شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 405
404 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن الوليد بن مزيد البيروتي أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي : حدثني يحيى بن أبي كثير حدثني هلال بن أبي ميمونة حدثني عطاء بن سار حدثني رفاعة بن عرابة الجهني قال : صدرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة فجعل الناس يستأذنون رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يأذن لهم قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بال شق الشجرة التي تلي رسول الله صلى الله عليه و سلم أبغض إليكم من الشق الآخر ؟ قال : فلا نرى من القوم إلا باكيا قال : فيقول أبو بكر الصديق رضي الله عنه : أن الذي يستأذنك في نفسي بعد هذا لسفيه قال : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : أشهد عند الله ـ و كان إذا حلف قال : و الذي نفسي بيده ـ ما منكم من أحد يؤمن بالله ثم يسدد إلا سلك به في الجنة و قد وعدني ربي أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا لا حساب عليهم و لا عذاب و ني لأرجو أن لا تدخلوها حتى تتبوؤا أنتم و من صلح من أزواجكم و ذرياتكم مساكن في الجنة و ذكر الحديث
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن ولید بن فرید بیروتی نے ان کو ان کے باب نے انہوں نے سنا اوزاعی سے ان کو حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن کثیر نے ان کو ہلال بن ابو میمونہ نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو رفاعہ بن عرابہ جھنی نے، انہوں نے کہا ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکے سے نکلے لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاجازت مانگنے آپ ان کو اجازت دینے لگے۔ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا حال ہے کہ تم لوگوں کو درخت کا وہ حصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہے وہ تمہیں دوسری طرف کے مقابلے میں زیادہ پسند ہے۔ حضرت رفاعہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کے بعد دیکھا کہ حاضرین میں سے ہر شخص رو رہا تھا، رفاعہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے وہ شخص جو آپ سے اجازت مانگتا ہے ،میرےدل کی بات ہے، اس کے بعد بھی تو و ہ کم عقل ہے۔ رفاعہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اللہ کی حمد کی اور ثناء کی پھر فرمایا ۔میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت دیتا ہوں ۔ جب کہ آپ کی عادت یہ تھی کہ جب حلف اور قسم کے ساتھ بات کرتے تو یوں فرماتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، (مگر اس دفعہ اسلوب بدل دیا) (اس کے بعد فرمایا ) کہ تم میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان رکھتا ہے۔ پھر درست چلتا رہے، اس کو جنت میں لے جایا جائے گا ، میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو جنت میں اس طرح داخل کرے گا کہ ان پر کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا اور کوئی عذاب نہیں ہو گا اور میں البتہ امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں داخلے سے پہلے پہلے تمہارا جنت میں ٹھکانہ متعین ہو جائے گا تمہارا اور ان کا بھی جو نیک ہیں تمہاری بیوی اور بچوں میں سے ۔ اور حدیث ذکر فرمائی۔
رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ← عطاء بن سار ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← محمد بن الوليد بن مزيد البيروتي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 405
