شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إشادة الله عز و جل بذكر محمد صلى الله عليه و سلم قبل أن يخلقه · حديث 1410
1410 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أخبرنا أبو سهل بن زياد القطان حدثنا القاسم بن نصر البزاز حدثنا سريج بن النعمان حدثنا فليح عن هلال عن علي عن عطاء بن يسار قال : لقيت عبد الله بن عمرو بن العاص فقلت له : أخبرني عن صفة رسول الله صلى الله عليه و سلم في التوراة فقال : أجل و الله إنه لموصوف في التوارة ببعض صفته في القرآن يا أيها النبي إنا أرسلناك شاهدا و مبشرا و نذيرا و حرزا أنت عبدي و رسولي سميتك المتوكل ليس بفظ و لا غليظ و لا صخب بالأسواق و لا يدفع السيئة بالسيئة و لكن يعفو و يغفر و لن أقبضه حتى أقيم به الملة العوجاء أن يقولوا : لا إله إلا الله و أفتح به أعينا عميا و آذانا صما و قلوبا غلفا قال عطاء بن يسار : ثم لقيت كعبا فسألته فما اختلفا في حرف إلا أن كعبا يقول : أعينا عمومي و قلوبا غلفى و آذانا صمومي و رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن سنان عن فليح بن سليمان و قد ذكرنا شواهده و ما ورد في معناه عن كعب الأحبار و وهب بن منبه و غرهما في الجزء الخامس من كتاب دلائل النبوة
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے اور ان کو خبر دی ہے ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو قاسم بن نصر بزار نے ان کو سریج بن نعمان نے ۔ ان کو فلیح نے ان کو ہلال نے ان کو علی نے ، ان کو عطا بن یسار نے وہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے توراۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا : جی ہاں اللہ کی قسم بے شک آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف توراۃ میں موجود ہے ۔ بعض و صفات جو قرآن میں ہیں وہ اس طرح ہے ۔ اے نبی بے شک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا، بشارت دینے والا ۔ ڈرانے والا اور حفاظت کرنے والا آپ میرے بندے ہیں آپ میرے رسول ہیں ۔ میں نے آپ کا نام متوکل (اللہ پر بھروسہ کرنے والا ) رکھا ہے آپ نہ ہی شور کرنے والے ہیں اور نہ ہی تند خو ہیں ، اور نہ ہی بازاروں میں چلانے والے ہیں۔ اور نہ ہی برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں بلکہ آپ درگذر کرتے اور معاف کرتے ہیں ۔ میں ان کو ہر گز وفات نہیں دوں گا جب تک کہ میں ان کے ساتھ کج شدہ ملت کو سیدھا اور درست نہ کردوں یعنی کہ سب لوگ یوں کہنے لگ جائیں لاالٰہ الا اللہ ۔ اور میں آپ کے ذریعہ آنکھوں بہرے کانوں اور ہدایت سے عاری بند دلوں کو کھول دوں گا۔ عطا بن یسار کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حضرت کعب سے ملا میں نے ان سے سوال کیا ۔ لہذا دونوں نے کہیں ایک حرف کا بھی اختلاف نہیں کیا تھا۔ ہاں صرف اتنی بات ہے کہ کعب فرماتے تھے ۔ دونوں آنکھیں دونوں بہرے کان۔ اور بند شدہ دل ( یہی فرق تھا) اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن سنان سے انہوں نے فلیج بن سلیمان سے ۔ اور ہم نے اس کے شواہد ذکر کئے ہیں ۔ اور وہ روایات بھی جو کعب الاحبار سے اور وہب بن منبہ وغیرہ سے نقل کی ہیں کتاب دلائل سے پانچویں جلد میں ۔
عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَلِيٍّ، ← هِلَالٍ، ← فُلَيْحٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← الْقَاسِمُ بْنُ نَصْرٍ الْبَزَّازُ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Hadith 1410
