Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9922

9922 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : أنا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا أبو مسهر عبد الأعلى بن مسهر الغساني نا خالد بن يزيد بن صبيح حدثني سالم بن عبد الله المحاربي عن سليمان بن حبيب عن أبي أمامة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من عبد يصرع من مرض إلا بعثه منه طاهرا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو مسہر عبدالاعلیٰ بن شہر غسانی نے ان کو خالد بن یزید بن صبیح نے ان کو حدیث بیان کی سالم بن عبداللہ محاربی نے ان کو سلیمان بن حبیب نے ان کو ابو امامہ نے ان کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جو بندہ کسی مرض کی وجہ سے گر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کو پاک بھیجے گا۔

ما من عبد يصرع من مرض إلا بعثه منه طاهرا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← سالم بن عبد الله المحاربي ← خالد بن يزيد بن صبيح ← أبو مسهر عبد الأعلى بن مسهر الغساني ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9922

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9923

9923 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو و أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أبو بكر أظنه محمد بن سهل التميمي نا الحكم بن نافع نا عفير عن سليم يعني ابن عامر عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا مرض أوحى الله إلى ملائكته يا ملائكتي إذا قيدت عبدي بقيد من قيودي فإن أقبضه أغفر له و إن أعافه فجسد مغفور لا ذنب له

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو ابو بکر نے میں گمان کرتا ہوں محمد بن سہل تمیمی نے ان کو حکم بن نافع نے ان کو عفیر نے ان کو سلیم یعنی ابن عامر نے ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ جب بیمار ہو جاتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی طرف حکم بھیجتا ہے اے میرے فرشتو جب میرا بندہ میری تکلیفوں میں سے کسی تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے تو اگر میں اس کو وفات دے دوں تو میں اس کو بخش دیتا ہوں اور اگر میں اس کو تندرستی دے دوں تو وہ ایک بخشا بخشایا وجود ہوتا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سليم يعني ابن عامر ← عُفَيْرٌ ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ← أبو بكر أظنه محمد بن سهل التميمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو و

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9923

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9924

9924 - و بهذا الإسناد عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله ليجرب أحدكم بالبلاء و هو أعلم كما يجرب أحدكم ذهبه بالنار فمنهم من يخرج كالذهب الإبريز فذلك الذي نجاه الله من السيئات و منهم من يخرج كالذهب دون ذلك فذلك الذي يشك بعض الشك و منهم من يخرج كالذهب الأسود فذلك الذي قد افتتن

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ آپ لوگوں میں سے کسی کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے جیسے تم میں سے کوئی انسان سونے کو آگ میں ڈال کر آزماتا ہے۔ تو بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو خالص سونے کی طرح نکلتے ہیں یہی وہ لوگ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ جن کو نجات دیتا ہے گناہوں سے بعض وہ ہوتے ہیں جو اس سے کم تر سونے کی طرح نکلتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بعض شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض وہ ہوتے ہیں جو سیاہ ہونے کی طرح نکلتے ہیں یہی لوگ وہ ہوتے ہیں جو فتنے میں واقع کئے جاتے ہیں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9924

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9925

9925 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي نا الحسن بن أبي علي النجار نا الحسين بن علي الحلواني و أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا قال : حدثت عن الحسين بن علي الحلواني نا الهيثم بن الأشعث قال : حدثني فضيل بن جبير الغداني عن بشير بن عبد الله بن أبي أيوب الأنصاري عن أبيه عن جده قال : عاد رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا من الأنصار فأكب عليه فسأله فقال : يا نبي الله ما غمضت منذ سبع ليال و لأحد يحضرني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي أخي إصبر أي أخي إصبر حتى تخرج من ذنوبك كما دخلت فيها و في رواية ابن بشران يا أخي إصبر ثلاثا تخرج من ذنوبك كما دخلت فيها قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ساعات الأمراض يذهبن ساعات الخطايا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن احمد بن اسضۃق طیبی نے ان کوحسن بن ابو علی نجار نے ان کو حسین بن علی حلوانی نے اور ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی گئی حسین بن علی حلوان سے اس نے ہثیم بن اشعث سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی فضالہ بن جبیر غدانی نے بیشیر بن عبداللہ بن ابو ایوب انصاری سے اس نے اپنے والد سے اس نے دادا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے انصار میں سے ایک آدمی کی عیادت کی اور اس پر حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم اوندھے گر گئے (یعنی لیٹے ہوئے کو گلے لگانے کے لئے ) اس نے کہا اے اللہ کے نبی سات راتیں گزر چکی ہیں سویا نہیں ہوں اور نہ ہی میرے متعلقین کی آنکھ لگی ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بھائی آپ صبر کیجئے اے بھائی صبر کیجئے یہاں تک کہ آپ گنا ہوں سے ایسے نکل جائیں جیسے آپ گناہوں میں داخل ہوئے تھے ۔ پھر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن بشران کی ایک روایت میں ہے۔ اے بھائی صبر کر تین بار کہا تھا۔ یہاں تک کہ آپ گنا ہوں سے نکل جائیں جیسے آپ داخل ہوئے تھے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری کی ساعات گناہوں کی ساعات کو لے جاتی ہیں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بشيرِ بْنِ عبد الله بن أبي أيّوبٍ الأنْصاريِّ ← فضيل بن جبير الغداني ← الهيثم بن الأشعث، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← الحسين بن علي الحلواني و ← الحسن بن أبي علي النجار ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9925

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9926

9926 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو جعفر أحمد بن سعدان نا قران بن تمام عن أبي بشر الحلبي عن الحسن قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ساعات الأذى يذهبن ساعات الخطايا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ابو جعفر احمد بن سعدان نے ان کو قران بن تمتام نے ان کو ابو بشر حلبی نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایذا اور تکلیف کی ساعات گناہوں کی ساعات کو مٹا دیتی ہیں۔

الْحَسَنِ، ← أبي بشر الحلبي ← قران بن تمام ← أبو جعفر أحمد بن سعدان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9926

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9927

9927 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن المؤمل بن الحسن بن عيسى نا الفضل بن محمد الشعراني نا أحمد بن عمران الأخنسي قال : سمعت أبا بكر بن عياش و عبد الرحمن المحاربي عن ليث عن الحكم بن عتيبة رفعه قال : إذا كثرت ذنوب العبد و لم يكن له من العمل ما يكفر ذنوبه ابتلاه الله بالهم يكفر به ذنوبه و قد روى في بعض هذا المعنى حديث موصول بإسناد ضعيف 9927 - أخبرناه أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا الحسن بن علي الأهوازي نا معمر بن سهل نا أبو سمرة أحمد بن سالم بن خالد بن جابر بن سمرة نا هشيم عن يحيى بن سعيد عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله ليبتلي عبده بالبلاء و الهم حتى يتركه من ذنبه كالفضة المصفاة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو احمد بن عمران اخنسی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن عیاش اور عبدالرحمٰن محاربی سے ان کو لیث بن حکم بن عتیبہ نے اس نے روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔ فرمایا کہ جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے پاس ایسے اعمال نہ ہوں جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں تو اللہ تعالیٰ اس کوکسی ہم وحزن میں مبتلاء کر دیتا ہے جس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ تحقیق بعض اسی مفہوم میں ایک حدیث موصول مروی ہے ضعیف اسناد کے ساتھ۔ ( مکرر ہے ) ہمیں اس کی خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو حسن بن علی موازی نے ان کو معمر بن سہل نے ان کو ابو سمرہ احمد بن سالم بن خالد بن جابر بن سمرہ نے ان کو ہثیم نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ البتہ آزماتا ہے اپنے بندے کو ہم وحزن کے ساتھ ۔ یہاں تک کہ اس کو صاف چاند کی طرح کر کے چھوڑتا ہے۔

الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ, رَفَعَهُ ← لَيْثٌ، ← أبا بكر بن عياش و عبد الرحمن المحاربي ← أحمد بن عمران الأخنسي ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9927

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9928

9928 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن يوسف الفقيه نا الحارث بن محمد قالا نا يزيد بن هارون أنا العوام بن حوشب حدثني أبو إسماعيل إبراهيم السكسكي أنه سمع أبا بردة بن أبي موسى و اصطحب هو و يزيد بن أبي كبشة في سفر فكان يزيد يصوم فقال له أبو بردة سمعت أبا موسى مرارا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مرض العبد أو سافر كتب له من الأجر مثل ما كان يعمل مقيما صحيحا قال الشيخ أحمد لفظهما سواء غير أن في رواية الحارث حدثني إبراهيم بن أبي إسماعيل و رواه البخاري في الصحيح عن مطر بن الفضل عن يزيد بن هارون

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکراحمد بن یوسف فقیہ نے ان کو حارث بن محمد نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یزید بن ہارون نے ان کو عوام بن حوشب نے ان کو حدیث بیان کی ابو اسماعیل بن ابراہیم سکسکی نے کہ انہوں نے سنا ابو بردہ ابو موسیٰ سے کہ وہ اور یزید بن ابو کبشہ ایک سفر میں ساتھی بن گئے تھے یزید روزہ رکھتے تھے۔ لہٰذا ابو بردہ نے اس سے کہا میں نے ابو موسیٰ سے بار بار سنا تھا وہ فرماتے تھے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بندہ بیمار ہو جا ئے یاسفر کرے اس کے لئے اجر لکھا جاتا ہے اس کی مثل جو وہ بحالت مقیم عمل کرتا اور تندرست بحالت تندرستی عمل کرتا۔ شیخ احمد نے کہا کہ دونوں کے الفاظ برابر ہیں سوائے ان کے کہ حارث کی روایت میں ہے کہ مجھے حدیث بیان کی ابراہیم ابو اسماعیل نے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں مطر بن فضل سے اس نے یزید بن ہارون سے۔

أبو إسماعيل إبراهيم السكسكي ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9928

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9929

9929 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم نا أسيد بن عاصم نا الحسين بن حفص نا سفيان نا علقمة بن مرثد و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا معاذ بن نجدة نا قبيصة نا سفيان عن علقمة بن مرثد عن القاسم بن مخيمرة عن عبد الله بن عمرو قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ما من أحد من المسلمين يصاب ببلاء في جسده إلا أمر الله عز و جل الحفظة الذين يحفظونه أن اكتبوا لعبدي في كل يوم و ليلة مثل ما كان يعمل من الخير ما دام محبوسا في وثاقي لفظ حديث الحسين و حديث قبيصة مثله تابعه أبو الحسين عن القاسم بن مخيمرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو سفیان نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو النصر فقیہ نے ان کو معاذ بن نجدہ نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو علقمہ بن مرثد نے قاسم بن مخیمرہ سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کوئی ایک بھی مسلمانوں میں سے جس کے جسم میں کوئی آزمائش (بیماری) واقع ہو گر اللہ تعالیٰ ان محافظوں کو حکم دیتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں کہ تم لوگ میرے اس بندے کے لئے ہر رات اور ہر دن اسی طرح عمل لکھو جیسے وہ خیر کے عمل تندرستی میں کرتا تھا جب تک وہ میری اس قید میں مقید رہے۔ یہ الفاظ حدیث حسین کے ہیں۔ اور حدیث قبیصہ اسی کی مثل ہے۔ اس کا متابع بیان کیا ہے ابو الحسین نے قاسم بن مخیمرہ سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← معاذ بن نجدة، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← علقمة بن مرثد و ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9929

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9930

9930 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا حميد بن الأسود نا محمد بن أبي حميد نا عون بن عبد الله بن عتبة : و دخلنا عليه فلما رأى محمد بن المنكدر وجعه ترقرقت عيناه بالدموع حتى دمعتا فكشف عون وجهه فقال ما شأنك يا أبا عبد الله ؟ قال : رأيت شكواك قال : حسبي ربي عز و جل هو عدتي لكل كربة و صاحبي عند كل شدة و وليي في كل نعمة ألا أحدثك يا أبا عبد الله ما سمعت من أبي سمعت من أبي مسعود و هو يقول : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فتبسم فذكر هذا الحديث

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو حمید بن اسود نے ان کو محمد بن ابو حمید نے ان کو عون بن عبداللہ بن عقبہ نے اور ہم لوگ انہیں کے پاس گئے ہوئے تھے جب محمد بن منکدرنے ان کو تکلیف میں دیکھا تو ان کی آنکھیں آنسوؤں میں ڈب ڈبا گئیں یہاں تک کہ ان کے آنسو بہنے لگے چنانچہ عون نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور پوچھا کہ اے ابو عبداللہ ! کیا ہوا آپ کو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ کی تکلیف کو دیکھا ہے اس لئے پریشان ہوں ۔ اس نے کہا کہ میرا رب مجھے کافی ہے وہی مجھے کافی ہے میری مصیبت میں اور وہی میرا ساتھی ہے ہر سختی کے وقت میں اور وہی میرا دوست ہے ہر نعمت میں ۔ اے ابو عبداللہ کیا میں تجھ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے ابو مسعود سے سنی تھی وہ کہتے تھے کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ مسکرائے ۔ اس کے بعد راوی نے اس حدیث کو ذکر کیا۔

محمد بن أبي حميد ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9930

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9931

9931 - أخبرنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء الأديب من أصله نا أبو محمد يحيى بن منصور القاضي إملاءنا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف نا يحيى بن يحيى نا عثمان بن مطر الشيباني عن ثابت عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : وكل الله بعبده المؤمن ملكين يكتبان عمله فإذا مات قال : الملكان اللذان وكلا به يكتبان عمله قد مات فتأذن لنا فنصعد إلى السماء فيقول الله عز و جل سمائي مملوءة من ملائكتي يسبحوني فيقولان أفنقم في الأرض فيقول الله أرضي مملوءة من خلقي يسبحوني فيقولان فأين فيقول قوما على قبر عبدي فسبحاني و احمداني و كبراني و هللاني و اكتبا هذه لعبدي إلى يوم القيامة قال الشيخ : تفرد به عثمان بن مطر و ليس بالقوي

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن محمد بن رجاء ادیب نے اپنی اصل کتاب سے ان کو خبر دی محمد بن منصور قاضی نے بطور املاء کے ان کو ابو یحییٰ زکریا بن داؤد خفاف نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عثمان بن مطر شیبانی نے ان کو ثابت نے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے ساتھ دو ایسے فرشتے مقرر کرتے ہیں جو اس کے عمل کو لکھتے ہیں پھر جس وقت اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو وہ فرشتے جو اس کے اعمال لکھنے پر مامور کئے گئے تھے کہتے ہیں کہ اے اللہ اس کا تو انتقال ہو گیا ہے آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم آسمانوں پر چلے جائیں لہٰذا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے آسمان تو پہلے ہی فرشتوں سے بھرے ہوئے ہیں جو میری تسبیح کر رہے ہیں۔ چنانچہ فرشتے کہتے ہیں کہ کیا ہم زمین پر قیام کریں؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری زمین بھی ایسی مخلوقات سے بھری ہوئی ہے جو میری تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر ہم کہا جا ئیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ لوگ اسی مرنے والے میرے بندے کی قبر پر رہ جاؤ وہاں پر میری تسبیح تمحید تعمیر اور تہلیل کہتے رہو اور اس کو قیامت تک میرے بندے کے لئے لکھتے رہو۔ شیخ نے کہا کہ اس روایت کے ساتھ عثمان بن مطر متفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ الشَّيْبَانِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو محمد يحيى بن منصور القاضي إملاءنا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ مِنْ أَصْلِهِ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9931

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9932

9932 - و روى عن إسحاق بن إبراهيم الحنظلي عن المؤمل بن إسماعيل عن حماد عن ثابت عن انس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و هو فيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن عثمان الزاهد نا أبو العباس محمد بن شاذان النيسابوري نا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي فذكره و هذا بهذا الإسناد غريب و الله أعلم و روى عن أنس بن مالك نحو رواية من مضى

روایت کی گئی ہے اسحٰق بن ابراہیم حنظلی سے اس نے مؤمل بن اسماعیل سے اس نے حماد سے اس نے ثابت سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر راوی نے اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔ اور وہ روایت ان میں سے ہے جن کی مجھ کو خبر دی ہے۔ ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن عثمان زاہد نے ۔ ان کو ابو العباس محمد بن شاذان نیسا پوری سے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے انہوں نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔ اور یہ روایت اس اسناد کے ساتھ غریب ہے واللہ اعلم۔ اور روایت کی گئی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک سے گذشتہ روایت کی طرح ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← و روي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9932

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9933

9933 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر بن دحيم نا محمد بن الحسين بن أبي الحنين نا أبو بكر بن أبي شيبة نا عفان نا حماد بن سلمة نا أبو ربيعة قال : سمعت أنسا يقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تعالى إذا ابتلى المسلم ببلاء في جسده قال : للملك اكتب له صالح عمله الذي يعمل فإن شفاءه غسله و طهره و إن قبضه غفر له و رحمه كذا قال في إسناده سمعت أنسا و قد

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو محمد بن حسین بن ابو الحسنین نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو اور بیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت انس سے وہ کہتے تھے کہ بے شک رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر اس کے جسم میں کوئی تکلیف و آزمائش واقع کرتے ہیں تو فرشتوں کو کہتے ہیں کہ اس کے نیک اعمال لکھو جو وہ بحالت صحت عمل کرتا رہتا تھا۔ اگر وہ اس کو شفا دے دیتا ہے تو اس کو دھو کر پاک کر دیتے ہیں۔ اور اگر اس کو وفات دے دیتے ہیں؟ تو اس کی مذمت کر دیتے ہیں اور اس پر رحمت کرتے ہیں۔ اسی طرح کہا ہے اس کی سند میں کہ میں نے سنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔

أَنَسًا ← أَبُو رَبِيعَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9933

chevron_left Previous
1…933934935…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood