Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1374

1374 - و فيه نقول : أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم بن أبي أياس أنا شعبة أنا قتادة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده و والده و الناس أجمعين رواه البخاري عن آدم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

اس بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو علی رودباری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمودیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو آدم بن ابوایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔"لا یؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین"( رواہ البخاری عن آدم) تم میں سے کوئی ایک بھی کامل مومن نہیں ہو سکتا اس وقت تک ، جب تک کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اس کے نزدیک اس کی اولاد سے اور اس کے ماں باپ سے اور سارے جہان کے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اس کو بخاری نے آدم سے روایت کیا ہے ۔ اور اس کو امام مسلم نے ایک دوسرے طریقہ سے شعبہ سے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و فيه نقول

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1374

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1375

1375 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو بكر بن إسحاق و حسين بن حسين قالا : نا يعقوب بن إبراهيم ثنا إسماعيل بن علية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من أهله و ماله و الناس أجمعين رواه البخاري في الصحيح عن يعقوب بن إبراهيم و رواه مسلم عن زهير بن حرب عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے اور حسین بن حسین نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن غلیہ نے ان کو عبدالعزیز بن صھیب نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ " لا یؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین"۔ تم میں سے کوئی آدمی بھی مؤمن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہو جاؤں اس کے اہل خانہ سے اور اس کے مال سے اور تمام تر لوگوں سے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے یعقوب بن ابراہیم سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے زہیر بن حرب سے انہوں نے اسماعیل سے۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو بكر بن إسحاق و حسين بن حسين ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1375

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1376

1376 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة أخبرني قتادة قال : سمعت أنس بن مالك يحدث أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : من يكن الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يقذف الرجل في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد أن أنقذه الله منه و أن يحب الرجل العبد أحمد لا يحبه إلا لله ـ أو قال : في الله ـ و شك أبو داود

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے انہوں نے سنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ تین صفات ایسی ہیں جس شخص میں وہ موجود ہوں وہ ان کے ساتھ ایمان کی حلاوت اور لذت پالیتا ہے ۔ (1) ۔۔ وہ شخص جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں۔ (2)۔۔ یہ کہ وہ شخص جس کے نزدیک آگ میں جھونک دیا جانا کفر کی طرف لوٹ جانے سے زیادہ محبوب ہو اس کے بعد کہ اللہ نے اسے ( اسلام کی دولت کے ساتھ) اس آگ سے اللہ نے اسے بچا لیا تھا۔ (3) ۔۔یہ کہ وہ انسان کسی سے محبت کرے تو محض اللہ کی رضا کے لئے کرے ۔ ابو داؤد کو شک ہے کہ راوی نے اللہ فرمایا تھا یا فی اللہ فرمایا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1376

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1377

1377 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن محمويه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا أدم ثنا شعبة ثنا قتادة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجد أحدكم حلاوة الإيمان حتى يحب المرء لا يحبه إلا لله و حتى يكون أن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع إلى الكفر بعد إذ أنقذه الله منه و حتى يكون الله و رسوله أحب إليه مما سواهما رواه البخاري في الصحيح عن آدم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة على اللفظ الأول أو قريبا منه و كذلك رواه أبو قلابة و ثابت عن أنس بن مالك

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابوبکر بن محمودیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا۔ کوئی ایک بھی تم میں سے ایمان کی لذت نہیں پا سکے گا یہاں تک کہ کسی انسان سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لئے اور اس کے نزدیک آگ میں ڈال دیا جانا باوجود اللہ نے اس کو اس سے بچا لیا ہے زیادہ پسند ہو کفر کی طرف لوٹ جانے سے اور یہاں تک کہ اللہ اور اللہ کا رسول اس کے نزدیک ساری کائنات سے زیادہ محبوب ہوں ۔ اس کو مسلم نے دوسرے طریقہ سے شعبہ سے پہلے الفاظ کے مطابق یا اس سے قریب قریب روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو قلابہ نے اور ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1377

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1378

1378 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن علي الجعدواني ببخارى ثنا أبو علي صالح بن محمد البغدادي ثنا علي الجعدواني ببخارى ثنا هشام بن يوسف حدثني عبد الله بن سليمان النوفلي عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس عن أبيه عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا الله لما يغذوكم به من نعمة و أحبوني لحب الله و أحبوا أهل بيتي لحبي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو الحسن بن محمد بن احمد بن علی جعدوانی نے شہر بخارا میں ان کو ابو علی صالح بن محمد بغدادی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ہشام بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن سلیمان نوفلی نے ان کو محمدبن عبداللہ بن عباس نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ا بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا اللہ سے محبت کرو اس لئے کہ وہی تمہیں اپنی نعمت میں سے روزی دیتا ہے ۔ اور مجھے سے محبت کرو اللہ کی محبت کی وجہ سے اور میرے گھر والوں سے محبت رکھو میری محبت کی وجہ سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← علي الجعدواني ببخارى ← أبو علي صالح بن محمد البغدادي ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن علي الجعدواني ببخارى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1378

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1379

1379 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو أنا أبو الموجه محمد بن عمرو ثنا عبدان بن عثمان بن جبلة أخبرني أبي عن شعبة عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن أنس بن مالك قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : متى الساعة ؟ فقال ما أعددت لها ؟ فقال : لا إلا أني أحب الله و رسوله فقال : أنت مع من أحببت رواه البخاري في الصحيح عن عبدان و رواه مسلم عن محمد بن يحيى بن عبد العزيز عن عبدان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو بکر احمد بن بکر بن محمد بن حمدان صیر فی نے مقام مرو میں ، ان کو ابو الموجہ بن عمرو نے ان کو عبدان بن عثمان بن حبلہ نے ان کو خبر دی میرے والد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو سالم بن ابو جعد نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور فرمایا قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس کے لئے تیاری کر رکھی ہے ؟ بولا کہ نہیں تیاری تو نہیں کی ہے سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تو ان کے ساتھ ہی ہوگا جس سے محبت کرتا ہے اس کو بخاری نے صحیح بخاری میں عبدان سے روایت کیا ہے ۔ اور اس کو مسلم نے محمد بن یحییٰ بن عبدالعزیز سے اس نے عبدان سے روایت کیا ہے ۔

عَبْدَانُ ← محمد بن يحيى بن عبد العزيز، ← عبدان و رواه مسلم ← أنت مع من أحببت رواه البخاري في الصحيح ← لا إلا أني أحب الله و رسوله ← ما أعددت لها ← مَتَى السَّاعَةُ ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عبدان بن عثمان بن جبلة ← أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1379

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1380

1380 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا خلف بن خليفة عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال : جاء رجل من الأنصار إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لأنت أحب إلي من نفسي و ولدي و أهلي و مالي و لولا إني آتيك فأراك لخشيت أني سأموت و بكى الأنصاري فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ما أبكاك ؟ قال : ذكرت أنك ستموت و نموت فترفع مع النبيين و نحن إن دخلنا الجنة كنا دونك فلم يخبره النبي صلى الله عليه و سلم بشيء فأنزل الله عز و جل على رسوله صلى الله عليه و سلم : { و من يطع الله و الرسول فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين } إلى قوله { عليما } فقال له النبي : أبشر

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضر وی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو شعبی نے وہ فرماتے ہیں کہ ۔ ایک آدمی انصار میں سے رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ بڑی پکی بات ہے کہ آپ مجھے بہت محبوب ہیں میری ذات سے میری اولاد سے میرے گھر والوں سے میرے مال سے ، اگر میں آپ کی بارگاہ میں حاضری نہ دوں اور اپ کو جب تک دیکھ نہ لوں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں ابھی مر جاؤں گا ( یہ کہہ کر وہ انصاری صحابی ) رو پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے فرمایا۔ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ بولے ، آپ نے ذکر کیا تھا کہ آپ کی وفات قریب ہے اور مرنا ہم نے بھی ہے آپ تو نبیوں کے ساتھ اٹھا لئے جائیں گے ۔ اور ہم اگر جنت میں داخل بھہ ہو ئے تو ہم تو آپ کے قریب نہیں ہوں گے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے ابھی تک کوئی خبر نہیں دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر آیت اتاری۔ فرمایا کہ : ۔"ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین( النسآء69) جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرے وہ لوگوں کے ساتھ ہی ہوں گے جس پر اللہ نے انعام کیا ہے انبیاء میں سے اور صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین میں سے یہ بہترین رفاقت ہے یہ اللہ کی طرف سے محض فضل ہے اور اکثر اللہ تعالیٰ جاننے والا کافی ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس صحابی سے فرمایا: "ابشر" آپ خوش ہو جائیے۔

الشَّعْبِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1380

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1381

1381 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان نا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار و ابن بكير عن ابن لهيعة عن زهرة بن معبد بن عبد الله بن هشام القرشي ثم التيمي عن جده عبد الله بن هشام : و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح برأسه و دعا له و هو صغير ـ قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو آخذ بيد عمر بن الخطاب فقال له عمر : و الله يا رسول الله ! لأنت أحب إلي من كل شيء إلا نفسي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا و الذي نفسي بيده حتى أكون أحب إليك من نفسك قال عمر : فأنت الآن ـ و الله أحب إلي من نفسي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الآن يا عمر

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو الا سود نضر بن عبدالجبار نے اور ابن بکیر نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو زہرہ بن معبد بن عبداللہ بن ہشام قرشی تیمی نے ان کو ان کے دادا عبداللہ بن ہشام نے ( یہ وہی خوش نصیب تھے کہ جب یہ چھوٹے بچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے سر کے اوپر ہاتھ پھیر ا تھا اور اس کے لئے دعا فرمائی تھی) وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ حضرت عمر نے آپ سے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ میرے نزدیک سب چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ میرے نفس کے سوا یعنی میری ذات کے سوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسے فرمایا نہیں (یعنی اس سے ایمان کی تکمیل نہیں ہوگی ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ میں زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں تیرے نفس سے بھی ۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ آپ اب اللہ کی قسم میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:"الان یا عمرو" اب صحیح ہے اے عمر یعنی اب ایمان مکمل ہو چکا ہے ۔

زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ هِشَامٍ الْقُرَشِيِّ ثُمَّ التَّيْمِيِّ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أبو الأسود النضر بن عبد الجبار و ابن بكير ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1381

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1382

1382 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا مخلد بن جعفر الباقرجي ثنا محمد بن جرير حدثني محمد بن عبد الله بن عبد الحكم ثنا أبو زرعة وهب الله بن راشد ثنا حيوة بن شريح أنا أبو عقيل زهرة بن معبد بن عبد الله بن هشام : أنه سمع جده عبد الله بن هشام يقول كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو آخذ بيد عمر فذكر الحديث و رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن سليمان عن ابن وهب عن حيوة

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو مخلد بن جعفر باقر جی ( بغداد کے نواح میں واقع باقر ج بستی کی طرف نسبت ہے )۔ ان کو محمد بن جریر نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکیم نے ان کو ابو زرعہ وہب اللہ بن راشد نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو ابو عقیل زہرہ بن معدان بن عبداللہ ہشام نے کہتے ہیں کہ ہم لو گ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا پھر انہوں نے آگے موقوف حدیث ذکر فرمائی۔ اس کو روایت کیا ہے بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن سلیمان سے اس نے وھب سے ان کو حیوۃ نے۔

أبو عقيل زهرة بن معبد بن عبد الله بن هشام ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مخلد بن جعفر الباقرجي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1382

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1383

1383 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا محمد بن عقيل ثنا حفص بن عبد الرحمن حدثني محمد بن طهمان عن موسى بن عقبة عن أبي الزناد عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده و ولده

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو محمد بن عقیل نے ان کو حفص بن عبدالرحمٰن نے ان کو محمد بن طہمان نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو ابو الزناد نے ان کو عبدالرحمٰن اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک بھی کامل ایماندار نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد سے اور اس کے بیٹے سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← محمد بن طهمان ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ، ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1383

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حب النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1384

1384 - أخبرنا أبو نصر أحمد بن علي بن أحمد الفامي أنا محمد بن المؤمل ثنا الفضل بن محمد ثنا منجاب أنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن أبي خالد عن أبي عمرو الشيباني أخبرني جبلة بن حارثة قال : قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله ابعث مع أخي زيدا قال : هو ذا فإن انطلق لم أمنعه فقال زيد : لا و الله يا رسول الله لا اختار عليه أحدا أبدا قال : فرأيت رأي أخي أفضل من رائي قال الحليمي رحمه الله : و أصل هذا الباب أن يقف على مدائح رسول الله صلى الله عليه و سلم و المحاسن الثابتة له في نفسه ثم على حسن آثاره في دين الله عز و جل و ما يجب له من الحق على أمته شرعا و عادة فمن أحاط بذلك و سلم عقله علم أنه أحق بالمحبة من الوالد الفاضل في نفسه البر الشفيق على ولده و من المعلم الرضي في نفسه المقبل على التعلم المجتهد في التخريج و مدائح رسول الله صلى الله عليه و سلم كثيرة منها شرف أصله و طهارة مولده و منها أسماؤه التي اختارها الله له و سماه بها و منها إشادة الله تعالى بذكره قبل أن يخلقه حتى عرفه الأنبياء صلوات الله عليهم و أممهم قبل أن يعرف نفسه و تعرفه أمته و منها حسن خلقه و خلقه و كرم خصائله و شمائله و منها بيانه و فصاحته و قوله ( أوتيت جوامع الكلم و اختصر لي الحديث اختصارا ) و منها حدبه على أمته و رأفته بهم و ما ساق الله تعالى به إليهم من الخيرات العظيمة في الدنيا و عرضهم له من شفاعته لهم في الآخرة و منها زهده في الدنيا و صبره على شدائدها و مصائبها و أما المرتبة العظمى و هي النبوة و الرسالة فله فيها من المآثر الرفيعة عموم رسالته الثقلين و شمولها بين الخافقين و أنه خاتم النبيين و سيد المرسلين و أكرمهم في الدنيا أعلاما و أحمدهم في الآخرة مقاما و ذلك أنه أول من تنشق عنه الأرض و أول شافع و مشفع و هو صاحب اللواء المحمود و صاحب الحوض المورود و أقسم الله بحياته و لم يخاطبه باسمه في القرآن و لا كنيته بل دعاه باسم النبوة و الرسالة و اصطفاه بذلك على الجماعة قال البيهقي رحمه الله : و قد صنفت بتوفيق الله تعالى كتابا في دلائل النبوة و معرفة أحوال صاحب الرسالة من وقت ولادته إلى حال وفاته صلى الله عليه و سلم و ذكرت فيه من الأخبار و الآثار ما يكون بيانا لما أورده الحليمي رحمه الله و إيراد جميعه ها هنا مما يطول به الكتاب فاقتصرت في كل فصل من هذه الفصول على الإشارة إلى ما يتبين به مقصوده و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر احمد بن علی ابن احمد انعامی نے ان کو محمد مؤمل نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو منجاب نے ان کو علی بن مسہر نے ان کو اسماعیل نے ان کو ابو خالد نے ان کو ابو عمرو شیبانی نے ان کو خبر دی جبلہ بن حارثہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس حاضر ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے بھائی کے ساتھ زید کو بھیجئے انہوں نے فرمایا۔۔۔ اگر یہ جائیں تو میں اسے منع نہیں کروں گا۔ زید نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! کے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا ۔ کبھی کبھی کہتے ہیں کہ چنانچہ میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔

قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← أَبِي خَالِدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مِنْجَابٌ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ← أبو نصر أحمد بن علي بن أحمد الفامي

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1384

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood