Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 383

382 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن عفان ثنا عبد الله بن نمير عن الأعمش ـ ح ـ قال : و حدثنا أبو العباس ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الله عز و جل : ( أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت و لا أذن سمعت و لا خطر على قلب بشر ) ثم قرأ : { فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون } أخرجاه في الصحيح من حديث أبي معاوية و أخرجه مسلم من حديث ابن نمير

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن عفان نے ، ان کو عبداللہ بن نمیر نے، ان کو اعمش نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس نے، ان کو احمد بن عبدالجبار نے، ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ، ان کو ابو صالح نے، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے اپنے نیک بندوں کےلئے وہ چیز تیار کی ہے جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی وہ کسی انسان کے دل میں کھٹکی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: " فلا تعلم نفس ماخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانو یکسبون (السجدہ 17) کوئی نفس نہیں جانتا جو ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کی جزا ہے۔ بخاری و مسلم نے اس کو صحیحین میں نقل کیاہے ابو معاویہ کی روایت سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ابن نمیر کی روایت سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← و، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَفَّانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 383

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 384

383 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا أحمد بن يونس ثنا الليث بن سعد عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مات أحدكم عرض عليه مقعده بالغداة و العشي إن كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة و إن كان من أهل النار فمن أهل النار رواه البخاري رحمه الله في الصحيح عن أحمد بن يونس و أخرجاه من حديث مالك عن نافع قال البيهقي رحمه الله و فيه من الزيادة : يقال هذا مقعدك حتى يبعثك الله إليه يوم القيامة و في رواية سالم عن ابن عمر : إن كان من أهل الجنة فالجنة و إن كان من أهل النار فالنار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے، ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو لیث بن سعد نے نافع سے، اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کا اصل ٹھکانہ صبح و شام اس پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو جنت والا ٹھکانہ اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم والا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں احمد بن یونس سے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم نے دونوں نے مالک بن نافع سے روایت کیا ہے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں کچھ زائد الفاظ بھی وہ یہ ہیں کہ ٹھکانہ دکھانے کے بعد اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا اصل ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تجھے اٹھائے گا اس کی طرف قیامت کے دن۔ اور سالم کی ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اگر اہل جنت میں سے ہے تو جنت اور اگر اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم دکھائی جاتی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 384

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 385

384 - حدثنا أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الجنة و النار أرسل جبريل عليه السلام إلى الجنة فقال : اذهب فانظر إليه و إلى ما أعددت لأهلها فيها فذهب فنظر إليها و إلى ما أعد الله لأهلها فيها فرجع فقال : وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها فأمر بالجنة فحفت بالمكاره فقال : ارجع فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال فنظر إليها ثم رجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد قال : ثم أرسله إلى النار قال : اذهب فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال : فنظر إليها فإذا هي تركب بعضها بعضا ثم رجع فقال : و عزتك لا يدخلها أحد يسمع بها فأمر بها فحفت بالشهوات ثم قال : اذهب فانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها فنظر إليها فرجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا ينجو منها أحد إلا دخلها قال البيهقي رحمه الله : و هذا باب كبير الأخبار فيها كثيرة و قد ذكرناها في الجزء الثامن من كتاب البعث و ذكرنا في الآخر بعده ما ورد من الآثار و الأخبار في صفة الجنة و عددها و صفة النار و عددها و صفة النار و عددها فأغنى ذلك عن الإعادة ها هنا و دل الكتاب ثم السنة على أن عدد الجنان أربعة و ذلك لأنه قال في سورة الرحمن : { و لمن خاف مقام ربه جنتان } ثم وصفهما ثم قال { و من دونهما جنتان } ثم وصفهما و روينا عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : جنتان من ذهب آنيتهما و ما فيهما و جنتان من فضة آنيتهما و ما فيهما و في رواية أخرى : جنتان من ذهب للسابقين و جنتان من ورق لأصحاب اليمين و ذكر بعض أهل العلم أن جنة المأوى اسم للجميع و كذلك جنة عدن و جنة النعيم و دار الخلد و دار السلام و يشبه أن يكون الفردوس أيضا اسما للجميع و قد قيل هي اسم لأعلاهن درجة و أما أبواب الجنة فهن ثمانية روينا ذلك في حديث عمر و سهل بن سعد و غيرهما عن النبي صلى الله عليه و سلم و روينا عن عتبة بن عبد السلمي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : و إن لها ـ يعني الجنة ـ ثمانية أبواب و لجهنم سبعة أبواب و قد قال الله عز و جل في جهنم : { لها سبعة أبواب لكل باب منهم جزء مقسوم } و روينا عن علي رضي الله عنه أنه قال : أبواب جهنم هكذا يعني بابا فوق باب و روينا في حديث مرسل أنها سبعة أبواب جهنم و لظى و الحطمة و السعير و سقر و الجحيم و الهاوية و قال بعض أهل العلم جهنم اسم لجميع الدركات و دركات سبع فذكر هذه و ذكر معهن الحريق و أما إكرام الله المؤمنين بالنظر إليه فقد ذكرناه في كتاب الرؤية مع ما ورد فيه من الكتاب و السنة من أراد معرفته نظر فيه إن شاء الله و عندي أنه لو وقف الحليمي رحمه الله على حديث أبي هريرة في صفة الإيمان و تأول اللقاء المذكور فيه على ما تأول عليه أبو سليمان الخطابي رحمه الله في جماعة من أصحابنا رحمهم الله لجعل الإيمان بلقاء الله تعالى ـ و هو رؤيته و النظر إليه كما وردت به الأخبار الصحيحة مع الآيات التي دلت عليه من كتاب الله عز و جل ـ شعبة من شعب الإيمان و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے بو سعیدعبدالملک بن ابی عثمان زاہد نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمود بن محمد واسطی نے ان کو وھب بن بقہ نے ان کو خالد بن عبداللہ ، ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے جب جنت اور جہنم بنائی تو جبرائیل علیہ السلام کی جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو اہل جنت کے لئے نعمتیں تیار کی ہیں وہ دیکھو جبرئیل گئے جنت دیکھی اور جنت میں اہل جنت کے لئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس کو جا کر دیکھا۔ جبرئیل واپس آئے اور آ کر عرض کیا، تیری عزت کی قسم ہے جو بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہونے سے نہیں روکے گا۔ ضرور اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کو مشکلات کی باڑ لگا دی گئی۔ پھر فرمایا جبرئیل واپس جاؤ اور جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو کچھ جنت والوں کے لئے تیار کیا ہے۔ اس کو دیکھو فرمایا کہ جبرائیل نے جا کر دیکھا ۔ پھر واپس آ ئے اور کہا تیری عزت کی قسم ہے میں ڈرتا ہوں کہ اس میں تو اب کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر جبرائیل کو بھیجا جہنم کی طرف ۔ فرمایا کہ جا تو اس کو دیکھ اور میں نے اہل جہنم کے لئے اس میں جو عذاب تیار کر رکھے ہیں ان کو دیکھ کر اس نے جا کر جہنم کو دیکھا اور وہ بعض بعض سے مرکب تھی۔ واپس لوٹا اور کہنے لگا تیری عزت کی قسم جو بھی اس کے (عذاب) کو سنے گا کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور وہ شہوات و لذات کی باڑ لگا دی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اب جا کر اس کو دیکھ اور میں نے اس میں اہل جہنم کے لئے جو عذاب تیار کیا ہے اس کو بھی دیکھ اس نے جا کر اس کو دیکھا پھر واپس آیا اور عرض کیا تیری عزت کی قسم ہے میں تو اس بات سے ڈرتاہوں کہ اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا بلکہ ہر شخص اب تو جہنم میں داخل ہوجائے گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ بہت بڑا باب ہے۔ اس بارے میں احادیث بہت ہیں۔ ہم نے انہیں کتاب البعث والنشور کی آٹھویں جلد میں ذکر کر دیا ہے اور ان کے بعدآخر میں ہم نے وہ اخبار و آثارذکر کی ہیں جو جنت کی تعریف اور اس کی تعداد کے بارے میں اور جہنم کی وضاحت اور اس کی تعداد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ جس کے بعد اب ان کا یہاں اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چار جنات ہیں۔ کتاب و سنت اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تعدد چار ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ رحمٰن میں ارشاد فرمایا ہے کہ : " ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن 46) جو شخص اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے کھڑے ہو نے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں (یا دو باغ ہیں)۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی وصف بیان کی ہے ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ : "ومن دونھما جنتٰن (الرحمٰن 62) اور ان دو کے علاوہ یا ان کے سوا دو باغ اور ہیں۔ پھر ان دو کی وصف بیان فرمائی ہے۔ اور ہم نے حضرت موسیٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو جنتیں ایسی ہیں کہ وہ دونوں سونے کی ہیں۔ اس کے برتن اور سب کچھ جو ان دونوں میں ہے (سونے کا ہے) اور دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن بھی اور وہ سب کچھ جو ان میں ہے( وہ چاندی کا ہے) اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ دو جنتیں سونے کی سابقون کے لئے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی دائیں ہاتھ والوں کے لئے ہیں۔ (یعنی جن کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے)۔ اور بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ (جنۃ الماویٰ) سب کا اور جمیع کا نام ہے۔ اسی طرح (جنۃ عدن) اور (جنۃ نعیم ) اور (دارالخلد) اور (دار السلام) اور مناسب ہے کہ (جنۃ الفردوس) بھی جمیع کا اور سب کا نام ہو اور تحقیق یہ کہاگیا ہے کہ یہ درجے کے اعتبار سے ان سب سے اونچے کی جنت کا نام ہے۔ اور جنت کے دروازے آٹھ ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے حدیث میں حضرت عمر حضرت سہل بن سعد اور ان دونوں کے سوا کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہیں۔ اور ہم نے عتبہ بن عبد سلمی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لھا سبعۃ ابواب لکل باب منھم جزء مقسوم (الحجر 44) جہن کے سات دروازے ہیں ۔ ہر دروازے کے لئے جہنمیوں کا ایک کوٹہ مقرر ہے۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک دروازہ دوسرے کے اوپر ہے۔ اور ہم نے ایک مرسل حدیث مین یہ بات روایت کی ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ ان کے نام یہ ہیں (1) لظی (2) الحطمۃ (3) السعیر (4) سقر (5) الجحیم (6) الھاویہ ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ جہنم نام ہے تمام طبقات جہنم کا اور اس کے طبقات سات ہیں۔ نہوں نے مذکورہ چھ نام لکھا ہے اور ان کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے۔ (7)۔۔ الحریق ۔ باقی رہا اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان پر نظر کرم کے ساتھ اکرام کرنا تو ہم نے اس کو کتاب الرؤیت میں ذکر کر دیا ہے اور اس کے ساتھ وہ دلائل بھی ذکر کر دئیے ہیں جو اس بارے میں کتاب و سنت میں آئے ہیں۔ جو شخص اس کی معرفت کا ارادہ کر ے وہ اس کے دیکھے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف: اور میرے نزدیک (حقیقت یہ ہے کہ) اگر شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ صفت ایمان کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث پر واقف ہوتے تو مطلع ہوتے اور اس میں مذکورہ اللہ کی ملاقات کی وہ تاویل کرتے جو ہمارے اصحاب رحمہم اللہ کی جماعت میں سے شیخ ابو سلیمان خطابی نے کی ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے پر ایمان لانے کو ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ قرار دیتے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات وہی اس کی رؤیت ہے اور اس کی طرف نظر کرنا اور دیکھنا ہے، جبکہ اس کے بارے میں اخبار صحیحہ کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کی آیات بھی آئی ہیں جو ا س کتاب اللہ میں سے دلالت کرتی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 385

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 386

385 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا إسماعيل بن علية ثنا أبو حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم بارزا يوما للناس فأتاه رجل فقال ما الإيمان ؟ فقال : الإيمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتابه و لقائه و رسله و تؤمن بالبعث و ذكر الحديث أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح قال أبو سليمان قوله : أن تؤمن بلقائه فيه إثبات رؤية الله عز و جل الدار الآخرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظنے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ، ان کو اسماعیل بن علیہ نے، ان کو ابو حیان نے، ان کو ابو زرعہ نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے۔ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتاب کے ساتھ اور اس کی ملاقات کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور اتو ایمان لے آ مرنے کے بعد جی کر اٹھنے کے ساتھ۔ اور حدیث ذکر فرمائی ہے اس کو بخاری اور مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ شیخ ابو سلیمان خطابی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول : " ان تؤمن بلقا ئہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رؤ یت کا اثبات ہے آخرت میں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 386

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 387

386 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح بن كيسان ثنا نافع أن عبد الله بن عمر قال : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يدخل أهل الجنة الجنة و يدخل أهل النار النار ثم يقوم مؤذن بينهم يا أهل الجنة لا موت يا أهل النار لا موت كل خالد فيما هو فيه و رواه البخاري عن علي بن عبد الله و أخرجه مسلم من حديث محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر عن جده و فيه من الزيادة ذبح الموت بين الجنة و النار و قد أخرجناه في كتاب البعث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن محمد دوری نے، ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، ان کو ان کے والد نے ابو صالح بن کیسان سے، ان کو نافع نے یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو ں گے۔ پھر ان کے درمیان اعلان کرنے والا کھڑے ہو کر اعلان کرے گا اے جنت والو (آج کے بعد ) کوئی موت نہیں ہے اور اے جہنم والوں (آج کے بعد) کوئی موت نہیں ہے۔ ہر ایک جہاں ہے بس وہی ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اس کو بخاری نے علی بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ اور مسلم نے اس کو محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر کی روایت سے ان کے دادا سے نقل کیا ہے اور روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ موت کو جنت اور جہنم کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ ہم نے اس کو کتاب البعث والنشور میں نقل کیا ہے۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 387

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 388

387 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي المؤملي ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو الوليد ثنا مسدد بن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة و أهل النار النار يجاء بالموت كأنه كبش أملح فينادى مناد : يا أهل الجنة هل تعرفون هذا فيشرئبون و ينظرون و كلهم قد رآه فيقولون : نعم هذا الموت ثم يؤخذ فيذبح ثم يقال : يا أهل الجنة خلود و لا موت و يا أهل النار خلود و موت قال و ذكر قول الله عز و جل : { و أنذرهم يوم الحسرة إذ قضي الأمر و هم في غفلة } قال : أهل الدنيا في غفلة لفظ حديث يعلى و رواه مسلم في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حسن بن علی مؤملی سے، ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو یعلیٰ بن عبید نے، ان کو اعمش نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ابو الولید نے، ان کو مسدد بن فطن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ، ان کو جریر نے اعمش سے، اس نے ابو صالح سے،انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو چکیں گے ، موت لائی جائے گی ، گویا کہ وہ مینڈھا ہے بغیر سینگ والا۔ پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا اے جنت والوں ، کیا تم اس کو پہچانتے ہو ؟ لہذا سب اسے گردن اٹھا کر دیکھیں گے اور سب اسے دیکھ چکیں گے۔ بولیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ پھر اسے پکڑ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا اے اہل جنت دوام ہے ہمیشہ رہنا ہے کوئی موت نہیں ہے اور اے جہنمیوں دوام ہے ہمیشہ رہنا ہے ، کوئی موت نہیں ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد فرمایا : وانذرھم یوم الحسرۃ اذقضی الامر وھم فی غفلۃ (مریم 39) اور ( اے پیغمبر) ڈر ا تو ان کو حسرت و افسوس کے دن جب فیصلہ ہو چکے گا اور وہ بے خبر ی میں ہوں گے۔ فرمایا کہ اہل دنیا غفلت میں ہیں۔ اور حدیث یعلی کو مسلم نے صحیح میں عثمان بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسن بن علي المؤملي

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 388

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 389

388 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المالكي بمكة ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو عبيد القاسم بن سلام ثنا الأشجعي عن يحيى بن عبيد الله المديني عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما رأيت مثل النار نام هاربها و لا رأيت مثل الجنة نام طالبها

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے، ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن فراس مالکی نے، اس کو علی بن عبدالعزیز نے، ان کو ابو القاسم بن سلام نے، ان کو اشجعی نے یحییٰ بن عبیداللہ مدینی سے، اس نے اپنے باپ سے ، اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا غفلت کی نیند سو رہا ہو۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المالكي بمكة، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 389

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 390

389 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي ثنا محمد بن صابر قال : قلت لأبي شيبة بن أبي بكر بن أبي شيبة أحدثك عبد الرحمن بن شريك ثنا أبي عن محمد الأنصاري و السدي عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما رأيت مثل الجنة نام طالبها و لا رأيت مثل النار نام هاربها ؟ فأقر به و قال نعم و روي ذلك أيضا عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود مرفوعا و روي عنه موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے ، ان کو محمد بن صابر نے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو شیبہ بن ابو بکر بن ابو شیبہ سے کہا کیا آپ کو عبدالرحمٰن بن شریک نے حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے ان کو محمد انصاری نے ، ان کو سدی نے، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : می نے جنت جیسی کوئی شے نہیں دیکھی جس کا طالب سوتا رہے اور نہ ہی میں نے جہنم جیسی کوئی چیز دیکھی ہے جس سے دور بھاگنے والا بھی غفلت کی نیند سو تا رہے۔ بس آپ نے اس کا اقرار کیا اور فرمایا کہ ہاں۔ اور یہی حدیث عاصم سے مروی ہے ۔ ان کو ذر نے ،ان کو عبداللہ بن مسعود نے مرفوعا بیان کی اور انہیں سے مرفوعا بھی مروی ہے۔

محمد بن صابر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 390

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 391

390 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله ابن بنت العباس بن حمزة يقول : سمعت جبيرا يقول سمعت أحمد بن حنبل يقول : سبحانك ما أغفل هذا الخلق عما أمامهم ! الخائف منهم مقصر و الراجي منهم متوان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن عبداللہ عباس بن حمزہ کے نواسے سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا جبیر سے ، انہوں نے سنا احمد بن حنبل سے وہ کہتے تھے اللہ تعا لیٰ تو پاک ہے ، مخلوق کو اس چیز سے کس نے غافل کر دیا ہے۔ ان امور سےجو ان کے آگے ہیں ان سے ڈرنے والا کوتاہی کرتا ہے اور ان کی امید رکھنے والا کاہل ہے۔

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← جبيرا ← أبا بكر محمد بن عبد الله ابن بنت العباس بن حمزة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 391

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 392

391 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن علي بن عبد الرحمن الساوي بها أنا أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ثنا إسحاق الحربي ثنا سليم بن منصور بن عمار حدثني أبي ثنا الهقل بن زياد عن الأوزاعي عن بلال بن سعد قال : تنادي النار يوم القيامة بأربعة : يا نار خذي يا نار أنضجي يا نار انتفي يا نار كلي و لا تقتلي قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا في كتاب البعث و النشور في صفة الجنة و النار من الكتاب و السنة و الآثار ما نكتفي به و مما يحق معرفته في قول الله عز و جل : { كلما نضجت جلودهم بدلناهم جلودا غيرها ليذوقوا العذاب }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن بن علی بن عبدالرحمٰن ساوی نے ، ان کو احمد بن جعفر بن حمدان قطیعی نے، ان کو اسحٰق حربی نے، ان کو سلیم بن عمار نے ، ان کو ان کے باپ نے، ان کو صقل بن زیاد نے، ان کو اوزاعی نے، ان کو بلال بن سعد نے، وہ کہتے ہیں قیامت کے دن جہنم کو چار پکاریں لگیں گی۔ اے آگ پکڑ لے ، اے آگ جلا دے، اے آگ ختم ہو جا۔ اے آگ کھا جا، مگر اے آگ ہلاک نہ کر۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ہم نے کتاب البعث والنشور میں جنت اور جہنم کی صفت کے بارے میں کتاب و سنت میں سے اور ارشاد میں سے جو کچھ ذکر کر دیا ہے اس پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ اس بات کا بیان کہ جب اہل جہنم کے چمڑے جل جائیں گے دوسرے بدل دئیے جائیں گے اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان کے بارے میں جس کی توضیح کی معرفت ضروری ہے وہ درج ذیل ہے: "کلما نضجت جلو دھم بدلنا ھم جلو دا ً غیرھا لیذوق العذاب " (النساء 56) جب بھی اہل جہنم کے چمڑے جل جائیں گے ، ہم ان کے چمڑے بدل دیں گے تاکہ (زیادہ سے زیادہ) عذاب چکھتے رہیں۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبِي ← سليم بن منصور بن عمار، ← إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاوِيُّ بها،

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 392

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 393

392 - ما أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمر الزاهد أنا ثعلب عن سلمة عن الفراء قال : يقال أبدلت الخاتم بالحلقة إذا نحيت هذا و جعلت هذا مكانه و بدلت الحلقة بالخاتم إذا أذبتها و جعلتها خاتما قال ثعلب و حقيقة بدلت إذا غيرت الصورة إلى صورة غيرها و الجوهرة بعينها أبدلت إذا نحيت الجوهرة و جعلت مكانها جوهرة أخرى قال أبو عمر فعرضت هذا الكلام على محمد بن يزيد المبرد فاستحسنه و قال لي : قد بقيت فيه فاصلة أخرى قلت : و ما هي ؟ ـ أعزك الله ـ قال : هي أن العرب قد جعلت بدلت بمعنى أبدلت وهو قول الله عز و جل : { فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات } ألا ترى أنه تعالى قد أزال السيئات و جعل مكانها الحسنات و أما ما شرط أحمد بن يحيى و هو ثعلب و هو بمعنى قوله عز و جل : { كلما نضجت جلودهم بدلناهم جلودا غيرها } قال : فهذه في الجوهرة و تبديلها تغيير صورتها إلى غيرها لأنها كانت ناعمة فاسودت بالعذاب فردت صورة جلودهم الأولى لما نضجت تلك الصورة و الجوهرة واحدة و الصور مختلفة قال البيهقي رحمه الله : و روينا في كتاب البعث عن الحسن البصري أنه قال في هذه الآية : تأكلهم النار كل يوم سبعين ألف مرة كلما أكلتهم قيل لهم عودوا فيعودون كما كانوا

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو عمر زاہد نے،ا ن کو ثعلب نے، ان کو سلمہ نے، ان کو فراء (نحوی) نے کہ عربی محاورے میں یوں کہا جاتا ہے: ابدلت الخاتم بالحلقۃ " میں نے انگوٹھی کو کڑے سے یعنی رنگ سے بدل دیا ہے۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب اسے گھڑ کر انگوٹھی کی جگہ حلقہ بنا لیں۔ (اس محاورے میں ابدلت ابدال سے یعنی باب افعال سے ہے) اور دوسرا محاورہ یوں ہے: " بدلت الحلقۃ بہ الخاتم " میں نے حلقے کو انگوٹھی سے تبدیل کر لیا ہے۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب آپ رنگ اور حلقے کو پگھلا کر انگوٹھی بنا لیں۔ یہ فراء نحوی کی تحقیق تھی۔ اس دوسرے محاورے میں بدلت تبدیل سے یعنی باب تفصیل سے ہے ۔ اور ثعلب نے کہا کہ بدلت کی یعنی تبدیل کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت آپ کسی شے کی شکل و صورت کو دوسری شکل و صورت سے متغیر کر لیں اور بدل لیں جبکہ اس کا اصل جوہر بعینہ رد ہے اور ابدلت کی یعنی ابدال کی حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اصل جوہر کو گھڑ کر اس کی جگہ دوسرا جوہر کر دیں۔ ابو عمر نے کہا کہ میں نے یہ کلام محمد بن یزید مبرد (نحوی) پر پیش کیا۔ انہوں نے اس کی تحسین کی اور مجھ سے کہا کہ اس میں ایک دوسرا فاصلہ باقی رہ گیا ہے۔ میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اللہ آپ کو عزت دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ ہے کہ عربوں نے ایک بدلت کو بمعنی ابدلت کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول اسی معنی میں ہے۔ "فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات " (الفرقان 70) بس وہی لوگ ہیں اللہ نے جن کی سیئات کو حسنات سے بدل دیا ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیئات کا ازالہ کر کے اور ہٹا کر کرے اس کی جگہ حسنات کو کر دیا ہے۔ بہر حال احمد بن یحییٰ یعنی ثعلب نے جو شرط لگائی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے معنی میں ہے: "کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلوداً غیرھا " (النساء 56) جب بھی ان کے چمڑے جل جائیں گے ہم ان کے چمڑے دوسرے تبدیل کر دیں گے۔ مبرد نے کہا ، یہ تو اہل جوہر میں ہے اور ان کی تبدیلی ان کی شکل و صورت کو دوسری میں بدلنا ہے۔ اس لئے کہ جلد ترو تازہ تھی اور عذاب کے ساتھ سیاہ ہو گئی۔ لہذا ان کے چمڑوں کی پہلی صورت واپس لوٹا دی جائے گی جب بھی یہ صورت جلے گی ۔ اور اصل جوہر ایک رہے گا اور شکلیں مخلتف ہوں گے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کتاب البعث میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جہنمیوں کو آگ ہر دن ستر ہزار مرتبہ کھا جائے گی۔ جب بھی انہیں کھا لے گی ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ آؤ، لہذا وہ لوٹ آئیں گے جیسے کہ پہلے تھے۔

الْفِرَاءِ ← سَلَمَةَ، ← ثعلب. ← أبو عمر الزَّاهد، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← مَا

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 393

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 394

393 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عيسى بن حامد القاضي ثنا حامد بن شعيب ثنا سريج بن يونس ثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن بن صالح عن هارون بن سعد عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ضرس الكافر في النار مثل أحد و غلض جلده مسيرة ثلاث رواه مسلم في الصحيح عن سريج بن يونس و روينا في كتاب البعث عن المقدام عن النبي صلى الله عليه و سلم في الكافر قال : يعظم للنار حتى يصير جلده أربعين باعا و حتى يصير نابا من أنيابه مثل أحد و روينا غير ذلك من أحب علمه رجع إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عیسیٰ بن حامد قاضی نے ان کو حامد بن شعیب نے ان کو سریج بن یونس نے ، ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان کو حسن بن صالح نے، ان کو ھارون بن سعد نے، ان کو حازم نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو گی اور اس کی جلد کی موٹائ تین رات کے سفر کے برابر ہو گی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں سریج بن یونس سے روایت کیا ہے۔ اور ہم نے کتاب البعث میں مقدام سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ : کافر آگ کے لئے بڑا ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کی جلد چالیس ہاتھ ہو جائے گی اور اس کی داڑھوں میں سے ایک داڑھ یا دانتوں میں سے ایک دانت احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔ اور ہم نے اس کے سواء روایت کی ہے جو شخص جس کے علم کو پسند کرتا ہے اسی کی طرف رجوع کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ ← عيسى بن حامد القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 394

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood