Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 405

404 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن الوليد بن مزيد البيروتي أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي : حدثني يحيى بن أبي كثير حدثني هلال بن أبي ميمونة حدثني عطاء بن سار حدثني رفاعة بن عرابة الجهني قال : صدرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة فجعل الناس يستأذنون رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يأذن لهم قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بال شق الشجرة التي تلي رسول الله صلى الله عليه و سلم أبغض إليكم من الشق الآخر ؟ قال : فلا نرى من القوم إلا باكيا قال : فيقول أبو بكر الصديق رضي الله عنه : أن الذي يستأذنك في نفسي بعد هذا لسفيه قال : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : أشهد عند الله ـ و كان إذا حلف قال : و الذي نفسي بيده ـ ما منكم من أحد يؤمن بالله ثم يسدد إلا سلك به في الجنة و قد وعدني ربي أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا لا حساب عليهم و لا عذاب و ني لأرجو أن لا تدخلوها حتى تتبوؤا أنتم و من صلح من أزواجكم و ذرياتكم مساكن في الجنة و ذكر الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن ولید بن فرید بیروتی نے ان کو ان کے باب نے انہوں نے سنا اوزاعی سے ان کو حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن کثیر نے ان کو ہلال بن ابو میمونہ نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو رفاعہ بن عرابہ جھنی نے، انہوں نے کہا ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکے سے نکلے لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاجازت مانگنے آپ ان کو اجازت دینے لگے۔ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا حال ہے کہ تم لوگوں کو درخت کا وہ حصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہے وہ تمہیں دوسری طرف کے مقابلے میں زیادہ پسند ہے۔ حضرت رفاعہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کے بعد دیکھا کہ حاضرین میں سے ہر شخص رو رہا تھا، رفاعہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے وہ شخص جو آپ سے اجازت مانگتا ہے ،میرےدل کی بات ہے، اس کے بعد بھی تو و ہ کم عقل ہے۔ رفاعہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اللہ کی حمد کی اور ثناء کی پھر فرمایا ۔میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت دیتا ہوں ۔ جب کہ آپ کی عادت یہ تھی کہ جب حلف اور قسم کے ساتھ بات کرتے تو یوں فرماتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، (مگر اس دفعہ اسلوب بدل دیا) (اس کے بعد فرمایا ) کہ تم میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان رکھتا ہے۔ پھر درست چلتا رہے، اس کو جنت میں لے جایا جائے گا ، میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو جنت میں اس طرح داخل کرے گا کہ ان پر کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا اور کوئی عذاب نہیں ہو گا اور میں البتہ امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں داخلے سے پہلے پہلے تمہارا جنت میں ٹھکانہ متعین ہو جائے گا تمہارا اور ان کا بھی جو نیک ہیں تمہاری بیوی اور بچوں میں سے ۔ اور حدیث ذکر فرمائی۔

رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ← عطاء بن سار ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← محمد بن الوليد بن مزيد البيروتي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 405

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 406

405 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أخبرنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي عن عبد الوهاب ثنا أيوب عن أبي قلابة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : أن يكون الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يحب المرء لا يحبه إلا لله و أن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يوقد له نار فيقذف فيها لفظ حديث محمد بن بشار رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المثنى عن عبد الوهاب الثقفي ورواه مسلم عن محمد بن بشار و غيره قال البيهقي رحمه الله : فأبان المصطفى صلى الله عليه و سلم بهذا أن حب الله و حب رسوله من الإيمان و أبان قبله أن ترك متابعته تدل على خلاف المحبة و في ذلك دلالة على وجوب المحبة و وجوب ما تقتضيه المحبة من المتابعة و الموافقة

ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو خبر دی ہے ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو محمد بن بشار عیدی نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ہیں جس میں وہ آ جائیں وہ ان کے ذریعے ایمان کی حلاوت اور مٹھاس پا لیتا ہے۔ (1)۔۔۔ یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول اپنے تمام ماسوا سے زیادہ محبوب اور پیارے ہوں۔ (2)۔۔۔ یہ کہ کسی انسان سے محبت کرے تو وہ صرف اور صرف اللہ کےواسطے کرے۔ (3)۔۔۔ یہ کہ (مسلمان ہونے کے بعد) وہ کفر کی طرف واپس لوٹ جانے کو اس طرح نا پسند کرے جیسے وہ اس با ت کو نا پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے آگ جلائی جائے اور پھر اسے اس میں جھونک دیا جائے۔ حدیث کے الفاظ محمد بن بشار کی روایت کے ہیں بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن مثنیٰ سے اس نے عبدالوہاب ثقفی سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے محمد بن بشار وغیرہ سے۔ گذشتہ دو حدیثوں پر امام بیہقی ؒ کا تبصرہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ واضح فرمایا ہے ، کہ جب الٰہی اور حب رسول ایمان میں سے ہے ، اور اس سے قبل والی حدیث میں واضح فرمایا کہ آپ کی اتباع کو ترک کرنا عدم محبت آپ کی اتباع اور آپ کی موافقت پر بھی واجب ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 406

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 407

406 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني قال : سمعت عبد الرحمن بن أحمد يقول سمعت أبا عبد الله بن خفيف يقول : دخل البصري على أبي عباس بن سريج فقال له ابن سريج : أين تعرف في نص الكتاب أن محبة الله فرض ؟ فقال : لا أدري و لكن يقول القاضي فقال له : قوله عز و جل : { قل إن كان آباؤكم وأبناؤكم وإخوانكم } ـ إلى قوله { أحب إليكم من الله ورسوله وجهاد في سبيله فتربصوا } و الوعيد لا يكون إلا على ترك فرض

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد مالینی نے کہ اس نے سنا عبدالرحمٰن بن احمد سے کہتے تھے کہ انہوں نے سنا ابو عبداللہ بن حفیف سے کہتے تھے کہ حسن بصری داخل ہوئے ابو عباس بن سریج پر تو ابن سریج نے ان سے کہا آپ کتاب اللہ کی نص اور تصریح میں کہا یہ پاتے ہیں کہ اللہ کی محبت فرض ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں تو نہیں جانتا لیکن قاضی کہتے ہیں ابن سریج نے ان سے کہا کہ وہ آیت وہ نص یہ ہے: "قل ان کانا اباء کم وابنا ء وکم واخوانکم وازواجکم وعیشرتکم واموال اقتر فتموھا وتجارۃ تخشون کسادھا ومساکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا ۔ (التوبہ 24) اس میں محبت نہ کرنے پر وعید ہے دھمکی ہے اور دھمکی صرف فرض کو ترک کرنے سے ہوتی ہے۔

الْقَاضِي، ← لا أدري و لكن ← له ابن سريج أين تعرف في نص الكتاب أن محبة الله فرض ← دخل البصري على أبي عباس بن سريج ← أبا عبد الله بن خفيف ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 407

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 408

407 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول : و الله لا تبلغوا ذروة هذا الأمر حتى لا يكون شيء أحب إليكم من الله عز و جل و من أحب القرآن فقد أحب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان بن عثمان خیاط نے ان کو احمد بن ابو الجواری نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا حضرت سفیان بن عیینہ سے وہ فرماتے تھے ۔ "واللہ لا تبلغو ا ذروۃ ھذا لا مر حتیٰ لا یکون شیئ احب الیکم من اللہ عزوجل ومن احب القران فقد احب اللہ عزوجل" ۔ اللہ کی قسم تم لوگ دین کی محبت الٰہی کی بلندی اور چوٹی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے اس وقت تک جب تک کہ تمہارے نزدیک کوئی چیز بھی اللہ سے زیادہ پیاری نہ رہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت سے شے سے زیادہ ہو۔ اور جو شخص قرآن سے محبت کرتاوہ تحقیق اللہ سے محبت کرتا ہے (یا جس نے قرآن سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔) اللہ کی محبت کے مفہوم و معانی شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ " اللہ کی محبت " نام ہے بہت سے مفہوم اور معانی کا۔ اللہ کی محبت کا پہلا مفہوم اور معنی: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ پر اعتبار محمود اور قابل تعریف ہے، اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات میں وہ اس کی مدح و تعریف ہیں۔ دوسرا مفہوم ومعنی: یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بنددوں کا محسن ہے ، نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور ان پر فضل و عنایات کرنے والا ہے۔ تیسرا مفہوم و معنی: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والا ہر احسان اس بات سے بہت بڑا ہے اور عظیم ہے کہ بندے کا کوئی قول یا کوئی عمل اس کا شکر ادا کر سکے اگرچہ وہ قول یا عمل کتنے ہی اچھے ہوں اور کتنے ہی زیادہ ہوں۔ چوتھا مفہوم و معنی : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کمتر نہ سمجھے نہ قلیل سمجھے اور اس کے احکامات کو بہت اور پورا سمجھے کم نہ سمجھے۔ پانچواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ عام اوقات اور زیادہ تر اوقات میں اس بات سے ڈرتا ہے اور خوف رکھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس سے اعراض نہ کر لے منہ نہ پھیر لے اور کہیں اللہ تعالیٰ اس سے اپنی وہ معرفت نہ چھین لے جو اسے عطا کر کے اس کو عزت دی تھی اور کہیں اس سے اپنی وہ توحید نہ چھین لے جس کے ساتھ اس کو آراستہ و مزین کیا تھا۔ چھٹا مفہوم و معنی: یہ ہے کہ اپنی امیدیں اور آرزوئیں اللہ تعالیٰ سے باندھ کے اور وابستہ کر کے رکھے تمام حالات میں سے کسی بھی حال میں یہ خیال بھی نہ کرے کہ یہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ ساتواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ مذکورہ تمام معانی کا اس کے دل میں پکا ہونا اور جگہ پکڑنا اسے اس بات پر اکسائے کہ یہ اللہ کے ذکر پر مداومت اور ہمیشگی کرے ایسی احسن طریقے پر جو اس کی قدرت میں اور اس کے بس میں ہو سکے۔آٹھواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرنے میں حرص کرے اور حسب استطاعات نفلی عبادات و خیرات کے ذریعے اللہ قرب حاصل کرنے کے لئے بھی حرص کرے۔ نواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ دوسرے بندے سے (اپنے ہوا) اللہ تعالیٰ کی تعریف سنے اور اس بات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقریب سمجھے۔ اور اللہ کی راہ میں خفیہ اور ظاہر جہاد و مجاہد ہ کرے ان چیزوں سے جو غافل کرنے والی ہیں اللہ تعالیٰ سے محبت کرے اس شخص سے بھی جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔ دسواں مفہوم ومعنی : یہ ہے کہ اگر کسی سے بھی اللہ کا ذکر (تذکرہ) سنے تو ا س کی اعانت و امدا د کرے اس کی ، ان امور کے خلاف جو اس کی راہ میں خلل اور رکاوٹ بنیں یا محسوس کرے اور سمجھے اس سے بھٹکنا اور گمراہ ہونا اس کی راہ سے خفیہ یا ظاہر تو جدا ہو جائے اس سے اور دور ہو جائے اس سے جب یہ مذکورہ معانی اور مقاصد کسی ایک دل میں جمع ہو جائیں۔ تو ان امور کا اکھٹا ہو جانا وہ چند سے جس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت کا نام دیا جاتا ہے۔ (پھر اگر کوئی سوال کرے کہ یہ دس محبت کے مفہوم قرآن حدیث میں کہاں مذکور ہیں تو جواب یہ ہے کہ ) اگرچہ یہ امور اور یہ معانی کسی ایک مقام پر تو مذکور نہیں ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متفرق طور پر ضرور آئے ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سو (باقی اہل علم سے کثرت سے مذکور ہیں)۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 408

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood