و لأنا وجدنا الله عز و جل وعد على الطاعات ثوابا و على المعاصي عقابا فليس لأحد أن يقول يرى ما عمل من المعاصي دون ما عمل من الطاعات و قد عملها جميعا إلا و لآخر أن يعكس ذلك فلا يجد القائل بذلك فضلا و أنا قد جمعنا على حصول طاعاته و اختلفنا في زوال حكمها فلا يرفع حكم ما تيقناه من حصول الطاعات بمعصية لا تنفيها و لا تضادها و احتجوا في إبطال الشفاعة بقوله عز و جل : { ما للظالمين من حميم و لا شفيع يطاع } فالظالمون ها هنا هم الكافرون و يشهد لذلك مفتتح الآية إذا هي في ذكر الكافرين فإن احتجوا بقوله : { و لا يشفعون إلا لمن ارتضى } قيل : هذا دليلنا لأن الفاسق مرتضى بإيمانه قال الله عز و جل : { ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا } واصطفينا و ارتضينا واحد في اللسان ثم قال : { فمنهم ظالم لنفسه } أي من المصطفين ظالم لنفسه و الظلم هو الفسق فأخبر أن فيهم ظالما و قال في قصة يونس { إني كنت من الظالمين } و قد روينا من أوجه عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله تعالى : { ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا } قال : كلهم في الجنة و هو في الجزء السابع من كتاب البعث مذكور بشواهده و قيل معناه : { إلا من ارتضى } أن يشفعوا له كما قال : { من ذا الذي يشفع عنده إلا بإذنه } قال الحليمي رحمه الله : و لا تحتمل الآية غير لأن المرتضين عند الله لا يحتاجون إلى شفاعة ملك و لا نبي فصح أن المعنى ما قلناه و لا يجوز أن يقال إن عز و جل لا يرتضي أن يشفع لصاحب الكبيرة لأن المذنب الذين يحتاج إلى الشفاعة فكلما كان ذنبه أكبر كان إلى الشفاعة أحوج فكيف يجوز أن يكون اشتداد حاجته إلى الشفاعة حائلا بينه و بين الشفاعة ؟ و ليس امتناع الشفاعة للكافرين لأن ذنبه كبير و لكنه بجحده الباري المشفوع إليه أو الرسول الشافع له أو لأن الله تعالى أخبر أنه لا يشفع فيه أحدا و هذه المعاني كلها معدومة في صاحب الكبيرة من أهل القبلة وقوله : { يوم لا تملك نفس لنفس شيئا } لا يدفع الشفاعة لأن المراد بالملك الدفع بالقوة و إنما الشفاعة تذلل من الشافع للمشفوع عنده و إقامة الشفيع بذلك من المشفوع له فلا يوم أليق به و أشبه بأحواله بيوم الدين و قد ورد عن سيدنا المصطفي صلى الله عليه و سلم في إثبات الشفاعة و إخراج قوم من أهل التوحيد من النار و إدخالهم في الجنة أخبار صحيحة قد صارت من الاستفاضة و الشهرة بحيث قاربت الأخبار المتواترة و كذلك في مغفرة الله تبارك و تعالى جماعة من أهل الكبائر دون الشرك من غير تعذيب فضلا منه و رحمة و الله واسع كريم قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا هذه الأخبار في كتاب البعث و النشور و نحن نشير ها هنا إلى طرف منها قال عز و جل لمحمد صلى الله عليه و سلم : { و من الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا } و رويان في الحديث الثابت عن يزيد الفقير عن جابر بن عبد الله ما دل على أن ذلك في الشفاعة و كذلك عن حذيفة بن اليمان و ابن عمر و غيرهم

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے کہ خبر دی ہے ابو احمد بن عدی حافظ نے، انہوں نے کہا میں نے سنا عمر بن محمد وکیل سے، وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے معاذ بن مثنیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سوار بن عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اصمعی نے، انہوں نے کہا کہ عمرو بن عبید ابوعمرو بن ابی العلا کے پاس آئے اور ان سے کہا اے ابو عمرو ! کیا اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہر گزنہیں کرتا۔ عمرو نے کہا اللہ نے خود فرمایا۔ انہوں نے پوچھا ، کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے وعید کی کوئی آیت ذکر کی جو عمرو کو یاد نہیں رہی تو ابو عمرو نے کہ کونسی عجمیت تو دیا گیا ہے۔ وعد، ایعاد سے مختلف ہوتا ہے۔ پھر ابو عمرو نے شعر کہا: " وانی وان اوعدتہ او وعدتہ ، ساخلف ایعادی وانجز موعدی " اور بے شک میں نے اگرچہ دھمکی دی ہے اس کو یا وعدہ دیا ہے ۔ بہت جلدی میں اپنی دھمکی کے خلاف کروں گا۔ اور پورا کروں گا میں اپنا وعدہ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےفرمایا ہے: "ومن یعص اللہ ورسولہ ویتعد حدودہ ،ید خلہ نارا خالد ا فیھا (النساء 14) جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرے اس کو اللہ تعالیٰ آگ میں داخل کرے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومن گناہگار ہمیشہ جہنم میں رہے گا؟) کہا گیا ہے کہ اسی طرح ہم کہیں گے۔ الحدود۔ اسم جمع ہے متعدی ہوتا اللہ کی حدود کے لئے ۔ جمع بنا یا گیا ہے بوجہ ترک ایمان کے اور تارک ایمان ہمیشہ آگ میں رکھا جائے گا۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: "وان الفجار لفی جحیم یصلونھا یوم الدین وماھم عنھا بغائبین (القطار 14-16) بے شک گناہگار البتہ جہنم میں ہوں گے۔ قیامت کے دن اس میں داخل ہوں گے اور اس سے وہ غائب نہیں ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان الابرار لفی نعیم (القطار 13) بے شک نیکو کار لوگ البتہ نعمتوں میں ہوں گے۔ (جواب ہے) کہ ایسا فاسق جو ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ایمان کی بدولت بر یعنی نیک ہوتا ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ وہ مطلق بر اور نیک نہیں ہے۔ جواب میں کہا جائے گا کہ اسی طرح وہ مطلق فاجر بھی نہیں ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ اس کے فجور نے اس کے ایمان کو تباہ کر دیا ہے۔ جواب دیا جائے گا کہ اس قول میں اور مرجئہ کے قول میں پھر کوئی فرق نہیں رہے گا جو یہ کہتے ہیں کہ اس کے ایمان نے اس کے فجور اور گناہوں کو تبا ہ کر دیا ہے۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےفجار سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جن کے درمیان اور ابرار کے درمیان تقابل ہے۔ اس لئے کہ تمام نیکیوں کی سردار نیکی ایمان ہے اور تمام فجور کاسردار فجور کفر ہے اور ہمارے موقف کی صحت پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان ہیں: (1)۔۔ ان لانضیع اجر من احسن عملا ً (الکہف 30) بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کریں گے جس نے اچھا عمل کیا۔ (2)۔۔ لا اضیع عمل عامل منکم (آل عمران 195) تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا۔ (3)۔۔ انا اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا ویؤت من لدنہ اجر اً عظیما (النساء 40) بے شک اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کریں گے۔ ایک ذرے کی مقدار اگر نیکی ہو گی تواس کو دگنا کر دیں گے۔ اور اپنی طرف سے بہت بڑااجر عطاکریں گے۔ (4)۔۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ (الزلزلہ 7) جو شخص ایک ذرے کی مقدار خیر کا عمل کرے گا اس کو عمل وہ دیکھ لے گا۔ (5)۔۔ یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا( آل عمران 30) جس دن پالے گا ہر نفس جو کچھ اس نے خیر کا عمل کیا تھا حاضر کیا ہوا(پالے گا)۔ (6)۔۔ فالذین امنو امنکم وانفقو ا لھم اجر کبیر (الحدید 7) پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور خرچ کیا ہے ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ (7)۔۔ وعداللہ المومنین والمومنات جنات (التوبہ 72) اللہ تعالیٰ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کے لئے باغات (بہشتوں) کاوعدہ فرمایا ہے۔ (8)۔۔ ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان (الرحمٰن 60) نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہی ہے۔ یہ مذکورہ آیات اور دیگر وہ سب آیات جو اس مفہوم میں وارد ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا عمل ضائع نہیں فرمائیں گے جو اچھا عمل کرے گا اور سب اعمال سے احسن عمل اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا ہے۔ جس شخص نے مؤمن کو دائمی طور پر آگ میں رکھنے کا قول کیا ہے۔ در حقیقت اس نےاس کے اعمال کے اجر کو ضائع کیا ہے اور اس کے لئے کوئی معاوضہ نہیں بنایا ہے۔ حالانکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے طاعات پر ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور گناہوں پر عذاب کا۔ لہذا کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے معاصی کے اعمال کو دیکھے گا اور طاعات کے عمل کو نہیں دیکھے گا۔ حالانکہ دوسرے کے اعمال طاعت ہوں یا معاصی اسی نے خود کئے ہیں۔ مگر پھر دوسرے کوبھی یہ حق ہو گا کہ وہ اس کے برعکس کہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ مومن کی طاعات کو دیکھے گا ۔ معاصی اور گناہوں کو نہیں دیکھے گا۔ مگر اس کا کہنا تو دور کی بات ہے کوئی بھی اس کا قائل موجود نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم سب مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے اور اجماع ہے کہ طاعات کا اجر حاصل ہوگا اور طاعات کے حکم کے زوال میں ہم نے اختلاف کیاہے۔ لہذا ہم نے جس چیز کا یقین کیا ہے بعض طاعات پر اجر کا حصول معصیت کے سبب ہے اس کا حکم نہیں اٹھ جائے گا۔ بعض لوگوں نے عقیدہ شفاعت کو اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے باطل قرار دیا ہے۔ "ما للظالمین من حمیم ولا شفیع یطاع (غافر 18) ظالموں کے لئے نہ کوئی ولی دوست ہو گا اور نہ ہی کوئی سفارشی جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) یہاں پر ظالموں سے مراد کافر ہیں۔ اس آیت کا آغاز اس بات کی شہادت دیتا ہے کیونکہ یہ آیت کافروں کے ذکر میں واقع ہے۔ اگر ایسے لوگ اس آیت سے دلیل پکڑیں: " ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ (انبیاء 38) (سفارشی) سفارش نہیں کریں گے مگر اس شخص کےلئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا۔ کہا گیا ہے کہ یہ ہماری دلیل ہے۔ اس لئے کہ فاسق بھی اپنے ایمان کے سبب مرتضیٰ اور پسند میں ہوتا ہے۔ (اور یہ آیت بھی قرآن مجید کی آیات سے ثابت ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادہ" پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگذیدہ کیا۔ سورۃ انبیاء کی مذکورہ آیت میں ارتضیٰ فرمایا اوراس آیت یعنی فاطر میں ہے اصطفینا فرمایا۔دونوں زبان کے لغت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: "فمنھم ظالم لنفسہ " تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ یعنی مصطفین اور برگزیدہ لوگوں میں سے بعض اپنے آپ پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں اور ظلم سے مراد وہی فسق ہے۔ اسی طرح اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ ان میں ظالم بھی ہیں ، یعنی فاسق ہیں اور اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ میں فرمایا کہ یونس علیہ السلام نے اپنے بارے میں کہا تھا: انی کنت من الظالمین "الانبیاء 87) کہ بے شک میں ظالم ہوں (قصور وار ہوں)۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی طریقوں سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کی ہے: "ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا" پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کواپنے بندوں سے برگزیدہ کیا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ وہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔ یہ کتا ب البعث والنشور کی ساتویں جز میں اپنے شواہد سمیت مذکور ہیں۔ اور آیت الامن ارتضیٰ کی ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ الامن ارتضیٰ ان یشفعولہ ہے۔ یعنی مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ شفاعت کرنے والے اس کے لئے شفاعت کریں۔ اسی طرح کا قول یہ بھی ہے: "من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ (البقرہ 255) کوئی ہے جو اس کے آگے شفارش کر سکے مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔ یعنی جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ اس کے لئے سفارش کی جائے اللہ تعالیٰ خود اجازت دیں گے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آیت : "الا من ارتضیٰ" ( کی یہی مذکورہ توجیہ ہی ہے) اس کے علاوہ دوسری کسی توجیہ کااحتمال نہیں رکھنی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برگزیدہ لوگ نہ تو کسی فرشتے کی شفاعت کریں کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی نبی کی شفاعت کے۔ (لہذا یہ بات ثابت ہوئی کہ) جو ہم نے کہا ہے وہی آیت کا معنی صحیح ہے۔ اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتے کہ کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب کےلئے سفارش کی جائے۔ اس لئے کہ گناہگار ہی شفاعت کا محتاج ہوتا ہے اور اس کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ تو جس قدر گناہگار کا گناہ بڑا ہوگا اسی قدر وہ شفاعت کا بھی زیادہ محتاج ہو گا۔ پھر یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ شفاعت کے لئے اس کی شدت احتیاج اس کے درمیان اور شفاعت کے درمیان حائل ہو جائے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ صاحب کبیرہ کے لئے شفاعت کو پسند نہ کریں اور شفاعت نہ ہو سکے) (پھر سوال ہو سکتا ہے کہ پھر تو کافر کے لئے بھی شفاعت ممکن ہونی چاہیئے کیونکہ اس کا گناہ بھی بڑا ہے) تو جواب یہ ہو گا کہ شفاعت کا امتناع تو کافروں کے لئے بھی نہیں ہے۔ اس اعتبار سے کہ ان کا گناہ بڑا ہے۔ لیکن (کافر کے لئے سفارش اس لئے ممنوع ہے کہ وہ ) اس ذات باری کا منکر ہے جس کی بارگاہ میں سفارش کی جائے گی یا اس لئے کہ وہ رسول کا منکر ہے جو اس کے حق میں سفارشی ہے یا اس لئے ممنوع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کافر کے حق میں کسی کی سفارش قبول نہیں کرے گا جبکہ یہ سارے معانی اہل قبلہ مرتکب کبیرہ مومن کے حق میں معدوم و مفقود ہیں۔ پھر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں تو یہ بھی آیا ہے: "یوم لا تملک نفس لنفس شیئاً (انفطار 19) کہ اس دن کوئی نفس کسی نفس کے لئے کسی چیز کا بھی مالک نہیں ہو گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کے حق میں سفارش نہیں کر سکے گا۔ لہذا اس آیت سے شفاعت کا امتناع ثابت ہوا؟ توجواب یہ ہے کہ یہ آیت شفاعت کو منع نہیں کرتی۔ اس لئے کہ آیت میں تملک کا لفظ آیا ہے کہ کوئی مالک نہیں ہے۔ملک سے بنا ہے اور ملک سے مراد ہے قوت و طاقت کے ساتھ روک دینا تو واقعی اللہ تعالیٰ کو قوت و طاقت سے کسی معاملے میں کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس آیت کا شفاعت کےمفہوم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ) اس لئے کہ شفاعت کرنے والے کی طرف سے بارگاہ الٰہی میں انتہائی تذلل اور عازجی پیش کرنے کا نام ہے اور اپنے آپ کو اس انتہائی اظہار عجز کے ذریعہ اس کے قائم مقام کرنا ہوتا ہے جس کے لئے سفارش کر رہا ہے۔ لہذا اس کام کے لئے سب سے زیادہ لائق اور اس کے احوال کے لحاظ سے زیادہ قیامت کے روز سے زیادہ کوئی موقع اور وقت نہیں ہو سکتا۔ تحقیق سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کے اثبات میں اوراہل توحید کی ایک جماعت کو جہنم سے نکالنے اور ان کو جنت میں داخل کرنے کے بارے میں اخبار صحیحہ وارد ہو چکی ہیں جو اخبار متواتر ہ کے قریب قریب ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل کبائر کی ایک جماعت کے بارے میں اہل شرک نہ ہوں مغفرت کرنا بغیر عذاب کے بطور اس کے فضل اور رحمت کے بارے میں احادیث آ چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا وسعت والا ہے ، کریم ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ احادیث کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی گئی ہیں اور ہم یہاں ان سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ارشاد فرمایا ہے: "ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمود (الاسراء 79) اور رات تہجد کی نماز ادا کر تو یہ حکم زیادہ اس کے قریب ہے کہ تیرا رب تجھے پہنچا دے مقام محمود پر۔ اور ہم نے حدیث ثابت میں روایت کیا ہے یزید الفقیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت شفاعت کے بارے میں ہے۔ اور اسی طرح ہم نے حذیفہ بن یمان سے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر سے بھی روایات کی ہیں۔

أَيْنَ ← عَمْرٌو: فَقَدْ ← لَنْ يُخْلِفِ اللَّهُ وَعْدَهُ. ← لَهُ: يَا أَبَا عَمْرٍو اللَّهُ يُخْلِفُ وَعْدَهُ؟ ← جاء عمرو بن عبيد إلى أبي عمرو بن أبي العلاء ← الْأَصْمَعِيُّ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 298

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 299

299 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس ثنا العباس الدوري ثنا محمد بن عبيد ثنا داود ـ ح و حدثني أبو عبد الرحمن السلمي ثنا جدي أبو عمرو أنا محمد بن موسى الحلواني ثنا عمرو بن علي ثنا وكيع بن الجراح ثنا داود الزعافري عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المقام المحمود الشفاعة و في رواية محمد بن عبيد عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله : { عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا } قال : هو المقام الذين يشفع فيه لأمته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوا لعباس نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس دوری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد نے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے میرے دادا ابو عمرو نے کہ خبر دی ہے محمد بن موسیٰ حلوانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے، عمرو بن علی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع بن جراح نے ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد عافری نے اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "المقام المحمود الشفاعۃ" کہ مقام محمود شفاعت ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ محمد بن عبید سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں: "عسیٰ ان یبعتک ربک مقام محمودا ً " قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر پہنچائے گا۔ "قال ھوا لمقام الذی یشفع فیہ لا منہ" فرمایا کہ وہ مقام ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ الزعَافِري ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ← جَدِّي أَبُو عَمْرٍو ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و، ← دَاوُدُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 299

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 300

300 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان ثنا عبد الله بن أحمد الأهوازي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة في المسند ثنا وكيع عن إدريس الأودي عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم : { عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا } قال الشفاعة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر محمد بن داؤد سلیمان نے ۔ انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن احمد اھوازی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع نے ادریس اودی سے، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ مقام محمود شفاعت ہے۔

الشَّفَاعَةُ. ← النبي صلى الله عليه و سلم عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← إدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ← وَكِيعٌ، ← أبو بكر بن أبي شيبة في المسند ← عبد الله بن أحمد الأهوازي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 300

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 301

301 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر بن داود قال : سمعت عبدان يقول : هذه مما أنكروا علينا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ میں نے سنا ابو بکر بن داؤد نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبدان سے وہ کہتے تھے وہ یہ حدیث ہے جس کا لوگوں نے ہمارے اوپر انکار کیا ہے۔

هذه مما أنكروا علينا ← عَبْدَانُ ← أبا بكر بن داود ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 301

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 302

302 - حدثنا أبو بكر في كتاب التفسير ثنا وكيع عن داود الزعافري عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم : { عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا } قال الشفاعة قال البيهقي رحمه الله : إنما أنكروا عليه في الرواية الأولى لتفرده بها و أن سائر الناس رووه عن وكيع عن داود

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر نے کتاب التفسیر میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع نے داؤد زعافری سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ مقام محمود و شفاعت ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عبدان کی روایت میں ولوگوں نے اس لئے انکار کیا کہ اسکا کسی روایت میں تفرد ہے ، ورنہ سارے لوگوں نے اس کو روایت کیا ہے وکیع سے اور داؤد سے۔

البيهقي إنما أنكروا عليه في الرواية الأولى لتفرده بها و ← الشَّفَاعَةُ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ الزعَافِري ← وَكِيعٌ، ← أبو بكر في كتاب التفسير

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 302

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 303

303 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الكديمي ثنا محمد بن خالد بن عثمة ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن الزهري عن علي بن الحسين قال : حدثني رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : تمد الأرض يوم القيامة لعظمة الرحمن جل ثناؤه و لا يكون فيها لأحد إلا موضع قدمه فأكون أول من يدعى فأجد جبريل عليه السلام قائما عن يمين الرحمن لا و الذي نفسي بيده ما رأى الله قبلها قال : فأقول يا رب إن هذا جاءني فزعم إنك أرسلته إلي قال : و جبريل ساكت قال : فيقول عز و جل صدق أنا أرسلته إليك حاجتك ؟ فأقول يا رب إني تركت عبادا من عبادك قد عبدوك في أطراف البلاد و ذكروك فقال شعب الأكام ينتظرون جواب ما أجيء به من عندك فيقول أما إني لا أخزيك فيهم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فهذا المقام المحمود الذي قال الله عز و جل : { عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا } رواه جماعة عن إبراهيم بن سعد قال البيهقي رحمه الله : و تمامه في سائر الروايات التي وردت في الشفاعة و قال الله عز و جل { و لسوف يعطيك ربك فترضى } و روينا من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه و سلم تلا قول الله عز و جل في إبراهيم : { رب إنهن أضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فإنه مني } و قال عيسى ابن مريم : { إن تعذبهم فإنهم عبادك } فرقع يديه و قال اللهم أمتي أمتي و بكى قال الله عز و جل : يا جبريل اذهب إلى محمد و ربك أعلم فسله ما يبكيك ؟ فأتاه جبريل فسأله فأخبره رسول الله صلى الله عليه و سلم بما قال : و هو أعلم فقال الله تبارك و تعالى : يا جبريل اذهب إلى محمد فقل إنا سنرضيك في أمتك و لا نسوءك

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ کدیمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن خالد بن عثمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے زہری سے انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ایک آدمی اصحاب رسول سے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کے دن زمین دراز کی جائے گی رحمٰن کی عظمت کے لئے کسی کے لئے اس پر جگہ نہیں ہو گی مگر صرف اس کے ایک قدم کی۔ پھر میں پہلا شخص ہوں جو بلا یا جائے گا۔ میں جبرئیل کو رحمٰن کے دائیں طرف کھڑا ہوا پاؤں گا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس سے پہلے اس نے اللہ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر میں عرض کروںگا کہ اے میرے رب جب جبریل میرے پاس آیا تھا اورا س نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آپ نے اس کو میرے پاس بھیجا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جبرئیل خاموش کھڑا ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اس نے صحیح کہا تھا میں نے اس کو تیرے پاس بھیجا تھا۔ آپ کوئی اپنی حاجت پیش کریں۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب میں تیرے بندوں میں سے کچھ بندوں کو چھوڑ کر آیا ہوں جنہوں نے شہر شہر تیری عبادت کی ہے اور ٹیلوں کی چھاؤں میں تیرا ذکر کیا ہے وہ جواب کے منتظر ہیں کہ میں تیرے یہاں سے کیا لے کر جاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے خبر دار ہوشیار میں ان کے بارے میں تجھے شرمندہ نہیں کروں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہی مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "عسیٰ ربک ان یبعثک ربک مقام محمودا ً ("اسراء 79) قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر پہنچا دے۔ اس کو ایک جماعت نے روایت کیا ہے ابراہیم بن سعد سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ روایت کی مکمل عبارت ان تمام روایات میں وارد ہوئی ہیں جو شفاعت کے سلسلوں میں آئی ہیں۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ولسوف یعطیک ربک فتر ضیٰ " (الضحیٰ 5) اور البتہ عنقریب آپ کو آپ کا رب (اتنی ) عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ اس آیت میں بھی شفاعت کی طرف اشارہ ہے۔ اور ہم نے روایت کی ہے ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : "رب انھن اضللن کثیرا من الناس فمن تبعنی فانہ منی " (ابراہیم 36) اے میرے رب بے شک ان بتوں نے تو بہت سارے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے ، بس جو شخص میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہو گا۔ اس آیت میں بھی شفاعت کی طرف اشارہ ہے۔ اور عیسیٰ بن مریم نے فرمایا : "ان تعذبھم فانھم عبادک الخ "(المائدہ 118) اے اللہ ! اگر تو لوگوں کو عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اورا گر تو ان کو معاف کر دے تو غالب اور حکمت والا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی آیت تلاوت کی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔ اے اللہ میری امت ، اے اللہ میری امت۔۔۔ یہ کہتے کہتے رو پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل آپ جائیے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کہئے ، بے شک ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کر دیں گے اور آپ کو تکلیف نہیں دیں گے۔ بصورت دعا اس حدیث میں واضح شفاعت کے الفاظ موجود ہیں امت کے لئے۔ (مترجم)

رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 303

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 304

304 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد العدل ثنا محمد بن إسحاق ثنا يونس بن عبد الأعلى أنبأ ابن وهب حدثني عمرو بن الحارث أن بكر بن سوادة حدثه عن عبد الرحمن بن جبير عن عبد الله بن عمرو : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن يونس قال البيهقي رحمه الله : و روينا عن يزيد الفقير عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي فذكرهن و قال فيهن : و أعطيت الشفاعة

ہمیں اس کی خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو محمد زیاد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن عبدالاعلیٰ نے کہ خبر دی ہے ابن وھب نے انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ۔ عمرو بن حارث نے کہ بکر بن سوادہ اس کو حدیث بیان کی ہے عبدالرحمٰن بن جبیر سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پھر وہی حدیث مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔ اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں یونس سے روایت کیا ہے۔ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے یزید الفقیر سے روایت کیا ہے جابر بن عبداللہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی کو نہیں دی گئی پھر آپ نے ان کو ذکر فرمایا اورا نہوں نے یہ بات فرمائی: "واعطیت الشفاعۃ" کہ میں شفاعت کرنے کا حق بھی دیا گیا ہوں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← البيهقي و روينا ← يُونُسَ ← عبد الله بن عمرو فذكره رواه مسلم في الصحيح ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 304

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 305

305 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر أنا إبراهيم بن علي أنا يحيى بن يحيى أنا هشيم عن سيار عن يزيد الفقير : فذكره و هو مخرج في الصحيحين

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو حازم حافظ نے کہ خبر د ی ہے ابو عمرو بن معلر نے خبر دی ہے ابراہیم بن علی نے کہ خبر دی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے کہ خبر دی ہے ھیشم نے سیار سے اس نے یزید فقیر سے پھر اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور وہ بخاری و مسلم میں منقول ہے۔

يزيد الفقير فذكره و هو مخرج في الصحيحين ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 305

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 306

306 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي قال : حدثني الحسن بن محمد الزعفراني ثنا روح بن عبادة ثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي دعوة قد دعا بها في أمته و إني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي رواه مسلم في الصحيح عن زهير و غيره عن روح و أخرجاه من حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و أخرجاه مسلم أيضا من حديث جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم و رواه أيضا عبد الرحمن بن أبي عقيل عن النبي صلى الله عليه و سلم و أخرج مسلم حديث أبي بن كعب في قصة القراءة قال البيهقي رحمه الله : و قول النبي صلى الله عليه و سلم اللهم اغفر أمتي اللهم اغفر لأمتي و تأخير الدعوة الثالثة إلى يوم يرغب إليه فيه الخلق حتى إبراهيم عليه السلام

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ یوسف اصفہانی نے کہ خبر دی ہے ابو سعید بن اعرابی نے ، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن محمد زعفرانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے روح بن عبادہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ بے شک ہر نبی کے لئے ایک مخصوص دعا ہوتی تھی جس کے ساتھ انہوں نے دعا کی اپنی امت کے بارے میں اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لئے چھپا رکھی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے زھیر وغیرہ سے روح سے اور بخاری مسلم دونوں نے اس کو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور اس کو مسلم نے بھی جابر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے اور مسلم نے اس کو حدیث ابی بن کعب سے قراءۃ کے قصے میں نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول: اے اللہ میری امت کو بخش دے اور تیسری بار دعا کو مؤخر کرنا اس دن کے لئے جس دن تمام مخلوق آپ کی خدمت میں رجوع کرے گی۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی۔ (یہ بھی آپ کی شفاعت کی دلیل ہے)۔ (مترجم)۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 306

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood