Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1164

1163 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا زكريا بن يحيى ثنا هشيم عن حصين قال : كنت عند سعيد بن جبير فقال ليلا : أيكم رأى الكوكب الذي انقض البارحة ؟ قال : قلت : أنا قال : أما إني لم أكن في صلاة و لكني لدغت قال : فما فعلت ؟ قال قلت : استرقيت قال : و ما حملك على ذلك ؟ قلت : حديث حدثناه الشعبي قال : و ما حدثكم الشعبي ؟ قال : قلت حدثنا عن بريدة بن الحصيب أنه قال : لا رقية إلا من عين أو حمة قال : قلت : حدثنا عن بريدة بن حفص أنه قال : لا رقية إلا من عين أو حمة قال : فقال سعيد بن جبير : قد أحسن من انتهى إلى ما سمع ثم قال سعيد بن جبير : ثنا ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عرضت على الأمم قال : فرأيت النبي معه الرهط و النبي معه الرجل و الرجلان و النبي ليس معه أحد إذ رفع لي سواد عظيم فقلت : هذه أمتي فقيل : هذا موسى و قومه و لكن انظر إلى الأفق قال : فنظرت فإذا سواد عظيم ثم قيل انظر إلى هذا الجانب الآخر فإذا سواد عظيم فقيل هذه أمتك و معهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب و لا عذاب ثم نهض النبي صلى الله عليه و سلم فدخل فخاض القوم في ذلك فقالوا : من هؤلاء الذين يدخلون الجنة بغير حساب و لا عذاب ؟ فقال بعضهم لبعض : لعلهم الذين صحبوا النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : فلعلهم الذي ولدوا في الإسلام و لم يشركوا بالله شيئا قط و ذكروا أشياء فخرج إليهم النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما هذا الذي كنتم تخوضون فيه ؟ فأخبروه بمقالتهم فقال : هم الذين لا يكتوون و لا يسترقون و لا يتطيرون و على ربهم يتوكلون فقام عكاشة بن محصن الأسدي فقال : أنا منهم يا رسول الله ؟ فقال : أنت منهم ثم قام رجل آخر فقال أنا منهم يا رسول الله قال : سبقك بها عكاشة أخرجه في الصحيح من حديث هشيم و غيره و في حديث بريدة رخصة في الاسترقاء و قد رواه إسماعيل بن زكريا و مالك بن مغول عن حصين عن الشعبي عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا قوله : لا رقية إلا من عين أو حمة و الله أعلم أنهما أولى بالرقي لما فيهما من زيادة الضرر و الحمة سم ذوات السموم و أما رواية سعيد بن جبير عن ابن عباس قال الحليمي رحمه الله تعالى : يحتمل أن يكون أراد بهم الغافلين عن أحوال الدنيا و ما فيها من الأسباب المعدة لدفع الآفات و العوارض فهم لا يعرفون الاكتواء و لا الاسترقاء و لا يعرفون فيما ينوبهم ملجأ إلا الدعاء و الاعتصام بالله عز و جل و قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم : أكثر أهل الجنة البله فقيل : معناه البله عن شهوات الدنيا و زينتها و الحبائل التي للشيطان فيها و قال الله عز و جل : { إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات } فقيل : أراد الغافلات عما يرمين به من الفحشاء لا يتفكرن فيها و لا يخطرن بقلوبهن و لا تكون من همتهن فكذلك الذين أثنى عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الخبر هم الغافلون عن طب الأطباء و رقي الرقاة و لا يحسنون منها شيئا لا الذين يحسنون و لا يستعملون ثم احتج بما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك و هو أنه صلى الله عليه و سلم كوى أسعد بن زرارة من الشوكة و بعث إلى أبي بن كعب طبيبا فقطع منه عرقا ثم كواه عليه و هذا يدل على الرخصة في ذلك قال الإمام أحمد رحمه الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو خبر دی ہے ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو زکریا بن یحییٰ نے ان کو ہشیم نے ان کو حصین نے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے پاس ٹھہرا ہو ا تھا ۔ انہوں نے ایک رات کو پوچھا کہ تم میں سے اس ستارے کو کس نے دیکھا جو آج گذرنے والی رات میں ٹوٹا ہے ؟ کہتے کہ میں نے کہا کہ ، میں نے دیکھا تھا۔ پھر اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نماز میں نہیں تھا مگر مجھے ڈنس لیا گیا تھا کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر تم نے کیا کیا؟ سعید نے جواب دیا کہ میں نے دم پھونک کر وایا۔ یا خود کیا ۔ حصین کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس بات پر آپ کو کس چیز نے تیار کیا؟ اس نے کہا اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے بیان کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں شعبی نے کیا بیان کیا تھا؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی بریدہ بن حصیب نے انہوں نے کہا کہ " لا رقیۃ الا من عین اوحمۃ " دم کرنا( یا منتر پڑھا نا یا جھاڑنا) نہیں ہوتا مگر صرف نظر بد سے یا بخار سے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی تھی بریدہ بن حفص سے کہ انہوں نے کہا: ۔" لارقیۃ الا من عین او حمۃ"۔دم یا جھاڑنا تو صرف نظر بد کے لئے اور بخار کے لئے ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں۔ پھر حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا: تحقیق درست کیا اس نے جو وہاں تک پہنچا ، جہاں سے اس نے سنا۔ اس کے بعد سعید بن جبیر نے فرمایا: کہ ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حدیث بیان کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ میرے اوپر امتیں پیش کی گئی تھیں، چنانچہ میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ نو دس بندوں کی جماعت تھی۔ بعض نبی ایسے تھے کہ اس کے ساتھ ایک یا دو آدمی تھے ۔ کوئی نبی ایسا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی ایک آدمی بھی نہیں تھا۔ اچانک میرے لیے ایک بڑی جماعت اٹھا کر پیش کی گئی میں نے پوچھا کہ کیا یہ میری امت ہے ، بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہیں۔ مگر آپ بالائی کنارے کی طرف نگاہ ڈالئے میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت تھی ۔ اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ اس دوسری طرف بھی دیکھئے یہاں تو پہلے سے بھی بہت بڑی جماعت تھی پھر کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں جو بغیر حساب کتاب اور بغیر عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ اسے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اٹھ کر اندر چلے گئے ۔ اور لوگ اس بارے میں باہم بحث کرنے لگے کہ وہ ستر ہزار کون ہوں گے جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ؟ تو بعض نے بعض سے کہا، شائد یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہوگی ۔ بعض نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اسلام میں پیدا ہوئے اور کبھی اللہ کے ساتھ شریک نہیں کیا ہوگا۔ اور کئی باتیں ذکر کیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے اور پوچھا کہ لوگ کس چیز پر بحث کر رہے تھے ؟ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بتایا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے نہ تو کبھی آگ سے ڈاغ دلوایا ہوگا ۔ اور نہ کبھی منتر جادو کروایا ہوگا۔ اور نہ کبھی بد شگونی پکڑلی ہو گی اور اپنے رب پر بھروسہ کیا ہوگا۔ لہذا حضرت عکاشہ بن محض اسدی اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے ، کیا میں ان میں سے ہوں گا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان میں سے ہو گا۔ اس کے بعد ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا۔ اس نے بھی یہی سوال کیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ تجھ سے پہلے عکاشہ سبقت لے گیا ہے ۔ بخاری و مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو حدیث ہشیم وغیرہ سے نقل کیا ہے ۔ اور حدیث بریدہ میں جھاڑ پھونک کی رخصت مذکور ہے ۔ اور اس کو اسماعیل بن زکریا نے روایت کیا ہے ان کو مالک بن مغول نے ان کو حصین نے ان کو شعبی نے ان کو عمران بن حصین نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مرفوع روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "لا رقیۃ الا من عین اوحمۃ"۔ دم پھونک نظر بد اور بخار کے لئے ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم کہ نظر اور بخار کے لئے دم پھونک زیادہ بہترین اس لئے کہ ان میں نقصان زیادہ ہے بخار زہریلی چیزوں کا زہر ہوتا ہے اور سعید بن جبیر کی روایت ابن عباس سے ہے ۔

حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1164

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1165

1164 - ثم قد روينا عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الشفاء في ثلاثة : في شرطة محجم أو شربة عسل أو كية بنار و أنا أنهى أمتي عن الكي و هذا القول صدر منه بعد قصة أسعد بن زرارة و يشبه أن يكون بعد قصة أبي أيضا بهذا النهي ـ و الله تعالى أعلم ـ التنزيه فقد روى هذا الحديث بعينه جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن كان في شيء من أدويتكم خير ففي شرطة حجام أو شربة عسل أو لدغة بنار و ما أحب أن أكتوي و هذا يدل على أن ذلك على غير التحريم

پھر تحقیق ہم نے روایت کی ہے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔" الشقاء فی ثلاثۃ فی شرطۃ محجم ، او شربۃ عسل ، اوکیۃ بنار، وانا انھی امتی عن الکی"۔ تین چیزوں سے شفا ہے ۔ (1) یا پچھنے لگوانے سے۔ (2) یا شہد پینے میں ۔(3) یا آگ کے ساتھ داغ دینے میں۔ اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے روکتا ہوں۔ یہ قول آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے قصے کے بعد ہی ارشاد فرمایا۔ اور زیادہ قرین قیاس ہے کہ ابی بن کعب کے قصے کے بھی بعد یہ نہی وارد ہوئی ہو۔ واللہ اعلم مگر بطور تنزیہ ، بطور تحریم نہ ہو۔ کیونکہ بیعنہ یہی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:" ان کان فی شئی من ادویتکم خیر فقی شرطۃ حجام، اور شربۃ عسل او لدغۃ یستار وما احب ان اکتوی"۔ اگر کسی چیز میں تمہاری دواؤں میں سے خیر (شفا) ہے تو ہو پچھنے لگانے والے کے پچھنا میں یا شہد کا گھونٹ ، یا آگ کا ڈسنا (یعنی داغ لگانا) اور میں آگ کے ساتھ داغ دینے کو پسند نہیں کرتا۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہ نہی غیر تحریم پر مبنی ہے ۔ (یعنی نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ثم قد روينا

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1165

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1166

1165 - و روينا عن عمران بن حصين : أنه قال نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الكي فاكتوينا فما أفلحنا و لا أنجحنا و في هذا ما دل على أنه على غير التحريم إذ لو كان على طريق التحريم لم يكتو عمران بن حصين بعد علمه بالنهي غير أنه ركب المكروه ففارقه ملك كان يسلم عليه فحزن على ذلك و قال هذا القول : ثم قد روي أنه عاد إليه قبل موته و إذا كان الكي بحكم هذه الأخبار مكروها فارق حكمه حكم سائر الأسباب التي ليست فيها كراهية حين استحق تاركه الثناء الذي قدمنا ذكره و أما الاسترقاء فقد روينا الرخصة فيه بما يعلم من كتاب الله أو ذكره من غير كراهية و إنما الكراهية فيما لا نعلم من لسان اليهود و غيرهم فكان التارك لما كان مكروها هو المستحق لهذا الثناء و الله تعالى أعلم و يحتمل أن يكون هذا هو المراد بما روى عقار بن المغيرة بن شعبة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم : من اكتوى أو استرقى فقد برئ من التوكل

ہم نے روایت کیا ہے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے داغ دینے سے منع فرمایا تھا۔ مگر اس کے باوجود ہم نے داغ دئیے لہذا ہم نہ ہی کامیاب ہوئے اور نہ ہی نجات پائی۔" اس روایت میں بھی اس بات کی دلیل ہے کہ نہی غیر تحریمی ہے ، کیونکہ اگر نہی تحریمی ہوتی تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نہی کا علم ہونے باوجود داغ نہ دیتے ، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ نہی تنزیہی تھی لہذا انہوں نےمکروہ اور غیر مناسب کا ارتکاب کیا، لہذا ان سے وہ فرشتہ الگ ہو گیا جو انہیں سلام کرتا تھا لہذا وہ اس پر افسردہ ہو گئے تھے ۔ اس لئے انہوں نے وہ قول کیا جو اوپر مذکور ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں منع کیا تھا ہم نے داغ دینے کا کام کیا لہذا ہم ناکام ہوئے۔ "داغنے کی تحقیق"۔ پھر تحقیق روایت کی گئی ہے کہ وہ فرشتہ ان کی موت سے پہلے ان کے پاس واپس آگیا تھا۔ جب داغ دینا ان حادیث کی رو سے مکروہ ہے ، تو اس کا حکم بھی تمام اسباب سے جدا ہے وہ اسباب جن میں کراہت نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کا تارک تعریف کا مستحق ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ بہرحال باقی رہا منتر اور (جھاڑ پھونک) ہم اس کے بارے میں رخصت نقل کر چکے ہیں ۔ بسب اس کے جو کتاب اللہ سے معلوم ہوا ہے ۔ یا اس کا ذکر بغیر کراہت کے ہے ۔ باقی کراہت اس میں ہے جسے ہم نہیں جانتے ۔ یہود کی زبان سے یا دیگر کی زبان سے ۔ لہذا جو چیز مکروہ ہے ا س کا تارک اس مذکورہ تعریف کا مستحق ہے ۔ واللہ اعلم۔ اور احتمال ہے کہ یہی مراد ہو اس حدیث سے جس کو غفار بن مغیرہ بن شعبہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔ "من اکتوی او استوفی فقد ہری من التوکل"۔ جو شخص داغ دیتا ہے یا منتر پڑھواتا ہے ( دم چھو کر واتا ہے ) تحقیق وہ توکل سے بری ہو جاتا ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← و روينا

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1166

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1167

1166 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا شعبة عن منصور عن مجاهد عن عقار بن المغيرة بن شعبة عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لم يتوكل من استرقى أو اكتوى قال الإمام أحمد رحمه الله : و ذلك لأنه ركب ما يستحب التنزيه عنه من الاكتواء أو الاسترقاء لما فيه من الخطر و من الاسترقاء بما لا يعرف من كتاب الله عز و جل أو ذكره لجواز أن يكون ذلك شركا أو استعملها معتمدا عليها لا على الله تعالى فيما وضع فيهما من الشفاء فصار بهذا أو بارتكابه المكروه بريئا من التوكل فإن لم يوجد واحد من هذين و غيرهما من الأسباب المباحة لم يكن صاحبها بريئا من التوكل و الله تعالى أعلم و قد ذكرنا أسانيد هذه الأحاديث في الكي و الرقي و الأدوية في الربع الأخير من كتاب السنن و أما التطير بزجر الطائر و إزعاجها عن أوكارها عند إرادة الخروج للحاجة حتى إذا مرت على اليمين تفاءل به و مضى على وجهه و إن مرت على الشمال تشاءم به و قعد فهذا من فعل أهل الجاهلية الذي كانوا يوجبون ذلك و لا يضيفون التدبير إلى الله عز و جل فمن فعل من أهل الإسلام على هذا الوجه استحق الوعيد دون الثناء

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن جبی نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو غفار بن مغیرہ بن شعبہ نے ان کو ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ "لم یتوکل من استوفی اواکتوی"۔ جس نے داغ دیا یا جس نے جادو منتر کیا اس نے توکل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1167

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1168

1167 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد ثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن عيسى بن عاصم عن زر بن حبيش عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الطيرة شرك و ما منا إلا و لكن الله يذهبه بالتوكل قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : يريد ـ و الله تعالى أعلم ـ الطيرة شرك على ما كان أهل الجاهلية يعتقدون فيها ثم قال : و ما منا إلا يقال هذا من قول عبد الله بن مسعود و ليس من قول النبي صلى الله عليه و سلم و قوله : و ما منا الأوقع في قلبه شيء عند ذلك على ما جرت به العادة و قضت به التجارب لكنه لا يقر فيه بل يحسن اعتقاده أن لا مدبر سوى الله تعالى فيسأل الله الخير و يستعيذ به من الشر و يمضي على وجهه متوكلا على الله عز و جل كما روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أريت من الطيرة ما تكره فقل اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت و لا يدفع السيئات إلا أنت و لا حول و لا قوة إلا بك و قد ذكرنا طرفا من هذه الأخبار و ما قيل فيها في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو سفیان نے ان کو سلمہ بن کھیل نے ان کو عیسیٰ بن عالم نے ان کو ذربن حبیش نے ان کو عبداللہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔" الطیرۃ شرک وما منا الا ولکن اللہ یذھبہ بالتوکل "۔ بدشگونی پکڑنا شرک ہے ، اور ہم میں سے کوئی بھی اس سے نہیں بچ سکتا مگر اللہ تعالیٰ اس کو توکل سے دور کردیتا ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مراد ہے کہ بد شگونی شرک ہے اس طرز پر جس پر اہل جاہلیت اس پر عقیدہ رکھتے تھے اس کے بعد آپ نے فرمایا" ومامناالا"۔ ا س کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قول نہیں ہے ۔ اور آپ کا یہ قول ، کہ ہم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے مگر، مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے دل میں اس میں سے کچھ نہ کچھ واقع ہے اس میں سے یعنی بدشگونی سے واقع ہو چکا ہے جو عادت جاری ہے اس کی بنا پر ۔ اور تجربہ جو کچھ بتاتا ہے اس کی بنا پر لیکن (ہم میں سے ہر بندہ) اس میں مطمئن نہیں ہوتا اور اسی پر پکا نہیں ہوتا بلکہ اپنے اعتقاد کو درست کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی تصرف کرنے والا نہیں ہے لہذا ہم میں سے ہر وہ بندہ جس کے دل میں یہ بدشگونی آتی ہے وہ ( اس خیال کو جھٹک دیتا ہے ) اور اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرتا ہے اور اس کے ساتھ شر سے پناہ مانگتا ہے اور اپنے کام پر اور ارادے پر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جاری رہتا ہے ۔ جیسے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ "اذااریت من الطیرۃ ماتکرہ فقل اللھم لایاتی بالحسنات الا انت ولا یدفع السینات الا انت ولا حولا ولا قوۃ الا بک "۔ کہ جب کسی بات کی بد شگونی تیری سامنے آئے جسے تو پسند کرتا ہے تو یوں کہہ دے اے اللہ بھلائیوں کو تو ہی لے کر آتا ہے اور برائیوں کو تو ہی دفع کرتا ہے ۔ برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف تیری طرف سے ہے ۔ ہم نے کتاب السنن میں کچھ ایسی طرح کی احادیث ذکر کر دی ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1168

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1169

1168 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد السبيعي في آخرين قالوا ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن خالد بن خلي ثنا بشر بن شعيب عن أبيه عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عتبة أن أبا هريرة قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا طيرة و خيرها الفأل قالوا : و ما الفأل يا رسول الله ؟ قال : الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم أخرجاه في الصحيح من حديث أبي اليمان عن شعيب بن أبي حمزة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن علی محمد سبیعی نے آخری دور میں ان کو ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو محمد بن خالد بن خلی نے ان کو بشر بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو زہری نے ان کو عبید اللہ بن عتبہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرما تے تھے۔ "لا طیرۃ وغیرھا الفال" بدشگونی کوئی چیز نہین ۃے اور اس سلسلہ کی اچھی چیز نیک فال ( یعنی نیک گمان کرنا ) ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا مالفال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہا فال کیا ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم؟ "قال الکلمۃ الصالحۃ یسمعھا احد کم"۔نیک کلمہ جسے تم میں سے کوئی سنے ۔ بخاری و مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے ابو الیمان کی شعیب بن ابی حمزہ کی روایت سے ۔

و ما الفأل ← لا طيرة و خيرها الفأل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عبيد الله بن عتبة أن أبا هريرة ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو الحسن علي بن محمد السبيعي في آخرين

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1169

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1170

1169 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد قال : أنا محمد بن راشد ثنا سهل ـ أظنه أبا بكار ـ ثنا وهيب بن خالد عن سهل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : سمع كلمة من رجل فأعجبته فقال قد أخذنا فالك من فيك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن راشد نے ان کو سہ نے میرا خیال ہے کہ وہ ابن بکار ہے ان کو وہب بن خالد نے ان کو سہل بن ابی صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔ "سمع کلمۃ من رجل فاعجبہ رقال قد اخذنا فالک من فیک"۔ ایک آدمی سے ایک جملہ سنا جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند آیا آپ نے فرمایا کہ ہم نے تیری نیک فال لی ہے تیرے منہ سے (یعنی چونکہ تیرے منہ سے اچھی بات سنی ہے اور تیرے منہ سے اچھی بات نکلی ہے انشاء اللہ اچھائی ہوگی۔)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهل بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← سهل أظنه أبا بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1170

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1171

1170 - أخبرنا ابن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله ثنا مسلم هو ابن إبراهيم ثنا هشام ثنا قتادة عن ابن بريدة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يتطير من شيء و كان إذا بعث عاملا أو غلاما سأل عن اسمه فإن أعجبه اسمه فرح ورئي بشرى ذلك في وجهه و إن كره اسمه رئي الكراهية في وجهه و إذا دخل القرية سأل عن اسمها فإن أعجبه اسمها فرح بذلك و رئي ذلك في وجهه و إن كره ذلك رئي كراهية ذلك في وجهه

ہمیں خبر دی ہے ابن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو مسلم نے ان کو ابن ابراہیم نے ان کو ہشام نے ان کو قتادہ نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ان کے باپ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی شئی سے بد شگونی نہیں پکڑتے تھے ۔ اور آپ جب کسی غلام کو یا کسی عامل کو یا نمائندے کو سفر میں بھیجتےتو اس کا نام پوچھتے اگر آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ کے چہرہ اقدس پر دیکھائی دیتی اور اگر اس کا نام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند نہ ہوتا تو ناپسندیدگی چہرے پر محسوس کی جاتی ۔ اور جب آپ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اچھا لگتا تو خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آ جاتی اگر کسی بستی کا نام نا پسند کرتے تو بھی ناپسندیدگی نمایا نظر آتی۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مسلم هو ابن إبراهيم ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابن عبدان

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1171

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1172

1171 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب أبو أحمد ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن عروة بن عامر قال : ذكرت الطيرة عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أصدقها الفال و لا ترد مسلما فإذا رأيت من الطائر ما تكره فقل اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت و لا يدفع السيئات إلا أنت و لا حول و لا قوة إلا بالله

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو محمد بن عبدالوہاب ابو احمد نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کواعمش نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو عروہ بن عامر نے وہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں بدشگونی پکڑنے کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ :۔ اصدقھا الفال ولا ترد مسلما فاذا رئیت من الطائر ماتکرہ فقل"۔ شگون کے سلسلے میں شدی فال (نیک خیال) ہے جو کسی مسلمان کو نہیں لوٹاتی۔ جب تم کوئی ایسا شگون دیکھو جو تمہیں اچھا نہ لگے تو یوں دعا کرو۔ "اللھم لا یاتی بالحسانات الا انت ، ولایدفع السینات الا انت ولا حول ولا قوۃ الا باللہ"۔ اے اللہ بھلائیوں کو تو ہی لاتا ہے ۔ اور برائیوں کو تو ہی دفع کرتا ہے نیکی کرنے اور بدی سے ہٹنے کی طاقت اللہ کی طرف سے ہے۔

ذكرت الطيرة عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1172

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1173

1172 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد بن الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن إسماعيل بن أمية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا يعجزهن ابن آدم : الطيرة و سوء الظن و الحسد قال : فينجيك من الطيرة إن لا تعمل بها و ينجيك من سوء الظن إن لا تتكلم و ينجيك من الحسد إن لا تبغي أخا سواءا و هذا منقطع

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد بن صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو اسماعیل بن امیہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ کہ تین چیزیں ایسی ہیں جنہیں ابن آدم نہیں روک سکتا بد شگونی ۔ بد گمانی اور حسد ۔ فرمایا کہ بد شگونی سے تمہیں نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ اس کے ساتھ عمل نہ کریں ( یعنی اس کے خلاف کر لیں اور اللہ پر بھروسہ کریں) اور بد گمانی سے اس طرح تمہیں نجات مل سکتی ہے کہ بات نہ کریں۔ اور حسد سے نجات اس طرح مل سکتی ہے کہ مسلمان بھائی کی عیب جوئی نہ کریں ۔ مگر بیہقی فرماتے ہیں یہ روایت منقطع ہے، یعنی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک نہیں پہنچتی۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1173

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1174

1173 - و قد أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا أحمد بن هارون بن روح ثنا محمد بن جعفر ثنا يحيى بن السكن ثنا شعبة عن محمد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الإنسان ثلاثة : الطيرة و الظن و الحسد فمخرجه من الطيرة أن لا يرجع و مخرجه من الظن ألا يحقق و مخرجه من الحسد أن لا ينبغي

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو احمد بن ہارون بن روح نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو یحییٰ بن سکن نے ان کو شعبہ نے محمد سے ان کو اعرج نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا انسان میں تین خصلتیں ہیں ۔ بدشگونی ، بدگمانی ، حسد ۔ چنانچہ بدشگونی سے نکلنے کا طریقہ یہ ہے کہ واپس نہ لوٹے (یعنی بد شگونی کی بناء پر کام سے واپس نہ ہٹے بلکہ چلا جائے) اور بد گمانی سے بچنے اور نکلنے کا طریقہ یہ ہے کہ کمزوری ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے ۔ اور حسد سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ عیب جوئی نہ کرے ۔ یا سرکشی نہ کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ رَوْحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← و قد

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1174

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1175

1174 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن يزيد ثنا الهيثم بن خلف الدوري ثنا محمد بن جعفر ثنا يحيى بن اليمان ثنا شعبة عن محمد بن إسحاق عن علقمة بن أبي علقمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله فذكره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یزید نے ان کو ہشیم بن خلف دوری نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو شعبہ نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو علقمہ بن ابو علقمہ نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر اسی کی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← يحيى بن اليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1175

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood