شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1164
1163 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا زكريا بن يحيى ثنا هشيم عن حصين قال : كنت عند سعيد بن جبير فقال ليلا : أيكم رأى الكوكب الذي انقض البارحة ؟ قال : قلت : أنا قال : أما إني لم أكن في صلاة و لكني لدغت قال : فما فعلت ؟ قال قلت : استرقيت قال : و ما حملك على ذلك ؟ قلت : حديث حدثناه الشعبي قال : و ما حدثكم الشعبي ؟ قال : قلت حدثنا عن بريدة بن الحصيب أنه قال : لا رقية إلا من عين أو حمة قال : قلت : حدثنا عن بريدة بن حفص أنه قال : لا رقية إلا من عين أو حمة قال : فقال سعيد بن جبير : قد أحسن من انتهى إلى ما سمع ثم قال سعيد بن جبير : ثنا ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عرضت على الأمم قال : فرأيت النبي معه الرهط و النبي معه الرجل و الرجلان و النبي ليس معه أحد إذ رفع لي سواد عظيم فقلت : هذه أمتي فقيل : هذا موسى و قومه و لكن انظر إلى الأفق قال : فنظرت فإذا سواد عظيم ثم قيل انظر إلى هذا الجانب الآخر فإذا سواد عظيم فقيل هذه أمتك و معهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب و لا عذاب ثم نهض النبي صلى الله عليه و سلم فدخل فخاض القوم في ذلك فقالوا : من هؤلاء الذين يدخلون الجنة بغير حساب و لا عذاب ؟ فقال بعضهم لبعض : لعلهم الذين صحبوا النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : فلعلهم الذي ولدوا في الإسلام و لم يشركوا بالله شيئا قط و ذكروا أشياء فخرج إليهم النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما هذا الذي كنتم تخوضون فيه ؟ فأخبروه بمقالتهم فقال : هم الذين لا يكتوون و لا يسترقون و لا يتطيرون و على ربهم يتوكلون فقام عكاشة بن محصن الأسدي فقال : أنا منهم يا رسول الله ؟ فقال : أنت منهم ثم قام رجل آخر فقال أنا منهم يا رسول الله قال : سبقك بها عكاشة أخرجه في الصحيح من حديث هشيم و غيره و في حديث بريدة رخصة في الاسترقاء و قد رواه إسماعيل بن زكريا و مالك بن مغول عن حصين عن الشعبي عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا قوله : لا رقية إلا من عين أو حمة و الله أعلم أنهما أولى بالرقي لما فيهما من زيادة الضرر و الحمة سم ذوات السموم و أما رواية سعيد بن جبير عن ابن عباس قال الحليمي رحمه الله تعالى : يحتمل أن يكون أراد بهم الغافلين عن أحوال الدنيا و ما فيها من الأسباب المعدة لدفع الآفات و العوارض فهم لا يعرفون الاكتواء و لا الاسترقاء و لا يعرفون فيما ينوبهم ملجأ إلا الدعاء و الاعتصام بالله عز و جل و قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم : أكثر أهل الجنة البله فقيل : معناه البله عن شهوات الدنيا و زينتها و الحبائل التي للشيطان فيها و قال الله عز و جل : { إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات } فقيل : أراد الغافلات عما يرمين به من الفحشاء لا يتفكرن فيها و لا يخطرن بقلوبهن و لا تكون من همتهن فكذلك الذين أثنى عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الخبر هم الغافلون عن طب الأطباء و رقي الرقاة و لا يحسنون منها شيئا لا الذين يحسنون و لا يستعملون ثم احتج بما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك و هو أنه صلى الله عليه و سلم كوى أسعد بن زرارة من الشوكة و بعث إلى أبي بن كعب طبيبا فقطع منه عرقا ثم كواه عليه و هذا يدل على الرخصة في ذلك قال الإمام أحمد رحمه الله
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو خبر دی ہے ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو زکریا بن یحییٰ نے ان کو ہشیم نے ان کو حصین نے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے پاس ٹھہرا ہو ا تھا ۔ انہوں نے ایک رات کو پوچھا کہ تم میں سے اس ستارے کو کس نے دیکھا جو آج گذرنے والی رات میں ٹوٹا ہے ؟ کہتے کہ میں نے کہا کہ ، میں نے دیکھا تھا۔ پھر اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نماز میں نہیں تھا مگر مجھے ڈنس لیا گیا تھا کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر تم نے کیا کیا؟ سعید نے جواب دیا کہ میں نے دم پھونک کر وایا۔ یا خود کیا ۔ حصین کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس بات پر آپ کو کس چیز نے تیار کیا؟ اس نے کہا اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے بیان کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں شعبی نے کیا بیان کیا تھا؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی بریدہ بن حصیب نے انہوں نے کہا کہ " لا رقیۃ الا من عین اوحمۃ " دم کرنا( یا منتر پڑھا نا یا جھاڑنا) نہیں ہوتا مگر صرف نظر بد سے یا بخار سے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی تھی بریدہ بن حفص سے کہ انہوں نے کہا: ۔" لارقیۃ الا من عین او حمۃ"۔دم یا جھاڑنا تو صرف نظر بد کے لئے اور بخار کے لئے ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں۔ پھر حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا: تحقیق درست کیا اس نے جو وہاں تک پہنچا ، جہاں سے اس نے سنا۔ اس کے بعد سعید بن جبیر نے فرمایا: کہ ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حدیث بیان کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ میرے اوپر امتیں پیش کی گئی تھیں، چنانچہ میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ نو دس بندوں کی جماعت تھی۔ بعض نبی ایسے تھے کہ اس کے ساتھ ایک یا دو آدمی تھے ۔ کوئی نبی ایسا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی ایک آدمی بھی نہیں تھا۔ اچانک میرے لیے ایک بڑی جماعت اٹھا کر پیش کی گئی میں نے پوچھا کہ کیا یہ میری امت ہے ، بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہیں۔ مگر آپ بالائی کنارے کی طرف نگاہ ڈالئے میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت تھی ۔ اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ اس دوسری طرف بھی دیکھئے یہاں تو پہلے سے بھی بہت بڑی جماعت تھی پھر کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں جو بغیر حساب کتاب اور بغیر عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ اسے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اٹھ کر اندر چلے گئے ۔ اور لوگ اس بارے میں باہم بحث کرنے لگے کہ وہ ستر ہزار کون ہوں گے جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ؟ تو بعض نے بعض سے کہا، شائد یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہوگی ۔ بعض نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اسلام میں پیدا ہوئے اور کبھی اللہ کے ساتھ شریک نہیں کیا ہوگا۔ اور کئی باتیں ذکر کیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے اور پوچھا کہ لوگ کس چیز پر بحث کر رہے تھے ؟ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بتایا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے نہ تو کبھی آگ سے ڈاغ دلوایا ہوگا ۔ اور نہ کبھی منتر جادو کروایا ہوگا۔ اور نہ کبھی بد شگونی پکڑلی ہو گی اور اپنے رب پر بھروسہ کیا ہوگا۔ لہذا حضرت عکاشہ بن محض اسدی اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے ، کیا میں ان میں سے ہوں گا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان میں سے ہو گا۔ اس کے بعد ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا۔ اس نے بھی یہی سوال کیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ تجھ سے پہلے عکاشہ سبقت لے گیا ہے ۔ بخاری و مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو حدیث ہشیم وغیرہ سے نقل کیا ہے ۔ اور حدیث بریدہ میں جھاڑ پھونک کی رخصت مذکور ہے ۔ اور اس کو اسماعیل بن زکریا نے روایت کیا ہے ان کو مالک بن مغول نے ان کو حصین نے ان کو شعبی نے ان کو عمران بن حصین نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مرفوع روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "لا رقیۃ الا من عین اوحمۃ"۔ دم پھونک نظر بد اور بخار کے لئے ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم کہ نظر اور بخار کے لئے دم پھونک زیادہ بہترین اس لئے کہ ان میں نقصان زیادہ ہے بخار زہریلی چیزوں کا زہر ہوتا ہے اور سعید بن جبیر کی روایت ابن عباس سے ہے ۔
حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1164
