شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في معنى قول الله عز و جل { تعرج الملائكة و الروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } · حديث 362
362 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا حمزة بن محمد بن عيسى الكاتب أنا نعيم بن حماد ثنا ابن المبارك عن معمر عن همام بن منبه عن أبي هريرة : أظنه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله يخفف على من يشاء من عباده طول يوم القيامة كوقت صلاة مكتوبة قال البيهقي رحمه الله : هذا وجدته في فوائد أبي عمرو و لا أدري من القائل أظنه و كذلك رواه أبو سهل الاسفراييني عن حمزة
ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو عمرو بن مطر نے، ان کو حمزہ بن محمد بن عیسیٰ کاتب نے ، ان کو نعیم بن حماد نے ، ان کو ابن مبارک نے ، ان کو معمر نے، ان کو ھمام بن منبہ نے، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا گمان ہے کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعا نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ آسان کر دے گا جس پر چاہے گا اپنے بندوں میں سے قیامت کے دن کی لمبائی کو فرض نماز کے وقت کے مثل ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :اس کو میں نے پایا ہے ابو عمرو کے فوائد میں۔ مگر میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے کہنے والا کون ہے۔میرا گمان ہے کہ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو سھل اسفرائنی نے حمزہ سے۔
أبي هريرة أظنه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْكَاتِبُ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.” · Hadith 362
