Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في معنى قول الله عز و جل { تعرج الملائكة و الروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } · حديث 362

362 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا حمزة بن محمد بن عيسى الكاتب أنا نعيم بن حماد ثنا ابن المبارك عن معمر عن همام بن منبه عن أبي هريرة : أظنه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله يخفف على من يشاء من عباده طول يوم القيامة كوقت صلاة مكتوبة قال البيهقي رحمه الله : هذا وجدته في فوائد أبي عمرو و لا أدري من القائل أظنه و كذلك رواه أبو سهل الاسفراييني عن حمزة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو عمرو بن مطر نے، ان کو حمزہ بن محمد بن عیسیٰ کاتب نے ، ان کو نعیم بن حماد نے ، ان کو ابن مبارک نے ، ان کو معمر نے، ان کو ھمام بن منبہ نے، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا گمان ہے کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعا نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ آسان کر دے گا جس پر چاہے گا اپنے بندوں میں سے قیامت کے دن کی لمبائی کو فرض نماز کے وقت کے مثل ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :اس کو میں نے پایا ہے ابو عمرو کے فوائد میں۔ مگر میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے کہنے والا کون ہے۔میرا گمان ہے کہ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو سھل اسفرائنی نے حمزہ سے۔

أبي هريرة أظنه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْكَاتِبُ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.” · Hadith 362

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في معنى قول الله عز و جل { تعرج الملائكة و الروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } · حديث 363

363 - و ذلك فيما أخبرنا به أبو الحسن العلاء بن محمد بن أبي سعيد عنه أخبرنا أبو إسحاق الاسفراييني الإمام أنبا عبد الخالق بن الحسن ثنا عبد الله بن ثابت حدثني أبي عن الهذيل عن مقاتل بن سليمان : أنه قال في هذه الآية : { تعرج } يعني تصعد { الملائكة } من السماء إلى سماء إلى العرش { و الروح } يعني جبريل عليه السلام { إليه } من الدنيا { في يوم كان مقداره } عندكم يا بني آدم { خمسين ألف سنة } يعني بقوله : { في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } يقول : ولو ولى حساب الخلائق و عرضهم غيري لم يفرغ منه إلا في مقدار خمسين ألف سنة فإذا أخذ الله في عرضهم يفرغ الله منه في مقدار نصف يوم من أيام الدنيا فلا ينتصف ذلك اليوم حتى يستقر أهل الجنة في الجنة و أهل النار في النار و ذلك قوله تعالى : { أصحاب الجنة يومئذ خير مستقرا و أحسن مقيلا } يقول : ليس مقيلهم كمقيل أهل النار و إلى معنى هذا ذهب الكلبي في تفسيره الذي يرويه عن أبي صالح عن ابن عباس يعني لو ولى محاسبة العباد غير الله عز و جل لم يفرغ منه في خمسين ألف سنة قال البيهقي رحمه الله : و روينا عن الفراء أنه قال : في هذه الآية يقول : لو صعد غير الملائكة لصعدوا في قدر خمسين ألف سنة و إلى معنى هذا ذهب الحليمي رحمه الله و قال : التقدير إنما هو لعروج الملائكة و الروح من الأرض يعني إلى العرش و قد قال في غير هذه الآية { يدبر الأمر من السماء إلى الأرض ثم يعرج إليه في يوم كان مقداره ألف سنة مما تعدون } فيحتمل أن يكون المعنى أنها تنزل من السماء إلى الأرض ثم تعرج من الأرض إلى السماء الدنيا من يومها فتقطع ما لو احتاج الناس إلى قطعها من المسافة لم يقطعوها إلا في ألف سنة مما تعدون و ينزل من عند العرش إلى الأرض ثم يعرج منها إليه من يومها و لو احتاج الناس إلى قطع هذا المقدار من المسافة لم يقطعوها إلا في خمسين ألف سنة مما تعدون و ليس هذا من تقدير يوم القيامة بسبيل و إنما هو من صلة قوله ذي المعارج و قوله : { إنهم يرونه بعيدا * ونراه قريبا } عاد إلى ذكر العذاب الذي وصفه في أول السورة و أكد هذا فما حكي عن وهب بن منبه أنه قال : ما بين الأرض و العرش خمسين ألف سنة من أيامنا و شهورنا و سنينا قال و يمكن أن يقال أن الملائكة كانت تستطيع قبل يوم القيامة أن تنزل إلى الأرض من أعلى مقام لهم في السموات و فوقها ثم يعرج إليه في يوم كان مقداره ألف سنة فأما يوم القيامة فلا تستطيع ذلك إما لأن السموات إذا طويت لم يكن لهم يومئذ مصعد يقرون فيه و أما لما يشاهدون من عظمة الله و شدة غضبه ذلك اليوم على أهل العناد من عباده فيفتر قواهم فيحتاجون إلى العروج إلى مدة أطول مما كان يحتاجون إليه منها قبله فقدر الله ذلك بخمسين ألف سنة على معنى أن غيرهم لو قطعها لم يقطعها إلا في خمسين ألف سنة و هكذا كما جاءت به الأخبار من أن العرش على كواهل أربعة من الملائكة ثم أخبر الله عز و جل أنهم يكونون يوم القيامة ثمانية و يشبه أن يكون ذلك أنه يفتر قواهم يومئذ إلى ما ذكرنا فيؤيدون بغيرهم و الله أعلم بجميع ذلك نسأل الله خير ذلك اليوم و نعوذ به من شر ذلك اليوم

یہ حدیث ان میں سے ایک ہے جس کی ہمیں خبر دی ابو الحسن العلاء بن محمد بن ابو سعید نے، ان کو ابو اسحٰق اسفرائنی امام نے، ان کو عبدالخالق بن حسن نے، ان کو عبداللہ بن ثابت نے، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ھذیل نے ، ان کو مقاتل بن سلیمان نے، انہوں نے اس آیت کےبارےمیں فرمایا؛ تعرج یعنی چڑھ جائیں گے۔۔۔ الملائکۃ ۔۔ فرشتہ۔ یعنی اس کے قول کے مطابق: "فی یوم کان مقدارہ خمین الف سنۃ " فرماتے ہیں کہ اگر مخلوقات کے حساب و کتاب کی ذمہ داری میرے سوا کوئی اور لے لیتا تو وہ اس سے فارغ نہ ہو سکتا مگر پچاس ہزار سال کی مدت میں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب ان کے حساب و کتاب میں شروع ہوں گے تو دنیا کے ایام میں صرف آدھے دن کی مقدار میں فارغ ہو جائیں گے۔ وہ دن بھی ابھی آدھا نہیں ہونے پائے گا کہ (حساب و کتاب سے فارغ کر کے) اہل جنت ، جنت میں اور اہل جہنم، جہنم میں پہنچ چکے ہو ں گے۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا: "اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا (الفرقان 24) جنت والے اس دن بہترین ٹھکانے اور بہترین آرام گا ہ میں ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ ان کے دوپہر کے آرام کا وقت اہل جہنم کی طرح نہیں ہو گا۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور بالفرض حساب کتاب کرتا تو پچاس ہزار سال لگتے ، کلبی کا قول: اگر فرشتوں کے علاوہ کوئی اور اوپر چڑھتا تو پچاس ہزار سال لگتے ، فرّا کا قول: کلبی اپنی تفسیر میں اسی مفہوم کی طرف گیا ہے جسے اس نے ابو صالح سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یعنی اگر بندوں کے محاسبے کی ذمہ داری اللہ کے سوا بالفرض کوئی اور لیتا تو وہ اس سے پچاس ہزار سال میں ہی عہد برآ ہو سکتا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہ نے فرا سے روایت کیا ہے کہ اس نے فرمایا اس آیت کے بارے میں مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتوں کے سوا کوئی اور اوپر چڑھ سکتا ہوتا تو وہ پچاس ہزار سال میں چڑھتے۔ اور اس کے مفہوم کی طرف گئے ہیں شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اور وہ فرماتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ یہ اندازہ فرشتوں اور جبرئیل کے زمین سے عرش تک چڑھنے کا ہے۔ اور اس آیت کے علاوہ کے بارے میں فرمایا: "یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ مما تعدون" (السجدۃ 5)آسمان سے زمین تک ہر معاملے میں تدبیر و نصرت کرتاہے۔ پھر اس کی طرف چڑھ جائے گا۔ اس دن کی جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزر سال ہے۔ ایک دوسری توجیہ کا احتمال احتمال ہے کہ یہ معنی اور یہ مطلب ہو کہ وہ (جبرئیل) آسمان سے زمین کی طرف اترتا ہے ۔ پھر زمین سے آسمان دنیا کی طرف اسی دن چڑھ جاتا ہے اور اتنی مسافت طے کرتا ہے کہ اگر لوگ اس مسافت کو طے کرنے کی ضرورت محسوس کریں تو نہ طے کر سکیں گے مگر ہزار سال میں تمہاری گنتی کے مطابق۔ اور وہ عرش سے زمین تک اترتا ہے۔ پھر زمین سے عرش تک اسی دن چڑھ جاتا ہے۔ اگر بالفرض لوگ اس کی مسافت کو طے کر نے کی ضرورت کو محسوس کریں تو نہ طے کر سکیں گے مگر پچاس ہزار سال میں تمہاری گنتی کے مطابق۔ اور یہ قیامت کے دن کے اندازے میں سے نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ذالمعارج کے صلہ کے طور پر ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول : "انھم یرونہ بعیدا ً ونراہ قریباً (معارج 7) لوگ اس کو دو ر سمجھتے ہیں اور ہم اس کو قریب دیکھتے ہیں۔ اس کا تعلق اس عذاب سے ہے جس کا بیان سورۃ کے شروع میں ہے۔ اس توجیہ کو وہ روایت پکا کرتی ہے جو وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: زمین سے عرش تک کا فاصلہ پچاس ہزار سال کا ہے۔ ہمارے دنوں اورہمارے مہینوں اور ہماے برسوں کے مطابق۔ ایک اور امکان توجیہ شیخ نے فرمایا: ممکن ہے کہ یہ کہا جائے قیامت ہونے سے پہلے فرشتے آسمان میں اپنے بلدن تر مقام سےز مین کی طرف اترنے کی استطاعت رکھتے تھے۔ پھر اپنے اسی بلند مقام کی طرف اس دن میں چڑھتے جس کی مقدار ہزار سال ہوتی۔ لیکن قیامت کے دن وہ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ یا تو اس لئے کہ جب آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے تو ا س دن ان کے لئے اوپر چڑھنے کا راستہ نہیں رہے گا جس پر وہ ٹھہر سکیں۔ یا اس لئے کہ جب وہ اللہ کی عظمت اور جلال کا مشاہدہ کریں گے اور اس کے غضب کی شدت کو دیکھیں گے جو کہ اس کے بندوں میں سے اہل عناد پر ہو گا تو فرشتوں کی قوتیں جواب دے جائیں گی۔ لہذا وہ اپنے اوپر چڑھنے کے لئے جس قدر مدت کے حاجت مند تھے اس سے زیادہ لمبی مدت کے محتاج ہوں گے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کا اندازہ پچاس ہزار سال بتایا۔ بایں معنی کہ اگر فرشتوں کے سوا کوئی اس فاصلے کو طے کرتا تو پچاس ہزار سال سے کم میں طے نہ کر سکتا۔ اور اس طرح کی توجیہ ہو گی اس کی بھی جس کے بارے میں احادیث آئی ہیں کہ عرش چار فرشتوں کے کندھوں پر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبر دی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حاملین عرش فرشتے قیامت کے دن آٹھ ہوں گے: "ویحمل عرش ربک یومئذ ثمانیۃ " (الحاقۃ) اور مناسب ہے کہ اس لیے ہو کہ ان کی قوتیں کمزور ہو گئی ہوں گی۔ اس لئے مذکورہ بالا ہولناک امور کی وجہ سے لہذا وہ دوسرے فرشتوں کے ذریعہ مدد کئے جائیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان تمام احوال کو خوب جانتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس دن کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور اس دن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← الْهُذَيْلِ ← أَبِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أبو إسحاق الاسفراييني الإمام أنبا عبد الخالق بن الحسن ← به أبو الحسن العلاء بن محمد بن أبي سعيد عنه ← و ذلك فيما

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.” · Hadith 363

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في معنى قول الله عز و جل { تعرج الملائكة و الروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة } · حديث 364

364 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس بن الوليد بن مزيد قال : أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي قال : حدثني هارون بن رئاب قال : حملة العرش يتجاوبون بصوت حسن رخيم يقول الأربعة سبحانك و بحمدك على حلمك بعد علمك و يقول الأربعة الآخرون : سبحانك و بحمدك على عفوك بعد قدرتك

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابوعمرو نے ، ان کو ابو العباس اصم نے، ان کو عباس بن ولید بن مرید نے ، انہوں نے کہا مجھے خبر دی میرے والد نے ، انہوں نے سنا اوزاعی سے ، اس نے کہا مجھے حدیث بتائی ھارون بن راب نے، اسن ے کہا عرش کو اٹھانے والے چار فرشتے خوبصورت اور نرم آواز کے ساتھ ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے اور جوابات کا مبادلہ کریں گے۔ چار کہیں گے: " سبحانک وبحمدک علی حلمک بعد علمک " اور دوسرے چار کہیں گے: سبحانک وبحمدک علی عفوک بعد قدرتک " تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود تو حلم کا برتاؤ کرتاہے۔ تو اپنی حمد سمیت پاک کہ سب کچھ پر قدرت رکھنے کے باوجود تو درگذر کرتا ہے۔

الأربعة الآخرون سبحانك و بحمدك على عفوك بعد قدرتك ← الأربعة سبحانك و بحمدك على حلمك بعد علمك و ← حملة العرش يتجاوبون بصوت حسن رخيم ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.” · Hadith 364

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood