شعب الإيمان · السادس من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان باليوم الآخر ـ · حديث 254
254 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن محمد الصوفي ثنا عبد الصمد بن الفضل ثنا عبد الله بن يزيد عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر : فذكره قال الحليمي رحمه الله و قد أخبر الله عز و جل على لسان نبيه صلى الله عليه و سلم : أنه مفني ما على الأرض و مبدل الأرض غير الأرض و أن الشمس تكور و البحار تسجر و الكواكب تنتثر و السماء تتفطر و تصير كالمهل فتطوى كما يطوى الكتاب و إن الجبال تصير كالعهن المنفوش وينسفها ربي نفسا فيذرها قاعا صفصفا لا ترى فيها عوجا و لا أمتا و كل ذلك كائن كما جاء به الخبر و وعد الله صدق و قوله حق قال : و الساعة التي تكرر ذكرها في القرآن على وجهين : أحدهما : الساعة الآخرة من ساعات الدنيا قال الله عز و جل : { يسألونك عن الساعة أيان مرساها } فهذا على الساعة الآخرة لقوله : { لا تأتيكم إلا بغتة } و كذلك قوله : { و ما يدريك لعل الساعة تكون قريبا } و الآخر : الساعة الأولى من ساعات الآخرة قال الله عز و جل : { و يوم تقوم الساعة } يعني حين يبعث من في القبور لقوله : { يقسم المجرمون ما لبثوا غير ساعة } و كذلك قوله : { و يوم تقوم الساعة أدخلوا آل فرعون أشد العذاب } قال البيهقي رحمه الله : و قد نطق القرآن بأن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يعلم متى تقوم الساعة و لا يعلمه أحد من خلق الله و قول النبي صلى الله عليه و سلم : بعثت أنا و الساعة كهاتين معناه ـ و الله تعالى أعلم ـ أني أنا النبي الآخر و لا يليني نبي آخر و إنما يلني القيامة و هي مع ذلك دانية لأن أشراطها متتابعة بيني و بينها غير أن ما بين أول أشراطها إلى آخرها غير معلوم و قد ذكرنا في كتاب البعث و النشور ما ورد من الأخبار في أشراطها فأغنى ذلك عن إعادتها ها هنا و روينا عن شعيب بن أبي حمزة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفس محمد بيده لتقومن الساعة و قد نشر الرجلان ثوبا بينهما لا يتبايعانه و لا يطويانه و لتقومن الساعة و هو يليط حوضه لا يسقيه و لتقومن الساعة و قد انصرف الرجل بلبن لقحته من تحتها لا يطعمها و قد رفع أكلته إلى فيه فلا يطعمها
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد صوفی نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے ۔ عبدالصمد بن فضل نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے عبداللہ بن یزید نے یحییٰ بن یعمر سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پھر وہی مذکورہ حدیث ذکر فرمائی ہے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان اقدس کے ذریعے خبر دی ہے کہ وہ اس کو فنا کر دے گا جو کچھ دھرتی پر ہے۔ اور اس دھرتی کو دوسری دھرتی سے تبدیل کر دے گا اور یہ خبر دی ہے کہ سورج لپیٹ دیا جائے گا اور سمندر آگ بنا دئیے جائیں گے۔ اور ستارے بکھر جائیں گے آسمان پھٹ جائے گا، اور پگھلے ہو ئے تانبے کی مثل ہو جائے گا۔ پھر ایسے لپیٹ دیا جائے گا جیسے کوئی تحریر لپیٹی جاتی ہے اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے۔ کہ اللہ تعالی ٰ ان کو اڑا کر بکھیر دے گا۔ اور چھوڑ دے گا زمین چٹیل میدان ۔ نہ دیکھوں گے اس میں کوئی ٹیلہ اور نہ ہی کوئی بلندی ، اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے۔ جیسے اس کے بارے میں حدیث شریف آ چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا قول برحق ہے۔ شیخ حلیمی نے فرمایا: کہ الساعۃ" جس کا ذکر قرآن میں مکرر آیا ہے وہ دو طرح پر ہے۔ اول : ۔ دنیا کی ساعات میں سے آخری ساعت۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا " (اعراف 187) (اے پیغمبر یہ لوگ) آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ یہ سوال اسی دنیا کی آخری ساعت کے بارے میں ہے۔ اس لئے کہ اس کاجواب اللہ تعالیٰ کی طرف ان الفاظ میں دیا گیا ہے: لاتاتیکم ال بغتۃ " کہ تمہارے پاس اچانک ہی آ جائے گی۔ (سورۃ اعراف187) اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا (الاحزاب 63) اور تمہیں کیا معلوم کہ شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو۔ دوم ۔ آخرت کی ساعات میں پہلی ساعت۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ویوم تقوم الساعۃ (سورۃ الروم 55) جس دن ساعت (قیامت قائم ہو گی)۔ یعنی جس دن وہ لوگ اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں پڑے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یقسم المجرمون مالیشرا غیر ساعۃ (روم 55) جس دن قیامت قائم ہو گی گنہگار قسمیں کھائیں گے ۔ کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح اور آیت میں ارشاد ہے: " ویوم تقوم الساعۃ ادخلو ا اٰل فرعون اشد العذاب (غافر 46) جس دن قیامت قائم ہو گی (حکم ہو گا) کہ فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ تحقیق قرآن اس بات کے ساتھ ناطق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیں جانتے تھے کہ قیامت کب قائم ہو گی اور نہ ہی اس بات کو اللہ کی مخلوق میں سے کوئی ایک جانتا ہے۔ (اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر نہیں جانتے تھے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟) "بعث انا والساعۃ کھاتین" میں بھیجا گیا ہوں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح (جیسے شہاد ت کی اور بیچ کی انگلی ملی ہوئی ہیں)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے آپ جانتے تھے کہ قیامت کب قائم ہو گی) ( تو اس کا جواب یہ ہے) کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ہاں میرے بعد قیامت ہی آئے گی۔ س کے ساتھ ساتھ وہ قریب ہے اس لئے کہ اس کی اشراط میرے اور قیامت کے درمیان متواتر اور مسلسل ہوں گی۔ ہاں پہلی اور آخری شرط کے مابین کتنا وقت ہے۔ وہ نامعلوم ہے۔ ہم نے کتاب البعث والنشور۔میں وہ تمام اخبار و احادیث ذکر کر دی ہیں جو قیامت اور اس کی علامات کی بابت وارد ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں ان کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہم نے شعیب بن حمزہ سے۔ ابی زناد ہے۔ اعر ج سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کی قدر ت میں میری جان ہے قیامت ضرور قائم ہو گی حالانکہ دو آدمی خرید و فروخت کرنے کے لئے کپڑے کے تھان کو پھیلائیں گے۔ وہ ابھی تک اس کاسودا کر کے تھان نہیں لپیٹ سکیں گے کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ قیامت ضرور قائم ہو گی ۔ حالانکہ کوئی آدمی اپنے پانی کے حوض کو پلاستر کر رہا ہو گا وہ اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ اور قیامت ضرور قائم ہو گی۔ حالانکہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر اونٹنی کے نیچے سے ہٹے گا وہ اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ کھانے پینے بیٹھا ہوا لقمہ منہ کی طرف اٹھائے گا وہ اسے کھا نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔
ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أبو بكر بن محمد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Sixth of the people of faith › And it is a door to belief in the Last Day · Hadith 254
